Jadid Khabar

وبائی دور میں بھی ہجومی تشدد

Thumb


 

ملک اس وقت ایک بہت بڑے بحران سے گزررہا ہے۔ یہ بحران کئی سمتوں سے وطن عزیز کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہے۔ایک طرف جہاں کورونا مریضوں کی تعداد عالمی ریکارڈ توڑنے کی طرف بڑھ رہی ہے ‘تو وہیں دوسری طرف ہندچین سرحد پر جنگ کے خطرناک بادل منڈلارہے ہیں۔ ملکی معیشت ہچکولے کھارہی ہے اور بے روزگاری اپنی انتہاو¿ں تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی جدھر دیکھئے سنگین مسائل منہ پھاڑے کھڑے ہیں۔یہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم ملک کے اندر ایسے ماحول کو فروغ دیں ، جس میں ہماری داخلی طاقت زےادہ سے زےادہ مضبوط ہو اور ہم متحد ہوکر ان چیلنجوں کا مقابلہ کرسکیں۔ لیکن جب ہم زمینی سطح پردیکھتے ہیں توصورتحال اتنی پریشان کن نظر آتی ہے کہ اسے پوری طرح لفظوں میں بیان کرنا بھی مشکل ہے۔سب سے بڑا المےہ ےہ ہے کہ حب الوطنی اور دیش بھکتی کو اپنی میراث تصور کرنے والے لوگ ہی ملک کو اندر سے کھوکھلا کرنے میں مصروف ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس بدترین بحرانی دور میں بھی ہجومی تشدد کے واقعات پیش آرہے ہیں اور مسلمانوں کا جینا دوبھر کیا جارہا ہے ۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران ملک کم از کم تین مسلم نوجوانوں کو بے دردی سے ہلاک کیا گیا ہے اور اےک نوجوان کا ہاتھ کاٹ دےا گےا ہے۔کہیں چوری کے الزام میں تو کہیں ناجائز وصولی کی آڑ میں تو کہیں ’جے شری رام‘ نہ کہنے کی پاداش میں انھیں جان سے مار دیا گیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پولیس مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور انھیں عبرتناک سزائیں دلانے کی بجائے ان معاملوں کی لیپا پوتی کرنے میںلگی ہوئی ہے۔ان واقعات نے ایک بار پھر ہمیں یہ احساس دلادیا ہے کہ موجودہ حکومت کا ایجنڈا ملک کو مصیبتوں سے نجات دلانا نہیں بلکہ ملک کو نئی اور زیادہ سنگین مصیبتوں میں مبتلا کرنا ہے۔ملک میں جب چاروں طرف آگ لگی ہو تو حکومت کو مسائل سے نمٹنے کے لئے عوام کی مثبت حمایت درکار ہوتی ہے تاکہ انھیںساتھ لے کر سنگین مسائل سے لڑا جاسکے۔ لیکن موجودہ حکومت کے رویہ کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اسے اقتدار کا اتنا نشہ ہے کہ وہ عوامی طاقت کو قطعی فراموش کرچکی ہے اور خود کو ہر چیزپر قادر سمجھتی ہے۔
جس وقت یہ سطریں لکھی جارہی ہیں تو لداخ میں چینی دراندازی اور مسلسل جارحانہ اقدامات نے صورتحال کو انتہائی دھماکہ خیز بنادیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑنے والی ہے۔پہلے لداخ کے پینگونگ علاقہ میں چینی فوج نے سرحد کو عبور کرنے کی کوشش کی پھر اس واقعہ کے دس روز بعد ایل ای سی کی خلاف ورزی کی ۔ جب ہندوستان نے مزاحمت کی تو ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ چین کی طرف سے یہ جارحیت تب ہوئی جب ماسکو میں وزیردفاع راجناتھ سنگھ سے مذاکرات کے دوران ان کے چینی ہم منصب نے کشیدگی کو کم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔1975کے بعد پہلی مرتبہ ایل اے سی پر گولی چلنے سے یہاں لوگ دہشت میں ہیں۔ لداخ کے سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے آج تک اتنی بڑی تعداد میں فوجی کبھی نہیں دیکھے۔ کشمیر سے لداخ جانے والی سڑک پر مسلسل فوجی گاڑیوں کے قافلے گذررہے ہیں۔ گاو¿ں والوں کا کہنا ہے کہ1962کی جنگ اکتوبر کے مہینے میں ہوئی تھی۔ اب انھیں یہی ڈر ستارہا ہے کہ کہیں ایک بار پھراکتوبر کا مہینہ جنگ نہ لے آئے۔فوجی افسران کا کہنا ہے کہ کوئی بھی واقعہ ایک بڑی جھڑپ میں تبدیل ہوسکتاہے۔
ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسی صوتحال ہے جسے ملک کے لئے اطمینان بخش قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ یہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہمیں داخلی طور پر اپنے آپ کو ایک مضبوط اور متحد ملک کے طور پر پیش کرنا چاہئے تاکہ دشمن ہماری طاقت کو دیکھ کر گھبرا جائے اور اس کے حوصلے ٹوٹ جائیں، لیکن ملک کے اندر منافرت کا ایجنڈا نافذ کرنے کی کوششوں میں کوئی کمی نہیں ہے۔اس کا تازہ ترین ثبوت دہلی کے ایک کیب ڈرائیور کا بہیمانہ قتل ہے جسے اترپردیش کے بلند شہر ضلع میں محض اس بنیاد پر اذیتیں دے کر ماردیا گیا ہے کہ اس نے ’ بھارت ماتا کی جے اور بندے ماترم ‘ کہنے سے انکار کردیا تھا۔دہلی کے آفتاب نامی کیب ڈرائیور کی گاڑی اترپردیش کے بلند شہر کے لئے بک کی گئی۔گاڑی میں سوار دونوجوانوں نے بیچ راستے میں محمدآفتاب کو پریشان کرنا شروع کردیا۔آفتاب نے موقع کی نزاکت کو بھانپ کر اپنا موبائل گھر کے نمبر پر ملاکر جیب میں رکھ لیا جس میں پوری واردات ریکارڈ ہوئی ہے۔مقتول آفتاب کے بیٹے محمدشارب کے پاس چالیس منٹ کی جو آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے ، اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حملہ آوروں نے مقتول کو ’جے شری رام اور بھارت ماتا کی جے‘ نہ بولنے پرتشدد کا نشانہ بنایا اور بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتاردیا۔45سالہ آفتاب دہلی کے ترلوک پوری علاقہ میں مقےم تھا اور محدود آمدنی میں اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلارہا تھا۔ ان کا بیٹا شارب بی کام کا طالب علم ہے اور دوسرا بیٹانیٹ کی تیاری کررہا ہے۔ مگر والد کی لنچنگ میں موت سے ان پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔موب لنچنگ کی دوسری واردات اترپردیش کے ہی بریلی ضلع میں ہوئی ہے۔ وہاں32 سالہ باسط نامی نوجوان کو چوری کے الزام میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا ہے۔ اس واقعہ کا بے چین کردینے والا ویڈیو سوشل میڈیا پر گشت کررہاہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ باسط کے دونوں ہاتھوں کو درخت سے باندھ دیا گیا ہے ۔ بہیمانہ پٹائی کے دوران وہ مدد کے لئے پکار رہا ہے ،لیکن وہاں موجود لوگ اس پر توجہ نہیں دے رہے ہیں بلکہ آپس میں بات کرکے مسکرا رہے ہیں ۔
اس سے قبل اترپردیش کے ہی شراوستی ضلع میں ایک22 سالہ نوجوان واجدعلی کو پولیس حراست میں ہلاک کرکے اس کی لاش تھانے کے ٹوائلٹ میں ٹانگ دی گئی تاکہ خودکشی کا کیس بنایا جاسکے۔واجدعلی کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا دوتین دن سے پولیس کی حراست میں تھا اور ایس ایچ او ا سے رہا کرنے کے دولاکھ روپے مانگ رہا تھا۔ پچاس ہزار روپے ادا کرنے کے باوجود اسے نہیں چھوڑا گیا ۔ بعد کو اس کی لاش تھانے کے ٹوائلٹ میں ٹنگی ہوئی ملی۔اس معاملے میں ایس پی نے کارروائی کرتے ہوئے ایس ایچ او سمیت چھ پولیس والوں کو معطل کردیا ہے۔اس دوران اےک دل دہلانے والی خبر ہرےانہ کے پانی پت علاقے سے موصول ہوئی ہے ۔وہاں اےک 28سالہ نوجوان اخلاق کاداےاں ہاتھ محض اس لئے کاٹ دےا گےا کےونکہ اس پر 786لکھا تھا۔پےشے سے بار بر اخلاق سہارنپور کے قصبہ نانوتہ کا رہنے والا تھا اور وہ مسلسل بے روزگاری سے پرےشان ہو کر کام کی تلاش مےں پانی پت گےا تھا ۔اخلاق کے بھائی اکرام نے ’ٹو سرکل ‘کے نامہ نگار کو بتاےا کہ اخلاق پانی پت کے کشن پورہ علاقہ مےں سڑک پر بےٹھا ہواتھا کہ وہاں آکر دو لوگوں نے اس کا نام پوچھا اور نام پوچھتے ہی اسے بری طرح مارنا شروع کردےا ۔بعد کو دونوں حملہ آور غائب ہوگئے اور جب اخلاق نے زخمی حالت مےں پانی کی تلاش مےں اےک دروازے پر دستک دی تو وہاں موجود لوگوں نے اسے اند ر گھسےٹ لےا اور اسے بری طرح مارنے لگے ۔اخلاق کو بعد مےں احساس ہوا کہ ےہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اسے سڑک پر پےٹا تھا ۔حملہ آور وں نے جےسے ہی اخلاق کے ہاتھ پر 786لکھا ہو دےکھا تو لکڑی کاٹنے والی مشےن سے اس کا داےاں ہاتھ کہنی سے جدا کردےا ۔اکرام نے بتاےا کہ اس کے بھائی نے پندرہ برس کی عمر مےں اپنے ہاتھ پر 786لکھواےا تھا کےونکہ ہمےں 786پر ےقےن ہے اور ہم اللہ پر بھروسہ رکھتے ہےں۔درندگی اور بربرےت سے لبرےز ےہ واقعات اس بات کی تصدےق کرتے ہےںکہ اس شدےد بحرانی دور مےں بھی حکمراں جماعت کے لوگ اپنے فرقہ وارانہ اےجنڈے پر پوری تندہی سے کاربند ہےں۔وہ اس ملک کے کمزور طبقوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی کو ہی اپنی سب سے بڑی کامےابی تصور کرتے ہےں۔نہتے ‘بے قصور اور مجبور لوگوں پر ےہ ظلم وستم دراصل ان کی بزدلی کا سب سے بڑا ثبوت ہے ۔مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس ظلم اور بربرےت کے خلاف کوئی ٹھوس حکمت عملی وضع کرےں۔
masoom.moradabadi@gmail.com

 

Ads