Jadid Khabar

ای وی ایم ہیکنگ کا سنسنی خیز دعویٰ

Thumb

چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ نے اُن لوگوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے جو ای وی ایم ہیکنگ کے حالیہ تنازعہ کے بعد دوبارہ بیلٹ پیپرس کے دور میں داخل ہونے کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ حالیہ تنازعہ کے پس منظر میں چیف الیکشن کمشنر نے واضح طورپر کہاہے کہ ہم بیلٹ پیپرس کے دور میں واپس نہیں جارہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ’’ ہم سیاسی پارٹیوں سمیت کسی بھی فریق کی نکتہ چینی اور فیڈ بیک کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن ہم ان سب سے ڈرنے یا پریشان ہونے والے نہیں ہیں۔‘‘ اس طرح ان سبھی لوگوں کو مایوسی ہاتھ لگی ہے جو ای وی ایم ہیکنگ کے سنسنی خیز دعوؤں کے بعد انتخابی نظا م میں کسی بڑی تبدیلی کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ اگر آپ غور سے دیکھیں تو ای وی ایم یعنی الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہمارے جمہوری نظام کی سب سے مظلوم کڑی ہے۔ جوکوئی چناؤ میں کامیابی حاصل کرتا ہے، وہ ای وی ایم کی تعریفوں کے پُل باندھنے لگتا ہے اور جس کسی کو شکست نصیب ہوتی ہے، وہ ای وی ایم میں ہزاروں کیڑے نکالنے لگتا ہے۔ اس معاملے میں کوئی بھی پارٹی دودھ کی دھلی ہوئی نہیں ہے۔ 2014کے عام انتخابات کو ای وی ایم ہیکنگ کے ذریعے جیتنے کے الزامات کا سامنا کرنے والی بی جے پی خود 2009 کے پارلیمانی انتخابات میں اپنی شکست کا ٹھیکرا ای وی ایم کے سرپر پھوڑ چکی ہے۔ اگر واقعی ای وی ایم کے پاس زبان ہوتی تو وہ اس سے اپنی مظلومیت کی ڈھیروں کہانیاں بیان کرتی۔ای وی ایم پر سب سے بڑا حملہ گزشتہ ہفتے لندن میں ہوا ہے، جہاں ایک ہیکر نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی نے 2014کا الیکشن ای وی ایم مشینوں کو ہیک کرکے جیتا تھا۔ 

