Jadid Khabar

بابری مسجد تنازعہ پر سپریم کورٹ کی ثالثی

Thumb

بابری مسجد تنازعہ کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے جو تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے،وہ ابتدا میں ہی تنازعات کا شکار ہوگئی ہے۔حالانکہ مسلم فریق کی طرف سے سپریم کورٹ کی اس مساعی کا عمومی طورپر خیرمقدم کیاگیا ہے۔لیکن اس پینل میں ایک شخص کی شمولیت پرہر طرف سے اعتراض درج کرایاجارہا ہے۔ اس کمیٹی میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیفۃ اللہ کے علاوہ نام نہاد روحانی پیشوا شری شری روی شنکر اور سپریم کورٹ کے ایک وکیل رام پنچو کو شامل کیاگیا ہے۔ رام پنچو کے بارے میں ہماری معلومات محدود ہیں۔کہاجاتا ہے کہ وہ ثالثی کے امور میں مہارت رکھتے ہیں اور کئی پیچیدہ تنازعات کو حل کراچکے ہیں۔ لیکن شری شری روی شنکر کے بارے میں سبھی کو معلوم ہے کہ وہ آر ایس ایس کے آدمی ہیں اور بابری مسجد کے خلاف انتہائی جارحانہ موقف رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ثالثی کمیٹی میں ان کی شمولیت پر سب سے زیادہ اعتراض درج کرایا جارہا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شری شری روی شنکر کی وجہ سے یہ کمیٹی اپنی اہمیت کھودے گی۔ مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی کا کہنا ہے کہ’’ شری شری روی شنکر وہی شخص ہیں جنہوں نے اس سے پہلے یہ بیان دیا تھا کہ اگر ایودھیا پر مسلمان اپنا دعویٰ نہیں چھوڑتے ہیں تو ہندوستان سیریا بن جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہاکہ’’ بہتر ہوتا کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں کسی غیر جانب دار شخص کا انتخاب کرتا۔‘‘ اسی قسم کے خیالات کا اظہار دہلی کی شاہجہانی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ’’ عدالت کو چاہئے کہ وہ روی روی شنکر کا نام پینل سے خارج کردے۔ چونکہ وہ پہلے بھی اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ناکام کوشش کرچکے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہاکہ’’ وہ بابری مسجد کی جگہ صرف اور صرف رام مندر چاہتے ہیں اور مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی مسجد ایودھیا کے باہر تعمیر کریں۔ لہٰذا روی شنکر کی موجودگی میں بات چیت کے کامیاب ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ لہٰذا عدالت کو چاہئے کہ ان کا نام ثالثی پینل سے خارج کردے۔ ‘‘

