Jadid Khabar

حاکمِ وقت کا منصف سے یارانہ نکلا

Thumb

پارلیمنٹ کی کارروائی کی رپورٹنگ کرتے ہوئے مجھے کوئی تین دہائیاں بیت چکی ہیں۔ اس دوران سینکڑوں نئے ممبران کی حلف برداری کے مناظر دیکھنے کو ملے ہیں۔ لیکن ایسا پہلی بار ہوا کہ راجیہ سبھا میں کسی نئے ممبر کی حلف برداری کے دوران اپوزیشن کی طرف سے زبردست ہنگامہ ہوا اور’’ شیم شیم ‘‘کی آ وازیں سنائی دیں۔ایسا بھی پہلی بار ہوا کہ کسی ممبر کی حلف برداری کے وقت اپوزیشن کے ممبران نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ حلف اٹھانے والا ممبر کوئی عام سیاست داں نہیں بلکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کا سابق چیف جسٹس تھا ‘جو بہ اعتبار عہدہ ملک کے صدر جمہوریہ کو بھی حلف دلاتا ہے۔ سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو اہم شخصیات کے اس زمرے میں ایوان بالا کا ممبر نامزد کیا گیا ہے جس میں ملک کی ایسی سرکردہ شخصیات کو شامل کیا جاتا ہے‘ جنھوں نے اپنے میدان میں غیرمعمولی خدمات انجام دی ہوں۔ اس اعتبار سے اگر جسٹس گوگوئی کی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو بطور چیف جسٹس ان کا سب سے بڑا کارنامہ وہ فیصلہ ہے جس میں انھوں نے بابری مسجد کی اراضی کو رام مندر کی تعمیر کے لئے دئیے جانے کا حکم سنایا تھا۔جسٹس گوگوئی نے اپنے فیصلے میں نہ صرف بابری مسجد کے حق میں پیش کئے گئے تمام ثبوتوں اور دلائل کو نظر انداز کیا بلکہ حکومت کویہ ہدایت بھی دی کہ وہ ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر ایک عالیشان رام مندر بنانے کے لئے ایک ٹرسٹ قایم کرے۔
سپریم کورٹ کے اس نادر فیصلے کے بعد حکمراں جماعت کے حلقوں میں جشن کا ماحول تھا۔ کیونکہ اس فیصلے سے فرقہ پرستوں کی ایک ایسی تمنا پوری ہوئی تھی جس کی وہ برسوں سے آس لگائے بیٹھے تھے۔خود حکمراں جماعت نے اس موضوع کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کررکھا تھا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کو حکمراں جماعت نے اپنی سب سے بڑی حصول یابی سے تعبیر کیا تھا۔ اس کے برعکس بابری مسجد کے وہ پیروکار جو ملک کی سب سے بڑی عدالت سے انصاف کی آس لگائے بیٹھے تھے، انھیں اس فیصلے سے سخت مایوسی ہوئی تھی اور انھوں نے خود کو ٹھگا ہوا محسوس کیا تھا۔کیونکہ اس فیصلے میں انصاف کے مقابلے فریق مخالف کی آستھا کو ترجیح دی گئی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ قانون کے ماہرین اور خود سپریم کورٹ کے سابق ججوں نے اس فیصلے پر ڈھیروں سوال کھڑے کئے تھے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ جسٹس گو گوئی نے اپنے فیصلے میں اس حقیقت کو تسلیم کیا تھا کہ بابری مسجد کے نیچے نہ تو کسی مندر کے ثبوت ملے ہیں اور نہ ہی یہ ثابت ہوسکا ہے کہ یہ عمارت کسی دوسری عمارت کو توڑ کر بنائی گئی ہے۔ اتنا ہی نہیں سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے انہدام کو بھی مجرمانہ سرگرمی سے تعبیر کیا تھا اور مسجد میں مورتیاں رکھے جانے کو بھی غیرقانونی مانا تھا۔ لیکن ان بنیادی حقائق کو تسلیم کرنے کے باوجود فیصلہ اس رام مندر کے حق میں سنایا گیاجو سنگھ پریوار کے ایک بڑے اور خطرناک فسطائی ایجنڈے کا حصہ ہے اور جس کی تعمیر کا بنیادی مقصد اس ملک میں رہنے والے مسلمانوں کو دویم درجے کا شہری ثابت کرنا ہے۔ جس وقت یہ سطریں لکھی جارہی ہیں اس وقت ایودھیا میں ایک ایسا عالیشان مندر بنانے کی تیاریاںعروج پر ہیں جو مبینہ طور پر دنیا کے تمام مذاہب کی عبادت گاہوں میں سب سے بڑا اور سب سے عظیم الشان ہوگا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومتیں ماضی میں بھی اپنے مفادات کو پورا کرنے والے ججوں کو سرکاری عہدوں سے نوازتی رہی ہیں اور انھیں کبھی گورنر اور کبھی راجیہ سبھا کا ممبر نامزد کیا گیا ہے لیکن جسٹس گو گوئی کا معاملہ اس اعتبار سے مختلف ہے کہ انہوں نے گذشتہ27 مارچ 2019کو اپنے ایک بیان میں یہ کہا تھا کہ’’ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی قسم کی نامزدگی یا کوئی عہدہ قبول کرنا عدلیہ کی آزادی پر ایک داغ ہے ۔‘‘ لیکن اس کے باوجود ریٹارمنٹ کے محض چار ماہ کے اندر انہوں نے راجیہ سبھا کی رکنیت بسر و چشم قبول کرلی اور اس پر اٹھنے والے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کی اس نامزدگی پر سب سے زیادہ اعتراض خود سپریم کورٹ کے ہی سابق ججوں نے کیا ہے‘ جن میں خود ان کے پرانے ساتھی بھی شامل ہیں ۔ ان کے ساتھی رہ چکے ریٹائرڈ جسٹس کورین جوزف نے کہا کہ’’ گو گوئی نے عدلیہ کی آزادی اور غیر جانب داری کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے ۔‘‘ راجیہ سبھا میں اپنی نامزدگی کو سابق چیف جسٹس کی طرف سے منظور کئے جانے سے عدلیہ کی آزادی میں لوگوں کا یقین کمزور ہوا ہے۔ عدلیہ کی آزادی آئین کی اصل بنیاد ہے۔‘‘ ریٹائرڈ جسٹس مدن بی لوکر کا کہنا ہے کہ’’ پچھلے کچھ عرصہ سے یہ اندازے لگائے جارہے تھے کہ جسٹس گو گوئی کو کیا اعزاز ملے گا؟اس لئے ان کی نامزدگی حیران کرنے والی بات نہیں ہے۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ اتنی جلدی نامزدگی ہوگئی۔‘‘ انھوں نے کہا کہ’’ یہ عدلیہ کی آزادی، غیر جانب داری اور یک جہتی کی نئی تشریح ہے۔ کیا آخری قلعہ بھی ڈھے گیا ہے۔‘‘جسٹس گوگوئی کے ساتھ کام کرچکے ان سرکردہ ریٹائرڈ ججوں کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی نامزدگی پر کتنے تیکھے اور پریشان کن سوال اٹھے ہیں اور ملک کی سب سے بڑی عدالت میں سب سے اونچے عہدے پر بیٹھنے والے شخص کی حیثیت کس طرح مجروح ہوئی ہے۔
