Jadid Khabar

سرخرو ظل الٰہی ہوں گے

Thumb

ہندوستانی فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن بخیروعافیت وطن واپس آگئے ہیں۔ واگہہ سرحد پر ان کے والہانہ استقبال کے لئے حب الوطنی سے سرشار عوام کا ایک ہجوم موجود تھا۔ وہ تین روز تک پاکستانی فوج کی تحویل میں رہے اور یہ عرصہ نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ تمام ہندوستانیوں کے لئے ذہنی کشیدگی کا عرصہ رہا۔ پاکستان نے ونگ کمانڈر ابھی نندن کو خیرسگالی اور امن کے قیام کی خاطر بلاشرط رہا کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ رہائی عالمی دباؤ کے نتیجے میں عمل میں آئی ہو لیکن اتنا ضرور ہے کہ پائلٹ ابھی نندن کے واقعہ نے دونوں ملکوں کی سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ورنہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہندوپاک سرحد پر منڈلاتے ہوئے جنگ کے کالے بادلوں نے تمام امن پسندوں کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ کیا کم ہے کہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ پاکستان میں موجود امن پسندوں نے ونگ کمانڈر ابھی نندن کی رہائی کے لئے لاہور میں ریلیاں نکالیں۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ پلوامہ حملے کے بعد ہندوپاک کے درمیان کشیدگی کی جو فضا پیدا ہوئی تھی، اس کا سب سے منفی اثر ہمارے نیوز چینلوں پر پڑا تھا اور بیشتر چینل اپنا دماغی توازن کھوبیٹھے تھے۔ نیوز اینکروں کے پس منظر میں اڑانیں بھرتے ہوئے جنگی جہاز اس بات کا احساس دلا رہے تھے کہ ہندوپاک سرحد پر جنگ ہویا نہ ہو ٹی وی چینلوں کے اسٹوڈیوز میں جنگ ضرور ہورہی ہے۔ جب سرحد پر حالات کشیدہ ہوں اور دوپڑوسی ملکوں کے درمیان کشیدگی اپنی انتہاؤں تک پہنچ چکی ہو تو میڈیا کا رویہ ملک کے وسیع تر مفاد میں یہ ہونا چاہئے کہ وہ عوام کو صبروتحمل کی تلقین کریں اور انہیں دانش مندی کی طرف لے جائیں ۔ لیکن جب میڈیا کو جنگی جنون پیداکرکے انتخابی فائدہ پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہو تو ایسے میں کوئی اپنی ٹی آر پی گھٹاکر نقصان کیوں اٹھائے گا۔ 

یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ جس وقت ونگ کمانڈر ابھی نندن پاکستانی فوج کی تحویل میں تھے اور پورا ملک ان کی بہ حفاظت واپسی کے لئے دعائیں مانگ رہا تھا تو ہمارے وزیراعظم بی جے پی کے 15ہزار بوتھ کارکنوں کو ’میرا بوتھ ۔سب سے مضبوط‘ کا سبق پڑھارہے تھے۔ ظاہر ہے وزیراعظم نریندرمودی کے لئے اس سے زیادہ موزوں صورت حال اور کیا ہوسکتی ہے کہ ان کا مدمقابل پاکستان ہو۔ آپ کو یاد ہوگا کہ انہوں نے گجرات میں 2002 کا چناؤ جیتنے کے لئے جہاں ایک طرف گودھرا سانحہ کا سہارا لیا تھا تو وہیں وہ اپنے ووٹروں کو متاثر کرنے کے لئے انتخابی تقریروں میں ’میاں مشرف‘کی گردان بھی کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پلوامہ سانحہ کے بعد بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں کو خصوصی ہدایت دی گئی کہ وہ حملے میں شہید ہونے والے سی آر پی ایف جوانوں کے جنازوں میں شریک ہوں اور ایسے موقعوں پر بی جے پی کا پرچم لہرانا نہ بھولیں۔ سخت اعصابی کشمکش کے دوران وزیراعظم نریندرمودی نے راجستھان کے چورو علاقے میں منعقدہ جلسے کے اسٹیج کے پیچھے ان 44 سی آر پی ایف جوانوں کی تصاویر آویزاں کی تھیں، جنہوں نے پلوامہ حملے میں اپنی جان گنوائیں ۔ اس موقع پر اسٹیج کے آگے بھارتیہ جنتاپارٹی کا انتخابی نشان ’کنول‘ کھل رہا تھا۔ پیغام واضح ہے کہ پلوامہ میں سی آر پی ایف جوانوں نے ملک کے لئے جو شہادت پیش کی ہے، اس کا خراج حکمراں بھارتیہ جنتاپارٹی کو ووٹوں کی شکل میں ملنا چاہئے۔ بی جے پی پلوامہ حملے کے بعد سرحد پر پیدا ہونے والی کشیدگی کا سیاسی فائدہ اٹھانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کررہی ہے۔ بقول شاعر  
جنگ میں قتل سپاہی ہوں گے
سرخرو ظل الٰہی ہوں گے
پاکستان کے بالاکوٹ میں ہندوستانی فضائیہ کے طیاروں نے حملہ کرکے دہشت گردوں کے کیمپوں کو تباہ کرنے کا جو دعویٰ کیا ہے، اس کا کریڈٹ بھی بی جے پی ہی لینے کی کوشش کررہی ہے اور اسے پلوامہ کا انتقام کہاجارہا ہے۔ جبکہ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ اس حملے میں کتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں اور ان کی تصویریں کہاں ہیں۔ پلوامہ میں شہید ہونے والے شاملی کے نوجوان کی ماں ایک ٹی وی چینل پر یہ سوال کرتی ہے کہ آخر ان دہشت گردوں کی لاشیں کہاں ہیں جنہیں فضائی حملے میں ہلاک کیاگیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتی ہے کہ ’’جب تک دہشت گردوں کی لاشیں نہیں دیکھ لوں گی اس وقت مجھے چین نہیں پڑے گا۔‘‘ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی کہتی ہیں کہ ’’میں نے کہیں پڑھا ہے کہ پاکستان میں ایئر اسٹرائک سے کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ جبکہ ہندوستان کے نیوز چینل کہہ رہے ہیں کہ 300 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ شہریوں کو سچائی جاننے کا حق ہے۔‘‘ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہمارے نیوز چینلوں نے ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد خود ایجاد کی ہے چونکہ نہ تو فوج نے اور نہ ہی حکومت نے ابھی تک ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد بتائی ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں کوئی ہلاک نہیں ہوا۔