ہم آپ کو یاد دلادیں کہ شری شری روی شنکر نے ہندوستان کے سیریا بننے کا دھمکی آمیز بیان اس وقت دیا تھا جب ان کے اشارے پر بعض ضمیر فروش مسلمانوں کی طرف سے بابری مسجد سے دستبردار ہونے کی پیش کش کی گئی تھی اور اس پیش کش کو عام مسلمانوں نے حقارت سے ٹھکرادیا تھا۔ اتنا ہی نہیں ان نام نہاد مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ بھی کیاگیا تھا جنہوں نے شری شری روی شنکر سے  بنگلور میں اس مسئلے پر ملاقات کی تھی اور ان کی شرطوں پر ایودھیا تنازعہ کو یکطرفہ طورپر حل کرنے کی حامی بھرلی تھی۔ ظاہر ہے ایک ایسے شخص کو ثالثی پینل میں شامل کیاجانا بجائے خود اس کوشش کی کامیابی پر سوال کھڑے کرتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے فیض آباد میں ثالثی کی خفیہ میٹنگوں کا اہتمام کرنے کی ذمہ داری اترپردیش حکومت کو سونپی ہے جس کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اس معاملے کے ایک جارحانہ فریق کے طورپر جانے جاتے ہیں۔ وہ خود اس مسئلے کو چٹکی میں حل کرنے کا دعویٰ کرچکے ہیں۔ یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے گرو اور گورکھ ناتھ مندر کے مٹھ آنجہانی مہنت اویدھ ناتھ اس رام جنم بھومی تحریک کے سرکردہ لیڈر تھے جس نے پورے ملک میں بابری مسجد کے خلاف نفرت کا پرچار کیاتھا اور بابری مسجد کے مقام پر رام مندر بنانے کی خونی تحریک شروع کی تھی۔ 
ثالثی کمیٹی کے سربراہ جسٹس خلیفۃ اللہ کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازعہ کو باہمی مفاہمت سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس پہل کا خیرمقدم کیا ہے۔ بورڈ کے سکریٹری ظفریاب جیلانی کاکہنا ہے کہ’’ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ثالثی میں تعاون کریں گے۔ اب جو کچھ بھی ہمیں کہنا ہے وہ ثالثی پینل کے روبرو ہی کہیں گے۔‘‘ یہاں اہم سوال یہ ہے کہ ایودھیا تنازعہ کو گفتگو کی میز پر حل کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے جو پینل تشکیل دیا ہے وہ اس موضوع پر کن لوگوں کو مذاکرات کی دعوت دے گا؟ ظاہر ہے سب سے پہلے اس مقدمے کے فریقین کو گفتگو کی میز پر لایا جائے گا اور ان سے مصالحت کے پہلوؤں پر گفتگو ہوگی۔ مقدمے کے بنیادی فریقوں میں سنی سینٹرل وقف بورڈ اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے علاوہ نرموہی اکھاڑہ اور رام للا براجمان شامل ہیں۔ رام للا کے وکیل پہلے ہی ثالثی کی پیش کش کو نامنظور کرچکے ہیں۔ ان فریقین کے علاوہ یہ پینل کچھ ایسے لوگوں کو بھی گفتگو کی میز پر بٹھاسکتا ہے جو اس معاملے میں خدائی فوجدار کی حیثیت رکھتے ہیں اور جنہیں ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے کا پیدائشی شوق ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پینل کے سربراہ جسٹس خلیفۃ اللہ اس بات پر خاص دھیان رکھیں کہ اس معاملے میں کوئی گندم نما جوفروش شامل نہ ہوسکے۔ شری شری روی شنکر اس بات کی پوری کوشش کریں گے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے ایسے ضمیر فروش عناصر کو گفتگو کی میز تک لے آئیں جو امن کے قیام اور خیرسگالی کے مقصد سے بابری مسجد کے تمام حقوق سے دستبردار ہونے کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ اگر ایسے لوگوں کو گفتگو میں شامل کیاگیا تو یقینا سپریم کورٹ کی یہ کوشش رائیگاں چلی جائے گی۔ چونکہ بابری مسجد کے حقوق سے دستبرداری مسلمانوں کو کسی بھی طورپر قبول نہیں ہے۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ایودھیا کا تنازعہ ایک انتہائی پیچیدہ تنازعہ ہے۔ اس تنازعہ کی پیچیدگیوں کے سبب ہی عدالت گزشتہ 70 سال میں اس مقدمے کا کوئی فیصلہ نہیں کرپائی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ مزید الجھتا چلاگیا ہے اور اس میں نئے نئے پیچ ڈالے جاتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ سیاسی مقاصد کے تحت کیاگیا ہے کیونکہ ایک فریق نے اس مسئلے کو اپنی سیاسی آرزوؤں کی تکمیل کاذریعہ بنارکھا ہے۔ اس تنازعہ کو گفتگو کی میز پر حل کرنے کی سب سے سنجیدہ اور کارگر کوشش 1991 میں آنجہانی وزیراعظم چندرشیکھر کے مختصر دورحکومت میں ہوئی تھی جس کا عینی گواہ خود راقم الحروف ہے۔ اس دوران بابری مسجد ایکشن کمیٹی اور وشوہندوپریشد کے سرکردہ لیڈران کے ساتھ ساتھ یوپی کے وزیراعلیٰ ملائم سنگھ یادو اور راجستھان کے وزیراعلیٰ آنجہانی بھیروں سنگھ شیخاوت بھی شریک ہوئے تھے۔ راقم الحروف نے ان مذاکرات کی آنکھوں دیکھی رپورٹنگ کی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت بھی وشوہندو پریشد کی ہٹ دھرمی اور اشتعال انگیزی کے نتیجے میں ہی مذاکرات ناکام ہوئے تھے۔ کیونکہ وشوہندوپریشد کے لیڈران اس مسئلے کو یک طرفہ طورپر اپنے حق میں حل کرنا چاہتے تھے جبکہ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے لیڈران کا رویہ لچکدار تھا اور وہ اس مسئلے کا ایک منصفانہ حل نکالنے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ لیکن وشوہندو پریشد کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں یہ کوشش بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکی۔ درمیان میں شنکراچاریہ جنیندر سرسوتی نے بھی اس مسئلے کو وشوہندوپریشد کی طرز پر حل کرنے کی کوشش کی تھی جس میں انہیں ناکامی ہاتھ آئی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ عدالت کی پہل پر مسلم فریق کا رویہ آج بھی مثبت ہے چونکہ وہ اس تنازعہ کا ایک منصفانہ اور باعزت حل چاہتے ہیں جبکہ مخالف فریق آج بھی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور وہ اس معاملے میں یکطرفہ انصاف کا طرف دار ہے۔ اس موقع پر ہمیں ایودھیا کے ایک جہاں دیدہ صحافی شیتلا سنگھ کی یاد آتی ہے جنہوں نے 90کی دہائی میں ایک ٹرسٹ قائم کرکے اس تنازعہ کو گفتگو کی میز پر حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی تھی۔ انہوں نے ایودھیا تنازعہ پر اپنی تازہ کتاب میں یہ انکشاف کیا ہے کہ کس طرح آر ایس ایس نے ان کوششوں کو یہ کہتے ہوئے سبوتاژ کردیا تھا کہ ہمیں اس تنازعہ کو حل نہیں کرنا بلکہ اس کے ذریعے ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ آر ایس ایس سربراہ نے یہ بھی کہاتھا کہ اس تنازعہ سے ہندوؤں میں جو بیداری پیدا ہورہی ہے، اسے سیاسی طاقت کے حصول کا ذریعہ بنایاجائے گا۔ آگے چل کر یہ بات صحیح ثابت ہوئی۔ لیکن اب جبکہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے اس تنازعہ کے ذریعہ سیاسی طاقت حاصل کرلی ہے پھر بھی وہ اس تنازعہ کو زندہ رکھنے کے حق میں ہے اور اس کا سیاسی استحصال جاری رکھنا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں بھی اس پر ووٹوں کی فصل اُگائی جاتی رہے۔ 

Ads