Jadid Khabar

بے گناہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سِوا

Thumb

بھگوادہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ سوامی اسیمانند کو سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ معاملے سے بھی باعزت بری کردیاگیا ہے۔ اس سے قبل انہیں حیدرآباد کی مکہ مسجد اور اجمیر کی درگاہ بم دھماکوں کے الزامات سے بھی بری کیاجاچکا ہے۔ اس طرح بھگوادہشت گردی کا وہ داغ ہمیشہ کے لئے مٹادیاگیا ہے جس نے دنیا کے سامنے دہشت گردی کا ایک انوکھا چہرہ پیش کیا تھا۔ یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ بی جے پی نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ وہ بھگوادہشت گردی کے داغ کو جڑسے مٹادے گی۔ کیونکہ یہ ایک سازش کا حصہ تھا جس کا مقصد ہندوؤں کو کٹہرے میں کھڑا کرناتھا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو بری کرایاگیا۔ آپ کو یادہوگا کہ مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں جب سرکاری وکیل روہنی سالیان نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان پر این آئی اے کے اعلیٰ افسران اس معاملے میں نرمی برتنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں تو ملک میں سنسنی پھیل گئی تھی۔ حالانکہ این آئی اے نے اس کی تردید کی تھی لیکن مالیگاؤں مقدمے سے لے کر سمجھوتہ ایکسپریس کیس تک این آئی اے نے جو روش اختیار کی اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ملک کی سب سے بڑی تحقیقاتی ایجنسی ایک ایسے منصوبے پر کام کررہی تھی جس میں دہشت گردی کے ان ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کی بجائے انہیں باعزت بری کرانے کا مقصد پوشیدہ تھا۔ اس کے برعکس دہشت گردی کی جن وارداتوں کے ملزم مسلمان ہیں، ان میں این آئی اے انتہائی سخت موقف اختیار کئے ہوئے ہے، جس کا تازہ ثبوت گودھرا سانحہ میں گرفتار کئے گئے یعقوب بٹالیا کو عمرقید کی سزا سنایا جانا ہے۔اتفاق یہ ہے کہ 21مارچ کے اخبارات میں سوامی اسیمانند کو باعزت بری کئے جانے اور یعقوب بٹالیا کو عمرقید کی سزا دیئے جانے کی خبریں ایک ساتھ شائع ہوئی ہیں۔ جو ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہیں کہ اس ملک میں انصاف کی دیوی کن لوگوں پر مہربان ہے اور کن لوگوں کو تہ تیغ کردینا چاہتی ہے۔ بقول شاعر  

