Jadid Khabar

ہند‘ پاک سرحد پر جنگ کے بادل

Thumb

کشمیر میں ایک فوجی قافلے پر انتہائی خوفناک فدائین حملے نے ہندوپاک کے درمیان کشیدگی کو ایک بارپھر اپنی انتہاؤں تک پہنچادیاہے۔ گزشتہ 30برس کے دوران جب سے کشمیر میں علیحدگی کی تحریک شروع ہوئی ہے، یہ سب سے بڑا حملہ ہے جس میں سی آر پی ایف کے تقریباً50جوان شہید ہوگئے ہیں۔350کلوگرام دھماکہ خیز مادے سے بھری ہوئی ایک کار کو خود کش بمبار نے جوانوں کی ایک بس سے ٹکرادیا جس کے نتیجے میں بس کے پرخچے اڑ گئے اور اس میں سوار تمام جوان شہید ہوگئے۔ دھماکہ اتنا خوفناک تھا کہ 10 کلومیٹر دور تک اس کی آواز سنائی دی۔ جموں ۔سرینگر شاہراہ، جہاں یہ واردات انجام دی گئی ہے، سیکورٹی کے اعتبار سے کشمیر میں سب سے زیادہ نگہداشت والا علاقہ ہے جس کے چپے چپے پر آتش گیر مادے کی چھان بین کی جاتی ہے۔ لیکن دہشت گردوں کی کارروائی اتنی منظم اور مربوط تھی کہ خفیہ ایجنسیوں کو اس کی بھنک بھی نہیں لگ پائی۔78گاڑیوں کے جس قافلے پر یہ حملہ کیاگیا اس میں سی آر پی ایف کی بٹالین کے ڈھائی ہزار سے زیادہ جوان شامل تھے۔ اس واقعہ کے خلاف پورے ملک میں غم وغصے کی شدید لہر ہے۔ ہندوستان نے اس حملے کے لئے براہ راست پاکستان کو موردِ الزام قرار دیا ہے۔ اس وحشیانہ حملے کی عالمی پیمانے پر بھی مذمت کی جارہی ہے اور امریکہ نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں کو امداد اور پناہ دینا بند کرے۔ اقوام متحدہ سمیت دنیا کے کئی اہم ممالک نے اس حملے کو انسانیت کے خلاف بدترین کارروائی سے تعبیر کیا ہے۔  ہندوستان کی کوشش اس معاملے میں پاکستان کو یکا وتنہا کردینے کی ہے۔

