Jadid Khabar

ہجومی تشدد اور گائے کی سیاست

Thumb

اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جس وقت تلنگانہ کے انتخابی میدان میں مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے تھے تو اسی وقت ان کی بھگوا بریگیڈ بلند شہر میں لاکھوں مسلمانوں کے تبلیغی اجتماع کو سبوتاژ کرنے کی سازش رچ رہی تھی۔ اگر خدانخواستہ یہ سازش کامیاب ہوجاتی تو اس وقت پورا اترپردیش فرقہ واریت کی آگ میں جل رہا ہوتا اور فرقہ پرست طاقتیں اس آگ پر ہاتھ سینک رہی ہوتیں۔اب جبکہ یہ بات پوری طرح ثابت ہوچکی ہے کہ بلند شہر کو آگ لگانے کا منصوبہ وشوہندو پریشد ، بجرنگ دل اور بی جے پی یووا مورچے کے کارکنوں نے تیار کیا تھا تو وزیراعلیٰ اصل مجرموں کو بچانے کے لئے پولیس پر اپنی تمام توجہ گئو کشی  پر مرکوز کرنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بلند شہر کے قصبے سیانہ میں شرپسندوں کے ہاتھوں رسوا ہوکر اپنے ایک پولیس افسر کو قربان کرنے والی یوپی پولیس نے وزیراعلیٰ کے احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی تحقیقات کا رخ ان مسلمانوں کی طرف موڑ دیا ہے جن پر گائے ذبح کرنے کا جھوٹا الزام عائد کیاجارہا ہے۔ ظاہر ہے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو اپنی ریاست میں انسانوں کے جان ومال سے زیادہ گائے کے تحفظ کی فکر لاحق ہے۔ یعنی ایک گائے کو بچانے کے لئے وہ اپنی پوری ریاست کا نظم ونسق داؤ پر لگادینا چاہتے ہیں۔ اگر غور سے دیکھاجائے تو گورکھپور میڈیکل کالج میں شیرخوار بچوں کی موت سے لے کر بلند شہر کے واقعات تک وزیراعلیٰ کے نزدیک انسانی جان کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھاتے وقت اپنی ریاست کے باشندوں کے جان ومال کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے جانوروں کو انسانوں پر فوقیت دینے کا حلف اٹھایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف گائے کے تحفظ میں مصروف ہیں اور اترپردیش کے عوام کو بھگوا بریگیڈ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیاگیا ہے۔ 

