Jadid Khabar

ایودھیا تنازع اور سپریم کورٹ

Thumb

سپریم کورٹ میں ایودھیا تنازع پر سماعت ملتوی ہونے کے بعد سنگھ پریوار کے خیموں میں ایک بار پھر مایوسی چھا گئی ہے۔ حالانکہ عدالت نے یہ سماعت آئندہ 10جنوری تک ہی مؤخر کی ہے لیکن اس معاملے میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کے لیڈروں کے بیانات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں عدالتی عمل پر کوئی یقین ہی نہیں ہے اور وہ عدالت سے صرف وہی سننا چاہتے ہیں جو انہیں پسند آتا ہے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ جمعہ کو محض ایک منٹ تک چلی کارروائی کے دوران اتنا ہی کہا کہ اب اس معاملے کی سماعت آئندہ 10جنوری کو نئی ڈویژن بینچ کرے گی۔ عدالت کے اس رخ کو ٹال مٹول والا رویہ قرار دیتے ہوئے وشوہندو پریشد اور بی جے پی کے لیڈران نے سخت اعتراض درج کرایا اور کہاکہ ایودھیا تنازع کو حل کرنا سپریم کورٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ یہاں تک کہ مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے ٹوئٹر پر یہ بھی لکھ دیا کہ ’’ایک بابر کی آمد سے 100کروڑ ہندوؤں کو ہندوستان میں رام مندر کے لئے دربدر بھٹکنا پڑرہا ہے۔ رام مندر تو چھوڑیئے ملک میں رام کا نام لینا بھی مشکل ہوجائے گا۔ ‘‘ اس معاملے میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کے لیڈران جو بیانات دے رہے ہیں، اس سے نہ صرف یہ کہ ان کی مایوسی ظاہر ہوتی ہے بلکہ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ ملک کے عدالتی نظام پر تنقید کے معاملے میں کس حد تک جاسکتے ہیں۔ عدالتی عمل سے مایوسی کا ہی اظہار ہے کہ یہ لوگ حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ سے قانون بناکر رام مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار کرے۔ بی جے پی لیڈران عدالت میں ہورہی تاخیر کے لئے یہ کہہ کر کانگریس کو بھی موردِ الزام قرار دے رہے ہیں کہ اس کے وکیل عدالت میں حاضر ہوکر اس معاملے میں رخنہ اندازی کررہے ہیں اور کانگریس ہی اس مسئلے کو حل کرنے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ ایودھیا تنازع ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے اور یہ برسہا برس سے عدالت میں ہے۔ مخالف فریق نے اس مسئلے کو الجھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ کوئی ایسی قانونی موشگافی باقی نہیں ہے جو اس تنازع کو الجھانے میں بروئے کار نہ لائی گئی ہو۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت بھی اس بات کو بخوبی سمجھتی ہے کہ اس تنازع سے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی وابستہ ہے۔ ماضی میں اس تنازع کی وجہ سے کافی خون خرابہ بھی ہوچکا ہے۔ اس لئے عدالت اس معاملے میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے۔ 