جسٹس گوگوئی کے چیف جسٹس رہتے ہوئے حکومت کو جن دیگر معاملوں میں بڑی راحت ملی تھی‘ ان میں ایودھیا تنازعہ کے علاوہ آسام این آر سی، سبری مالا، رافیل اور سی بی آئی کے فیصلے شامل ہیں۔ ان تمام مقدموں میں حکومت ایک اہم فریق تھی۔ اب یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ اگر حکومت انصاف کے مندر میں بیٹھنے والوں کو اس طرح ریٹائرمنٹ کے بعد عہدوں کا لالچ دے کر اپنے حق میں فیصلے صادر کروائی گی تو پھر لوگوں کو انصاف کہاں ملے گا۔ سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے اور اسے آخری قلعہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔انصاف کا یہ آخری قلعہ بھی اگر جسٹس مدن بی لوکر کے الفاظ میں منہدم ہوگیا تو پھر اس ملک میں جمہوریت ، سیکولرازم اور انصاف کا کیا ہوگااور آئین کی حفاظت کون کرے گا؟
 جسٹس گوگوئی کی تقرری کے خلاف سپریم کورٹ میں ہی مفاد عامہ کی ایک عرضی دائر کرکے ان کی نامزدگی کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مدھو کشور نام کی جس خاتون نے یہ عرضی داخل کی ہے‘ وہ وزیر اعظم کے مداحوں میں شامل ہیں ۔مدھوکشور نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ’’ عدلیہ کی آزادی، دستور کے بنیادی ڈھانچہ کالازمی حصہ ہے اواسے جمہوریت کا ایک ستون مانا جاتا ہے۔ عدلیہ کی طاقت اس ملک کے عوام کے یقین میں مضمر ہے۔‘‘ اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ’’ ریٹائرڈ ججوں کی نامزدگی کا کوئی بھی فیصلہ عدلیہ کی آزادی کے دستوری ڈھانچہ کے خلاف ہے۔ سابق چیف جسٹس کو راجیہ سبھا میں نامزد کیا جانابھی ایسا ہی معاملہ ہے۔‘‘ عرضی میں کہا گیا ہے کہ’’ یہ نامزدگی سیاسی نامزدگی جیسی ہے، اس سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے تحت دئیے گئے فیصلوں کی معتبریت پر شبہ پیدا ہوتاہے۔ ‘‘
رام مندر کے حق میں فیصلہ صادر کرنے والی دستوری بنچ کے سربراہ کو سبکدوشی کے چند ماہ بعد ہی حکومت کی طرف سے راجیہ سبھا کی سیٹ تحفہ میں دئیے جانے کے بعد بابری مسجد کے وہ سارے زخم پھر سے تازہ ہوگئے ہیں جن کی ٹیس مسلمانوں کو مسلسل محسوس ہوتی رہیہے۔ موجودہ حکومت جس انداز میں کام کررہی ہے‘ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے ملک کے تمام خود مختارجمہوری اداروں کو اپنا دست نگر بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور جو کوئی اس کے ایجنڈے کی تکمیل میں رکاوٹ بن رہا ہے اسے سزا دی جارہی ہے۔ جیسا کہ پچھلے دنوں دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس مرلی دھر کے ساتھ ہوا تھا۔ اشتعال پھیلانے والے بی جے پی لیڈروں کے خلاف کارروائی کا حکم دینے کی پاداش میں انہیں آدھی رات کو ٹرانسفر کردیا گیا تھا ۔جسٹس گوگوئی کی نامزد گی کے سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے پی شاہ نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے یہ پیغام جاتا ہے کہ اگر آپ ایگز یکٹیوکے حق میں فیصلے کرتے ہیں تو انعام دیا جائے گا اور اگر آپ ایسا نہیں کرتے ہیں تو آپ کے ساتھ منفی سلوک کیا جائے گا۔‘‘جسٹس رنجن گوگوئی کو جن حالات میں راجیہ سبھا کا ممبر نامزد کیا گیا ہے ‘انہیں دیکھتے ہوئے کسی شاعر کا یہ شعر یاد آتا ہے ۔
پھر وہی بات، وہی قصہ پرانا نکلا
حاکمِ وقت کا منصف سے یارانہ نکلا

 

Ads