Jadid Khabar

بابری مسجد کے مجرم آزاد کیوں؟

Thumb

ہر سال جب بھی 6دسمبر کی تاریخ قریب آتی ہے تو وہ سارے زخم ہرے ہونے لگتے ہیں جو بابری مسجد کی ظالمانہ شہادت سے وابستہ ہیں۔ کہتے ہیں کہ وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے جو بڑے سے بڑا زخم بھردیتا ہے۔ لیکن بابری مسجد کی شہادت واقعی ایک ایسا زخم ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید گہرا ہوتا چلا جارہا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کو آج 26برس بیت چکے ہیں لیکن اس کی ٹیس ہر اُس شخص کو محسوس ہوتی ہے جو اس ملک میں انصاف اور قانون کی حکمرانی کے خواب دیکھتا ہے۔ اگر غور سے دیکھاجائے تو 26برس کا عرصہ بابری مسجد کے مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے کافی سے زیادہ تھا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس عرصے میں قانون کے مسلسل کام کرتے رہنے کے باوجود ابھی تک بابری مسجد کے کسی مجرم کو سزا نہیں ملی ہے اور نہ ہی مسجد کی تعمیر نو کا کوئی امکان پیدا ہو پایا ہے، جس کا وعدہ اس وقت کے وزیراعظم نرسمہاراؤ نے کیا تھا۔ اب سے 26برس پہلے جن لوگوں نے دن کے اجالے میں بابری مسجد کو زمیں بوس کیا تھا، وہ سب کے سب جانے پہچانے چہرے تھے اور اعلانیہ طورپر مسجد کے انہدام کا عزم لے کر وہاں گئے تھے۔ ملک کی سب سے بڑی تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی نے اُن چالیس کلیدی ملزمان کے خلاف فرد جرم بھی داخل کی تھی جواِس جرم میں گردن تک ملوث تھے۔ لیکن ابھی تک سی بی آئی انہیں کوئی سزا دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ 