ایودھیا تنازع پر سنگھ پریوار کی حالیہ گھبراہٹ اور عجلت پسندی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ اس معاملے کو عام انتخابات سے قبل اپنے حق میں فیصل کرانا چاہتا ہے۔ مرکزی حکومت کا بھی یہی موقف ہے لیکن وہ فی الحال اپنی دستوری بندشوں کی وجہ سے وشوہندو پریشد اور آر ایس ایس کی ہاں میں ہاں نہیں ملا پا رہی ہے لیکن دل سے وہ بھی یہی چاہتی ہے کہ عدالتی فیصلے یا باہمی مذاکرات کے ذریعے رام مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار ہوجائے اور وہ اس کا کریڈٹ لے کر عام انتخابات میں خم ٹھونک کر میدان میں اترسکے۔ لیکن یہ معاملہ اتنا آسان ہرگز نہیں ہے جتنا کہ حکومت اور سنگھ پریوار کو نظر آرہا ہے۔ سنگھ پریوار کے لوگوں نے عوام الناس میں یہ بالکل غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ ملک کا ہر شہری رام مندر کی تعمیر کا طرف دار ہے اور وہ جلد سے جلد ایودھیا میں ایک عالیشان مندر تعمیر ہونے کے خواب دیکھ رہا ہے ۔ حالانکہ اس سلسلے میں نہ تو ابھی تک کوئی سروے کرایا گیا ہے اور نہ ہی عوامی رجحان سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ خود ہندوؤں کی اکثریت رام مندر کو ایک سیاسی موضوع سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔ کیونکہ جب بھی الیکشن قریب آتا ہے تو سنگھ پریوار کی تنظیمیں رام مندر کا راگ الاپنے لگتی ہیں۔ ظاہر ہے وہ یہ کام محض اپنے فرقہ پرست ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کے لئے کرتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب عام ہندوؤں کی سمجھ میں بھی یہ بات آگئی ہے کہ بی جے پی کے لئے رام مندر کا موضوع ایک سیاسی ہتھکنڈہ ہے اور وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ 
سپریم کورٹ میں ایودھیا کا تنازع حق ملکیت کے مقدمے کے طورپر زیر سماعت ہے۔ عدالت کو ایودھیا کی پونے تین ایکڑ زمین کے بارے میں یہ طے کرنا ہے کہ وہ صحیح معنوں میں کس کی ملکیت ہے ۔ اس معاملے میں عدالت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ وہ اس تنازع کو کسی کی آستھا یا عقیدے کی بنیاد پر فیصل نہیں کرے گی بلکہ وہ ٹھوس ثبوتوں اور شہادتوں کی بنیاد پر حق ملکیت کا فیصلہ صادر کرے گی۔ جب سے عدالت نے واضح انداز میں یہ بات کہی ہے تبھی سے سنگھ پریوار کے خیموں میں گھبراہٹ پھیلی ہوئی ہے کیونکہ سنگھ پریوار کے لوگ عدالت پر یہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ اس مقدمے کو آستھا کی بنیاد پر طے کرے۔لیکن عدالتوں کا کام چونکہ ثبوتوں اور شہادتوں کی روشنی میں انصاف قائم کرنا ہوتا ہے لہٰذا ایسے میں وہ کسی کی آستھا یا عقیدے کو خاطر میں کیوں لائیں۔ عدالت کے اس رخ نے سنگھ پریوار کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس مسئلے کو بے ضمیر اور زرخرید مسلمانوں کو گفتگو کی میز پر بٹھا کر یکطرفہ طورپر حل کرنا چاہتی ہیں اور اگر ایسا ممکن نہ ہوتو پھر پارلیمنٹ سے قانون بنواکر اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہوتو پھر آرڈیننس جاری کرواکے وہ رام مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار کرنا چاہتی ہیں۔ آج کل رام مندر پر آرڈیننس جاری کرنے کے مطالبات بڑے زوروشور سے کئے جارہے ہیں۔ حال ہی میں وزیراعظم نریندرمودی سے بھی ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران اس بارے میں ایک سوال پوچھا گیا تھا۔ انہوں نے اس سوال کا جواب یہ دیا کہ’’ اس معاملے میں عدالتی عمل پورا ہونے کے بعد ہی آرڈیننس لانے کے بارے میں فیصلہ کیاجائے گا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہاکہ’’ عدالتی کارروائی کو اپنا راستہ طے کرنے دیجئے۔ سیاسی نقطہ نظر سے اس پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہئے ، عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ایک حکومت کے طورپر جو بھی ہماری ذمہ داری ہوگی ہم اسے پورا کرنے کے لئے تمام کوششیں کریں گے۔‘‘ 
آپ کو یادہوگا کہ وزیراعظم نریندرمودی نے اپنے ساڑھے چار سال کے دوراقتدار میں پہلی بار کوئی انٹرویو دیا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ طویل اس انٹرویو کے جس حصے کو میڈیا نے سب سے زیادہ نمایاں کیا ہے، وہ رام مندر سے متعلق آرڈیننس پر ان کا جواب ہے۔ تمام ٹی وی چینلوں او راگلے روز کے اخبارات نے بھی آرڈیننس والے حصے کو ہی شہ سرخی بنایا۔ ایسا اس لئے بھی ہوا کہ ایودھیا تنازع کے تعلق سے وزیراعظم کا یہ پہلا بیان تھا۔ حالانکہ وہ اس سے قبل گزشتہ ماہ اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران یہ کہہ چکے تھے کہ’’ ایودھیا تنازع پر عدالتی عمل میں کانگریس کے وکیل رخنہ اندازی کررہے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ یہ معاملہ جلد فیصل ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہاتھا کہ کانگریس کے وکیلوں کی رخنہ اندازی کی وجہ سے ہی معاملہ عدالت میں طول پکڑ رہا ہے۔‘‘ جب کہ واقعاتی طورپر یہ بات غلط تھی چونکہ نہ تو کانگریس اس تنازع میں فریق ہے اور نہ ہی اس کی طرف سے کوئی وکیل پیش ہوا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ اس تنازع کو پیدا کرنے اور اسے الجھانے میں کانگریس پارٹی کا رول بھی کچھ کم نہیں ہے۔ آپ کو یادہوگا کہ گزشتہ برس سپریم کورٹ میں ایودھیا تنازع کی سماعت کے دوران سینئر وکیل اور کانگریسی لیڈر کپل سبل سنی سینٹرل وقف بورڈ کے وکیل کے طورپر عدالت میں پیش ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے مؤکل کی طرف سے یہ کہاتھا کہ اس معاملے کی سماعت عام انتخابات تک کے لئے مؤخر کردی جائے کیونکہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ کپل سبل کے اس عدالتی بیان کو بی جے پی نے ایک بڑا سیاسی موضوع بنادیا اور وہ کانگریس پر حملہ آور ہوگئی۔ یہاں تک کہ کانگریس نے کپل سبل کو اس معاملے میں بطور وکیل اپنی خدمات پیش کرنے سے باز رہنے کو کہا۔ اس کے بعد کپل سبل کبھی اس معاملے میں عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ لیکن بی جے پی اس معاملے کو ابھی تک کانگریس کو گھیرنے کے لئے استعمال کررہی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی نے اپنے انٹرویو میں عدالتی کارروائی کے مکمل ہوجانے کے بعد اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی جو بات کہی ہے کیا وہ اس پر قائم رہیں گے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر عدالت نے فیصلہ بابری مسجد کے حق میں صادر کیا تو کیا وہ وزیراعظم کے طورپر بابری مسجد کی تعمیر نو کا جوکھم اٹھائیں گے؟ ظاہر ہے عدالتی فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری حکومت اور سرکاری مشینری کے کاندھوں پر ہوگی اور ایسی صورت میں جب کہ وہ اپنی ذمہ داری پورا کرنے کے لئے تمام کوششیں کرنے کا وعدہ کرچکے ہیں تو انہیں بابری مسجد کی تعمیر نو کی راہ بھی ہموار کرنی ہوگی۔ 

Ads