Jadid Khabar

دہلی پولیس فسادیوں کے ساتھ کیوں تھی؟

Thumb

ہر فساد کی طرح دہلی کی حالیہ قتل وغارت گری کے دوران بھی پولیس کے کردار پر  ڈھیروں سوال اٹھ رہے ہیں۔ تین دن تک بلاروک ٹوک جاری رہنے والے اس ہولناک فساد میں جان ومال کا بھاری نقصان ہواہے اور انسانی بستیاں جہنم میں تبدیل  کردی گئی ہیں۔فسادی بلا خوف وخطر اپنا کام انجام دیتے رہے اور ان تین دنوں تک پولیس کہیں نظر نہیں آئی ۔ایسا محسوس ہوا کہ جان بوجھ کر شمال مشرقی دہلی کو فسادیوں کے حوالے کردیا گیا تھا۔ سب سے زیادہ تکلیف بی بی سی کی اس رپورٹ کو دیکھ کر ہوئی جس میں وردی پوش پولیس والے فسادیوں کے ساتھ پتھراؤ کرتے ہوئے نظر آر ہے ہیں۔ بی بی سی کی اسی رپورٹ میں کچھ پولیس والے ڈنڈے کے زور پرکچھ نیم مردہ نوجوانوں پر ’جن من گن ‘گانے کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کی ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انھیںفوری طبی امداد کی ضرورت تھی لیکن پولیس نے  طبی امداد پہنچانے کی بجائے ان کی حب الوطنی کا امتحان لینا ضروری سمجھا ۔ بعد کو ان میں سے فیضان نامی ایک نوجوان نے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا۔ شاید پولیس کی اس نااہلی اور اپنے فرائض سے منہ موڑنے کا ہی نتیجہ تھاکہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے پولیس افسران کو ان کے بنیادی فرائض کی یاد دہانی کرائی ۔ مسٹر ڈوبھال مرکزی حکومت کے اکلوتے کارندے تھے جنھوں نے سب سے پہلے شمال مشرقی دہلی کے فسادزدہ علاقوں کا دورہ کیا تھا اور متاثرین کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی تھی۔ مسٹر ڈوبھال نے گڑگاؤںمیں نوجوان پولیس اہل کاروں کو خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ’’ اگر پولیس قانون نافذ کرنے میں ’ناکام ‘ہوتی ہے تویہ جمہوریت کی ناکامی ہے۔‘‘مرکزی وزارت داخلہ کے تحت پولیس کے ایک تھنک ٹینک بی پی آرڈی کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام میں انھوں نے مزیدکہا کہ ’’ قانون بنانا جمہوریت میں سب سے مقدس کام ہے۔ آپ(پولیس اہل کار)اس قانون کو نافذ کرنے والے لوگ ہیں۔ اگر آپ ناکام ہوتے ہیں تو جمہوریت ناکام ہوتی ہے۔ ‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’جمہوریت میں قانون کے تئیں پوری طرح وقف ہونابہت اہم ہے۔ آپ کو غیر جانب داری کے جذبہ کے تحت کام کرنا چاہئے اور یہ بھی بہت اہم ہے کہ آپ اعتماد کے قابل نظر آئیں۔‘‘
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی فساد کے دوران پولیس پر نااہلی یا اپنے فرائض سے منہ موڑنے کے الزامات لگے ہیں بلکہ پولیس کی جانبداری اورمظلومین کے ساتھ سوتیلے برتاؤ کی داستان اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ اس ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ ہے۔ یعنی پولیس ہر فساد کے دوران ایک ہی کہانی دہراتی ہے اور اس نے آج تک کوئی سبق حاصل نہیں کیا ہے۔ اس مسئلہ کی تہہ تک جانے کے لئے آئیے ہم انڈین پولیس سروس کے ہی ایک سابق آفیسر وبھوتی ناراین رائے کی ایک کتاب سے رجوع کرتے ہیں جو اس مسئلہ پر دستاویزی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ دراصل ایک تحقیقی مقالہ ہے جس میں فرقہ وارانہ فساد ات کے دوران پولیس کی غیر جانب داری کے تصور کا جائزہ بڑی ایمانداری اور سچائی کے ساتھ لیا گیا ہے۔ اس تحقیقی مطالعہ کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ خود پولیس محکمہ میں اہم ذمہ داریاں سنبھال چکے ایک فرض شناس افسر نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جس نیشنل پولیس اکیڈمی نے انھیں اس تحقیقی کام کے لئے فیلوشپ دی تھی ، اس نے اس تحقیقی مقالہ کو شائع کرنے سے انکا ر کردیاتھا ۔ بعد کو یہ مقالہ ایک کتاب کی شکل میں نیشنل اکیڈمی آف ایڈمنسٹریشن مسوری نے شائع کیا۔ یہ کتاب انگریزی زبان میں شائع ہوئی تھی لیکن فی الحال اس کتاب کا اردو ترجمہ ہمارے پیش نظر ہے جسے ’’ فرقہ وارانہ فسادات اور ہندوستانی پولیس ‘‘ کے عنوان سے خبردار پبلی کیشن، نئی دہلی نے شائع کیا ہے۔وبھوتی ناراین رائے اترپردیش کے کئی حساس اضلاع میں پولیس سپرٹینڈنٹ کے طور پر تعینات رہ چکے ہیں اور ان کا سب سے بڑا کارنامہ میرٹھ کے ہاشم پورہ قتل عام کو بے نقاب کرناتھاجس میں پی اے سی کے جوانوں نے تیس مسلم نوجوانوں کو قتل کرکے ان کی لاشیں ہنڈن ندی میں بہا دی تھیں۔ مسٹر رائے اس زمانے میں غازی آباد کے ایس ایس پی تھے ۔ انھوں نے اسے حراستی قتل عام کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا تھا۔ 
 وبھوتی ناراین رائے اپنی مذکورہ کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ ’’ ایک پولیس آفیسر کی حیثیت سے مجھے کئی فرقہ وارانہ فسادات کو نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میرے لئے ہمیشہ پولیس والوں کا رویہ سب سے زیادہ تکلیف کا باعث رہا ۔ ہر مرتبہ یہی محسوس ہوا کہ پولیس ولے ایک خاص قسم کے تعصب اور اقلیت مخالف ذہنیت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔اس میں لازمی طور پر ان کی ناقص تربیت کا ہاتھ تو ہوتا ہی ہے، پولیس فورس میں اقلیتوں کی مناسب نمائندگی کا فقدان بھی ایک بڑا سبب ہے۔ ملک کے تقریبا تمام بڑے فسادات کا مطالعہ کرنے کے بعد میرا یہ یقین پختہ ہوا ہے کہ پولیس فورسز میں عملہ کی تعداد ، ہتھیار، گاڑیاں، مواصلاتی آلات جیسے’ لانجسٹکس ‘ میں اضافہ کرنے سے زیادہ اہم ان کی سوچ میں تبدیلی لانا ہے۔ ایک بڑی اور مسلح پولیس فورس قوت ارادی اور سیکولر طرز عمل کے بغیر ویسا ہی مظاہرہ کرے گی جیسا کہ ہم نے 6دسمبر1992 کو دیکھا ، جب بیس ہزار سے زیادہ پولیس والوں کے سامنے بابری مسجد توڑ دی گئی اور وہ کسی مزاحمت کے بغیر خاموش تماشائی کی طرح دیکھتے رہے۔‘‘
 وبھوتی نارائن رائے نے اپنی اس تحقیقی کتاب میں ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ اور اس کے اسباب وعوامل کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور ہر فساد میں پولیس کے کردار کی چھان بین بھی کی ہے۔ اپنی تحقیق کے دوران انھیں جن دشواریوں سے گذرنا پڑا اس کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ:
