Jadid Khabar

ہندوراشٹر کی جانب پہلا قدم

Thumb

مودی سرکار نے گزشتہ ہفتہ لوک سبھا میں ایک ایسا خطرناک بل پاس کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے جس کی ضرب براہ راست ہندوستان کے سیکولر آئین پر پڑتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس انتہائی خطرناک اور مسلم دشمن قانون کی مخالفت میں لوک سبھا کے اندراپوزیشن نے کوئی مؤثر آواز بلند نہیں کی۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو شہریت ترمیمی بل 2016ہندوستان کے سیکولر جمہوری آئین میں مذہبی تفریق کو باقاعدہ قانونی شکل دینے کے لئے لایاگیا ہے۔ یعنی بی جے پی نے اپنی مسلم دشمن سوچ کو سیکولر دستور کا حصہ بنانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی حکومت نے سیکولر جمہوری آئین کی وفاداری کا حلف اٹھاکر اس کی بنیاد پر ہی حملہ کردیا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پڑوسی ملکوں پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ترک وطن کرکے ہندوستان آنے والے غیر مسلم شہریوں کو غیر مشروط ہندوستانی شہریت عطا کی جائے گی لیکن یہ سہولت ان ملکوں سے آنے والے مسلمانوں کو حاصل نہیں ہوگی۔ مودی سرکار کا کہنا ہے کہ مذکورہ مسلم ملکوں میں غیر مسلموں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے لہٰذا ان کے لئے ہندوستان کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں۔ اس فیصلے کا سب سے خراب اثر آسام اور دیگر شمال مشرقی صوبوں میں مقیم مسلمان تارکین وطن پرپڑے گا جن کے سروں پر پہلے ہی این آرسی کی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ اس بل کے ذریعے حکومت نے مسلمان تارکین وطن کو ہندوستان کی شہریت دینے سے انکار کردیا ہے اور غیر مسلموں کو اس بنیاد پر گلے لگایاگیا ہے کہ ہندوستان ان کا فطری وطن ہے۔ یہ فیصلہ  ہندوستان کو اسرائیل جیسے نسل پرست ملک کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے ، جہاں کی شہریت حاصل کرنے کے لئے یہودی ہونا بنیادی شرط ہے۔ 

