Jadid Khabar

مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کا مسئلہ

Thumb

24دسمبر 1999 کی ایک سرد شام تھی۔ دن جمعہ کا تھا اور گھڑی میں ساڑھے چار بجنے والے تھے۔ کاٹھمنڈو کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے انڈین ایئرلائنس کی فلائٹ IC814 نے نئی دہلی کے لئے اڑان بھری۔ لیکن شام پانچ بجے جہاز جیسے ہی ہندوستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو اغوا کار حرکت میں آگئے۔ انہوں نے طیارے کا رخ پاکستان کی طرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ دنیا کو معلوم ہوا کہ ایک ہندوستانی مسافر طیارہ اغوا کرلیاگیا ہے۔ شام چھ بجے یہ جہاز تھوڑی دیر کے لئے امرتسر میں ٹھہرتا ہے اور وہاں سے لاہور روانہ ہوجاتا ہے۔ لاہور سے دبئی کے راستے ہوتے ہوئے انڈین ایئرلائنس کا یہ اغوا شدہ طیارہ اگلے روز صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے افغانستان میں قندھار کی زمین پر لینڈ کرتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی اور ہندوستان میں اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے سرکار تھی ۔ اس جہاز میں 180مسافر سوار تھے۔ رات کے پونے دوبجے یہ جہاز دبئی پہنچا اور وہاں ایندھن بھرے جانے کے عوض 27مسافر رہا کئے گئے جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل تھے۔ 

