Jadid Khabar

شاہین باغ کی بلقیس بانو کو عالمی اعزاز

Thumb


 

یہ محض اتفاق ہے کہ جس روز دہلی فساد کی فردجرم میں شاہین باغ کی احتجاجی خواتین کو’ دھاڑی مزدور‘ اور’ فسادیوں کی ڈھال‘ قراردیا دینے کی خبر شائع ہوئی، اسی روز یہ اطلاع بھی ملی کہ مشہورزمانہ امریکی نیوزمیگزین ’ ٹائم ‘ نے 2020کے لئے دنیا بھر سے جن100 بااثرشخصیات کا انتخاب کیا ہے ، ان میں شاہین باغ کی 82سالہ دادی بلقیس بانو بھی شامل ہیں۔اس خبر کے عام ہوتے ہی ان لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی‘ جنھوں نے شاہین باغ کے بے مثال احتجاجی دھرنے میں کسی بھی طور شرکت کی تھی اور اپنے دستوری اور جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے یہ باور کرایا تھا کہ کوئی بھی حکومت عددی طاقت کے گھمنڈ میں اس ملک کی اقلیتوں کی شناخت نہیں مٹا سکتی۔ دوسری طرف یہ خبر ان تمام لوگوں پر بجلی بن کر گری ، جنھوں نے شاہین باغ کے احتجاج کو بدنام کرنے اور وہاں دھرنے پر بیٹھی ہوئی پاکیزہ خواتین کے دامن کو داغدار کرنے کی مذموم کوششیں کی تھیں۔اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کوئی کسی کو بے عزت اور بے وقار کرنے کی کتنی ہی سازشیں کیوں نہ رچے ، لیکن جب قدرت کسی کو عزت دینا چاہتی ہے تو اس کے سامنے اقتدار اور حکومت کی طاقت بھی کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ یہ دراصل ایک پیغام ہے ان لوگوں کے لئے جنھوں نے اقتدار اورعددی طاقت کے گھمنڈ میں اس ملک کے کمزورلوگوں کا جینا حرام کررکھا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کوچاہتا ہے ذلت سے دوچار کرتا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس فہرست میں شاہین باغ کی دادی کو داد وتحسین دے کر ان کا نام دنیا کی 100با اثر شخصیات میں شامل کیا گیا ہے، اسی فہرست میں وزیراعظم نریندر مودی کا بھی نام ہے مگر ان کا نام دیگر عنوان سے شامل کیا گیا ہے۔’ٹائم ‘ میگزین نے وزیراعظم نریندر مودی پر ایک بار پھر تیکھا تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” مخالفت کو دبانے کے لئے ان کی ہندو قوم پرست پارٹی بی جے پی کووبا کا بہانا مل گیا اور اس طرح دنیا کی سب سے زندہ جمہوریت اندھیرے میں ڈوب گئی۔“ٹائم میگزین نے مزیدلکھا کہ” ہندوستان کے زیادہ تر وزیراعظم ہندو فرقہ سے رہے ہیں، لیکن صرف مودی اس طرح کام کررہے ہیں، جیسے ان کے لئے کوئی اور معنی ہی نہیں رکھتا۔ ان کی ہندوقوم پرست بی جے پی نے شرافت کو طاق پر رکھ دیاہے۔خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایاگیاہے۔“
’ٹائم‘ میگزین کا یہ تبصرہ حقیقت میں وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار پر ایک بے باکانہ اور حقیقت پسندانہ رائے کا درجہ رکھتا ہے۔ کیونکہ انھوں نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے تب سے ملک میں یک رخی سیاست کا دور دورہ ہے ۔یہاں مسلمانوں کے بنیادی دستوری حقوق کو چھیننے کی کوششیں عروج پر ہیں۔جس شاہین باغ کے احتجاج میںحصہ لینے والی 82سالہ بلقیس بانو کو ’ ٹائم ‘ میگزین نے دنیا کی100 بااثر شخصیات میں شامل کیا ہے، وہ ایک ہاتھ میں ترنگا لے کر صبح سے رات تک دھرنے پر بیٹھتی تھیں۔ ان کا تعلق مغربی اترپردیش سے ہیں۔ ان کے شوہر ایک کسان تھے ، جن کی دس برس پہلے موت ہوچکی ہے اور اب وہ شاہین باغ میں اپنے بہو بیٹوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ انھوں نے شدید سردی کے موسم میں سینکڑوں دیگر خواتین کے ساتھ دھرنے میں حصہ لیا اور وہ اس بے مثال احتجاج کی ایک زندہ جاوید علامت بن گئیں۔ شاہین باغ کا یہ دھرنا جس نے اپنی امن پسندی اورسیکولر جمہوری طریقوں کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل کی تھی ، دراصل سی اے اے قانون کے خلاف ایک خاموش مگر موثر احتجاج تھا جس کی آواز پوری دنیا میں سنی گئی ، جس کا ایک ثبوت ’ ٹائم ‘ میگزین کا اعزاز بھی ہے ۔لیکن حکمراں جماعت نے شاہےن باغ کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔بی جے پی ممبر پارلیمنٹ پرویش ورما نے یہاں تک کہا کہ” شاہین باغ میں بیٹھے ہوئے لوگ آپ کی بہن بیٹیوں کو ریپ کریں گے ۔“کپل مشرا اور انوراگ ٹھاکر نے باقاعدہ نعرے لگوائے کہ” دیش کے غداروں کو، گولی مارو ... کو۔“ اسی آخری درجے کی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں شاہین باغ اور جامعہ مےں بیٹھے ہوئے لوگوں پر گولیاں چلیں اور کہا گیا کہ ” اب اس ملک میں صرف ہندوو¿ں کی ہی چلے گی۔“غرضیکہ ان پرامن مظاہرین کو بدنام کرنے اور انھیں خوفزدہ کرنے کے لئے ہر وہ ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا جو صاحبان اقتدار کے بس میں تھا مگر وہ اپنی تمام تر مذموم کوششوں کے باوجود ان کے حوصلوں کو توڑ نہیں پائے اور یہ لوگ آخری وقت تک وہاں بیٹھے رہے۔ یہ دھرنا خواتین نے منظم کیا تھا اور وہی اس کی شریک کار تھیں۔ جسم کو منجمد کردینے والی شدید سردی میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ کھلے آسمان کے نیچے رات دن بیٹھنے والی ان خواتین کو صرف اسی بات کی فکر لاحق تھی کہ کہیں کو ئی ان کی شہریت اور وطنیت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے اور وہ کسی بھی طور اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔
’ ٹائم ‘ میگزین نے دنیا کے 100 بااثر لوگوںکی فہرست میں بلقیس بانو کے علاوہ جن ہندوستانیوں کو شامل کیا ہے ، ان میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی، اداکارہ آیوشمان کھورانہ، ایچ آئی وی پر ریسرچ کرنے والے پروفیسر رویندر گپتا کے نام شامل ہیں۔ ان سب ہی کے بارے میں ’ ٹائم ‘ میگزین نے تعریف اور توصیف کے جملے ادا کئے ہیں ، لیکن ان میں صرف وزیراعظم نریندر مودی اکلوتی شخصیت ہیں جن پر ایک مختصرمضمون میں تلخ تبصرہ کیاگےا ہے۔ افسوس کہ ہندوستانی میڈیا کے بڑے حصہ نے اس تبصرے کو شائع نہیں کیا۔ ’ ٹائم ‘ نے لکھا ہے کہ” جمہوریت کے لئے اصل بات صرف چناو¿ نہیں ہے۔ چناو¿ صرف یہی بتاتے ہیں کہ کسے سب سے زیادہ ووٹ ملے، لیکن اس سے زیادہ اہمیت ان لوگوں کے حقوق کی ہے، جنھوں نے جیتنے والے کے حق میں ووٹ نہیں ڈالا۔ ہندوستان پچھلی سات دہائیوں سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بنا ہوا ہے۔ یہاں کی 130کروڑآبادی میںعیسائی ، مسلمان، سکھ، بودھ، جین اور دیگر مذہبی فرقوں کے لوگ رہتے ہیں۔“ ٹائم نے لکھا ہے کہ ”نریندر مودی نے اس سب کو شبہ کے گھیرے میں لادیا ہے۔ حالانکہ ہندوستان میں ابھی تک سارے وزیراعظم تقریبا ً 80فیصد ہندو آبادی سے آئے ہیں، لیکن مودی اکیلے ہیں ، جنھوں نے ایسے سرکار چلائی جیسے انھیں کسی اور کی پروا نہیں ہے۔ ان کی ہندو قوم پرست بی جے پی نے نہ صرف رواداری کو خارج کیا بلکہ کثرت میں وحدت کو بھی مسترد کیا، خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بناکر۔ وبا ان کے لئے مخالفت کو دبانے کا ذریعہ بن گئی اور دنیا کی سب سے زندہ جمہوریت گہری تاریکی میں ڈوب گئی۔“واضح رہے کہ یہ وہی ’ ٹائم ‘ میگزین ہے جس نے گزشتہ سال عام انتخابات کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ” ڈیوائیڈر ان چیف“ کی سرخی لگائی تھی اور جس اس پر سرکاری حلقوں میں کافی ہنگامہ برپا ہوا تھا۔اس وقت بی جے پی نے الزام لگایا تھا کہ یہ مضمون وزیراعظم نریند رمودی کی شبیہ کو ملیا میٹ کرنے کی کوشش ہے۔
’ٹائم ‘میگزین نے شاہین باغ کی بلقیس بانو کو یہ اعزاز دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ” وہ ہندوستان میںمحروموں اور مظلوموں کی آواز بنیں۔ وہ کئی بار دھرنے کی جگہ صبح آٹھ بجے سے رات بارہ بجے تک رہا کرتی تھیں۔ ان کے ساتھ ہزاروں دیگر خواتین بھی وہاں موجود ہوتی تھیں اور خواتین کے اس دھرنے کو احتجاج کی علامت تسلیم کیا گیا تھا۔ میگزین نے لکھا ہے کہ بلقیس بانو نے سماجی کارکنان بالخصوص طلباءلیڈروں کو جنھیں جیل میں ڈال دیا گیا، انھیں مسلسل حوصلہ دیا اور یہ پیغام دیا کہ جمہوریت کو بچائے رکھنا کتنا ضروری ہے۔شاہین باغ کے احتجاج کے دوران ایک موقع پر جب وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ سی اے اے پر ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے تو اس کے جواب میں بلقیس بانو نے کہا تھا کہ” اگر وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ وہ ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے تو میں کہتی ہوں کہ ہم ایک بال برابر بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔“
سبھی جانتے ہیں کہ شاہین باغ کی تحریک ظلم اور ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئی تھی اورپوری دنیا کی توجہ اس پر مرکوز تھی ۔ حکومت کے ہاتھ پاو¿ں پھول گئے تھے اور وہ دنیا کواس بات پر مطمئن نہیں کرپارہی تھی کہ شہریت ترمیمی قانون میں جو ترمیم کی گئی اس میں مسلمانوں کو شہریت دینے کا التزام کیوں نہیں ہے۔آج سی اے اے مخالف تحریک میں حصہ لینے والوں کے خلاف ظلم اور جبر کا جو پہیہ گھوم رہا ہے وہ دراصل ان سے انتقام لینے کی ایک کوشش ہے۔ ملک گیر سطح پر شاہین باغ تحریک میں حصہ لینے والوں پر دہشت گردی مخالف قانون یو اے پی اے کے تحت کارروائی کی گئی ہے اوران میں سے بیشتر لوگوں کو جیلوں میںڈال دیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ انتقام شاہین باغ اور جامعہ کے مظاہرین سے لیا جا رہا ہے۔ انھیں شمال مشرقی دہلی کے فساد کا کلیدی ملزم اور سازش رچنے والا بتایا گیا ہے۔ جبکہ فساد بھڑکانے والے حکمراں طبقہ کے لوگوں کو کلین چٹ دے کر انھیں پولیس کا تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ شاید اسی لئے ٹائم میگزین نے لکھا ہے کہ” دنیا کی سب سے زندہ جمہوریت تاریکی میں ڈوب گئی ہے۔“
masoom.moradabadi@gmail.com

Ads