Jadid Khabar

وزیراعظم نریندرمودی کا’ ہندو کارڈ‘

Thumb

عام انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ ختم ہوچکی ہے۔ اس دوران عوام کی سردمہری سیاسی جماعتوں کے لئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ تشویش حکمراں بی جے پی کے خیموں میں ہے جو اس بات کا پروپیگنڈہ کررہے تھے کہ ملک میں ایک بار پھر مودی لہر چل رہی ہے۔ لیکن بیشتر حلقوں میں پولنگ کا فیصد کم رہنے کی خبریں ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی سطح پر نہ تو کسی کے حق میں کوئی لہر چل رہی ہے اور نہ ہی فرقہ وارانہ صف بندی کی کوششیں کارگر ہورہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھارتیہ جنتاپارٹی کے لیڈران حسب عادت فرقہ وارانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں اور ایسے متنازعہ موضوعات کو ہوا دے رہے ہیں جن پر الیکشن کمیشن نے سخت پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں سب سے زیادہ حکمراں طبقے کے لوگ ہی اڑارہے ہیں اور ان میں وزیراعظم نریندرمودی پیش پیش ہیں۔ وہی نریندرمودی جنہیں اپنی شخصیت کے طلسم پر سب سے زیادہ گھمنڈ ہے اور وہ اپنے آگے کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ لیکن اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ان کا یہ مصنوعی طلسم ٹوٹ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انتخابی میدان میں ایسے موضوعات کا سہارا لے رہے ہیں جو لوگوں کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم کے دوران فرقہ وارانہ موضوعات کے استعمال پر سخت پابندی عائد کررکھی ہے لیکن بی جے پی کے لیڈران الیکشن کمیشن کو بھی خاطر میں نہیں لارہے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آئینی عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ سب سے زیادہ آئین کا مذاق اڑارہے ہیں۔ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے لے کر وزیراعظم نریندرمودی تک سبھی بی جے پی لیڈران فرقہ وارانہ موضوعات کو اچھال رہے ہیں اور عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 

