Jadid Khabar

اصل مسئلہ توبابری مسجد کا ہے

Thumb

یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ ایودھیامیں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر بنانے کا شور درحقیقت بی جے پی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لئے برپا کیا جارہا ہے۔ مودی سرکار نے اپنے دوراقتدار میں عوامی بہبود کا کوئی ایک بھی کام ایسا نہیں کیا ہے جس سے عوام مطمئن ہوں، لہٰذا بھولے بھالے عوام کوایک بار پھر فریب دینے کے لئے رام مندر بنانے کا شوراچانک تیز کردیا گیا ہے۔ لکھنؤسے لے کر دہلی تک سادھو سنتوں نے ایسا ہنگامہ مچایا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ سادھو سنتوں کی آوازوں کو اعتبار بخشنے کے لئے اس ہنگامہ آرائی میں مودی سرکار کے بعض بڑبولے وزیر بھی شامل ہوگئے ہیں۔ ادھر یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایودھیا میں چارسوکروڑ کی لاگت سے 228 فٹ لمبی رام چندر جی کی مورتی بنانے کا اعلان کرکے اس تحریک کو نئی زندگی دینے کی کوشش کی ہے۔ یوپی کے نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ کا کہنا ہے کہ رام جنم بھومی پر بابر کے نام کی ایک اینٹ بھی نہیں رکھنے دی جائے گی۔ جبکہ مرکزی وزیر مملکت گری راج سنگھ نے دھمکی دی ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت رام مندر کی تعمیر کونہیں روک سکتی۔ آر ایس ایس پہلے ہی رام مندر کے لئے 1992جیسی تحریک شروع کرنے کی وارننگ دے چکی ہے۔ کئی سادھو سنتوں نے رام مندر کے لئے قانون سازی یا آرڈیننس پیش نہ ہونے کی صورت میں خودسوزی سے لے کر تامرگ بھوک ہڑتال کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی ہے۔ غرض یہ کہ سنگھ پریوار کے جتنے منہ ہیں اتنی ہی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ لیکن اس وقت ہمارا موضوع رام مندر پر سنگھ پریوار کے لیڈروں کی ہنگامہ آرائی نہیں ہے بلکہ آج ہم یہاں اس بابری مسجد کی بات کرنا چاہتے ہیں جس کے وجود کو مٹانے کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں۔ رام مندر کے اس بے ہنگم شور کے درمیان کوئی بھی بابری مسجد کا ذکر نہیں کررہا ہے جبکہ اصولی اور قانونی طورپر بات اسی بابری مسجد کی ہونی چاہئے جس کی ظالمانہ شہادت آج بھی اس ملک کی پیشانی پر سب سے بدنما داغ ہے۔ بابری مسجد کل بھی ایک حقیقت تھی، آج بھی حقیقت ہے اور آئندہ بھی حقیقت ہی رہے گی جبکہ رام مندر کل بھی ایک فریب تھا ، آج بھی فریب ہے اور ہمیشہ فریب ہی رہے گا۔ 

