Jadid Khabar

خشوگی کا قاتل کون؟

Thumb

یہ محض اتفاق ہے کہ جس روز میں نے ’مسک گلوبل فورم ‘ کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لئے ریاض میں قدم رکھا، اسی روز شام کو سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوشن نے صحافی جمال خشوگی کے قتل میں ملوث پانچ افراد کو سزائے موت دیئے جانے کا مطالبہ کیا۔ مسک گلوبل کانفرنس میں شرکت کرنے گئے دیگر غیر ملکی صحافیوں کی طرح مجھے بھی جمال خشوگی کے قتل کے بارے میں جاننے میں دلچسپی تھی۔ کیونکہ یہ مسئلہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے پوری دنیا میں بحث ومباحثے کا موضوع بناہوا ہے اور اس سلسلے میں جتنے منہ اتنی ہی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ ابتدا سے ہی عرب صحافی جمال خشوگی کے قتل کے لئے سعودی قیادت کو موردِ الزام ٹھہرایاجارہا ہے اور اس سلسلے میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا نام باربار لیاجارہا ہے۔ اس سلسلے میں جو خبریں مغربی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے ہم تک پہنچ رہی ہیں وہ اتنی متضاد اور مختلف ہیں کہ ان میں سے کسی پر بھی مکمل یقین کرنا مشکل ہے۔ خبروں کے تضاد کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ ایک روز امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے اپنے ذرائع سے یہ دعویٰ کیا کہ جمال خشوگی کا قتل سعودی ولی عہد کے ایماء پر ہوا ہے لیکن اس کے اگلے ہی روز امریکی قیادت اس خبر کی تردید میں یہ کہتی ہے کہ خشوگی قتل کیس میں ابھی کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں کیاجاسکتا۔ اپنی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کی تردید کرنے کے لئے خود صدر ڈونالڈ ٹرمپ میدان میں اترکر کہتے ہیں کہ خشوگی قتل کے ذمہ داروں کے بارے میں رپورٹ ابھی نامکمل ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ابھی تک اس معاملے میں حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے کہ آیا سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کا ذمہ دار کون ہے؟ واضح رہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں سعودی حکام نے سی آئی اے کے دعوؤں کو پوری طرح جھوٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ترکی ،جہاں خشوگی کا قتل ہوا ہے پہلے ہی اس امر کا اظہار کرچکا ہے کہ ولی عہد کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جمال خشوگی کا قتل استنبول میں واقع سعودی کونسلیٹ میں اس وقت کیاگیا جب وہ اپنی ترکی منگیتر سے شادی کے لئے ضروری کاغذات حاصل کرنے وہاں گئے تھے۔ کونسلیٹ میں انہیں بڑی بے دردی سے ہلاک کیاگیا اور ان کی باقیات بھی ٹھکانے لگادی گئیں۔ ایک صحافی کے ساتھ ایسے ظالمانہ سلوک نے ہر کسی کو بے چین اور رمضطرب کردیا ہے۔ خود سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوشن نے یہ اعتراف کیا ہے کہ قتل کے بعد جمال خشوگی کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے گئے تھے اور اس کو قونصل خانے کے باہر کہیں ٹھکانے لگادیاگیا تھا۔ جن پانچ ملزمان کو استغاثہ نے سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے ہی خشوگی کی لاش قونصل خانے سے باہر منتقل کی تھی اور ان میں سے ایک شخص نے ٹکڑے ٹکڑے جسمانی اعضاء کو اس واقعہ میں ملوث ایک دیگر مقامی شخص کے حوالے کردیا تھا۔ اس ملزم کا خاکہ بھی تیار ہے جسے جلد ہی ترک حکام کے حوالے کردیاجائے گا تاکہ وہ اپنی تحقیقات مکمل کرسکیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ استغاثہ نے جن پانچ افراد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے خشوگی کے قتل کا اعتراف کرلیا ہے۔ سعودی حکام نے ان پانچوں ملزمان سمیت مجموعی طورپر 21ملزمان سے پوچھ تاچھ کی تھی اور ان میں سے11پر قتل کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ تاہم فوجداری نظام کے تحت فوری طورپر ان ملزمان کے نام جاری نہیں کئے گئے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ استغاثہ نے اس بہیمانہ قتل کی پوری تفصیلات کو اپنے بیان میں درج کیا ہے اور کہا ہے کہ ملزمان نے 29ستمبر کو سعودی قونصل خانے میں جمال خشوگی کے قتل کی منصوبہ بندی کی اور 2اکتوبر کو قتل کو انجام کو پہنچایا۔ ان میں سے جس شخص نے وہاں نصب نگرانی کیمرے ناکارہ بنائے تھے، اس کی بھی شناخت ہوچکی ہے۔ اسی شخص نے جمال خشوگی کی گھڑی ، عینک اور دیگر ذاتی اشیاء قونصل خانے کی عمارت سے نکلنے کے بعد کوڑے دان میں پھینک دی تھیں۔
