Jadid Khabar

گجرات کے فسادیوں کو سزا کب ملے گی؟

Thumb

دہلی ہائی کورٹ نے 1984کے سکھ مخالف فسادات کے سلسلے میں سینئر کانگریسی لیڈر سجن کمار کو عمرقید کی سزا سنائی ہے۔ اگر سپریم کورٹ نے انہیں راحت نہیں دی تو وہ اپنی باقی ماندہ زندگی جیل کی کال کوٹھری میں گزاریں گے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 31اکتوبر 1984کو آنجہانی وزیراعظم اندراگاندھی کو ان کے دوسکھ محافظوں نے قتل کردیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سکھوں کے خلاف نفرت کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ راجدھانی دہلی میں سکھوں کے خلاف درندگی اور بربریت کے جو مناظر دیکھنے کو ملے تھے، انہیں خود میں آج تک بھلا نہیں پایا ہوں۔ اس وحشت وبربریت میں 2700 سے زیادہ سکھ اقلیت کے لوگوں کو قتل کردیاگیا تھا۔ سجن کمار پر الزام ہے کہ انہوں نے دہلی کینٹ علاقے میں سکھوں کا قتل عام کرنے والے فسادیوں کی قیادت کی تھی۔ سجن کمار کو اس دردناک قتل عام کے 34سال بعد سزا ملی ہے۔ یہ شاید ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ فساد بھڑکانے کے جرم میں کسی سیاست داں کو قانون کی گرفت میں لایاگیا ہے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی کے لیڈروں نے سجن کمار کو عمرقید کی سزادیئے جانے کے فیصلے کا والہانہ خیرمقدم کیا ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ’’ سجن کمار سکھ مخالف فسادات کی علامت تھے۔ اب ہمیں امید ہے کہ عدالتیں سکھ مخالف فسادات کے سبھی معاملوں کا نپٹارہ کریں گی۔‘‘ ارون جیٹلی کے اس بیان کا پس منظر یہ ہے کہ بی جے پی ابتدا سے ہی 1984کے سکھ مخالف فسادات کے مجرموں کو عبرتناک سزائیں دیئے جانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور اس مطالبے پر اس نے اپنی خاص سیاسی طاقت صرف کی ہے۔ سکھوں کی بی جے پی سے قربت کا راز بھی یہی ہے۔ اگر آپ تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو پائیں گے کہ بی جے پی نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے قتل عام میں ملوث مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں جہاں جہاں بھی مسلم کش فسادات ہوئے ہیں، ان میں سنگھ پریوار کے لوگ پیش پیش رہے ہیں۔ 
عدالت عالیہ کی طرف سے سجن کمار کو دی گئی عمرقید کی سزا کا ان تمام لوگوں نے خیرمقدم کیا ہے، جو اس ملک میں اقلیتوں کے جان ومال اور عزت وآبرو کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔لیکن اس فیصلے کا سب سے اہم اور قابل تعریف حصہ وہ ہے جس میں عدالت نے سیاسی سرپرستی میں اقلیتوں کا قتل عام کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیاہے اور اس سلسلے میں ایک سخت قانون بنائے جانے کی وکالت کی ہے۔یہ بات اس لئے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ آزادی کے بعد اس ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی آڑ میں سب سے زیادہ مسلمانوں کا قتل عام ہوا ہے اور قاتلوں کو سرکاری سرپرستی حاصل رہی ہے۔ عدالت عالیہ نے 1984کے فسادات کو انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ سیاسی سرپرستی حاصل کئے ہوئے لوگوں نے اس کی سازش رچی تھی اور اب سچ کی جیت ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں عدالت نے دیگر اقلیتوں کے قتل عام کے سلسلے میں جو کچھ کہا ہے وہ یقینا ارون جیٹلی جیسے بڑبولے بی جے پی لیڈروں کو آئینہ دکھانے کے لئے کافی سے زیادہ ہے۔ عدالت عالیہ نے کہا ہے کہ 1984 کا سکھ مخالف فساد نہ تو ’ماس کرائم‘ کی پہلی مثال ہے اور نہ ہی آخری۔ تقسیم کے دوران دہلی، پنجاب اور ملک کے تمام حصوں میں بڑے پیمانے پر ہوا قتل عام اتنا ہی تکلیف دہ تھا جتنا کہ1984میں سکھوں کا قتل عام۔ عدالت نے مزید کہا کہ ’’اس کے بعد 1993 میں ممبئی ، 2002میں گجرات، 2009میں اڑیسہ اور 2013میں مظفرنگر میں اسی طرح کا قتل عام ہوا تھا۔ اس طرح کے جرائم کے دوران عام طورپر اقلیتوں کو ہی نشانہ بنایا گیا ہے اور ان حملوں میں قدآور سیاسی کرداروں کی مدد قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے کی ہے۔ ‘‘ 
