Jadid Khabar

’لوجہاد‘ : نفرت پھیلانے کا نیا ہتھیار

Thumb

 

 

 مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ہوا دینے کے نت نئے بہانے ایجاد کرنا فرقہ پرستوں کا محبوب مشغلہ ہے ۔’ لوجہاد‘ بھی ان ہی بہانوں میں سے ایک ہے، جسے مسلم نوجوانوں کی زندگی جہنم بنانے کے لئے ایجاد کیا گیا ہے۔یہ سلسلہ اسی وقت سے چلا آرہا ہے جب سے ملک میں فرقہ وارانہ سیاست کو عروج حاصل ہوا ہے،لیکن بعض حالیہ واقعات کے بعد ’ لوجہاد‘ کا موضوع دوبارہ بحث کے محور میں آگیا ہے اور اسی سے متاثر ہوکر بی جے پی کے اقتدار والے صوبوں میں ’ لوجہاد‘ مخالف قانون بنانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ہریانہ ،اترپردیش ،آسام اور مدھیہ پردیش کے بعد اب کرناٹک کی سرکاروں نے بھی اس قسم کا قانون بنانے کی تیاری شروع کردی ہے۔اس قانون کے تحت بین المذاہب شادیاں رچانے والے نوجوانوں کو پانچ سے سات سال کی سزا دینے کی تیاری ہورہی ہے ۔حالانکہ یہ قانون سبھی پر لاگو ہوگا ، لیکن دنیا جانتی ہے کہ اس قانون سازی کا اصل نشانہ وہ مسلمان ہیں جو غیرمسلم لڑکیوں سے عشق یا شادی کے ’ جرم‘ کا ارتکاب کریں گے۔ہرچند کہ قانونی ماہرین اس مجوزہ قانون کی افادیت کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کررہے ہیں اور اسے فضول سرگرمی بھی قرار دیا جارہا ہے، لیکن بی جے پی کی صوبائی حکومتیں اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو فروغ دینے کے لئے اس سمت میں پیش قدمی کررہی ہیں ۔ یعنی عشق کا بھوت اتارنے کے لئے ایک نئے ہتھیار کی دھار تیز کی جارہی ہے۔جس کے بارے میں جگر مرادآبادی نے بہت پہلے کہا تھا
یہ عشق نہیں آساں ، بس اتنا سمجھ لیجئے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
حکمراں طبقے کا خیال ہے کہ جو مسلم لڑکے ہندولڑکیوں سے محبت کی شادی رچاتے ہیں ، وہ دراصل ایک ’ جہادی‘ سرگرمی کا حصہ ہیں ۔ وہ ہندو لڑکیوں کومسلمان بنانے کے لئے ان کے ساتھ عشق کا کھیل، کھیل رہے ہیں اوراس کے پیچھے مسلم آبادی میں اضافہ کرنے کا مقصد کارفرما ہے۔ اتنا ہی نہیں فرقہ پرست طاقتیں اس کے تانے بانے عالمی دہشت گردی سے بھی جوڑتی ہیں۔اسی لئے انھوں نے اس کو ’ لوجہاد ‘ کا عنوان دیا ہے۔حالانکہ آج تک ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا جس میں کسی مسلمان لڑکے نے کسی غیرمسلم لڑکی سے اس لئے شادی رچائی ہو کہ وہ اسے جہادی سرگرمیوں کا حصہ بنائے۔ مگر چونکہ سنگھ پریوار کے ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کا جو زہربھرا ہوا ہے ، اس کے زیر اثر وہ اس کے علاوہ کچھ سوچ ہی نہیں پاتا۔
یہ بات سب پر عیاں ہے کہ ہمارے ملک میں بین المذاہب شادیوں کا چلن کوئی نیا نہیں ہے۔ جہاں ایک طرف سینکڑوں مسلم نوجوانوں نے ہندو لڑکیوں سے شادیاں کرکے اپنے گھر آباد کئے ہیں، وہیں ایسی مسلمان لڑکیوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے جنھوں نے ہندو گھرانوں میں شادیاں کی ہیں۔اس قسم کی شادیاں عام طور پر عشق کے مرض کی پیداوار ہوتی ہیں، جس میں عقل وشعور کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔عشق کی لو اتنی تیز ہوتی ہے کہ اس میں مذہب آڑے نہیں آتا۔ حالانکہ اس قسم کی شادیوں کا انجام کبھی کبھی عبرتناک بھی ہوتا ہے ، لیکن عشق کے مریض اس کی پروا نہیں کرتے اور وہ والی آسی کے اس شعر کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔
تو اگر عشق میں برباد نہیں ہوسکتا
پھر تجھے کوئی سبق یاد نہیں ہوسکتا
عشق کے اس رجحان کو اگر کوئی فرقہ پرستی اور تنگ نظری کی عینک سے دیکھتا ہے تو اس میں اصل قصور اس کی سوچ کا ہے اور اس کا بنیادی مقصد ماحول خراب کرنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس معاملے میں کبھی کبھی فتنہ وفساد کی بھی نوبت آجاتی ہے۔ کافی عرصہ پہلے جن سنگھ کے لیڈر سکندر بخت مرحوم کے معاملہ میں ایسا ہوچکاہے۔ سکندر بخت پرانی دہلی کے باشندے تھے ۔انھوں نے ایک ہندو لڑکی سے شادی کی تو شہرکے حالات اس حد تک خراب ہوئے کہ وہاں فساد کی نوبت آگئی اور شہر میں کرفیو نافذ کرنا پڑا ۔آپ جانتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد بھی جن سنگھ سے ان کے رشتوں میں کوئی تلخی پیدا نہیں ہوئی اوروہ بعد کے دنوں میں جن سنگھ کے نئے روپ یعنی بی جے پی سرکار میں مرکزی وزیر اور گورنر کے عہدوں تک پہنچے۔یوں دیکھا جا’ے تو بی جے پی کے اکثر ’ ’مسلم لیڈروں ‘ ‘نے اکثر ایسا ہی کیا ہے اور بی جے پی نے انھیں گلے بھی لگایا ہے۔ اس کی دوزندہ مثالیں مرکزی وزیر مختار عباس نقوی اور شاہنواز حسین ہیں ۔ ماشاء اللہ ان دونوں کی ہی بیویاں ہندو ہیں اور دونوں کو ہی پارٹی میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر بی جے پی کا کوئی ’ ’مسلم لیڈر‘ ‘کسی ہندولڑکی سے شادی کرتا ہے تو پارٹی اسے گلے لگاتی ہے اور جب کوئی عام مسلمان کسی ہندو لڑکی کوبیاہ کر گھر لاتا ہے تو وہ ’ لوجہادی‘بن جاتا ہے اور اس کے لئے موت کی سزا تجویز کی جاتی ہے جیسا کہ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تجویز کی ہے۔انھوں نے پچھلے دنوں جونپور کے ایک عوامی جلسہ میں کہا تھا کہ ’’ سرکار نے ’ لوجہاد‘ کو سختی سے روکنے کے لئے موثر قانون بنانے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔ انھوں نے وارننگ دی کہ’’ جولوگ نام چھپاکر بہو بیٹیوں کی عزت سے کھلواڑ کرتے ہیں، اگر وہ نہیں سدھریں تو ان کی ’رام نام ستیہ ‘ کی آخری یاترا نکلنے والی ہے۔‘‘
یوگی جی نے یہ بیان الہ ا ٓباد ہائی کورٹ کی اس حالیہ رولنگ کے تناظر میں دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شادی کے لئے مذہب کی تبدیلی ناقابل قبول ہے۔ عدالت عالیہ نے یہ فیصلہ ایک نئے جوڑے کی طرف سے پولیس کا تحفظ حاصل کرنے کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے دیا ہے۔ جب عدالت کو یہ معلوم ہوا کہ لڑکی پیدائشی طور پر مسلمان تھی، لیکن شادی ہونے سے ایک ماہ پہلے اس نے اپنا مذہب تبدیل کرکے ہندو مذہب اختیار کرلیا تھاتو جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی نے کہا کہ’’ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مذہب صرف شادی کے مقصد سے تبدیل کیا گیا تھا۔‘‘