آج سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ فسطائی ٹولے نے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر بنانے کی آوازوں میں اتنا شور پیدا کردیا ہے کہ ان میں بابری مسجد کا وجود ہی کہیں کھوکر رہ گیاہے۔ جھوٹے پروپیگنڈے کا زور اتنا شدید ہے کہ اس میں بابری مسجد کا تذکرہ کرنا بھی عیب سمجھاجانے لگا ہے۔ سنگھ پریوار کے لوگوں نے حال ہی میں ایودھیا پہنچ کر رام مندر کے لئے جو شور برپا کیا ہے، اسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب رام مندر کی تعمیر ہی اصل مسئلہ رہ گیا ہے اور بابری مسجد کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوچکا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قانون اور عدلیہ کی نگاہ میں آج بھی اصل مسئلہ بابری مسجد کا ہی ہے جس کا نہ صرف باقاعدہ وجود تھا بلکہ تمام دستاویز بھی اسی کے حق میں گواہی دیتی ہیں۔فسطائیت کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ جھوٹ کو اتنی شدت اور تسلسل کے ساتھ بولتی ہے کہ سچائی کہیں گم ہوکر رہ جاتی ہے اور لوگ جھوٹ کو ہی سچ سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی معاملہ ایودھیا تنازع کے تعلق سے بھی پیش آرہا ہے۔ حالانکہ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ بابری مسجد ایک تاریخی عبادت گاہ تھی ،جسے 1528میں مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر کے سپہ سالار میر باقی نے ایک غیر متنازع مقام پر تعمیر کرایا تھا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 22/23دسمبر 1949کی درمیانی شب میں وہاں زبردستی مورتیاں رکھ کر مسجد کا تقدس پامال کیاگیا، ورنہ 22دسمبر 1949کی رات کو وہاں باقاعدہ عشاء کی نماز ادا کی گئی تھی۔ اس وقت کے یوپی کے وزیراعلیٰ گووند ولبھ پنت کی نیت اگر ٹھیک ہوتی تو وہ اسی وقت مسجد کے تقدس کو بحال کرکے اس تنازع کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیتے۔ لیکن ایسا کرنے کی بجائے مسجد میں تالا ڈال دیاگیا اور بابری مسجد بحق سرکار قرق کرلی گئی۔ 
1984میں رام جنم بھومی مکتی آندولن کے نام سے سنگھ پریوار نے جو تحریک شروع کی تھی، وہ پوری طرح سیاسی مقاصد سے لبریز تھی۔ بظاہراس تحریک کا مقصد بابری مسجد کا تالا کھلواکر وہاں عام پوجا پاٹھ کی اجازت حاصل کرنا تھا۔ لیکن اس کے پیچھے دراصل ملک کے فرقہ وارانہ ماحول کو پراگندہ کرنے کی سازش کارفرما تھی تاکہ عوام کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرکے ووٹوں کی فصل اگائی جاسکے۔ یکم فروری 1986کو فیض آباد کی ایک عدالت نے بابری مسجد کو عام پوجا پاٹھ کے لئے کھولنے کا فیصلہ سناکر فرقہ پرستی کے اژدھے کو آزاد کردیا۔ موقع پر موجود دوردرشن کی ٹیم نے بابری مسجد میں عام پوجا پاٹھ کے مناظر دکھا کر پورے ملک میں ہیجان برپا کردیا۔ 1949کے ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے مطابق بابری مسجد کے آس پاس پانچ سو میٹر تک کسی مسلمان کا داخلہ ممنوع تھا۔ لیکن اس حکم نامے کی پروا کئے بغیر راقم الحروف نے ایک اخبار نویس کے طورپر بابری مسجد میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی اور مسجد کے منبرپر ہورہی پوجا پاٹھ کے دلخراش مناظرکی آنکھوں دیکھی رپورٹ قلم بند کی۔ بابری مسجد کے اندرونی حالات دیکھ کر اندازہ ہوگیا تھا کہ یہاں مذہب سے زیادہ سیاست کارفرما ہے اور بھولے بھالے ہندوؤں کو اس معاملے میں گمراہ کیاجارہا ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ سنگھ پریوار کی سازشوں کو ناکام بنانے کی بجائے اس وقت کی حکمراں جماعت کانگریس نے خود اس معاملے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششیں کیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کوششوں میں اس نے اپنے ہاتھ بری طرح جلالئے۔ 