بلند شہر کی تحصیل سیانہ میں گئو کشی کی افواہ اڑاکر جن شرپسندوں نے امن وامان کو غارت کیاتھا ان کے خلاف پولیس کے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہیں کیونکہ اس موقع کی کئی ویڈیو پہلے ہی دن وائرل ہوچکی تھیں۔ پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد ہی ان لوگوں کے خلاف مقدمہ قائم کرلیا تھا جنہوں نے سیانہ میں افراتفری مچائی تھی اور امن وقانون کی صورت حال کو تہس نہس کرکے رکھ دیا تھا۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس نے سیاسی دباؤ کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور یوگیش راج جیسے کلیدی ملزم کو بھی کلین چٹ دینے کی تیاری ہورہی ہے۔ یوگیش راج سمیت جن چار کلیدی ملزموں کے نام ابتدائی تحقیقات کے بعد منظرعام پر آئے تھے ان کا تعلق بجرنگ دل ، وشوہندوپریشد اور بی جے پی یووا مورچے جیسی سنگھ پریوار کی تنظیموں سے تھا۔ پولیس نے ان سب کی گرفتاری کے لئے دبش دینی بھی شروع کردی تھی لیکن وزیراعلیٰ کی مداخلت اور سیاسی دباؤ کے بعد اب پولیس کے نزدیک ان مفرور ملزمان سے زیادہ ان لوگوں کی تلاش اہمیت اختیار کرگئی ہے جنہوں نے گائے کی نسل کے جانوروں کو بے ترتیبی سے ذبح کرکے سیانہ کے ایک کھیت میں سجایا تھا۔ حالانکہ یہ بات پہلے ہی واضح ہوگئی تھی کہ جن لوگوں نے حالات خراب کرنے کے لئے گئو کشی کی افواہ اڑائی ہے، یہ کارستانی ان ہی کی معلوم ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ تھا۔ سازش کی طرف اشارہ کرنے والا سب سے بڑا ثبوت سیانہ کے تحصیل دار راج کمار بھاسکر کا بیان ہے۔ وہ گئو کشی کی اطلاع کے بعد مہاؤ گاؤں میں موقع واردات پر پہنچنے والے سب سے پہلے افسر تھے۔ مسٹر بھاسکر اپنے سینئر افسران کو بتاچکے ہیں کہ’’ کھیتوں میں گائے کی نسل کے جانوروں کو کاٹ کر لایا گیا تھا۔ گائے کے سر اور کھال وغیرہ باقیات لٹکاکر رکھے گئے تھے جو دور سے نظر آرہے تھے۔ مسٹر بھاسکر کا کہنا ہے کہ گئو کشی کرنے والا کبھی باقیات کی نمائش نہیں کرے گابلکہ اسے چھپانے کی کوشش کر ے گا۔ ‘‘
بلند شہر پولیس نے اپنی تحقیقات کا رخ فساد برپا کرنے والے شرپسندوں سے ہٹاکر گئو کشی کرنے والوں پر کس طرح موڑا ہے اس کا اندازہ بلند شہر کے ایڈیشنل ایس پی رئیس اختر کے بیان سے ہوتا ہے۔ انہوں نے’ انڈین ایکسپریس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’فی الحال ہماری تمام توجہ ان لوگوں پر مرکوز ہے جنہوں نے گئو کشی کی تھی۔ کیونکہ گئو کشی کے نتیجے میں ہی ہنگامہ برپا ہوا اور انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کی موت واقع ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے ایک بار اس مسئلے کو حل کرلیا تو یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ انسپکٹر کا قتل کس نے کیا۔ گائے کے قاتلوں کو گرفتار کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ قتل اور فساد کی جانچ فی الحال پس منظر میں چلی گئی ہے۔‘‘ یہ بلند شہر کی اسی پولیس کا بیان ہے پہلے جس کی تمام توجہ فساد بھڑکانے والوں پر مرکوز تھی۔پولیس نے اپنی تحقیقات کا محور ان شرپسندوں کو بنایا تھا جنہوں نے گئو کشی کی افواہ پھیلاکر ہجوم کو اکٹھا کیا۔ پولیس کی گاڑیاں نذر آتش کیں اور انسپکٹر سبودھ کمار کو قتل کیا ۔ لیکن جیسے ہی وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ حکم دیا کہ وہ کسی بھی قیمت پر گئو کشی برداشت نہیں کریں گے تو پولیس نے اپنی ساری توجہ گئو کشی کرنے والوں پر مرکوز کردی اور اس کام کے لئے قربانی کے بکروں کی تلاش کا کام شروع کردیا۔ 
یہ بات پوری طرح عیاں ہے کہ جولوگ اس ملک میں گائے کے نام پر سیاست کررہے ہیں ان کا مقصد گائے کو تحفظ فراہم کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ وہ اس کی آڑ میں مسلمانوں کے جان ومال سے کھلواڑ کرنے کا اپنا پرانا مشن زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کو اگر صحیح معنوں میں گائے سے محبت ہوتی تو وہ سب سے پہلے ان آوارہ گایوں کی خبرگیری کرتے جو سڑکوں پر کوڑا کرکٹ کھاکر زندگی بسر کرتی ہیں۔ گائے کی سیاست درحقیقت مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کے لئے شروع کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تین سال کے عرصے میں گئو کشی کا جھوٹا الزام عائد کرکے درجنوں مسلمانوں کو درندگی اور بربریت کے ساتھ ہجومی تشدد میں قتل کردیاگیا ہے۔ قتل کی ان وارداتوں میں شامل بھگوا بریگیڈ کے لوگوں کو چونکہ حکمراں جماعت کا آشیرواد حاصل ہے، اس لئے آج تک ان میں سے کسی ایک فرد کو سزا نہیں ملی ہے۔ ہجومی تشدد میں ملوث عناصر کو اگر سرکاری سرپرستی حاصل نہ ہوتی تو وہ اب تک کیفرکردار تک پہنچادیئے گئے ہوتے۔ لیکن ملک کی سب سے بڑی عدالت کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات کے باوجود پولیس اور انتظامیہ اب تک ہجومی تشدد کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوپائی ہے۔ اسی سال جولائی کے مہینے میں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھیڑ کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ لہٰذا صوبائی حکومتیں ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ عدالت کا واضح حکم ہے کہ صوبائی حکومتیں ہرضلع میں ایس پی سطح کے افسر کو نوڈل افسر مقرر کریں جو ایسے واقعات سے نپٹنے کے لئے اسپیشل ٹاسک فورس بنائے گا۔ عدالت کے اس واضح حکم کے باوجود حکمراں طبقے کے کئی لیڈروں نے ہجومی تشدد کو جائز ٹھہرانے والے بیانات دیئے ہیں۔ یہاں تک کہ ہجومی تشدد میں ملوث افراد کو اعزاز سے بھی نوازا گیا ہے۔ اس قسم کے واقعات سے شرپسندوں کے حوصلے اس حد تک بلند ہوئے ہیں کہ اب وہ براہ راست سرکاری مشینری کو ہی اپنے پیروں تلے روندنے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔ بلند شہر کے سیانہ قصبے کے واقعات اس کی گواہی دیتے ہیں ، جہاں پانچ سو شرپسندوں کے ایک ہجوم نے پولیس اور انتظامیہ کو پوری طرح اپاہج بناکر ایک پولیس انسپکٹر کی جان لے لی۔ ابتدا میں وائرل ہوئی موقع واردات کی ایک ویڈیو میں انسپکٹر سبودھ کمار کے ساتھ تکرار کرتے ہوئے یوگیش کمار کو دکھایاگیا تھا جو بجرنگ دل کا مقامی لیڈر ہے۔ لیکن اب یہ کہاجارہا ہے کہ سبودھ کمار کو دراصل ایک فوجی جتندر نے گولی ماری تھی جو کارگل میں تعینات ہے اور چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں مذکورہ فوجی گولی چلاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ جب نظم ونسق کو سنبھالنے والی پولیس ہی اترپردیش میں ہجومی تشدد سے محفوظ نہیں ہے تو پھر عام آدمی اپنے تحفظ کی فریاد لے کر کس در پہ جائے گا۔ یہ گائے کی سیاست ہی ہے جس نے ہمیں اس خطرناک موڑ تک پہنچادیا ہے۔

Ads