Jadid Khabar

رام مندر بنانے کا چور دروازہ

Thumb

ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر زور زبردستی رام مندر بنانے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد اب مرکزی حکومت نے اس کا ایک چوردروازہ تلاش کرلیا ہے۔یعنی اس نے سپریم کورٹ سے گزارش کی ہے کہ ایودھیا کے متنازعہ مقام کے آس پاس کی جو 67ایکڑ زمین نرسمہاراؤ نے ایک آرڈیننس کے ذریعے 1993 میں ایکوائر کی تھی، اسے وہ آزاد کردے تاکہ وہاں سے رام مندر کی تعمیر کا آغاز ہوسکے۔ اس راستے سے ایودھیا میں رام مندر بنانے کی خواہش کس حد تک پوری ہوگی یہ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ گیند سپریم کورٹ کے پالے میں ہے جو غیر متنازع زمین واپس کرنے کی تین عرضیاں پہلے ہی ٹھکراچکا ہے۔ عدالت نے اس مقام پر جوں کی توں صورت حال برقرار رکھنے کا جو حکم دے رکھا ہے، اس میں فی الحال تبدیلی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ مرکز کی مودی سرکار یہ چاہتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح عام انتخابات سے قبل ایودھیا میں ایسی کوئی ہلچل ضرور شروع ہوجائے جس کی بنیاد پر وہ یہ کہہ سکے کہ اس نے رام مندر کی تعمیر کا انتخابی وعدہ پورا کردیا ہے۔ یہ وہی حکومت ہے جو ترقی اور وکاس کے ایجنڈے پر اقتدار میں آئی تھی اور ملک کے عوام کو اچھے دنوں کے خواب دکھا کر ان کے ووٹوں پر ہاتھ صاف کیاگیا تھا۔ ترقی اور خوشحالی کے تمام تر دعوؤں کی پول کھلنے کے بعد آخر کار مودی سرکار نے ایودھیا کے اسی تنازعہ میں پناہ ڈھونڈی ہے، جو اس کی تمام سیاسی طاقت کا محور ومرکز رہا ہے۔ اسی تنازعہ کی بنیاد پر بی جے پی نے پورے ملک میں فرقہ واریت کے شعلے بھڑکائے اور اپنے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ مرکزی حکومت کے اس تازہ اقدام کے بارے میں یہ سوال کیاجارہا ہے کہ آخر کوئی حکومت کسی تنازعہ کے ایک فریق کی جانب داری کیسے کرسکتی ہے چونکہ ایسا کرنا سیکولرزم اور جمہوریت ہی نہیں بلکہ دستور کی حلف برداری کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ لیکن ہم ان لوگوں سے انتہائی مؤدبانہ طورپر یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس حکومت نے اپنے پونے پانچ سال کے اقتدار میں ایسا کون سا کام کیا ہے جو سیکولرزم اور جمہوریت کو تقویت پہنچانے والا ہو یا جس سے دستور کو مضبوطی حاصل ہوئی ہو۔ یہ حکومت پہلے ہی دن سے ہندتو کے غیر دستوری ایجنڈے پر کاربند ہے اور کھلے عام ایسے کام کرتی رہی ہے، جو دستور کی بنیاد پر حملہ تصور کئے جاتے رہے ہیں۔ یہاں بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ جو حکومت اس تنازعہ میں فریق تک نہیں ہے، وہ آخر کس حیثیت سے عدالت میں ایسی عرضی داخل کرسکتی ہے ۔ 

