Jadid Khabar

اڈوانی کی سیاست کا عبرتناک انجام

Thumb

حکمراں بی جے پی کے قدآور لیڈر لال کرشن اڈوانی کو انتخابی سیاست سے باہر کردیاگیا ہے۔ پارٹی میں اہم فیصلوں اور کلیدی عہدوں سے انہیں پہلے ہی بے دخل کیاجاچکا تھا اور اب محض ان کے حصے میں لوک سبھا کی ایک سیٹ باقی رہ گئی تھی، جو رواں چناؤ کے دوران اُن سے چھین لی گئی ہے۔ یعنی سیاسی زبان میں کہیں تو ان کا ٹکٹ کٹ گیا ہے۔ یہ کام ان لوگوں نے انجام دیا ہے جنہیں کبھی اڈوانی جی نے سیاست کے داؤ سکھائے تھے۔ پارٹی کے اس فیصلے سے چہ می گوئیوں کا بازار گرم ہے۔ حالانکہ بی جے پی حلقوں میں اس کا جواز 75سال سے زیادہ عمر والوں کو الیکشن نہ لڑانے کا فیصلہ قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن یہ محض بات کو بگڑنے سے بچانے کی ایک کوشش ہے۔ لال کرشن اڈوانی بی جے پی کے ان لیڈروں میں سرفہرست ہیں جنہوں نے اس پارٹی کو فرش سے عرش تک پہنچایا ہے۔ کہاجاتا ہے کہ اڈوانی نے بی جے پی کو اپنے خون پسینے سے سینچا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے اس کام میں اپنا پسینہ کم اور دوسروں کا خون زیادہ بہایا ہے۔ عمر کے آخری پڑاؤ میں انہیں انتخابی میدان سے باہر کرنے کے فیصلے پر طرح طرح کے سوالات کھڑے کئے جارہے ہیں۔ بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ سیاسی اعتبار سے پہلے ہی حاشیے پر پہنچادیئے گئے اڈوانی کو اب مستقل آرام کا مشورہ دیاگیا ہے۔ لیکن یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ سیاست کا میدان زندگی کا ایسا اکلوتا میدان ہے جس میں شامل کوئی بھی شخص موت کے منہ میں جانے تک سرگرم رہنا چاہتا ہے اور اقتدار حاصل کرنے کی خواہش آخری سانس تک باقی رہتی ہے۔ اڈوانی کو صدمہ صرف اس بات کا نہیں ہے کہ ان کے روایتی حلقہ انتخاب گاندھی نگر سے انہیں ہمیشہ کے لئے بے دخل کردیاگیا ہے بلکہ ان کے لئے پریشانی کی بات یہ ہے کہ ان کی سیٹ پارٹی کے ایسے نوآموز صدر کودے دی گئی ہے جن کا بی جے پی کو آگے بڑھانے میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ جب اڈوانی کو بڑھتی ہوئی عمر کا حوالہ دے کر انتخابی سیاست سے دور رہنے کے لئے کہاگیا تو انہوں نے اپنے قائم مقام کے طورپر اپنی اکلوتی بیٹی کا نام پیش کیا لیکن پارٹی ہائی کمان نے اس کی بھی منظوری نہیں دی۔ 

یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ جیسے جیسے بی جے پی میں وزیراعظم نریندرمودی کا عروج ہوا ہے، ویسے ویسے لال کرشن اڈوانی کا زوال بھی ہوا ہے۔ پارٹی میں جو حیثیت پہلے لال کرشن اڈوانی کو حاصل تھی، وہی حیثیت اب وزیراعظم نریندرمودی کو حاصل ہے۔ یہ وہی مودی ہیں جو کسی زمانے میں اڈوانی کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب 1990 میں لال کرشن اڈوانی نے رتھ پر سوار ہوکر سومناتھ سے ایودھیا تک کی یاترا نکالی تھی توان کے رتھ پر جو شخص ان کا مائک سنبھالے ہوا تھا، وہ نریندرمودی ہی تھے جو اس زمانے میں پارٹی کے معمولی عہدیدار تھے۔ یہ وہ دور تھا جب بی جے پی میں اڈوانی کا طوطی بولتا تھا اور پارٹی کا ہر لیڈر ان کے آگے ہاتھ باندھے کھڑا رہتا تھا۔ لیکن یہ سیاست ہے جس میں وفاداریاںسب سے زیادہ تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتی ہیں۔ وزیراعظم نریندرمودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جس بی جے پی لیڈر کو سب سے زیادہ بن باس جھیلنا پڑا ہے، وہ لال کرشن اڈوانی ہی ہیں۔ وزیراعظم کی کرسی چھن جانے کے بعد اڈوانی کو پورا یقین تھا کہ وہ صدرجمہوریہ کے باوقار عہدے پر ضرور متمکن کئے جائیں گے مگر اس انتظار میں ان کی آنکھیں پتھرا گئیں۔ جب صدرجمہوریہ کا انتخاب عمل میں آیا تو بی جے پی نے اڈوانی کی بجائے بہار کے گورنر رام ناتھ کووند کا نام آگے کردیا اور اس کے ساتھ ہی اڈوانی اتنی گہری مایوسی میں ڈوب گئے کہ ان کا چہرہ اس کا ترجمان بن گیا۔ انہیں یقینا وہ تکلیف دہ لمحہ ضرور یادآیاہوگا جب گوا میں بی جے پی کی مجلس عاملہ میں ان سے وزیراعظم بننے کی خواہش ترک کردینے کے لئے کہاگیا تھا۔ یقینی طورپر اڈوانی کے لئے یہ زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ تھا کیونکہ انہوں نے جس عہدے کو حاصل کرنے کے لئے تمام عمر پاپڑ بیلے تھے، وہ ایک ایسے شخص کی جھولی میں گر گیا جسے انہوں نے انگلی پکڑ کر سیاست کی راہ دکھائی تھی۔ 
لال کرشن اڈوانی کی سیاسی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ انہیں الیکشن لڑنے سے محروم کردیاگیا ہے۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ 14برس کی عمر میں آر ایس ایس سے وابستہ ہونے والے 91سال کے اڈوانی اپنے کیڈر کے ایک وفادار سپاہی رہے ہیں اور انہوں نے آر ایس ایس کے مشن کو پورا کرنے کے لئے ہر وہ کام کیا جو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ 90کی دہائی میں رام جنم بھومی تحریک کو بلندیوں تک لے جانے اور بابری مسجد کے خلاف نفرت کا طوفان کھڑا کرنے میں اڈوانی کا بنیادی رول رہا ہے۔ انہوں نے ہی سومناتھ سے ایودھیا تک وہ خطرناک رتھ یاترا نکالی تھی جس نے پورے ملک میں فرقہ واریت کا آتش فشاں تیار کیا تھا۔ اس یاترا کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو خوف وہراس پیدا ہوگیا تھا اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس یاترا کے بعد پیدا ہونے والے فرقہ وارانہ زہر کا اثر ہمارے سماج پر آج تک باقی ہے۔ اسی یاترا کے نتیجے میں بابری مسجد کی شہادت کا پس منظر تیار ہوا اور آخرکار لال کرشن اڈوانی اینڈ کمپنی کی موجودگی میں 6دسمبر 1992 کو بابری مسجد شہید کردی گئی۔ بعد کو اڈوانی کے خلاف بابری مسجد انہدام سازش کیس میں جو فرد جرم داخل ہوئی اس میں انہیں کلیدی ملزم بنایاگیا۔ مسجد کے انہدام کو حالانکہ اڈوانی نے اپنی زندگی کا سیاہ ترین دن قرار دیا تھا لیکن یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ بابری مسجد کی شہادت اڈوانی کی فرقہ وارانہ سیاست کا ہی نتیجہ تھی۔ اڈوانی کے خلاف بابری مسجد انہدام سازش کیس کا مقدمہ آج بھی چل رہا ہے ۔ لیکن عدالتی عمل اتنا سست ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ ان کی زندگی میں آنا مشکل ہے۔ لیکن قدرت کے قانون کے مطابق اڈوانی نے اپنی زندگی میں ہی اس کی جو سزا بھگتی ہے، وہ ان تمام لوگوں کے لئے تازیانہ عبرت ہے جو نفرت کو اپنی سیاست کی بنیاد بنائے ہوئے ہیں۔ 
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی کو سیاسی طورپر بلندیوں تک لے جانے میں اڈوانی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ آر ایس ایس نے ایودھیا تحریک کے ذریعے بی جے پی کو سیاسی طاقت بخشنے کا جو منصوبہ تیار کیا تھا اس کے سرخیل اڈوانی ہی تھے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بابری مسجد نے ان سے اپنا انتقام لے لیا ہے۔ آج وہ ان لوگوں کے ہاتھوں رسوا ہورہے ہیں جو کبھی ان کے سامنے سراٹھاکر بات نہیں کرتے تھے۔ اڈوانی کو ٹکٹ سے محروم کرنے پر خود بی جے پی حلقوں میں چہ می گوئیوں کا بازار گرم ہے۔ کہاجارہا ہے کہ بی جے پی میں جتنی بے عزتی اڈوانی کی ہوئی ہے، اتنی شاید ہی کسی اور کی ہوئی ہو۔ جن لوگوں نے اڈوانی کے شانہ بہ شانہ کام کیا ہے، وہ صورت حال سے خاصے پریشان نظر آتے ہیں۔ ان میں ایک نام اومابھارتی کا ہے جو خود بابری مسجد کیس کی ایک ملزم ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہاہے کہ اڈوانی کو سامنے آکر اس دھند کو صاف کرنا چاہئے جو ان کے ٹکٹ نہ ملنے سے فضا میں پھیلی ہوئی ہے۔ حالانکہ اومابھارتی نے یہ کہہ کر اڈوانی کا قد بلند کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے الیکشن نہ لڑنے سے ان کا قد متاثر نہیں ہوگا ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی میں مودی کے گرفت سنبھالنے کے بعد اڈوانی کا قد جس تیزی کے ساتھ متاثر ہوا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ اڈوانی ہی تھے جو گجرات میں سن 2002 کی نسل کشی کے بعد مودی کی ڈھال بن گئے تھے۔ اس وقت کے وزیراعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی وزیراعلیٰ نریندرمودی کو ان کے عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے لیکن اڈوانی نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ آج وہی مودی اڈوانی کے راستے میں سب سے بڑا روڑہ بنے ہوئے ہیں۔ اڈوانی کا سیاسی انجام ان تمام لوگوں کے لئے تازیانہ عبرت ہے جو تخریبی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور خدا کے قانون سے آنکھیں چراتے ہیں۔ جب قدرت کسی کو رسوا کرنا چاہتی ہے تو یہ کام ان ہی ہاتھوں سے لیاجاتا ہے جن ہاتھوںکو رسوا ہونے والے نے طاقت بخشی ہو۔ رسوا ہونے والوں میں ایک اور نام بی جے پی کے سابق صدر مرلی منوہر جوشی کا بھی ہے۔ ان کا نام بھی بابری مسجد کی فرد جرم میں شامل ہے۔ جوشی کی روایتی لوک سبھا سیٹ 2014 کے الیکشن میں وزیراعظم نریندرمودی نے چھین لی اور انہیں کانپور روانہ کردیاگیا۔ اس بار انہیں کانپور سے بھی محروم کرکے مستقل آرام کا مشورہ دیاگیا ہے۔ 

Ads