Jadid Khabar

اظہارِخیال کی آزادی کا غلط استعمال اور سپریم کورٹ

Thumb


 

سپریم کورٹ نے اظہار خیال کی آزادی کے غلط استعمال کے خلاف نیوزچینلوں کو سخت وارننگ دی ہے ۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ان دنوں اظہار رائے کی آزادی کا سب سے زیادہ بے جا استعمال ہورہا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب گودی میڈیاکی تباہ کاریاں اپنے عروج پر ہیں اور یہ سماجی تانے بانے کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن کرابھرا ہے۔ گودی میڈیا پرجھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلانے کے ہی نہیںبلکہ اس پر اپنی ٹی آر پی بڑھانے کے لئے ناجائز اور فرضی طریقے استعمال کرنے کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ خود ان چینلوں کی ایک تنظیم نیوز براڈ کاسٹنگ اتھارٹی نے آج تک، زی نیوز اورانڈیا ٹی وی جیسے چینلوں پراداکار سوشانت سنگھ راجپوت خودکشی کیس میںگمراہ کن اور سنسنی خیز خبریں نشر کرنے کے معاملے میں لاکھوںروپے کا جرمانہ اور ان سے غیرمشروط معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ملک کے بھولے بھالے عوام کے ذہنوں کو یرغمال بناکر انھیں غلط اطلاعات فراہم کرنے والے ان نیوزچینلوں کا بھانڈہ اب بیچ چوراہے پر پھوٹ چکاہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ حکومت جس کے کاندھوں پر سماجی تانے بانے کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہے‘ وہ بھی اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے ان چینلوں کے دفاع میں کھڑی نظر آتی ہے۔ تبلیغی جماعت پر کورونا پھیلانے کا الزام لگانے والے چینلوں کے خلاف دائر کی گئی عرضی پر اس کے گول مول رویے سے تو یہی واضح ہوتا ہے۔
تبلیغی جماعت کو کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دینے کے سلسلے میں دائر کی گئی عرضی پر عدالت عظمیٰ نے جو کچھ کہا ہے ‘وہ یقینا ان لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف ہے جو گزشتہ ایک عرصہ سے میڈیا کی منافرانہ مہم کا شکار ہیں اور جنھیں قدم قدم پر بدی کی طاقت قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔کورونا دور میں تبلیغی جماعت کی شبیہ کو داغدار کرنے سے متعلق عرضی پر سماعت کے دوران صحیح حلف نامہ داخل نہ کرنے کے سوال پر عدالت نے مرکزی حکومت کو بھی پھٹکار لگائی ہے ۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڑے ، جسٹس اے ایس بوپنا اورجسٹس بی سبرامنیم کی بنچ نے کہا  ہے کہ حالیہ دنوں میں بولنے اور اظہارخیال کی آزادی کا سب سے زیادہ غلط استعمال ہورہا ہے۔عدالت نے حکومت کے ایک جونیئر افسر کی طرف سے حلف نامہ داخل کرنے کے معاملے میں سالیسٹر جنرل سے بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ’’ آپ اس عدالت کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں کرسکتے۔جونیئر افسر نے جو حلف نامہ داخل کیا ہے وہ گول مول ہے۔ حلف نامے میںنفرت پھیلانے والے کچھ ٹی وی چینلوں پر عرضی گزاروں کی طرف سے عائد کئے گئے الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔ ‘‘اس معاملے میں عدالت نے حکومت کو دوسرا حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دے کر سماعت دوہفتے کے لئے ملتوی کردی ہے۔