 واضح رہے کہ سعودی خفیہ محکمے کے سابق نائب سربراہ کے حکم پر ایک ٹیم جمال خشوگی سے بات چیت کے لئے مقرر کی گئی تھی اور اس ٹیم نے خشوگی کو ترکی سے سعودی عرب واپسی کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس مشن کے لیڈر نے تین گروپوں پر مشتمل ایک پندرہ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ ترجمان نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ سابق سعودی مشیر بھی قتل کی منصوبہ بندی میں شامل تھا اور جس شخص کو جمال خشوگی کو سعودی عرب واپسی پر آمادہ کرنے کے لئے مذاکرات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، اسی نے بعد میں ان کے قتل کی بھی منصوبہ بندی کی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سابق مشیر سے اب بھی تحقیقات جاری ہیں اور اس کے سعودی عرب سے باہر جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملزموں نے انٹیلی جنس کے سابق نائب سربراہ کو ایک جھوٹی رپورٹ پیش کی تھی اور ابتداء میں انہوں نے جمال خشوگی کے قتل سے انکار کیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق قونصل خانے میں جمال خشوگی کی مذکورہ ملزمان سے لڑائی بھی ہوئی تھی۔ انہوں نے مقتول صحافی کو پہلے کوئی نشہ آور چیز دے دی تھی اور پھر ان کے جسم کے ٹکڑے کردیئے تھے۔ 
استغاثہ کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی جس خفیہ ٹیم نے جمال خشوگی کو قتل کیا اور جن میں سے پانچ افراد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیاگیا ہے وہ دراصل خشوگی کو وطن واپسی پر آمادہ کرنے کے لئے وہاں گئے تھے اور خشوگی کے انکار پر تکرار اس حد تک بڑھی کے انہوں نے خشوگی کو قتل کردیا ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ اس واقعہ نے عالمی پیمانے پر سعودی عرب کی شبیہ مجروح کی ہے۔ جس کا ازالہ کرنے کی سعودی عرب ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ ملزمان کو سزائے موت دیئے جانے کا استغاثہ کا مطالبہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس واقعہ کی آڑ میں وہ طاقتیں بھی میدان میں کود پڑی ہیں جو سعودی عرب سے خداواسطے کا بیر رکھتی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ منفی کردار ایران کا ہے جو ایک عرصے سے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت سعودی عرب میں مداخلت کی کوشش کررہا ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ایرانی ذرائع ابلاغ اور اس کے حاشیہ برداروں نے سعودی عرب کے خلاف ایک مکروہ پروپیگنڈہ مہم چھیڑ رکھی ہے۔ اس مہم کا مقصد محض خشوگی کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانا نہیں ہے بلکہ اس واقعہ کی آڑ میں سعودی اقتدار اعلیٰ کو کمزور کرکے وہاں غیر ملکی مداخلت کے دروازے کھولنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ سعودی عرب اس اعتبار سے پوری دنیا کے مسلمانوں کی تمناؤں اور آرزوؤں کا محور ہے کہ وہاں مقامات مقدسہ واقع ہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ 88سال کے دوران سعودی حکمرانوں نے مقامات مقدسہ کی دیکھ بھال، ان کی غیر معمولی توسیع اور عازمین حج کو سہولتیں فراہم کرنے کے لئے اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کی ہیں اور اس کام کے لئے سرکاری خزانے کے منہ کھول دیئے ہیں۔ سعودی حکمرانوں نے اپنے ملک کو جنت نشاں بنادیا ہے۔ پوری دنیا سے آنے والے عازمین حج اور معتمرین ان سہولتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں جو قدم قدم پر مہیا کرائی گئی ہیں۔ ایسے میں سعودی عرب کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کا جو نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے، اس سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ اگر سعودی خفیہ محکمے کے اہلکاروں سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو اس کے لئے استغاثہ نے سب سے بڑی سزا یعنی سزائے موت دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔ اس کے باوجود بعض ناعاقبت اندیش لوگ اس جرم کے لئے سعودی حکمرانوں کو سولی پر چڑھانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو سعودی عرب میں انتشار پید اکرکے وہاں اپنی مداخلت کے امکانات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ دراصل دنیا کی سب سے بڑی اور مضبوط عرب مملکت کی چولیں ہلاکر وہاں افراتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان طاقتوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ 

Ads