جیش محمد نامی انتہا پسند تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے ایک جنگجو عادل احمد ڈار کا فوٹو جاری کیا ہے جس نے دھماکہ خیز مادے سے بھری ہوئی کار کو سی آر پی ایف کی بس سے ٹکرا کر اپنی بھی جان دے دی۔ حملہ آور پلوامہ کا رہنے والا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب تک وادی میں دہشت گردی کی خوفناک کارروائیاں پاکستان سے آنے والے دہشت گرد انجام دیتے تھے لیکن پچھلی تین دہائیوں سے جاری دہشت گردی کی سب سے سنگین واردات ایک مقامی نوجوان نے انجام دی ہے جس کی عمر محض 20سال بتائی جاتی ہے۔ حکومت ہند نے حملے کے لئے براہ راست پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہاہے کہ اس نے جیش محمد سربراہ مسعود اظہر کو دہشت پھیلانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ ہم آپ کو یاددلادیں کہ یہ وہی مسعود اظہر ہیں جنہیں آنجہانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے دور اقتدار میں ایئرانڈیا کے ایک اغوا شدہ طیارے میں سوار مسافروں کی جاں بخشی کے عوض جموں جیل سے رہا کیاگیا تھا۔ مسعود اظہر کو اس وقت کے وزیرخارجہ جسونت سنگھ ایک طیارے میں بٹھاکر قندھار لے گئے تھے۔ مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستانی دہشت گردی کو ناکام کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ وہیں وزیر مملکت کرن رجیجو نے اسے بزدلانہ حرکت قرار دیتے ہوئے ہر ممکن انتقام لینے کی بات کہی ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے دہلی میں فوجی سربراہوں کے ساتھ ایک میٹنگ کے بعد یہ کہاہے کہ’’ ہمارے پڑوسی ملک کے لئے یومیہ خرچ چلانا مشکل ہوگیا ہے اور وہ دنیا میں بھیک کا کٹورا لے کر گھوم رہا ہے۔ پلوامہ جیسی تباہی مچاکر وہ ہمیں بھی بدحال کرنا چاہتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہاکہ سلامتی دستوں کو آگے کی کارروائی کے لئے وقت ، مقام اور طریقہ طے کرنے کی آزادی دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گرد تنظیموں اور ان کے آقاؤں نے جو حیوانیت دکھائی ہے اس کا پورا حساب لیا جائے گا۔ اس دوران اسلام آباد سے ہندوستانی سفیر کو مشورے کے لئے دہلی بلایا گیا ہے اور نئی دہلی میں تعینات پاکستانی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے جیش محمد کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کہاگیا ہے۔ حالانکہ پاکستان نے اس دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اس معاملے میں بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو ملوث کیاجارہا ہے۔ لیکن حکومت ہند نے اپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ یہ کارروائی پاکستان کے اشارے پر کی گئی ہے اور اس کا مقصد امن کو غارت کرنا ہے۔ اس واردات کے بعد ہند پاک سرحد پر کشیدگی بڑھ گئی ہے اور دونوں ملکوں کی فوجیں چوکنا ہوگئی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک بار پھر دونوں ملکوں کی سرحد پر جنگ کے بادل امڈ آئے ہیں۔ حالانکہ یہ بات دونوں ہی ملکوں کو معلوم ہے کہ جنگ مکمل تباہی کار استہ ہے اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی معمولی سی چنگاری بھی خطے میں ناقابل یقین تباہی کو دعوت دے سکتی ہے۔ 
مودی سرکار اس بات کا بلند بانگ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ اس نے وادی میں دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور اب کچھ گنے چنے دہشت گرد ہی باقی رہ گئے ہیں۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ جس تیزی کے ساتھ وادی میں دہشت گردوں کا صفایا کیاگیا ہے ،اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ وادی میں نئے دہشت گردوں کی بھرتی ہوئی ہے اور وہ امن کے لئے زیادہ بڑا اور سنگین چیلنج بن کر ابھررہے ہیں۔ پلوامہ کا باشندہ عادل احمد ڈار اس کی واضح مثال ہے جس نے محض 20سال کی عمر میں اتنی بڑی دہشت گردانہ کارروائی کرکے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ملک پر سب سے زیادہ دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران یہ بارہواںبڑا حملہ ہے اور ان حملوں میں سلامتی دستوں کے 136جوان شہید ہوچکے ہیں۔ پلوامہ کے تازہ حملے کے بارے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ہماری انتہائی چاق وچوبند خفیہ ایجنسیاں کیا کررہی تھیں۔ انہیں اتنی بڑی کارروائی کی پیشگی اطلاع کیوں نہیں مل سکی۔ جموں وکشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے خود اس معاملے میں خفیہ محکموں کی ناکامی کو قبول کیا ہے اور اپنی کمزوریوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مودی سرکار نے جموں وکشمیر میں دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے تعلق سے جو سخت پالیسی وضع کی ہے، اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ حالانکہ اس بات کو کئی بار دہرایا گیا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل بندوق سے نہیں بلکہ بات چیت سے نکلے گا لیکن حکمراں جماعت کا خیال ہے کہ کشمیر کا واحد حل بندوق ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کشمیر میں پچھلے تین دہائیوں سے جاری دہشت گردی کے نتیجے میں اب تک 5777 جوان شہید ہوئے ہیں جبکہ 22ہزار سے زیادہ دہشت گردوں کو فوجی کارروائی میں ڈھیر کیاگیا ہے۔ گزشتہ سال وادی میں 429حملے ہوئے جن میں 80جوان شہید ہوئے جبکہ فوج نے 323 جنگجوؤں کو ہلاک کیا۔ مرنے والوں کی یہ تعداد گزشتہ 11سال میں سب سے زیادہ ہے۔ سی آر پی ایف پر گزشتہ 9سال کے عرصے میں یہ دوسرا سب سے بڑا حملہ ہے۔ اس سے قبل اپریل 2010 میں چھتیس گڑھ میں نکسلیوں کے حملے میں سی آر پی ایف کے 76 جوان شہید ہوئے تھے۔ 
 سیکورٹی کے ماہرین کا خیال ہے کہ کشمیر کے سب سے زیادہ سیکورٹی والے جموں۔ سرینگر ہائی وے پر ہوا تازہ حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ابھی اور حملے ہوسکتے ہیں۔ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سید عطاء حسین کا کہنا ہے کہ اس حملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس کا طریقہ پاکستان اور افغانستان جیسا ہی ہے۔ کشمیر میں آخری بار اس قسم کا حملہ 2004میں ہوا تھا۔ اس وقت بارہمولہ میں فوج کی بس کو نشانہ بنایاگیا تھا۔ دہشت گردوں نے آئی آئی ڈی کا استعمال 10سال بعد کیا ہے۔ یہ دونوں باتیں اشارہ کرتی ہیں کہ حالات مزید بگڑسکتے ہیں کیونکہ ایسا حملہ پوری تیاری کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ تیاری کئی دنوں تک جاری رہتی ہے۔ افغانستان میں حالات کچھ بہتر ہونے کے بعد دہشت گرد تنظیمیں وہاں برسرپیکار پاکستانی جنگجوؤں کو کشمیر بھیج رہی ہیں۔ دہشت گردوں نے اس حملے کے ذریعے اپنی طاقت دکھانے کی کوشش کی ہے۔ کشمیری امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت نے فوج کو دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی جو ہدایات دی ہیں، اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں دہشت گرد مار گرائے گئے ہیں لیکن اس کا منفی اثر یہ ہوا ہے کہ اس سے زیادہ تعداد میں دہشت گردوں کی نئی کھیپ تیار ہوئی ہے۔ عام کشمیری جو، اب تک دہشت گردی سے بیزار تھے وہ بھی اس میں شامل ہونے لگے ہیں اور کشمیری عوام میں علیحدگی پسندی کے رجحانات فروتر ہوگئے ہیں جو یقینا ایک تشویشناک صورت حال ہے۔ ماضی میں دہشت گردوں کے خلاف ہماری فوج نے جو بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیںاس میں عام لوگوں کا تعاون بہت اہم تصور کیاجاتا رہا ہے۔ کشمیری عوام کا مکمل طورپر الگ تھلگ پڑجانا سنگین صورت حال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مودی سرکار کی کشمیر پالیسی شروع سے ہی تنقیدوں کے گھیرے میں ہے۔

Ads