پچھلے دنوں ہریانہ کے بلب گڑھ میں ہوئی ایک انتہائی سنگین واردات نے حکمراں جماعت کو ’ لوجہاد ‘ کا معاملہ پوری شدت کے ساتھ اٹھانے کا ہتھیار فراہم کردیا ہے اوراس پر پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔حالانکہ اس واقعہ کا کوئی تعلق ان چیزوں سے نہیں ہے جنھیں ان سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔بلب گڑھ میں نکتا تومر نام کی ایک دوشیزہ کو آصف نام کے ایک نوجوان نے لب سڑک گولی مارکر قتل کردیا۔ دونوں اسکول کے زمانے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور عشق کے مریض تھے۔ آصف نے نکتا پر شادی کا دباؤ ڈالا مگر اس کے گھر والے اس پر راضی نہیں ہوئے اور بات بگڑ گئی۔آصف نے ایک انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے نکتا کو اپنے ایک دوست کی مدد سے سرعام گولی ماردی۔ یہ واقعہ اپنی سنگینی اور بربریت کے اعتبار سے ایسا تھا کہ سبھی نے قصورواروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔ اس میں مسلمان بھی پیش پیش تھے۔ لیکن فسطائی تنظیموں نے اس کا رخ فرقہ واریت کی طرف موڑ دیا اور نکتا کا گاؤں جارح ہند وتنظیموں کا پکنک اسپاٹ بن گیا۔انھوں نے وہاں جاکر مسلمانوں کے خلاف خوب بھڑاس نکالی۔ اکھاڑہ پریشد کے سربراہ مہنت گری نے یہاں تک کہا کہ ’’ لوجہاد کے معاملوں میں قصورواروں کوچوراہوں پر پھانسی دی جانی چاہئے۔‘‘
ہم بھی اس کے طرفدار ہیں کہ جو کوئی قتل جیسے گھناؤنے جرم میں ملوث ہو اس کو عبرتناک سزا ملنی چاہئے۔ لیکن سوال اس وقت کھڑے ہوتے ہیں جب ہاتھرس اجتماعی آبروریزی جیسے انتہائی سنگین جرم میں ملوث قصورواروں کا دفاع کیا جاتا ہے اور مجرموں کو بچانے کی کوشش محض اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ اعلیٰ ذات سے تعلق رکھتے تھے اور متاثرہ لڑکی پسماندہ طبقہ کی تھی۔ ہاتھرس میں ایک دلت دوشیزہ کی اجتماعی آبروریزی اور بہیمانہ قتل کی جس انداز میں لیپا پوتی کی گئی اور ملزمان کو بچانے کے لئے پولیس اور سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا، اس نے کئی سنگین سوالوں کو جنم دیا ہے اور اس معاملے کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی ہے۔
اب آئیے ایک نظر ’ لوجہاد‘ کے خلاف مجوزہ قانون سازی پر ڈالی جائے۔ اس قسم کا قانون بنانے کی سب سے زیادہ وکالت اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کررہے ہیں۔اس سلسلہ میں خود اترپردیش لاء کمیشن کے چیئر مین جسٹس آدتیہ ناتھ متل کہتے ہیں کہ’ لوجہاد‘ کے خلاف بنایا گیا قانون آسانی کے ساتھ چیلنج کیا جاسکتا ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر وکیل روی کرن جین بھی اس قسم کی قانون سازی کو دستور مخالف قرار دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ’’ اگر آپ ایک ہندو اور مسلم شادی کو ’ لوجہاد‘ قرار دیتے ہیں تو آپ کے پاس اسے ثابت کرنے کا کیا طریقہ ہے۔دو مختلف مذاہب کے لوگوں کو شادی سے روکنا خود غیر قانونی ہے۔‘‘قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہندوستان کا دستور دو بالغوں کو خواہ ان کا مذہب اور عقیدہ کچھ بھی ہو آپس میں شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ایسے میں اس کو ’ لوجہاد‘ کا جامہ پہناکر روکنے کا قانون بنانا سراسر دستور مخالف کام ہے اور یہ محض حالات کو خراب کرنے اور نفرت پھیلانے کا ہتھیار ہے۔

 

Ads