دہلی ہائی کورٹ نے سجن کمار کے مقدمے میں سزا سناتے وقت اپنے فیصلے کا ایک پورا حصہ انسانیت کے خلاف گھناؤنے جرائم کی تفصیل بیان کرنے پر مرکوز کیا ہے۔ جسٹس ایس مرلی دھرن اور جسٹس ونود گوئل نے کہا ہے کہ’’ ایسے مقدمات میں مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔‘‘ اس سلسلے میں ایک سخت قانونی نظام بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے کہاہے کہ’’ انسانیت کے خلاف سنگین جرائم اور قتل عام جیسی صورت حال سے نپٹنے کے لئے ہمارے پاس جو قانون ہے، وہ ناکافی ہے۔ قانون کی اس خامی کو جلد ازجلد دور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جو مجرم وسیع پیمانے پر جرائم میں ملوث ہوتے ہیں انہیں سیاسی سرپرستی حاصل ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ٹرائل اور سزاؤں سے بچ جاتے ہیں۔ ‘‘ عدالت عالیہ نے اس قسم کے انسانیت سوز جرائم میں ملوث عناصر کو سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کی جو بات کہی ہے اس کی تازہ مثال ہمیں اترپردیش کے بلند شہر ضلع کے تازہ ترین فساد میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جہاں فسادیوں کے ہاتھوں ایک پولیس انسپکٹر اور ایک مقامی باشندے کی موت ہوئی تھی۔ یہ فساد گئو کشی کی جھوٹی افواہ پھیلاکر بجرنگ دل اور وشوہندو پریشد کے مقامی کارکنوں نے برپا کیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پولیس نے فساد بھڑکانے کے سلسلے میںدستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر سنگھ پریوار سے وابستہ کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کئے تھے لیکن ان میں سے ابھی تک کسی کارکن کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور وہ سیاسی تحفظ میں روپوش ہیں۔ گئو کشی کے جھوٹے الزام میں جن مسلمانوں کو بجرنگ دل کے مقامی کارکن کی ایف آئی آر پر گرفتار کیاگیا تھا انہیں ایس آئی ٹی نے اپنی تحقیقات میں بے قصور قرار دے دیا ہے اور مقامی پولیس ان کی رہائی کے لئے عدالت سے رجوع ہورہی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے شروع میں بلند شہر کے ہجومی تشدد کو ایک حادثے سے تعبیر کیا اور اب وہ اسے ایک سازش قرار دے رہے ہیں۔وزیراعلیٰ کی دلچسپی انسپکٹر کے قاتلوں کو گرفتار کرنے سے زیادہ گئو کشی کے الزام میں بے گناہ مسلمانوں کو پابند سلاسل کرنے میں ہے۔ 
دہلی ہائی کورٹ نے سکھ مخالف فسادات کے سلسلے میں جہاں کانگریسی لیڈر سجن کمار کومجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہے تو وہیں دیگر فسادات کے سلسلے میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کے لیڈروں کو آئینہ دکھایا ہے۔ 1993 کے ممبئی فسادات سے لے کر 2013 کے مظفر نگر فساد تک جتنے بھی فسادات کا حوالہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں دیا ہے، ان سب میں سنگھ پریوار کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے 1993 کے ممبئی فسادات کو لیجئے جو بابری مسجد کی شہادت کے بعد رونما ہوئے تھے اور جس میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ بے گناہوں کا قتل عام ہواتھا۔ ان فسادات کی تحقیقات کے لئے جسٹس سری کرشنا کی قیادت میں ایک نفری کمیشن قائم ہوا تھا جس نے اپنی غیر جانبدارانہ رپورٹ میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرتے ہوئے شیوسینا کو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کیاتھا۔ یہ رپورٹ آزاد ہندوستان میں ہونے والے کسی بھی فساد کی سب سے کارگر اور مؤثر رپورٹ تھی لیکن شیوسینا سرکار نے اسے مسترد کردیا اور ممبئی فسادات کے کسی مجرم کو آج تک سزا نہیں ملی ہے۔ اس کے بعد 2002 کی گجرات نسل کشی سے کون واقف نہیں جو پوری طرح سیاسی سرپرستی میں برپا کی گئی تھی۔ لوگوں کو مشتعل کرنے کے لئے حکمراں جماعت نے گودھرامیں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو احمد آباد کی سڑکوں پر گھمایا تھا جس کا واحد مقصد مسلمانوں کے خلاف اشتعال پھیلانا تھا۔ سازش کامیاب ہوئی اور گجرا ت میں سرکاری سرپرستی میں تاریخ کا بدترین قتل عام ہوا۔ لیکن اس قتل عام کے سلسلے میں چند چھوٹے کرداروں مثلاً مایا کوڈنانی اور بابو بجرنگی کو تو سزا ملی لیکن باقی لوگ آج بھی اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح 2009میں اڑیسہ کے کندھامل میں عیسائی مشینری گراہم اسٹنس اور اس کے دوکمسن بچوں کو بجرنگ دل کے کارکنوں نے ان کی ہی گاڑی میں زندہ جلادیا تھا۔ 2013 میں مظفرنگر کا فساد بھڑکانے میں بھی ان ہی عناصر کا ہاتھ تھا جو آزادی کے بعد فرقہ وارانہ فسادات برپاکرنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی کسی کو سزا نہیں ملی اور فساد بھڑکانے والے آج وزیروں کی کر سیوں پر براجمان ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کی طرح ممبئی ، گجرات، کندھامل اور مظفرنگر کے قاتلوں کو بھی عبرتناک سزائیں ملنی چاہئے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی سیاسی سرپرستی کا فائدہ اٹھاکر اقلیتوں کے قتل عام میں شامل نہ ہوسکے۔ اس کے ساتھ ہی سکھ مخالف فساات کے متاثرین کی طرز پر مسلم کش فسادات کے متاثرین کو بھی معقول معاوضہ ملنا چاہئے۔ انصاف کا یہی تقاضا ہے۔ 

 

Ads