 بی جے پی سرکار نے لوک سبھا میں اپنی اکثریت کے بل پر سٹی زن شپ ترمیمی بل 2016کو پاس کرکے اپنی مسلم دشمنی کا کھلا مظاہرہ کیا ہے۔ اس بل کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہندوؤں، سکھوں ، پارسیوں اور عیسائیوں کا تو ذکر کیاگیا ہے لیکن مسلمانوں کو جان بوجھ کر اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ یہ دراصل ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔ کیونکہ ابھی تک ہندوستان کے دستور میں کوئی بھی ایسی شق موجود نہیں ہے جس میں مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنے کا کام کیاگیا ہو۔ ہندوستان کا آئین بلاتفریق مذہب وملت اور رنگ ونسل سبھی کے ساتھ انصاف کرنے کی بات کرتا ہے۔ لیکن بی جے پی کی ڈکشنری میں چونکہ مسلمان اس ملک کے وفادار شہری نہیں ہیں لہٰذا اگر پڑوسی ملکوں سے یہاں آکر بسنے والا کوئی مسلمان ہندوستانی شہریت طلب کرتا ہے تو قانونی طورپر وہ اس کا اہل نہیں ہوگا جبکہ اس کے برعکس اگر کوئی غیر مسلم صرف 6سال ہندوستان میں گزارے گا تو وہ کسی دستاویز کے بغیر ہندوستان کا شہری تسلیم کرلیاجائے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس بل کے خلاف ابھی تک مسلمانوں نے تو کوئی محاذ نہیں کھولا ہے لیکن خود شمال مشرقی ریاستوں میں اس قانون کے خلاف زبردست تحریک شروع ہوگئی ہے۔ سب سے زیادہ ہنگامہ آرائی بی جے پی کے اقتداروالی ریاست آسام میں ہورہی ہے جہاں پہلے سے ہی 40لاکھ لوگوں کے سروں پر شہریت کی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے سے قبل طلباء کی سب سے بڑی تنظیم آسو (آل آسام اسٹوڈنٹس یونین) نے پورے آسام میں اس بل کی کاپیاں جلائیں اور آسام بند بھی رکھا۔ این ڈی اے کی حلیف جماعت آسام گن پریشد نے اس بل کے خلاف صوبے کی بی جے پی حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی ہے۔ ہم آپ کو یاددلادیں کہ 1985میں آنجہانی وزیراعظم راجیوگاندھی کی قیادت والی مرکزی حکومت اور آسام تحریک کے لیڈروں کے درمیان یہ سمجھوتہ ہوا تھا کہ 1971 کے بعد آسام میں ناجائز طور سے داخل ہونے والے بنگلہ دیشیوں کی پہچان کرکے انہیں صوبے سے بے دخل کیاجائے گا۔ لیکن مودی سرکار نے لوک سبھا میں جو بل پاس کرایا ہے اس کے تحت 1971 کے بنیادی سال کو آگے بڑھا کر 2014 کردیاگیا ہے۔ اتنا ہی نہیں اس بل میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آئے ہوئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی پناہ گزینوں کو 11سال کی بجائے 6سال ہی ہندوستان میں گزارنے پر ہندوستان کی شہریت مل جائے گی۔ 
قابل ذکر بات یہ ہے کہ شہریت (ترمیمی) بل 2016 میں ہندوستان کو سبھی ہندوؤں کے لئے مادروطن تسلیم کیاگیا ہے۔جوکہ یقینی طورپر ہمارے دستور کی سیکولر روح کے خلاف ہے۔ کیونکہ ہندوستان کا موجودہ شہری قانون ہندوستانی شہریت چاہنے والوں میں مذہب کی بنیاد پر کسی کو علیحدہ سے کوئی رعایت نہیں دیتا۔ ہمارا جمہوری نظام سیکولر بنیادوں پر استوار کیاگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے لوک سبھا میں ایم آئی ایم کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہاکہ’’ یہ قانون ہندوستان کو اسرائیل کی صف میں لاکھڑا کرتا ہے ، جہاں نسل پرستی اور مذہب کی بنیاد پر شہریت عطا کی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح طورپر کہاکہ اس بل سے مسلم دشمنی کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکمراں جماعت اپنی آئیڈیا لوجی کو ساتھ رکھتے ہوئے کم ازکم دستور کا پاس ولحاظ تو رکھتی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بل کو تیار کرنے والے آج بھی دوقومی نظریے کے قائل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ نریندرمودی نے ہندوستان کو نسلی عصبیت پرست حکومت اسرائیل کے برابر لاکرکھڑا کردیا ہے۔ یہ بل دستور کے بنیادی ڈھانچے اور سیکولرزم کے خلاف ہے۔‘‘ 
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ مودی سرکا رنے یہ بل اپنے ہندو راشٹر کے ایجنڈے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے تیار کیا ہے۔ یہ سیکولر جمہوری ہندوستان کا ایسا پہلا قانون ہوگا جس کے دائرے سے مسلمانوں کو جان بوجھ کر باہر رکھاگیا ہے اور ہندوؤں کو اس ملک کا اصلی شہری تسلیم کرتے ہوئے انہیں فوقیت دی گئی ہے۔ ہمارے آئین سازوں نے بڑی جفا کشی کے بعد ملک کے لئے ایک سیکولر دستور تشکیل دیا تھا جس میں کسی بھی شہری کے ساتھ مذہب، ذات پات یا رنگ ونسل کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں برتی گئی ہے۔ دستور کی نگاہ میں ہر شہری خواہ وہ کسی بھی مذہب یا عقیدے سے تعلق رکھتا ہومساویانہ حقوق کامستحق ہے۔ بی جے پی سرکار نے پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھاکر دستور کی بنیادی روح سے کھلواڑ کرنے کی جو کوشش کی ہے، وہ انتہائی خطرناک اور قابل مذمت ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس بل کے خلاف شہریت قانون میں ترمیم کی تحریک چلانے والوں نے ہی محاذ کھول دیا ہے۔ سب سے زیادہ مخالفت آسام میں ہورہی ہے۔ مظاہرین برہنہ ہوکر اس بل کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ خود بی جے پی کے اقتداروالی اس ریاست میں اسمبلی اسپیکر ہتندر ناتھ گوسوامی نے ایک شہری کی حیثیت سے اس بل پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ بی جے پی ممبراسمبلی گوسوامی کا کہنا ہے کہ’’ اس بل کے خلاف مہم نے خود انہیں ذاتی طورپر متاثر کیاہے۔‘‘ وہیں کرشک مکتی سنگرام سمیتی اور اس کی 70 معاون تنظیموں نے طے کیا ہے کہ جب تک اس بل کو رد نہیں کیاجاتا تب تک وہ وزیراعظم اور مرکزی وزیروں کو آسام میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ 1985 کے معاہدے کے تحت ان تمام لوگوں کو آسام سے نکالا جائے جو 1971 کے بعد یہاں آئے ہیں، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا زبان سے تعلق رکھتے ہوں۔ 1980کی دہائی میں آل آسام اسٹوڈنٹس یونین (آسو) کی قیادت میں طلباء کی تحریک نے اس موضوع کو وسیع پیمانے پر اٹھایا تھا۔ 1985 کے سمجھوتے کے 20سال بعد آخر کار 2005 میں مرکزی و صوبائی حکومت اور آسو کے درمیان اس موضوع پر مفاہمت ہوئی اور عدالت کی مداخلت سے اس کی ایک عملی شکل سامنے آئی۔ اس کے تحت 1971 کے بعد آنے والے سبھی پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ لیکن موجودہ مرکزی حکومت کی دلچسپی صرف اور صرف مسلم پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے میں ہے۔ باقی لوگوں کو وہ اپنا ووٹ بینک سمجھ کر ہندوستان میں ہی بسائے رکھنا چاہتی ہے۔ شہریت قانون میں یہ ترمیم اسی مقصد کے تحت کی گئی ہے۔ ظاہر ہے شہریت کے سوال کو مذہبی رنگ دینے سے ملک میں ایک بڑا بحرن پیدا ہوسکتا ہے۔ بی جے پی شروع سے ہی اس معاملے کو ہندو اور مسلمان کے چشمے سے دیکھتی رہی ہے۔ وہ بنگلہ دیش سے آنے والے ہندوؤں کو پناہ گزین اور مسلمانوں کو درانداز قرار دیتی رہی ہے۔ جبکہ آسو ، آسام گن پریشد اور دیگر تنظیموں کا کہنا ہے کہ 1985 کے معاہدے کے تحت ان تمام لوگوں کو آسام سے نکالا جائے جو 1971 کے بعد وہاں آکر بس گئے ہیں، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا زبان سے تعلق رکھتے ہوں۔ 

Ads