گزشتہ منگل کو سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت نے جو عرضی داخل کی ہے اس میں کہاگیا ہے کہ تحویل شدہ اراضی میں صرف 0.313 ایکڑ کا وہ پلاٹ ہی متنازع ہے جہاں 6دسمبر 1992 تک بابری مسجد کی عمارت ایستادہ تھی۔ 2.77 ایکڑ کا پورا علاقہ متنازع نہیں ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں 16سال پہلے جاری کیاگیا حکم نامہ رد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے متنازع اراضی کو چھوڑ کر 67ایکڑ زمین اصل مالکوں کو واپس کئے جانے کی اجازت طلب کی ہے۔ واضح رہے کہ اس زمین میں 45ایکڑ کا سب سے بڑا پلاٹ رام جنم بھومی نیاس کی ملکیت بتایاجارہا ہے ، جس کے بارے میں یہ بھی کہاجارہا ہے کہ عدالت کی اجازت ملنے کے ساتھ ہی وہاں رام مندر کی تعمیر کا کام شروع ہوسکتا ہے اور اس طرح مرکزی حکومت کی منزل آسان ہوسکتی ہے ،جو اس وقت رام مندر بنانے کا انتخابی وعدہ پورا کرنے کے لئے سادھو سنتوں کے نرغے میں ہے۔ واضح رہے کہ 2.77 ایکڑ کا متنازعہ علاقے سمیت 67ایکڑ زمین پر سپریم کورٹ نے 31مارچ 2003 کو جوں کی توں صورت حال برقرار رکھنے کا حکم جاری کیا تھا جو آج تک قابل عمل ہے۔ حکومت دراصل سپریم کورٹ کے اسی حکم کو ساقط کروانا چاہتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے 2010 میں 2.77ایکڑ زمین کے اس حصے کو سنی سینٹرل وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام للا کے درمیان مساوی طورپر تقسیم کردیا تھا ۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر زبردست تنقید ہوئی تھی اور سبھی نے اسے پنچایتی فیصلے سے تعبیر کیا تھا۔ اب اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں 14اپیلیں زیر التوا ہیں۔ لیکن وہاں سماعت مختلف وجوہات کی بنا پر مسلسل مؤخر ہورہی ہے اور ابھی آئندہ سماعت کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ اس معاملے کی سماعت کے لئے پانچ ججوں پر مشتمل خصوصی بینچ تشکیل دی جاچکی ہے۔ ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ میں کسی نہ کسی وجہ سے سماعت ٹلنے کے سبب رام مندر کی تعمیر کا خواب دیکھنے والوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے اور وہ اس معاملے میں عدالت عظمیٰ پر ٹال مٹول کا الزام عائد کررہے ہیں۔ حالانکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ یہ ایک انتہائی حساس مقدمہ ہے اور اس معاملے میں سپریم کورٹ بھی پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے۔ جبکہ رام مندر کے پیروکار یہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ گھڑی کی چوتھائی میں یہ مقدمہ رام مندر کے حق میں فیصل کردے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں جو مقدمہ زیر سماعت ہے، اس میں رام مندر کا مسئلہ زیر بحث نہیں ہے بلکہ عدالت کو حق ملکیت کا فیصلہ کرنا ہے اور عدالت پہلے ہی یہ واضح کرچکی ہے کہ وہ اس مقدمے کو کسی کی آستھا یا عقیدے کی بنیاد پرنہیں بلکہ ثبوتوں اور شہادتوں کی بنیاد پر فیصل کرے گی۔ 