30مارچ 1989کو بابری مسجد کے روبرو وقف کی زمین پر رام مندر کا شیلا نیاس اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جس کی رپورٹنگ کے لئے دوسری بار میں نے ایودھیا کاسفر کیا۔ شیلا نیاس کے موقع پر وشوہندو پریشد کے لیڈروں نے کھلے عام یہ کہا تھا کہ ہم صرف رام مندر کی بنیاد ہی نہیں رکھ رہے ہیں بلکہ آج ہندوراشٹر کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔ آج سنگھ پریوار کی طرف سے ایودھیا میں صرف اور صرف رام مندر تعمیر کرنے کے جو نعرے لگائے جارہے ہیں، وہ دراصل ہندوراشٹر کا ہی ایک تسلسل ہے۔ بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کے نعرے دراصل مسلمانوں کو احساس کمتری اور خو ف وہراس میں مبتلا کرنے کے لئے لگائے جارہے ہیں۔ حالیہ دھرم سبھا کے موقع پر سنگھ پریوار نے ایودھیا میں جو بلند بانگ دعوے کئے تھے ،وہ پوری طرح فریب ثابت ہوئے ہیں چونکہ دھرم سبھا کا شو فلاپ ثابت ہواہے۔ وہاں مطلوبہ تعداد میں سادھو سنت اس لئے نہیں پہنچ پائے کہ وہ اب سنگھ پریوارکے کھیل کو سمجھ چکے ہیں۔ جب بھی بی جے پی کی سیاسی حالت دگر گوں ہوتی ہے تو سنگھ پریوار کے لوگ رام مندر کا شور برپا کرنا شروع کردیتے ہیں۔ 
بابری مسجد کے حق ملکیت کا مقدمہ فی الحال ملک کی سب سے بڑی عدالت میں زیر سماعت ہے، جس نے اس معاملے میں عجلت برتنے سے انکار کردیا ہے۔ عدالت کے اس رخ سے ناراض ہوکر سنگھ پریوار نے سپریم کورٹ کے خلاف ہی مورچہ کھول دیا ہے۔ حکومت پر یہ دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ ہ پارلیمنٹ سے قانون بناکر یا پھر آرڈیننس لاکر رام مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار کرے۔ آر ایس ایس لیڈروں کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے روبرو جو مقدمہ زیر سماعت ہے، اس میں عدالت کو صرف رام مندر کی تعمیر کے لئے ہری جھنڈی دکھانی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عدالت کے روبرو مندر کا کوئی مقدمہ ہی زیر سماعت نہیں ہے۔عدالت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ایودھیا میں واقع 2.77 ایکڑ کی وہ اراضی جہاں 6دسمبر 1992سے پہلے بابری مسجد ایستادہ تھی ، کس کی ملکیت ہے۔ بابری مسجد کا مقدمہ بنیادی طورپر حق ملکیت کا تنازع ہے جو عدالت کو ثبوتوں اور دستاویز وں کی بنیاد پر فیصل کرنا ہے۔ اس معاملے میں عدالت پہلے ہی یہ واضح کرچکی ہے کہ وہ کسی کے عقیدے یا آستھا کو سامنے رکھ کر فیصلہ نہیں دے گی۔ لیکن اس کے باوجود عدالت کو رام مندر کے حق میں فیصلہ دینے پر مجبور کیاجارہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خود وزیراعظم اس معاملے میں ملک کی سب سے بڑی عدالت کے خلاف دوسروں کے کندھوں پر رکھ کر بندوق چلارہے ہیں۔ 
سال رواں کے اوائل میں سپریم کورٹ میں ایودھیا تنازع کی سماعت شروع ہونے سے قبل جسٹس منموہن سنگھ لبراہن نے کہا تھا کہ عدالت کو سب سے پہلے بابری مسجد انہدام کیس کی سماعت کرنی چاہئے۔ جسٹس لبراہن وہی جج ہیں جنہوں نے بابری مسجد انہدام کیس کی سماعت کرنے والے لبراہن کمیشن کی قیادت کی تھی۔ وہ اپنی تفصیلی رپورٹ کئی برس قبل حکومت کو سونپ چکے ہیں۔ انہوں نے اس رپورٹ میں واضح طورپر لکھا ہے کہ بابری مسجد کا انہدام منصوبہ بند سازش کا حصہ تھا اور اس کو انجام تک پہنچانے کی سازش پہلے سے تیاری کی گئی تھی۔ حق ملکیت کا مقدمہ فیصل کرنے سے پہلے انہدام سازش کیس کی سماعت کرنے کا جسٹس لبراہن کا مطالبہ اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ بابری مسجد کا انہدام ملک میں گاندھی جی کے قتل کے بعد دوسرا سب سے بڑ اسانحہ تسلیم کیاگیا ہے۔ اس انہدام نے ملک کی سیاست اور معیشت پر بے انتہا منفی اثرات مرتب کئے ہیں اور اس واقعہ نے ملک کو پوری دنیا میں بدنام کیا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے 26سال مکمل ہونے پر ہم بھی جسٹس لبراہن کے اس مطالبے کی تائید کرتے ہیں، کیونکہ بابری مسجد کے مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائے بغیر اس معاملے میں انصاف قائم نہیں ہوگا۔ 

Ads