 گزشتہ مارچ کے اواخر میں جب حضرت نظام الدین میں واقع تبلیغی مرکز میں پھنسے ہوئے سینکڑوں لوگوں کا معاملہ روشنی میں آیا تھا تو اسے گودی میڈیا نے مسلمانوں کے خلاف ایک انتہائی خطرناک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا۔ بغیر کسی تیاری کے نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں وہاں پھنسے ہوئے لوگوں کو ملک میں کورونا پھیلانے کا مجرم قرار دے کرگودی میڈیا نے ایسا بے ہودہ پروپیگنڈہ کیا کہ ملک میں مسلمانوںکا جینا محال ہوگیا تھا اور انھیں کورونا کا متبادل قرار دے کر جابجا تشدد کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔اس بے ہودہ پروپیگنڈے میں بعض ٹی وی چینلوں کا کردار اتنا گھناؤنا تھا کہ وہ مسلمانوں کو ’ کورونا بم ‘ اور ’ کورونا جہادی ‘ کہہ کر مخاطب کرنے لگے تھے ۔ اسی پروپیگنڈے کے نتیجے میں تبلیغی مرکز پر تالا ڈالا گیا اور ملک گیر سطح پر اس کی سرگرمیاں روک دی گئیں۔سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیاجن میں اکثریت ان غیر ملکی باشندوں کی تھی جو تبلیغی سرگرمیوں کے لئے ہندوستان آئے تھے۔ ان پر کورونا پھیلانے کی غیر ملکی سازش میں شریک ہونے کے الزامات لگائے گئے ۔اس بے ہودہ پروپیگنڈے کے خلاف جمعیت علماء ہند نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور مرکز میں منعقدہ تبلیغی جماعت کے پروگرام کے تعلق سے کی گئی میڈیا رپورٹنگ کو فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ میڈیا غیر ذمے داری سے کام کررہا ہے اور ایسا دکھارہا ہے کہ جیسے مسلمان کورونا پھیلانے کی مہم چلا رہے ہیں۔ جمعیت نے اپنی عرضی میں عدالت سے اس پر پابندی لگانے اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے والوں پر کارروائی کا حکم دینے کی اپیل کی تھی۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس معاملے میں جب سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا تو اس نے اسے اظہار خیال کی آزادی سے جوڑ کر رفع دفع کرنے کی کوشش کی ۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے ایک جونیئر افسر کی طرف سے داخل کئے گئے حلف نامے میں کہا گیا کہ وہ میڈیا کو جماعت کے موضوع پر رپورٹنگ کرنے سے نہیں روک سکتے۔ اس معاملے میں مرکز نے آزادی صحافت کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ مرکز کے بارے میں زیادہ تر رپورٹنگ غلط نہیں تھی۔ مرکز ی حکومت نے اس معاملے میں اپنے ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے ٹال مٹول کی روش اختیار کی اور اس معاملے کو نیوز براڈ کاسٹنگ اتھارٹی (این بی ایس اے)کے پاس بھیجنے کا مشورہ دیا۔اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ حکومت مسلمانوں کے خلاف جاری اس پروپیگنڈہ مہم کو روکنے اور ملک میں نفرت پھیلانے والوں پر لگام کسنے کی بجائے انھیں کھلا چھوڑکر اپنے ایجنڈے کو مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ مگر سپریم کورٹ نے اس معاملے میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ وزارت اطلاعات ونشریات کے سیکریٹری اس طرح کے معاملوں میں یک طرفہ رپورٹنگ کو روکنے کے لئے ماضی میں اٹھائے گئے قدموں کی تفصیلی معلومات مہیا کریں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس روز سپریم کورٹ نے تبلیغی جماعت سے متعلق عرضی کی سماعت کرتے ہوئے گودی میڈیا اور حکومت کے رویہ کی سرزنش کی ، اسی روز شام کو بمبئی پولیس نے یہ انکشاف کیا کہ بعض ٹی وی چینل اپنی ٹی آر پی بڑھانے کے لئے ناجائز طریقے استعمال کررہے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں نام بدنام زمانہ نیوز چینل ری پبلک ٹی وی کا تھا جس کے سربراہ ارنب گوسوامی ہیں۔