Jadid Khabar

کشمیر سے محبت ‘ کشمیریوں سے عداوت

Thumb

سپریم کورٹ نے ملک کے گیارہ صوبوں کے پولیس سربراہوں کو نوٹس جاری کرکے کشمیریوں کے تحفظ کے لئے فوری اور ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مفاد عامہ کی ایک عرضی پر سماعت کے دوران چیف جسٹس رنجن گگوئی کی قیادت والی بینچ نے یہ بھی کہاکہ’’ ہجومی تشدد کے واقعات سے نپٹنے کے لئے مقرر کئے گئے نوڈل افسران اب کشمیریوں پر حملوں کے واقعات سے بھی نپٹیں گے۔‘‘ واضح رہے کہ پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد ملک کی کئی ریاستوں میں کشمیریوں پر وحشیانہ حملے ہوئے ہیں اور ان کا عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پلوامہ میں سی آر پی ایف کے 44جوانوں کی دردناک شہادت ایسا سانحہ ہے جس پر ہر ہندوستانی کا خون کھول اٹھا ہے۔ لیکن اس کھولتے ہوئے خون میں عام کشمیری باشندوں کو ڈبوکر خاک کرنا کسی بھی طورپر درست نہیں ہے۔ نہ صرف یہ کہ کشمیریوں پر تشدد کیاگیا ہے بلکہ بعض تعلیمی اداروں نے اپنے یہاں کشمیری طلباء کو داخلہ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور کئی تعلیمی اداروں سے ان کا اخراج بھی عمل میں آیا ہے۔ بعض کشمیری تاجروں نے تشدد پر آمادہ ہجوم سے بچنے کے لئے چلتی ٹرینوں میں سے چھلانگ لگادی ہے۔ یہ اسی جنت نظیر کشمیر کے باشندوں کی حالت ہے جس سے ہمیں بے پناہ محبت ہے اور جسے ہم اپنا ’اٹوٹ انگ‘ قرار دیتے ہیں۔ کشمیریوں کے خلاف غم وغصے کی لہر عام لوگوں میں ہی نہیں ہے بلکہ انتہائی ذمہ دار آئینی عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ بھی اس جنون میں مبتلا ہیں اور اپنی ذہنی پراگندگی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ میگھالیہ کے گورنر تتھاگت رائے نے ایک سابق فوجی کرنل کی اس تجویز کی پرزور حمایت کی ہے جس میں کشمیریوں کے مکمل بائیکاٹ کی اپیل کی گئی تھی۔ یہاں تک کہ ان کا حقہ پانی بند کرنے کو بھی کہاگیا تھا۔ گورنر موصوف اپنے فرقہ وارانہ اور مسلم دشمن بیانات کے لئے بدنام ہیں اور آئے دن اس قسم کے ٹوئیٹ کرتے رہتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومت نے ابھی تک ان سے کوئی بازپرس نہیں کی ہے، تاہم بی جے پی کی سب سے پرانی اتحادی پارٹی شرومنی اکالی دل نے گورنر تتھاگت رائے کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے صدرجمہوریہ سے رجوع کیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ملک میں کئی مقامات پر سکھوں نے مصیبت زدہ کشمیریوں کی مدد کی ہے اور انہیں اپنے گھروں میں پناہ بھی دی ہے۔ ادھر سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کچھ لوگ کشمیر کو ہندوستان کا حصہ مانتے ہیں لیکن وہ کشمیریوں کو ہندوستان کا حصہ نہیں مانتے۔ انہوں نے میگھالیہ کے گورنر تتھاگت رائے کے بیان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ گجرات میں سردار پٹیل کا 182فٹ طویل قامت مجسمہ میگھالیہ کے گورنر اور دوسرے ان لوگوں کو دیکھ رہا ہے جو یہ سوچ رہے ہیں کہ کشمیریوں کے لئے ہندوستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ 

صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ قومی انسانی حقوق کمیشن نے کشمیریوں کے ساتھ پیش آرہے افسوسناک واقعات کا ازخود نوٹس لیا ہے اور وزارت داخلہ اور وزارت تعلیم کو نوٹس بھیجا ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ اگرچہ سی آرپی ایف جوانوں پر دہشت گردانہ حملے کے خلاف غم وغصہ ہے لیکن ایک مہذب معاشرہ اپنے ہی ملک کے لوگوں کے خلاف اس قسم کے تشدد کو قبول نہیں کرسکتا۔ کمیشن نے کشمیری طلباء کے اخراج اور ان کے خلاف کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ’’ اس قسم کا برتاؤ دستور کی دفعہ 14کی خلاف ورزی ہے ، جس میں ہندوستان کے اندر سب کو یکساں تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔‘‘ واضح رہے کہ دہرادون کے دوتعلیمی اداروں نے کشمیری طلباء کو داخلہ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک بھر میں 10کشمیری طلباء کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں اور کم ازکم 20طلباء کو سوشل میڈیا پوسٹ کے لئے مختلف اداروں سے نکالا گیا ہے۔ ہماچل پردیش کے ضلع سولن کی بارایسوسی ایشن نے یہ قرار داد پاس کی ہے کہ قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے سلسلے میں گرفتار کئے گئے کشمیری طالب علم کا کیس کوئی وکیل نہیں لڑے گا اور نہ ہی اس کو کوئی قانونی امداد فراہم کی جائے گی۔ واضح رہے کہ سولن کی چتکارایونیورسٹی کے ایک کشمیری طالب علم کو سوشل میڈیا پر ایک قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس طالب علم کے خلاف رپورٹ خود یونیورسٹی کے ڈین ریٹائرڈ کرنل اے کے چوہان نے درج کرائی تھی۔ دہلی کے نانگلوئی ریلوے اسٹیشن پر تین کشمیری تاجروں نے اس وقت چلتی ٹرین سے چھلانگ لگادی جب ساتھی مسافروں نے انہیں ’پلوامہ کا قاتل اور پتھر باز‘ قرار دے کر ان پر حملہ کردیا۔ یہ تینوں کشمیری شالیں فروخت کرنے کے لئے جارہے تھے لیکن حملے کے بعد انہوں نے دولاکھ روپے کی قیمتی شالیں ٹرین میں ہی چھوڑ دیں اورجان بچانے کے لئے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگادی۔ 
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ کشمیری عوام ایک عرصے سے چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ ایک طرف انہیں دہشت گردوں نے نرغے میں لے رکھا ہے اور دوسری طرف ملک کے عوام انہیں اپنا دوست نہیں سمجھتے۔ وادی کشمیر میں گزشتہ تین دہائیوں سے جاری دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار وہاں کے عوام ہی ہوئے ہیں۔ وہ جن مشکل حالات میں زندگی گزاررہے ہیں اس کا تصور کشمیر سے باہر رہنے والے لوگ ہرگز نہیں کرسکتے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ انہیں باقی ہندوستان سے کاٹ کر بے یارومددگار کرنے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ پلوامہ واقعہ کے بعد کشمیریوں کے خلاف نفرت اور عداوت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ بعض کوتاہ اندیش لوگ ان کی شہ رگ کو کاٹ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ایک ریٹائرڈ فوجی کرنل نے کشمیریوں کی کمر توڑ نے کے لئے ملک کے عوام سے یہ اپیل کی ہے کہ’’ آئندہ دوسال تک کوئی کشمیر نہ جائے۔ نہ ہی امرناتھ یاترا پر جایاجائے۔ کشمیری امپوریم سے کوئی خریداری نہ کی جائے۔ نہ ہی سردی کے موسم میں آنے والے کشمیریوں سے کوئی سامان لیاجائے۔ یعنی کشمیریوں کی ہر چیز کا بائیکاٹ کیاجائے۔‘‘ کشمیر یقینا ہندوستان کا ’اٹوٹ انگ‘ ہے ۔ لیکن کشمیر کا تصور زمین کے کسی خطے تک محدود نہیں ہے۔ کشمیر تنازعہ کے اصل فریق وہاں کے عوام ہیں جو صدیوں سے وہاں رہتے چلے آئے ہیں۔ کشمیریوں کو بیگانہ بنانے میں ہمارے ملک کے سیاست دانوں کا بھی بڑا رول ہے جنہوں نے کشمیر کے سیاسی اور انسانی مسئلے کو پیچیدہ تر بنادیا ہے۔ کسی علاقے کی تعمیر وتشکیل محض درودیوار ، سڑکوں ، کھیتوں کھلیانوں، پہاڑوں اور جھرنوں سے نہیں ہوتی بلکہ مکان کی پہچان اس کے مکین سے ہوتی ہے۔ ہم آخر کشمیر یوں کے بغیر کشمیرکا تصور کیسے کرسکتے ہیں۔ اس دوران جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے سری نگر میں کہا ہے کہ کشمیر کے فدائین حملے میں 44 جوانوں کی ہلاکت پر ہر طرف سینہ کوبی کی جارہی ہے ۔ کشمیریوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے۔ مرنے مارنے اور انتقام لینے کی باتیں کی جارہی ہیں لیکن جب چھتیس گڑھ کے دنتے واڑہ میں ایک ساتھ 75سی آر پی ایف جوان ہلاک ہوئے تھے تب تو کسی نے ایسی بات نہیں کہی تھی نہ ہی کسی نے سینہ کوبی کی تھی۔ اس وقت نہ تو میڈیا میں کہیں ہاہاکار مچی اور نہ ہی بحث ومباحثے ہوئے۔‘‘
 اس درمیان سب سے مثبت اور اطمینان بخش بیان خود سی آر پی ایف کی طرف سے آیا ہے، جس کے 44جوان پلوامہ خودکش حملے میں شہید ہوئے تھے۔ سی آر پی ایف نے سوشل میڈیا پر فرضی خبروں اور تصاویر کی مدد سے پلوامہ حملے کے سلسلے میں برپا طوفان کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی تحقیقات کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو سوشل میڈیا کی نگرانی کررہی ہے اور غلط خبریں پھیلانے والو ں کے خلاف کارروائی کرے گی۔ سی آر پی ایف کے ڈی آئی جی ایم دیناکرن نے یہ اطلاع دیتے ہوئے کہاہے کہ ہمارے جوانوں نے اس لئے قربانی نہیں دی تھی کہ اس کا استعمال فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کے لئے کیاجائے۔ سی آر پی ایف نے کشمیریوں پر حملے کی مذمت کی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پلوامہ میں 44سی آرپی ایف جوانوں کی قیمتی جان لینے والا ایک کشمیری نوجوان تھا لیکن کسی فرد واحد کے جرم کی سزا پوری قوم کو دینا کسی بھی طورپر حق بجانب نہیں ہے۔ کشمیر میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے لیکن اس کے ساتھ ہی کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کا پاس رکھنا بھی اتناہی ضروری ہے۔ کیونکہ کشمیر کے مسئلے کا حل وہاں کے عوام کی حمایت سے ہی نکلے گا۔

Ads