Jadid Khabar

منتخب حکومتوں کو گرانے کا کھیل

Thumb

کہاجاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔ لیکن یہ کہاوت اب سیاست پر زیادہ صادق آنے لگی ہے، جہاں اقتدار کی خاطر سیاسی پارٹیاں ہر جائز وناجائز راستہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کررہی ہیں۔ کرناٹک کے حالیہ سیاسی بحران نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہمارے سیاست دانوں میں اخلاقیات اور کردار نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی ہے۔ یوں تو اس حمام میں سبھی پارٹیاں ایک جیسی نظر آتی ہیں لیکن حکمراں بی جے پی کے اندر پورے ملک پر اپنا پرچم لہرانے کی جو ہوس پائی جاتی ہے، اس میں کوئی دوسرا اس کی ہمسری نہیں کرسکتا۔ حالانکہ گزشتہ پانچ اسمبلیوں کے انتخابات میں ہندی بیلٹ کی تین ریاستوں میں اپنا اقتدار گنوانے کے بعد بی جے پی کو زبردست جھٹکا لگاہے اور آسام میں اس کی پہلی سرکار ہچکولے کھارہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ کرناٹک میں کانگریس اور جنتادل ایس کی مخلوط سرکار کو زمیں بوس کرنے کی چالیں چل رہی ہے۔ آپ کو یادہوگا کہ سات ماہ قبل کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی لیکن وہ اکثریت کے جادوئی ہندسے تک نہیں پہنچ پائی تھی۔ کانگریس نے بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے جنتادل سیکولر کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرکے بی جے پی کی بازی پلٹ دی اور وہاں ایک مخلوط سرکار وجود میں آگئی۔ کرناٹک میں اقتدار کے بہت قریب پہنچ جانے کے بعد اس سے محرومی کا غم بی جے پی کو مسلسل پریشان کررہا ہے اور وہ اس بات کے لئے مسلسل کوشاں ہے کہ کسی طرح کانگریسی ممبران اسمبلی کو توڑکر وہ اقتدار پر قبضہ کرلے۔ اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے بی جے پی نے کرناٹک میں ’آپریشن لوٹس‘ شروع کیا تھا جس کا مقصد کانگریس کے ممبران اسمبلی کی حمایت سے کرناٹک میں حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرنا تھا۔ ایک حکمت عملی کے تحت بی جے پی نے اپنے تمام ممبران اسمبلی کو ہریانہ کے ایک محفوظ مقام پر منتقل کرکے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ اس کے ممبران پر ڈورے ڈالے جارہے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ کام خود بی جے پی انجام دے رہی تھی۔ اس دوران کانگریس کے منحرف ممبران نے اپنی رکنیت ختم ہونے کے خوف سے ’گھر واپسی‘ کو ہی ترجیح دی اور اس طرح خود اپوزیشن لیڈر یدی یورپا نے ’آپریشن لوٹس‘کی ناکامی کا اعتراف کرلیا۔ فی الحال کرناٹک کی کمارا سوامی سرکار کو راحت ضرور مل گئی ہے لیکن اب بھی کرناٹک کے چار’ گمشدہ‘ممبران اسمبلی مخلوط حکومت کے لئے ایک درد سر بنے ہوئے ہیں۔ بی جے پی اس حقیقت کو اچھی طرح جانتی ہے کہ کمارا سوامی حکومت کو گرانے کے لئے اسے کم سے کم 18ممبران اسمبلی توڑنے ہوں گے جوکہ ایک خاصا مشکل کام ہے۔ لیکن بی جے پی نے ابھی ہمت نہیں ہاری ہے اور وہ عام انتخابات سے قبل کرناٹک کی مخلوط حکومت کو کمزور کرکے لوک سبھا انتخابات میں اپنی کامیابی کے امکانات روشن کرنا چاہتی ہے۔ 