امریکہ میں مقیم ایک خود ساختہ ہندوستانی سائبر ایکسپرٹ سید شجاع نے ای وی ایم ہیکنگ سے متعلق جو دعویٰ کیا ہے اس سے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ اس سلسلے کی ابتدائی خبریں اتنی سنسنی خیز اور اشتعال انگیز تھیں کہ کئی اخباروں نے ان کی اشاعت سے بھی گریز کیا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اگلے ہی روز الیکشن کمیشن نے دہلی پولیس کو سید شجاع کے خلاف افواہیں پھیلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا۔ پولیس نے معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔ اتنا ہی نہیں لندن میں اسکائپ کے ذریعے سید شجاع کی پریس کانفرنس کا اہتمام کرنے والی انڈین جرنلسٹ ایسوسی ایشن (یوروپ) نے بھی خود کو اس دعوے سے علیحدہ کرلیا۔ اس بحث سے قطع نظر کہ سید شجاع نے 2014کے چناؤ میں ای وی ایم کو بی جے پی کے حق میں ہیک کرنے کی جو بات کہی ہے وہ کتنی درست ہے ، یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ جب سے مرکز میں بی جے پی کی سرکار اقتدار میںا ٓئی ہے تب سے مسلسل یہ الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں کہ پارٹی نے یہ الیکشن ای وی ایم کی مدد سے جیتا تھا۔ حالانکہ اس بات کا دعویٰ کرنے والوں نے ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا ہے لیکن یہ بات مسلسل عوام کے درمیان مشتہر کی جاتی رہی ہے اور لوگوں کو اس پرشبہ بھی ہونے لگاتھا لیکن اب سید شجاع کے دعوؤں نے اس شبہ کو یقین میں بدلنا شروع کردیا ہے۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے سید شجاع نے اس سلسلے میں جو دعوے کئے ہیں، وہ بھی اتنے پختہ نہیں ہیں کہ ان پر آنکھ بند کرکے یقین کرلیا جائے ۔ لیکن سید شجاع نے ہیکنگ سے متعلق جن سلسلہ واقعات کا تذکرہ کیا ہے وہ اندیشوں اورشبہات کو ضرور جنم دیتے ہیں۔ 
شجاع نے لندن میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کہاکہ ای وی ایم ہیک کی جاسکتی ہے اور ہندوستان میں 2014کے عام انتخابات کے دوران ای وی ایم ہیک کرکے دھاندلی کی گئی تھی۔ آپ کو یادہوگا کہ 2014کے عام انتخابات میں بی جے پی کی ہوش ربا کامیابی نے سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔ بی جے پی نے لوک سبھا کی 543سیٹوں میں سے 282 سیٹیں جیت کر اپنی کامیابی کا نیاریکارڈ قائم کیا تھا۔ شجاع کا کہنا ہے کہ وہ 2014 میں اپنی جان پر منڈلارہے خطروں کے پیش نظر ہندوستان سے بھاگ کر امریکہ آگیا تھا۔ شجاع نے یہ بھی بتایا کہ’’ ان کی ٹیم کے کچھ ممبران کو قتل کردیاگیا تھا اور ان پر بھی حیدرآباد میں گولی چلائی گئی تھی۔ شجاع نے کہاکہ ریلائنس جیو نے فریکونسی سگنل کم کرکے بی جے پی کو ای وی ایم ہیک کرنے میں مدد کی تھی۔ بی جے پی، راجستھان ، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں بھی چناؤ جیتنے کے لئے ای وی ایم ہیک کرنے کی کوشش کررہی تھی لیکن ہماری سائبر ایکسپرٹ ٹیم نے ہیکنگ روک دی۔‘‘ شجاع کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی ایسے ماڈیولرکے ذریعے ای وی ایم ہیک کررہی تھی جو ملٹری گریڈ فریکونسی کوٹرانسمٹ کرتا ہے۔ سید شجاع کے دعوے کا دوسرا سنسنی خیز حصہ وہ ہے جس میں انہوں نے بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر گوپی ناتھ منڈے کو قتل کئے جانے کی بات کہی ہے۔ واضح رہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے ایک ہفتے بعد ہی منڈے دہلی میں ایک سڑک حادثہ کا شکار ہوگئے تھے۔ سید شجاع کا دعویٰ ہے کہ منڈے کو اس لئے ہلاک کیاگیا کیونکہ ان کے پاس ہیکنگ کی جانکاری موجود تھی۔ اتنا ہی نہیں شجاع نے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ ’’منڈے کی موت کی جانچ کررہے این آئی اے افسر تنزیل احمد کو بھی اسی لئے قتل کیاگیا کہ وہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے والے تھے۔‘‘ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ تنزیل احمد کو ان کے آبائی وطن بجنور میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے دوران پراسرار حالات میں قتل کردیاگیا تھا۔ اتنا ہی نہیں شجاع نے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ ’’بنگلور کی خاتون صحافی گوری لنکیش کو بھی اسی لئے بہیمانہ طورپر قتل کیاگیا کیونکہ وہ ای وی ایم ہیکنگ کی صداقت تک پہنچ گئی تھیں اور وہ عنقریب اس پر قلم اٹھانے والی تھیں۔ ‘‘
بی جے پی نے اس سنسنی خیزی کے لئے کانگریس کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے اور اس کے ثبوت میں یہ کہاہے کہ کانگریس لیڈر کپل سبل لندن کی پریس کانفرنس کے دوران وہاں موجود تھے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سید شجاع نے ای وی ایم ہیکنگ کے معاملے میں بی جے پی کے ساتھ کانگریس، سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ کپل سبل کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی حیثیت سے لندن گئے تھے اور ان کا اس پریس کانفرنس سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن اور سیاسی پارٹیوں کو مدعو کیاگیا تھا لیکن اس میں صرف کپل سبل ہی شریک ہوئے۔ سید شجاع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ای وی ایم بنانے والی سرکاری کمپنی ای سی آئی ایل میں 2009 سے 2014 تک کام کیا اور ای سی آئی ایل نے ان کی ٹیم کو ای وی ایم ہیکنگ کے شبہ کی جانچ کرنے کا ذمہ سونپا تھا۔ لیکن ای سی آئی ایل نے کہاہے کہ شجاع نے ان کی کمپنی میں کام نہیں کیا اور ان کا دعویٰ غلط ہے۔ ادھر الیکشن کمیشن اپنے اس دعوے پر قائم ہے کہ ہندوستان میں ای وی ایم کو ہیک نہیں کیاجاسکتا چونکہ ای سی آئی ایل نے بڑی نگہداشت کے ساتھ ای وی ایم بنائی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن کے تمام تر دعوؤں کے باوجود مختلف اوقات میں ای وی ایم میں گڑبڑ کی شکایتیں موصول ہوتی رہی ہیں۔ بعض مقامات پر ایسی ای وی ایم مشینیں بھی پکڑی گئی ہیں جن میں کوئی بھی بٹن دبانے پر ووٹ ایک مخصوص پارٹی کے کھاتے میں جاتا ہوا نظر آیا ہے۔ ان ہی بنیادوں پر الیکشن میں ای وی ایم کا استعمال روک کر دوبارہ بیلٹ پیپر استعمال کرنے کی وکالت کی جاتی رہی ہے۔ ہر الیکشن میں ای وی ایم کی کارکردگی پر سوال کھڑے ہوئے ہیں لیکن حکمراں جماعت نے ہمیشہ ای وی ایم کے دفاع میں کھڑا ہونا پسند کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ’’ ای وی ایم کو فول پروف بنائے جانے کی ضرورت ہے جو ملک پہلے اس کا استعمال کرتے تھے، انہوں نے بھی اسے ترک کردیا ہے۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ہندوستان سمیت صرف تین چار ممالک ہی ای وی ایم استعمال کررہے ہیں۔ باقی تمام جگہوںپر بیلٹ پیپر ہی استعمال ہورہا ہے۔ سید شجاع کے دعوے کاتیسرا سنسنی خیز حصہ وہ ہے جس میں انہوں نے کہاہے کہ ہندوستان میں ان کی ٹیم کے 11ممبران کو کشن باغ حیدرآباد کے فسادات میں قتل کیاگیا اور وہ خود زخمی حالت میں امریکہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔لیکن حیدرآباد کی سائبرآباد پولیس کے افسران نے کشن باغ کے فساد میں ان ہلاکتوں سے انکار کرتے ہوئے کہاہے کہ 14مئی 2014 کو پولیس فائرنگ میں صرف تین لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ بی جے پی نے سید شجاع کے تمام دعوؤں کو بکواس قرار دیتے ہوئے اسے کانگریس کی خرافات سے تعبیر کیا ہے۔ بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی الیکشن ہارنے کے ڈر سے یہ خرافات کروارہے ہیں جبکہ کانگریسی لیڈر کپل سبل کا کہنا ہے کہ سید شجاع نام کے اس ہیکر کے مبینہ دعوؤں کی تحقیقات ہونی چاہئے کیونکہ یہ معاملہ جمہوریت کی معتبریت سے تعلق رکھتا ہے۔ 

Ads