تیغ منصف ہو جہاں، دارورسن ہوں شاہد
بے گناہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سِوا
آپ کو یاد ہوگا کہ ہندوپاک کے درمیان عوامی رشتوں کو جوڑنے والی واحد ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس میں 18فروری 2007 کو ہریانہ کے پانی پت میں دیوانہ ریلوے اسٹیشن کے نزدیک زوردار دھماکے ہوئے تھے۔ ان دھماکوں میں 68بے گناہ افراد اذیت ناک موت کا شکار ہوئے تھے کیونکہ دھماکوں کے بعد ٹرین کی دوبوگیوں میں خوفناک آگ لگ گئی تھی اور لاشیں اتنی بوسیدہ حالت میں تھیں کہ ان میں سے بعض لوگوں کی شناخت ہی نہیں ہوسکی۔ مرنے والوں میں 43پاکستانی شہری تھے اور 10ہندوستانی باشندے۔ جبکہ 15لوگوں کی شناخت نہیں ہوپائی۔ اس معاملے میں این آئی اے نے 290 گواہوں سے جرح کی تھی ۔لیکن جب چارج شیٹ داخل ہوئی تو ان میں سے کئی گواہ لاپتہ تھے۔ حکومت بدلنے کے ساتھ ہی آر ایس ایس سے وابستہ گواہ عدالت میں اپنے بیانات سے یہ کہہ کر منحرف ہوگئے تھے کہ انہیں جبراً گواہ بنایا گیا تھا۔ گواہوں میں 13 پاکستانی شہری بھی شامل تھے جو ٹرین میں سفر کررہے تھے۔ این آئی اے کا کہنا ہے کہ پاکستانی گواہ باربارا کی یاددہانی کے باوجود عدالت میں حاضر نہیں ہوئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ عدالت نے فیصلہ صادر کرنے سے پہلے سمجھوتہ ایکسپریس میں ہلاک ہونے والے ایک پاکستانی شہری کی بیٹی راحیلہ وکیل کی گواہی دینے سے متعلق درخواست قبول کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ محض شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہے اور اس کا مقصد نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس کیس کو مزید طول دینا ہے۔ واضح رہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں کے تمام ملزمان کو بری کئے جانے پر پاکستان نے اپنا احتجاج درج کرایا ہے۔ پنچ کولہ عدالت کے فیصلے کے کچھ ہی گھنٹے بعد اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمشنر کو طلب کرکے کہاگیا کہ ’’سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گردانہ حملے کے ملزمان کو 12برس بعد بری کیاجانا انصاف کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ ‘‘
قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکوں کا کیس واقعہ کے تین سال بعد اپنے ہاتھ میں لیاتھا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس وقت تک بیشتر ثبوت ملیامیٹ ہوچکے تھے اور اس کے پاس اپنا الزام ثابت کرنے کے لئے کچھ نہیں بچا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ این آئی اے نے یہ بیان دیتے وقت سوامی اسیما نند کے اس اقبالیہ بیان کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جو دہلی میں ایک میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کے روبرو درج کرایاگیا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھگوادہشت گردی کے مقدمات ایک خاص مقصد کے تحت این آئی اے کے سپرد کئے گئے تھے جس کا ثبوت روہنی سالیان کے بیان سے بھی ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رفتہ رفتہ ان مقدمات کے ملزمان بری ہوتے چلے گئے اور روہنی سالیان کا الزام صحیح ثابت ہوا۔ ورنہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ این آئی اے نے اس مقدمے میں جن لوگوں کو گرفتار کیاتھا، وہ حقیقی ملزم تھے۔ سوامی اسیمانند کے ساتھ جن لوگوں پر مقدمہ چلایاگیا ان میں کمل چوہان ، راجندر چودھری، لوکیش شرما، رام چندر کالسنگرا اور سندیپ ڈانگے اقبالیہ مجرم تھے، جنہیں بری کردیاگیا ہے۔ ایک دیگر ملزم سنیل جوشی جسے این آئی اے نے سمجھوتہ کیس کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا اسے دسمبر 2007 میں مشتبہ حالات میں قتل کردیاگیا۔ کہاجاتا ہے کہ سنیل جوشی کے پاس بھگوا دہشت گردی کے ٹھوس ثبوت موجود تھے اور وہ اپنے ساتھیوں کے لئے خطرہ بن سکتا تھا، اس لئے اسے راستے سے ہٹادیاگیا۔ یہ مقدمہ جس انداز میں آگے بڑھا وہ بھی بہت سے سوالوں کو جنم دیتا ہے۔ کیس کی شروعات اگست 2012 میں ہوئی تھی اور مقدمے کی کارروائی محض 132 دنوں تک چلی۔ سماعت کے دوران متعدد ججوں کو تبدیل کیاگیا۔ آخری ایڈیشنل سیشن جج جگدیپ سنگھ کو یہ مقدمہ اگست 2018 میں اس وقت سونپا گیا تھا جب بیشتر گواہیاں مکمل ہوچکی تھیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ این آئی اے نے شروع میں کہاتھا کہ سمجھوتہ ایکسپریس کی سازش کے پیچھے سوامی اسیمانند کا دماغ کارفرما تھا اور اس نے ہی اس کام کو انجام دینے والوں کو مالی امداد مہیا کرائی تھی۔ ایجنسی نے اپنی فرد جرم میں کہاتھا کہ’’ اسیمانند اسلامی جہادی گروپوں کی طرف سے ہندو مندروں پر دہشت گردانہ حملوں سے سخت ناراض تھا۔‘‘ اس ذیل میں جن حملوں کاذکر کیاگیا تھا ان میں گجرات کے اکشردھام مندر، جموں کے رگھوناتھ مندر اور وارانسی کے سنکٹ موچن مندر پر حملوں کا ذکر تھا۔ فرد جرم کے مطابق اسیمانند نے اپنے ساتھیوں سے مل کر ان حملوں کا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ این آئی اے نے یہ بھی کہاتھا کہ اسیمانند کا خیال تھا کہ’بم کا بدلہ بم‘ ہونا چاہئے۔ انتقام کی اسی آگ میں ایسے نشانوں کو چنا گیا جہاں تمام ہلاکتیں مسلمانوں کی ہوں۔ اس سلسلے کا سب سے زیادہ تباہ کن اور خوفناک حملہ لاہور سے دہلی آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس پر کیاگیا جس کے تمام مسافر مسلمان تھے۔ اسی طرح 18مئی کو حیدرآباد کی مکہ مسجد میں دھماکہ کیاگیا جس میں 9مسلمان شہید ہوئے۔ اس کے بعد اکتوبر میں رمضان کے دوران اجمیر کی درگاہ خواجہ معین الدین چشتیؒ میں عین افطار کے وقت دھماکہ ہوا جس میں تین روزہ دار شہید ہوگئے۔ یہ تینوں دھماکے 2007میں ہوئے تھے اور ان تینوں میں اسیمانند کو کلیدی ملزم بنایاگیا تھا۔ لیکن ان تینوں ہی مقدمات سے سوامی اسیمانند اینڈ کمپنی کو باعزت بری کردیا گیا ہے۔ 
پاکستانی حکومت نے اسلام آباد میں ہندوستانی سفیر کو طلب کرکے اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے کہاہے کہ ’’بھارتی حکومت ہندووادی دہشت گردوں کو بچانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔‘‘ حکومت پاکستان کا یہ بیان ہمارے اس موقف کو کمزور کرتا ہے جو ہم نے دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق اختیار کررکھا ہے۔ دہشت گردی خواہ کسی بھی گروہ یا فرقے کی ہو وہ ہر صورت میں قابل گرفت ہونی چاہئے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں ایسے کئی انتہا پسند موجود ہیں جن پر ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کا الزام ہے۔ ان میں 26/11 کے ممبئی حملوں کے ملزم حافظ سعید سے لے کر پلوامہ حملے کے ملزم مسعود اظہر تک کئی لوگوں کے نام شامل ہیں۔ ہندوستان ، پاکستان پر مسلسل یہ دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ وہ ان ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرے یا پھر انہیں ہندوستان کے حوالے کردے۔ لیکن پاکستان اس معاملے میں ٹھوس ثبوت طلب کرتا رہا ہے۔ ہندوستان نے اب تک جو ثبوت پاکستان کو مہیا کرائے ہیں وہ انہیں ناکافی بتاتا ہے۔ ان حالات میں ہندوستان میں بھگوادہشت گردی کے ملزمان کو باعزت بری کئے جانے سے یقینا دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی کمزور ہوئی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی سوامی اسیمانند اینڈ کمپنی کو بری کئے جانے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کرے تاکہ سمجھوتہ ایکسپریس ، مالیگاؤں، حیدرآباد اور اجمیر کے بم دھماکوں میں ملوث بھگوا دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچایاجاسکے۔ 

Ads