’’ مجھے سب سے زیادہ مشکل ایک عام پولیس والے کی ذہنیت پر قابو پانے میں محسوس ہوئی ۔ مجھے جن پولیس افسروں اور دیگر پولیس والوں سے ملنے اور بات چیت کا موقع ملا، ان سب کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ مسلمانوں کے خلاف سخت اقدامات کرنا ہی فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کا سب سے موثر طریقہ ہے۔غالبا یہی سبب ہے کہ ہاشم پورہ(1987)یا بھاگلپور(1989)جیسے واقعات ذرا بھی احساس ندامت پیدا نہیں کرسکے۔ ہاشم پورہ میں پولیس نے تیس بے قصور مسلمانوں کو مارڈالا اور بھاگلپور میں پولیس کے اشارے سے اکثریتی فرقہ کے لوگوں نے اقلیتی فرقہ کے100 افراد کو ذبح کرڈالا ۔ اسی ذہنیت کی وجہ سے مجھے بہت سی ایسی پولیس دستاویزات تک رسائی حاصل نہ ہوسکی ، جن سے تحقیقی جائزے میں مدد ملتی۔‘‘(فرقہ وارانہ فسادات اور ہندوستانی پولیس ‘صفحہ 10)   
شمال مشرقی دہلی کے فساد میں بھی یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ یہاں پولیس نے جن ڈھائی ہزار افراد کو فسادیوں کے طور پر حراست میں لیا ہے ان میں غالب اکثریت انہی لوگوں کی ہے جو اس فساد کے دوران پوری طرح تباہ و برباد ہوچکے ہیں۔اس مسئلے کو وبھوتی نارائن رائے نے اپنی کتاب میں اس طرح بیان کیا ہے :
’’تقریباً سبھی بڑے فرقہ وارانہ حادثات کے دوران مرنے والوں میں مسلمانوں کی تعداد نہ صرف زیادہ تھی ‘بلکہ بیشتر واقعات میں تو یہ 80فیصد سے بھی زیادہ تھی ۔تباہ شدہ املاک بھی زیادہ تر مسلمانوں کی ہی تھیں ۔ان حالات میں امن وقانون قائم کرنے والی ایجنسیوں سے یہ امید فطری ہی ہوگی کہ گرفتاریوں اور تلاشیوں کے دوران وہ اس حقیقت کو ذہن میں رکھیں اور تناسب میں ہندوئوں کی زیادہ گرفتاریاں کریں اور ان کے گھروں کی زیادہ تلاشیاں لیں۔لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوتا۔تقریباًسبھی فسادات میں جہاں مرنے والوں میں مسلمان زیادہ تھے ‘گرفتاریاں بھی انہی کی زیادہ ہوئیں ‘تلاشیاں بھی ان ہی کے گھروں کی لی گئیں اور کرفیو بھی انہی علاقوں میں سختی سے لگایا گیا‘جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ تھی۔‘‘(صفحہ نمبر100)
اپنی اس تحقیق میں وبھوتی نارائن رائے نے جہاں پولیس کی بہتر تربیت اور اس کی ذہن سازی کی ضرورت بتلائی ہے وہیں یہ مشورہ بھی دی ہے کہ ’’ اقلیتوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے پولیس فورس میں نمائندگی ملنی چاہئے۔ اقلیتوں کی نمائندگی پولیس فورس میں کم ازکم دس سے بارہ فی صد ہونی چاہئے۔ اس مطا لعہ کے دوران جب جب پولیس فورس میں اقلیتوں کے لئے ریزرویشن کی بات اٹھی تو الگ الگ سطح کے پولیس افسران نے شد ومد کے ساتھ اس کی مخالفت کی۔ پولیس میں بحالی ہونے کے تعلق سے اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں میں عدم دلچسپی ، تعلیم کی کمی اور پسماندگی جیسے کچھ اسباب اس کے لئے ذمہ دار قرار دئیے گئے۔‘‘(فرقہ وارانہ فسادات اور ہندوستانی پولیس صفحہ120)

Ads