حکمراں بھارتیہ جنتاپارٹی اور وزیراعظم نریندرمودی کو پلوامہ حملے اور بالاکوٹ کی ایئراسٹرائک سے متعلق سوالوں سے کوئی سروکار نہیں ہے چونکہ اس قسم کے سوال اٹھانے والے ’دیش دروہی‘ ہیں۔ وطن دشمنوں کی صف میں ان لوگوں کو بھی کھڑا کیاگیا ہے جنہوں نے پلوامہ میں انٹیلی جنس کی ناکامی کا سوال اٹھایا ہے۔ آخر کس طرح ایک 20 سالہ نوجوان 350کلو گرام دھماکہ خیز مادہ لے کر سی آر پی ایف کے قافلے سے جاٹکرایا اور یہ واقعہ اس جموں سرینگر شاہراہ پر پیش آیا جو حفاظتی نقطہ نگاہ سے سب سے زیادہ حساس علاقہ ہے۔ ظاہر ہے جب ملک حب الوطنی کے جنون میں مبتلا ہو اور اس کے باشندوں کو جنگ کے فائدے گنائے جارہے ہوں تو ایسے میں کوئی بھی ٹیڑھا سوال خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ کلکتہ میں ایک شہید کی بیوہ جب جنگ کی مخالفت میں بیان دیتی ہے تو اس کا پیچھا کیا جاتا ہے۔ پلوامہ حملے میں شہید ہاوڑہ کے باشندے ببلو سانترا کی بیوہ نیتا کا کہنا ہے کہ’’ جنگ سے کوئی مسئلہ حل نہیں کیاجاسکتا کیونکہ جنگ کے میدان میں ہر موت آخر کار فوجیوں کے خاندان کو تباہ کردیتی ہے۔‘‘ جولوگ ملک میں جنگی جنون پیدا کرکے چناوی فائدہ حاصل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں انہیں جنگ کی تباہ کاریوں کا قطعی اندازہ نہیں ہے۔ ہندوپاک دونوں ہی ایٹمی طاقت ہیں۔ کچھ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کے پاس ہندوستان سے زیادہ ایٹمی ہتھیار ہیں جن میں بڑی تعداد ’ڈرٹی بموں‘ کی ہے۔ یہ بم انتہائی خطرناک ریڈیائی مادوں سے لبریز ہوتے ہیں جن کے استعمال سے تقریباً 12کروڑ لوگ فوری طورپر متاثر ہوں گے۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق اگر ہندوپاک کے درمیان ایٹمی جنگ ہوتی ہے تو ڈیڑھ کروڑ لوگ فوری طورپر اپنی جانیں گنوادیں گے اور کروڑوں دیگر لوگ آئندہ 20سال تک اس کے جان لیوا مضر اثرات سے موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دوملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ شروع ہوجانے کے بعد اس کا دائرہ محدود کرنے یا اسے درمیان میں روکنے کے میکانزم پر ابھی تک غور نہیں کیاگیا ہے۔ 
کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ اور سینئر بی جے پی لیڈر یدی یورپا کا دعویٰ ہے کہ بالاکوٹ میں ایئر اسٹرائک کے بعد بی جے پی کرناٹک کی 28میں سے 22سیٹوں پر قبضہ کرلے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ بی جے پی کے حق میں روزبروز لہر تیز ہوتی جارہی ہے۔ پاکستان کے اندر داخل ہوکر دہشت گرد کے کیمپوں کو برباد کرنے کے قدم سے پورے ملک میں مودی کے حق میں لہر چل رہی ہے۔ اس کا نتیجہ آئندہ لوک سبھا چناؤ میں ضرور نظرآسکتا ہے۔‘‘ یدی یورپا کے اس بیان کو اپوزیشن نے تو آڑے ہاتھوں لیا ہی خود بی جے پی سرکار میں شامل ایک مرکزی وزیر جنرل وی کے سنگھ نے کہاکہ’’ یدی یورپا جی معاف کیجئے! میں آپ سے متفق نہیں ہوں۔ ہم ایک قوم کے طورپر کھڑے ہوئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے کی گئی کارروائی سے ملک اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے نہ کہ کچھ سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنا۔‘‘ اپوزیشن جماعتوں نے ایک مشترکہ بیان میں مسلح افواج کی قربانیوں کے کھلے عام سیاسی استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ نئی دہلی میں 21 اپوزیشن جماعتوں نے ملک کی موجودہ صورت حال پر میٹنگ کرکے حکومت سے کہاہے کہ ملک کے اتحاد اور یکجہتی کے تحفظ کے طریقوں پر ملک کو اعتماد میں لے کر کام کریں۔ افسوس کہ ابھی تک وزیراعظم نے صورت حال کی تمام تر سنگینی کے باوجود اپوزیشن جماعتوں سے کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا ہے۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے اپوزیشن لیڈروں کی میٹنگ کے بعدکہاکہ ’’جب وہ فوج کے ہر قدم کا سیاسی کریڈٹ لینے سے نہیں چوکتے تو انہیں پلوامہ حملہ روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہئے۔ ‘‘

Ads