اس بحران سے نپٹنے میں حکومت ہند کی مشکلات بڑھ رہی تھیں۔ اس دوران دہلی میں سرکار نے کئی مسلم مذہبی رہنماؤں سے رابطہ قائم کرکے طالبان حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے کہا۔ ادھر اغوا شدہ مسافروں کے رشتہ دار مشتعل ہوکر احتجاج کررہے تھے اور میڈیا بھی حکومت پر دباؤ ڈال رہا تھا۔ اس درمیان اغوا کاروں نے ہندوستانی جیلوں میں قید 36انتہا پسند ساتھیوں کی رہائی اور 30کروڑ امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا۔ آخر کار 31دسمبر کو حکومت اور اغوا کاروں کے درمیان سمجھوتے کے بعد قندھار ایئرپورٹ پر اغوا شدہ طیارے کے  155 مسافروں کو رہا کردیاگیا۔ یہ رہائی دراصل اس شرط پر عمل میں آئی تھی کہ واجپئی حکومت ہندوستانی جیلوں میں قید کچھ شدت پسندوں کو رہا کرنے کے لئے تیار ہوگئی تھی۔ اس وقت واجپئی سرکار کے وزیرخارجہ جسونت سنگھ جن تین انتہا پسندوں کو ایک سرکاری طیارے میں بٹھاکر قندھار لے گئے تھے، ان میں ایک نام جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کا بھی تھا۔ باقی دو انتہا پسند احمد زرگر اور شیخ احمد عمرسعیدتھے۔ پاکستانی شہری مولانا مسعود اظہر کو فروری 1999 میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران اننت ناگ سے گرفتار کیاگیا تھا اور وہ جموں کی جیل میں قید تھا۔
 بی جے پی حکومت نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ جس مسعود اظہر کو جموں جیل سے رہا کرکے اغوا کاروں کو سونپا جارہا ہے، وہ ایک دن ہندوستان کے لئے سب سے بڑا درد سر بن جائے گا۔ حالانکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت حکومت کے پاس اغوا شدہ طیارے کے مسافروں کی بخیریت وطن واپسی کے لئے اغوا کاروں کے مطالبات کے سامنے جھکنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ کوئی بھی حکومت اس کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتی تھی۔ لیکن بی جے پی کے لوگ اپنے سیاسی مخالفین کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے جس قسم کے گڑے ہوئے مردوں کو اکھاڑنے کا کام کرتے ہیں تو یہی کام اب بی جے پی کے مخالفین نے بھی شروع کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب کانگریس صدر راہل گاندھی نے سوال اٹھایا ہے کہ ’’مسعود اظہر کو کس سرکار نے رہا کیا تھا اور اسے کون قندھار لے گیا تھا۔‘‘ حالانکہ اس واقعہ کو اب تقریباً20سال بیت چکے ہیں لیکن اس کے زخم ابھی تک تازہ ہیں۔ کیونکہ مسعود اظہر نے اپنی رہائی کے بعد پاکستان میں اپنا نیٹ ورک اس حد تک مضبوط کرلیا ہے کہ وہ ہندوستان کی سرزمین پر بڑے سے بڑا حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا تازہ ثبوت پلوامہ حملہ ہے۔جہاں گزشتہ 14فروری کو سی آر پی ایف کے ایک قافلے پر خودکش حملے میں 40جوان شہید ہوگئے۔ حملے کی ذمے داری جیش محمد نے قبول کی ہے۔ اس اعتبار سے مسعود اظہر اس وقت ہندوستان کو اسی طرح مطلوب ہے جس طرح ایک زمانے میں امریکہ کو اسامہ بن لادن مطلوب تھا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی ہندوستانی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوپارہی ہیں۔ ہندوستان چاہتا ہے کہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دے کر جیش محمد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے یا پھر اسے ہندوستان کے حوالے کیاجائے۔ لیکن دس سال کے عرصے میں یہ چوتھی بار ہوا ہے کہ ہمارے پڑوسی ملک چین نے ہی ان کوششوں کو سبوتاژ کردیا ہے۔ ہندوستان کو چین کے اس قدم سے زبردست جھٹکا لگا ہے۔ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی قرارداد سلامتی کونسل کے تین ممبران امریکہ ، برطانیہ اور فرانس نے پیش کی تھی ۔ لیکن چوتھے ممبر چین نے اسے ویٹو کردیا۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کی اس ناکامی کے لئے جہاں کانگریس نے مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کی شکست قرار دیا ہے تو وہیں بی جے پی نے اس کا قصور کانگریس کے سر ڈالا ہے۔ چین پر اپنا غصہ اتارنے کے لئے بی جے پی کو کانگریس کے کاندھے کا سہارا لینا پڑا ہے۔ وزیرخزانہ ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی سرگرم حمایت سے ہی چین کو سلامتی کونسل کی رکنیت حاصل ہوئی تھی۔ وزیر خزانہ کا یہ بیان کانگریس صدر راہل گاندھی کے اس بیان کے جواب میں آیا ہے جس میں انہوں نے کہاتھا کہ ’’وزیراعظم نریندرمودی چین کے صدر سے خوف زدہ ہیں اور چین کے خلاف ان کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلتا۔‘‘ انہوں نے کہاکہ’’ مودی کی ڈپلومیسی گجرات میں چینی صدر شی پنگ کے ساتھ جُھولاجھولنے ، دہلی میں گلے لگانے اور چین میں گھٹنے ٹیک دینا رہی ہے۔ ‘‘
غور سے دیکھاجائے تو راہل گاندھی کے اس بیان میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے کیونکہ وزیراعظم نریندرمودی چین کی تمام شرارتوں کے باوجود اس کے خلاف منہ کھولنے سے کتراتے ہیں اور انہوں نے آج تک کوئی چین مخالف بیان نہیں دیا ہے۔ جبکہ دنیا جانتی ہے کہ چین نے اروناچل پردیش میںہندوستانی علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے اور وہ اروناچل پردیش کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ وہاں جب کبھی وزیراعظم قدم رنجہ فرماتے ہیں تو وہ اس پر اعتراض درج کراتا ہے۔ چین کے خلاف منہ کھولنے سے ہندوستانی قیادت کیوں خوف زدہ ہے، یہ تو ہمیں نہیں معلوم لیکن اتنا ضرور ہے کہ آج چین نے ہندوستان کے بیشتر بازاروں پر قبضہ کررکھا ہے۔ مسعود اظہر کے بارے میں چین کے رویے پر ہندوستان نے محض مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔لیکن عوام میں اس قدم پر سخت غم وغصہ ہے اور وہ چینی اشیاء کے بائیکاٹ کی اپیلیں کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی چینی اشیاء کے بائیکاٹ پر زوردار بحث جاری ہے۔ چھوٹے تاجروں کی کل ہند تنظیم ’کیٹ‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 19مارچ کو ملک بھر میں ہزاروں مقامات پر چینی اشیاء کی ہولی جلائے گی۔ 
چین نے جس بنیاد پر مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز کی مخالفت کی ہے، اس کے بارے میں چین کا کہنا ہے کہ وہ ثبوتوں کے بغیر کارروائی کے خلاف ہے۔ امریکہ نے چین سے گزارش کی تھی کہ وہ سمجھ داری سے کام لے کیونکہ ہندوستان اور پاکستان میں امن قائم کرنے کے لئے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینا ضروری ہے۔ ہم آپ کو یاددلادیں کہ اس سے قبل تین مرتبہ چین مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کے خلاف اپنا ویٹو استعمال کرچکا ہے۔ مسعود اظہر کے خلاف سب سے پہلے ہندوستان نے ہی 2009 میں تجویز پیش کی تھی۔ دوسری بار امریکہ نے اور تیسری بار برطانیہ نے مل کر۔ اب چوتھی بار امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں ایک ریزولوشن پیش کیا تھا جو چین کی وجہ سے منظور نہیں ہوسکا۔ چین ہندوستان کو اپنا سب سے بڑا معاشی حریف سمجھتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ ہندوستان مغربی ایشیاء کے اہم موضوعات پر توجہ نہ دے کر داخلی مسائل میں گرفتار رہے۔ چین مسعود اظہر کے خلاف ووٹنگ کرتا تو اس کا فائدہ ہندوستان کو ملتا۔ ہندوستان اور امریکہ کے خوشگوار تعلقات بھی چین کو پسند نہیں ہیں۔ اس لئے چین نے مسعود اظہر کو اپنا ہتھیار بنالیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس طرح ہندوستان مسعود اظہر کو اپنا اولین دشمن سمجھتا ہے بالکل ایسے ہی چین ہندوستان میں پناہ گزین دلائی لامہ کو بھی سمجھتا ہے۔ لیکن یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دے بھی دیاگیا تو اس سے ہندوستان کو کیا حاصل ہوگا۔ 26/11 کے ممبئی حملوں کے بعد حافظ سعید کو اقوام متحدہ نے عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا ۔ لیکن وہ آج بھی پاکستان میں کھلے عام جلسے جلوس کرتا ہے اور دہشت گردوں کی ذہن سازی کرتا ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ حافظ سعید کی تنظیم جماعت الدعوۃ خود کو دنیا کی نظروں سے بچائے رکھنے کے لئے کھلے عام حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتی۔ یوں بھی ہندوستانی ذرائع ابلاغ کا بڑا حصہ گزشتہ ہفتے مسعود اظہر کی موت کی تصدیق کرچکا ہے۔ ایسے میں اسے عالمی دہشت گرد قرار دینے کے کیا معنی رہ جاتے ہیں۔ 

Ads