حال ہی میں یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک بار پھر علیؓ اور بجرنگ بلی کا موازنہ کرکے نہ صرف عقیدت مندوں کے سینوں کو چھلنی کیا ہے بلکہ انتخابی ماحول میں بھی زہر گھولنے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ ہفتے اترپردیش کے میرٹھ شہر میں ایک انتخابی جلسے کے دوران انہوں نے کہاکہ” اگر ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس کا بھروسہ علی میں ہے تو ہمارا بھروسہ بجرنگ بلی میں ہے۔“ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اسی قسم کا بیان چند ماہ قبل اسمبلی انتخابات کے دوران بھی دیا تھا جس کا واحد مقصد رائے دہندگان کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرکے ووٹوں کی فصل اگانا تھا۔ الیکشن کمیشن نے یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان کی گرفت کی ہے اور ان سے جواب طلب کیاگیا ہے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن وزیراعظم کے سامنے قطعی بے بس اور لاچار ہے اور ان سے کوئی باز پرس کرنے کی ہمت نہیں کرپارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم بے خوف ہوکر انتخابی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑارہے ہیں اور قانون کو انگوٹھا دکھارہے ہیں۔ پچھلے ہفتے وزیراعظم نریندرمودی نے مہاراشٹر میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کھل کر ہندو کارڈ کھیلا تھا۔ مہاراشٹر کے وردھا علاقے میں انہوں نے کہاتھا کہ ”کانگریس نے ’ہندو دہشت گردی‘ کا لفظ استعمال کرکے ملک کے کروڑوں عوام کو داغ دار کیا ہے۔“ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ ہندو مذہب کے امن پسند پیروکاروں کو دہشت گردی سے جوڑ کر ان کی توہین کررہی ہےں لیکن ہندو اب بےدار ہوچکا ہے اور اس نے ایسی پارٹیوں کو سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے عوام سے سوال کیاکہ” آپ بتائیں کیا آپ کو دکھ نہیں ہوا تھا جب آپ نے ہندو دہشت گردی کا لفظ سنا تھا۔کیا ہزاروں سال کی تاریخ میں ایک بھی مثال ہے ، جہاں ہندو دہشت گردی میں شامل رہے ہوں۔ کیا وہ امن پسند ہندوؤں کو دہشت گردی سے جوڑنے کا پاپ کرنے والی کانگریس کو معاف کردیں گے۔“ 
وزیراعظم نریندرمودی کا یہ بیان نہ صرف انتخابی ضابطہ اخلاق کی واضح خلاف ورزی ہے بلکہ ایک وزیراعظم کے طورپر انہیں کٹہرے میں بھی کھڑا کرتا ہے۔ ظاہر ہے کوئی وزیراعظم کسی خاص مذہب یا فرقے کا وزیراعظم نہیں ہوتا بلکہ وہ پورے ملک کی نمائندگی کرتا ہے۔ لیکن وزیراعظم کے اس بیان سے ان کی تنگ نظری اور تنگ دلی کی بو آتی ہے۔ وزیراعظم کے اس بیان پر کانگریس نے جو ردعمل ظاہر کیا ہے وہ آدھی سچائی کو بیان کرتا ہے۔ کانگریس ترجمان منیش تیواری نے دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ” ہماری پارٹی نے نہیں بلکہ مودی سرکار کے وزیر اور ملک کے سابق داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے سب سے پہلے ہندودہشت گردی کا لفظ استعمال کیا تھا۔“ کانگریس نے یہ بیان دراصل اس معاملے میں اپنی پوزیشن صاف کرنے کے لئے دیا ہے۔ لیکن اگر کانگریس کے لیڈران اپنے ذہن پر زور ڈالتے اور تھوڑی ہمت پیدا کرتے تو انہیں کہنا چاہئے تھا کہ آزادی کے فوراً بعد بابائے قوم مہاتماگاندھی کا قتل ہندودہشت گردی کی سب سے پہلی واردات تھی ، جس میں ایک انتہا پسند ناتھو رام گوڈسے کو پھانسی پر چڑھایاگیا تھا۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ ناتھورام گوڈسے آر ایس ایس سے وابستہ رہ چکا تھا اور وہ گولوالکر کے نظریات سے متاثر تھا۔ گولوالکر کے پیروکاروں کے ہاتھوں گاندھی جی کے نظریات کا قتل آج بھی جاری ہے اور ناتھورام گوڈسے کے پیروکار اس ملک میں خاصی تعداد میں موجود ہیں جو اسے ہیرو کے طورپر پیش کرتے ہیں۔
 آپ کو معلوم ہوگا کہ اس ملک میں نام نہاد اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح بی جے پی اور سنگھ پریوار کے لیڈروں نے ایجاد کی تھی اور وہ اس پر خوب بغلیں بجاتے تھے۔ لیکن 2008 میں مالیگاؤں بم دھماکوں کی تحقیقات کرتے کرتے جب مہاراشٹر اے ٹی ایس کے سربراہ شہید ہیمنت کرکرے کے ہاتھ سادھوی پرگیہ ٹھاکر اینڈ کمپنی تک پہنچے تو ملک کو پہلی بار یہ معلوم ہوا کہ اس ملک میں اکثریتی فرقے کے لوگ بھی خوفناک دہشت گردی میںملوث ہیں۔ اس انکشاف کے بعد مہنت دیانند پانڈے ، کرنل پروہت اور سوامی اسیما نند جیسے درجنوں دہشت گرد گرفتار کئے گئے اور ان کے خلاف ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی عمل میں آئی ۔ لیکن جیسے ہی مرکز میں بی جے پی کا اقتدار قائم ہوا تو اس نے سب سے پہلے ’ہندو دہشت گردی‘کا کلنک مٹانے کا تہیہ کیا اور آہستہ آہستہ ہندو دہشت گردی کے تمام ملزمان عدالتوں سے بری ہوتے چلے گئے۔ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اس معاملے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے ایک غیرجانبدار اور پیشہ وارانہ ایجنسی کی بجائے حکمراں بی جے پی کے ایجنٹ کے طورپر کام کیا۔یہاںتک کہ بھگوا دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ سوامی اسیمانند کو سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ معاملے سے بری کرنے کے بعد پنچکولہ عدالت کے جج نے اس تکلیف دہ حقیقت کا انکشاف کیاکہ این آئی اے نے اس کے روبرو انتہائی کارآمد اور ناقابل تردید ثبوت پیش نہیں کئے اور عدالت سے انہیں چھپایا گیا۔ غرض یہ کہ این آئی اے نے بھگوا دہشت گردی کے ملزمان کو بری کرانے کے لئے وہ سب کچھ کیا جس کا حکم اسے اپنے آقاؤں سے ملا تھا۔ آج بظاہر این آئی اے نے ہندو دہشت گردی کا کلنک مٹادیا ہے ۔لیکن مالیگاؤں ، مکہ مسجد، اجمیراور سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں میں ہلاک ہونے والے سینکڑوں مسلمانوں کی روحیں اس کا تعاقب کررہی ہیں اور اس وقت تک کرتی رہیں گی جب تک مجرموں کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا جاتا۔
 وزیراعظم نریندرمودی دوبارہ اقتدار میں آنے کے لئے فرقہ وارانہ صف بندی ہی نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ فوج کے کارناموں کو بھی انتخابی فائدے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے مہاراشٹر میں ایک انتخابی ریلی کے دوران سیاسی بے شرمی کی تمام حدوں کو پارکرتے ہوئے نوجوانوں سے اپیل کی ”کیا آپ کا ووٹ بالاکوٹ کے بہادروں اور پلوامہ کے شہیدوں کو وقف ہوسکتا ہے۔ “ یہ بیان انہوں نے مہاراشٹر کے علاوہ کرناٹک اور تمل ناڈو میں بھی دیا۔ انہوں نے واضح طورپر بالاکوٹ میں ایئراسٹرائک اور پلوامہ میں شہید ہونے والے جوانوں کے نام پر ووٹ دینے کی اپیل کی۔ حالانکہ الیکشن کمیشن واضح طورپر یہ ہدایت دے چکا ہے کہ فوج کے کارناموں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیاجانا چاہئے۔ آپ کو یادہوگا کہ 9مارچ 2019 کو بی جے پی کے پوسٹر پر ونگ کمانڈر ابھی نندن کا فوٹو شائع ہونے پر الیکشن کمیشن نے سخت نوٹس لیا تھا اور اسے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ گزشتہ 3اپریل کو وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہندوستانی افواج کو مودی کی فوج قرار دیا تھا جس پر الیکشن کمیشن نے انہیں وارننگ دی تھی۔ لیکن اس سب کے باوجود بی جے پی لیڈران انتخابی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑارہے ہیںاور عوام کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے ہیں۔ جبکہ عوامی نمائندگی قانون مجریہ 1951کے تحت انتخابات کے دوران فرقہ وارانہ مہم پر سخت پابندی عائد ہے اور اس کے لئے سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔یہاں تک کہ فرقہ وارانہ مہم چلانے والے امیدواروں کا انتخاب رد کرنے کی بھی گنجائش قانون میں موجود ہے۔

Ads