ٹی وی صحافت کو کثافت میں تبدیل کردینے والے ارنب گوسوامی کے اصل کردار کی نقاب کشائی کرتے ہوئے بمبئی پولیس کمشنر نے کہا کہ پولیس نے ایک ایسے ریکٹ کا پردہ فاش کیا ہے جو نیوز چینل ٹی آر پی(ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹ)بڑھانے کے لئے پیسے دے کر سسٹم سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔ دراصل ٹی آر پی کے ذریعہ ہی یہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ لوگ کسی چینل یا پروگرام کو کتنی بار یا کتنے وقت تک دیکھتے رہے ہیں۔ پروگرام کی ٹی آر پی زیادہ ہونے کا مطلب ہے کہ اسے زیادہ لوگ دیکھ رہے ہیں۔ بمبئی پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے کہا کہ ’ری پبلک ٹی وی‘ ،’ فقط مراٹھی‘ اورباکس سنیما چینل نے ہیرا پھیری کی ہے اور اس کے تعلق سے کاندیولی پولیس اسٹیشن میں کیس درج ہوا ہے۔ بمبئی پولیس کا کہنا ہے کہ بیرومیٹر والے گھروں کے لوگوں کو پیسے دے کر ایک ہی چینل چلوایا جاتا تھا۔ جانچ میں کچھ گھر تو ایسے بھی پتہ چلے جو بند تھے، لیکن وہاں اندر ٹی وی چل رہے تھے۔ چونکانے والی بات یہ ہے کہ جو لوگ انگریزی نہیں سمجھتے ، ان کے گھروں میں بھی مہینوں سے انگریزی چینل چل رہے تھے۔ دراصل ٹی آر پی بڑھانے کا یہ پورا کھیل اشتہاروں کی لوٹ مار کے لئے کھیلاگیا یعنی جن چینلوں کی ٹی آرپی زیادہ ہوتی ہے‘ اسے اتنے ہی زیادہ اشتہارات ملتے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ٹی آر پی ہیرا پھیری کا پورا کھیل تیس ہزار کروڑروپے کے اشتہار بازار سے بڑی حصے داری کھینچنے کے لئے کیا گیا۔ ناظرین کی تعداد سے متعلق ڈاٹا میں چھیڑ چھاڑ سے تینوں چینلوں کو ٹی آر پی کے عروج پر پہنچنے میں مدد ملی اور اس سے اشتہاروں کی کمائی بڑھی۔ پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ سوشانت سنگھ راجپوت معاملے میں ٹی آر پی کے اعداد وشمار کا فرضی کھیل ہوا ۔ ہم پہلے مانتے تھے کہ یہ چینل ٹی آر پی کے لئے جھوٹا پروپیگنڈہ کررہا ہے، لیکن اب ٹی آر پی دھوکہ دھڑی سامنے آئی ہے۔اسی دوران براڈ کاسٹنگ اتھارٹی نے آج تک چینل پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے اور سوشانت سنگھ کے وقار کو ٹھیس پہنچانے کے معاملے میں آن ایر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ آج تک چینل نے ایک آنجہانی اداکار سے ہی سوال پوچھے تھے۔اس سلسلے میں اتھارٹی کا کہنا ہے کہ کسی تکلیف دہ واقعہ کوسنسنی خیز بنانا غلط ہے۔ این بی سی نے کہا کہ’ ’آج تک‘ ‘نے سوشانت کے آخری ٹوئٹ کو نشر کرتے وقت بھی مناسب طریقہ اختیار نہیں کیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نیوز چینل نہ صرف مذہبی منافرت اور مسلم دشمنی کے جذبات کو ہوادینے میں ہی مشغول نہیں ہیں بلکہ وہ اندھا دھند دولت کمانے کی خاطر ہر قسم کی جعل سازیوں میں بھی ملوث ہیں ۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ سماجی تانے بانے  کے لئے زبردست خطرہ بننے والے ان چینلوں کی دکانوںکوجلد از جلد بند کیا جانا چاہئے ۔        
masoom.moradabadi@gmail.com

Ads