کرناٹک میں جوڑ توڑ کی سیاست میں اس وقت مزید تلخی پیدا ہوئی جب اس کے چانکیہ بی جے پی صدر امت شاہ کو سوائن فلو کی بیماری کے سبب نئی دہلی کے ایمس اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ امت شاہ کی بیماری کو کرناٹک کی سیاسی اتھل پتھل سے جوڑ کر طنز کرتے ہوئے کانگریسی لیڈر بی کے ہری پرساد نے اسے ’خنزیر کا زکام ‘قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر امت شاہ کرناٹک میں کانگریس اور جنتادل (ایس) کی مخلوط حکومت کوکمزور کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے تو انہیں اور زیادہ خطرناک بیماریوں سے لڑنا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ نقلی چانکیہ نے کرناٹک میں تین مرتبہ کوشش کی اور ناکامی سے دوچار ہوئے۔ چار کانگریسی ممبران اسمبلی کو اغوا کروایا اور ان کے اہل خانہ اب عدالت میں مقدمہ دائر کریں گے۔ اسی لئے امت شاہ اب سوائن فلو سے متاثر ہیں۔ ‘‘ بی کے ہری پرساد کے اس بیان کی بی جے پی نے سخت مذمت کرتے ہوئے ان سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کسی کی بیماری پر طنز کرنا اچھی علامت نہیں سمجھی جاتی کیونکہ بیماری اور آزاری کسی کو بھی اپنی گرفت میں لے سکتی ہے اور کوئی بھی اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ ایسے میں اس قسم کے تبصروں سے گریز کیاجانا ضروری ہے۔ لیکن بی جے پی نے خود سیاست کے میدان میں اخلاقی قدروں کی پامالی کا جو ریکارڈ قائم کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اقتدار پر قبضہ کرنے اور اسے ہر صورت حاصل کرنے کی اس کی یہ کوششیں نئی نہیں ہیں۔ جب سے مرکز میں بی جے پی کی سرکار قائم ہوئی ہے تب سے ملک کے کئی صوبوں میں بی جے پی نے اپنی اکثریت نہ ہونے کے باوجود زبردستی اقتدار ہتھیا یا ہے اور اس کے لئے تمام حربے اختیار کئے ہیں۔ میزورم ، ناگالینڈ اور گواجیسی ریاستوں میں اکثریت سے کافی دور ہونے کے باوجود اس نے وہاں محض جوڑ توڑ اور خریدوفروخت کے بل پر اپنی سرکاریں قائم کی ہیں۔ گوا میں منوہر پاریکر کی شدید بیماری کے باوجود انہیں وزیراعلیٰ کی کرسی سے اسی لئے نہیں ہٹایاجارہا ہے کہ ان کے ہٹتے ہی بی جے پی اقتدار سے محروم ہوجائے گی اور کانگریس جو آج بھی گوا میں سب سے بڑی پارٹی ہے دوبارہ اقتدار میں آجائے گی۔ کرناٹک کے حالیہ واقعات میں بی جے پی نے یہ سوچ کر قدم پیچھے کئے ہیں کہ لوک سبھا انتخابات تک وہ صبر سے کام لے گی اور اگر انتخابی نتائج اس کے حق میں برآمد ہوئے تو وہ کرناٹک کے ساتھ ساتھ مدھیہ پردیش میں بھی دوبارہ ’کنول‘ کھلانے کی کوشش کرے گی۔ یعنی اقتدار کے حصول کا کھیل ہر قیمت پر جاری رہے گا۔ 
بی جے پی ایک طرف تو کرناٹک اور مدھیہ پردیش کی سرکاروں کو زمیں بوس کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اپوزیشن کے اقتدار والی ریاستوں میں نئے نئے جال پھیلارہی ہے لیکن اس کی نظر خود اپنے اقتدار والی ریاست آسام پر قطعی نہیں ہے جہاں شہریت ترمیمی بل کی مخالفت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ اس کی سرکار آسام میں ہچکولے کھارہی ہے۔ شمال مشرق میں آسام پہلی ریاست تھی جہاں بڑے فخر کے ساتھ بی جے پی نے اقتدار کا پرچم لہرایا تھا۔ لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ آسام میں اس کی حکومت خطرے میں پڑگئی ہے۔ آسام میں شہریت ترمیمی بل کے خلاف تحریک اپنے عروج پر ہے۔ ایک طرف جہاں آسامی باشندے سڑکوں پر ہیں تو وہیں دوسری طرف سروانند سونووال کی قیادت والی بی جے پی سرکار پر خطرے کے بادل منڈلارہے ہیں۔ اس بل کی مخالفت میں آسام میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے والی آسام گن پریشد (اے جی پی) تو علیحدہ ہوہی گئی ہے۔ بوڈو پیپلز فرنٹ (بی پی ایف) کی بھی حمایت واپسی کی خبر گرم ہے۔ شہریت ترمیمی بل لانے کے مودی حکومت کے فیصلے کے خلاف جہاں آسام کی غیرت کے نام پر ساری پارٹیاں یکجا ہوکر بی جے پی سرکار میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کررہی ہیں، وہیں دوسری طرف آسامی ہندو بنام بنگالی ہندو کے جذبات بھی مشتعل ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ واضح رہے کہ آسام کی 126رکنی اسمبلی میں فی الحال بی جے پی کے پاس 61سیٹیں ہیں جبکہ سرکار بنانے کے لئے جادوئی ہندسہ 64 کا ہے۔ 12ممبران اسمبلی والی بی پی ایف نے اسے حمایت دی ہے۔ ایسے میں اگر بی پی ایف اپنا ہاتھ کھینچ لیتی ہے تو وہاں بی جے پی سرکار بحران کا شکار ہوجائے گی۔ دوسری طرف آسامی غیرت کے نام پر کانگریس سمیت کئی پارٹیاں بی جے پی کے ایک گروپ کو توڑنے کی بات بھی کررہی ہیں۔ آسام میں بی جے پی کے لئے ایک بڑا بحران یہ بھی ہے کہ اس کے 61ممبران اسمبلی میں کم ازکم 40 ایسے ہیں جن کا سیاسی پس منظر بی جے پی کا نہیں ہے۔ وہ دوسری پارٹیوں سے بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ ایسی صورت میں بیرونی لوگ بی جے پی کے نظریات سے کہاں تک اور کتنے عرصے تک بندھے رہ سکتے ہیں۔ یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔ یہاں تک کہ صوبے کے وزیراعلیٰ سونوال خود اے جی پی سے نکل کر بی جے پی میں آئے ہیں۔ اس دوران ہماچل پردیش کے سابق وزیراعلیٰ گیگونگ اپانگ نے بی جے پی کی بنیادی ممبر شپ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اپانگ نے کہا ہے کہ’’ مجھے یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ موجودہ بی جے پی باجپائی کے اصولوں سے بھٹک گئی ہے۔ پارٹی اب صرف اقتدار احاصل کرنے کا پلیٹ فارم بن گئی ہے۔ بی جے پی کی قیادت اقتدار کی تقسیم اور جمہوری عمل کے ذریعے فیصلہ لینے میں یقین نہیں رکھتی۔ ‘‘ 

Ads