حکومت نے سپریم کورٹ میں غیر متنازع زمین کو اصل مالکوں کے سپرد کرنے کی جو عرضی داخل کی ہے اس کے پیچھے حکومت کی منشاء بالکل واضح ہے۔ حالانکہ مرکزی وزیر پرکاش جاویڈکر کا کہنا ہے کہ’’ ہم صرف غیر متنازع زمین رام جنم بھومی نیاس اور دیگر کو واپس کرنا چاہتے ہیں۔ یہ رام جنم بھومی نیاس کو ہی طے کرنا ہے کہ زمین واپس ملنے پر وہ اس پر کیاکرے گی۔ سرکار اس میں قطعی دخل نہیں دے گی اور وہ متنازع زمین کو ہاتھ بھی نہیں لگائے گی۔ ‘‘ پرکاش جاویڈکر کے اس بیان کی حقیقت سے ہم سب واقف ہیں۔ کیونکہ حکومت متنازع زمین کو ہاتھ نہ لگانے کا لاکھ دعویٰ کرے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں حکومت کی نیت شروع سے ہی خراب ہے، جو پارٹی اپنے انتخابی منشور میں ایک متنازع مقام پر رام مندر تعمیر کرنے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئی ہو، وہ آخر اس معاملے کو ہاتھ نہ لگانے کی بات کیسے کرسکتی ہے۔ ظاہر ہے یہ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے۔ حکومت نے سپریم کورٹ میں غیر متنازع زمین کو اصل مالکان کے حوالے کرنے کی جو عرضی داخل کی ہے وہ پوری طرح سیاسی مقاصد سے لبریز ہے۔ حکومت کی منشاء یہ ہے کہ اگر عدالت جوں کی توں صورت حال بنائے رکھنے کے اپنے حکم میں تبدیلی کرکے غیر متنازعہ زمین واپس کرنے پر رضامند ہوجاتی ہے تو پارلیمنٹ میں مندر کی تعمیر سے متعلق بل پیش کرنے یا اس سے متعلق کوئی دوسرا قانونی راستہ اپنانے کا متبادل بھی کھل جائے گا۔ حکومت اپنے اس اقدام سے اپنے فرقہ پرست ووٹروں کو یہی پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ نہ صرف رام مندر کے معاملے میں سنجیدہ ہے بلکہ اس نے اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے راستہ بھی تلاش کرلیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ غیر متنازع زمین رام جنم بھومی نیاس کو ملنے کی صورت میں وہاں مندر کی تعمیر شروع ہوسکتی ہے۔ ایسا ہونے کی صورت میں بی جے پی کو الیکشن میں براہ راست فائدہ ہوگا کیونکہ بعض حالیہ انتخابی سروے یہ ثابت کرتے ہیں کہ آئندہ لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی کو اکثریت حاصل نہیں ہورہی ہے۔ بی جے پی انتخابی میدان میں ہونے والے نقصان کا ازالہ رام مندر کے ذریعے کرنا چاہتی ہے۔ اس تازہ پہل کو سنگھ پریوار کا آشیرواد حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وشوہندوپریشد کی دھرم سنسد کے آخری دن آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہاہے کہ ’’مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے غیر متنازعہ زمین کو ان کے مالکان کو سونپے جانے کی اپیل کرکے صحیح سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ اس سے مندر کے گربھ گرہ میں جانے کا راستہ ہموار ہوسکے گا۔‘‘ مسٹر بھاگوت نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہاکہ’’ انتہائی پرشکوہندوراشٹر بھارت کو کھڑا کرنے کے لئے ایودھیا میں شاندار رام مندر کی تعمیر نہایت ضروری ہے۔‘‘وہیں سادھوؤں کے ایک دوسرے گروپ نے ایودھیا میں 21فروری کو رام مندر کے شیلانیاس کا اعلان کردیا ہے۔ 
غیر متنازع زمین اصل مالکان کو واپس کرنے کی جو عرضی مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل کی ہے، اس عرضی سے متعلق دو ہی امکانات ہیں۔ اول یہ کہ عدالت اس عرضی کو خارج کردے جیسا کہ وہ ماضی میں تین مرتبہ کرچکی ہے۔ لیکن اگر عدالت اسے سماعت کے لئے منظور کرتی ہے تو اس معاملے میں اسے مسلم فریقین کے دلائل بھی سننا پڑیں گے۔ سابق چیف جسٹس دیپک مشرا کے دور میں بھی اسماعیل فاروقی مقدمے میں دستوری بینچ کے فیصلے پر نظرثانی کے لئے بڑی بینچ کو بھیجنے پر کافی طویل سماعت ہوئی تھی۔ حکومت کی اس عرضی پر مقدمے کے فریق مسلم پرسنل لاء بورد کا کہنا ہے کہ حکومت کا منصوبہ مسجد کے پاس چور دروازے سے مندر کی تعمیر شروع کرانے کا ہے اور وہ اس کوشش کی ہر سطح پر مخالفت کرے گا۔ 

Ads