ایودھیا تنازع پر حق ملکیت کے سوال کو حل کرنے کے لئے پچھلے دنوں جب سپریم کورٹ سماعت کی تیاری کررہا تھا تو بابری مسجد انہدام سازش کیس کی تحقیقات کرنے والے لبراہن کمیشن کے سربراہ جسٹس منموہن سنگھ لبراہن نے کہاتھا کہ ’’عدالت کو حق ملکیت کا مقدمہ فیصل کرنے سے پہلے ان لوگوں کو سزا دینی چاہئے جو بابری مسجد کے انہدام میں ملوث رہے ہیں۔‘‘جسٹس منموہن سنگھ نے اپنی طویل تحقیقاتی رپورٹ میں یہ ثابت کیا ہے کہ 6دسمبر 1992 کو بابری مسجد کا انہدام کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک منصوبہ بند سازش تھی جس کے تحت پانچ سوسالہ قدیم عبادت گاہ کو زمیں بوس کیاگیا۔ ظاہر ہے بابری مسجد کا انہدام رات کی تاریکی میں نہیں بلکہ دن کے اجالے میں ہوا تھا اور جولوگ اس میں شامل تھے، ان کے چہرے پوری دنیا کو معلوم ہیں۔ سی بی آئی نے بی جے پی کے جن لیڈروں کے خلاف باقاعدہ فرد جرم داخل کی تھی، ان میں اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے لیڈروں نے اپنے سیاسی رسوخ کا فائدہ اٹھاکر خود کو مجرمانہ سازش کے الزامات سے بری کرالیا تھا لیکن بعد کو سپریم کورٹ نے ان لوگوں کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات بحال کردیئے تھے۔ بابری مسجد انہدام سازش کیس آج بھی عدالت میں زیر التوا ہے اور اس پر کافی دنوں سے سماعت نہیں ہوئی ہے۔ 
اس دوران 2010میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایودھیا تنازع پر اپنے ایک انوکھے فیصلے میں بابری مسجد کی اراضی مقدمے کے تینوں فریقوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کردی تھی۔ اس فیصلے کو کسی نے تسلیم نہیں کیا اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیاگیا۔ عدالت عظمیٰ نے اس فیصلے کے نفاذ پر روک لگادی اور اب عدالت کے سامنے یہی مقدمہ ہے۔ عدالت پر مسلسل دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ اس مقدمے کو جلدازجلد فیصل کردے تاکہ وہاں رام مندر بنانے کی راہ ہموار ہوسکے۔ اس معاملے میں سنگھ پریوار کے لیڈروں کی اچھل کود کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ عدالت رام مندر کے ہی حق میں فیصلہ سنائے گی جبکہ عدالت کے روبرو رام مندر کی تعمیر کا کوئی مقدمہ ہی زیر سماعت نہیں ہے۔ عدالت کو محض یہ طے کرنا ہے کہ ایودھیا کی 2.77 ایکڑ زمین جہاں 6دسمبر1992 تک بابری مسجد ایستادہ تھی، کس کی ملکیت ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں ہزاروں فارسی اور اردو دستاویزوں کا انگریزی میں ترجمہ کرایا ہے تاکہ وہ صحیح نتیجے پر پہنچ سکے۔ لیکن اس معاملے میں سنگھ پریوار اور سنگھی میڈیا کی طرف سے جو ہنگامہ برپا کیا جارہا ہے اس میں بنیادی حقائق کو جان بوجھ کر نظرانداز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عوام کے ذہنوں پر یہی تاثر قائم کیاجارہا ہے کہ معاملہ صرف اور صرف رام مندر کا ہے اور مندر کی تعمیر شروع ہوتے ہی ملک کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سنگھ پریوار نے جب سے ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر بنانے کی خونی تحریک چھیڑی ہے تب سے ملک کو لاتعداد مسائل سے جوجھنا پڑا ہے۔ اس تحریک کے نتیجے میں سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ یکجہتی اور مذہبی رواداری کا تانابانا پوری طرح بکھرگیا ہے اور ملک کی سیکولر سیاست فرقہ واریت کے چنگل میں پھنس گئی ہے۔آج ملک میں ہندو اور مسلمان کے نام پر جوبحثیں کی جارہی ہیں، وہ ملک کے اتحاد کوشدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ملک کی سیکولر بنیادوں کو کھوکھلا کرکے یہاں ہندو راشٹر کی آبیاری کرنے کا کام ایک نہایت خطرناک منصوبے کے تحت شروع کیا گیا ہے۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ 6دسمبر 1992 تک ایودھیا میں ایستادہ بابری مسجد کو 1528میں مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر کے سپہ سالار میر باقی نے ایک قطعی غیر متنازع اور صاف ستھری زمین پر تعمیر کرایا تھا۔ اگر یہ زمین متنازع ہوتی تو اسی وقت اس پر اعتراض درج کرایاجاتا لیکن تاریخ میں اس کا کوئی ذکر دور دور تک موجود نہیں ہے۔ یہاں تنازع کی بنیاد 22/23 دسمبر1949 کی درمیانی رات میں اس وقت ڈالی گئی جب تاریکی کا فائدہ اٹھاکر مسجد میں دیوار پھاند کر زبردستی مورتیاں رکھ دی گئیں۔ 22دسمبر کی رات کو وہاں آخری بار عشاء کی نماز ادا کی گئی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بابری مسجد کے تقدس کو پامال کئے جانے کی رپورٹ خود ایک ہندو کانسٹبل نے درج کرائی تھی۔ اگر اس وقت کی صوبائی حکومت مسجد میں تالا ڈالنے کی بجائے اس کے تقدس کو بحال کرتی تو یہ مسئلہ تبھی حل ہوگیا ہوتا۔ اس کے بعد برسوں مسجد میں تالا پڑا رہا۔ اس مسئلے پر جارحانہ سیاست کا آغاز اس وقت ہوا جب 1990 کی دہائی میں سنگھ پریوار نے ایک منصوبہ بند سیاسی سازش کے تحت رام جنم بھومی مکتی آندولن کا آغاز کیا۔ یہ تحریک دراصل بی جے پی کو سیاسی فائدہ پہنچانے کے لئے شروع کی گئی تھی اور اس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں بی جے پی کے ممبران کی تعداد 2سے بڑھ کر 89 ہوگئی۔ تب سے سنگھ پریوار مسلسل بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لئے ایودھیا تنازع کا سیاسی استحصال کررہا ہے۔ 
6دسمبر 1992 کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد کلیان سنگھ سرکار برخاست کردی گئی تھی اور اس بات کی پوری امید تھی کہ بابری مسجد کی اراضی کو محفوظ کرلیا جائے گا۔ لیکن صدرراج کے دوران راتوں رات وہاں رام مندر کا ناجائز ڈھانچہ کھڑا کردیاگیا۔ اگر سیاسی قوت ارادی ہوتی تو بابری مسجد کی اراضی کو محفوظ کرلیاگیا ہوتا اور وہاں مسجد کی تعمیرنو کا کام ہوتا جس کا وعدہ نرسمہاراؤ نے 6دسمبر کی رات کو قوم کے نام اپنے خطاب میں کیاتھا۔ آج بابری مسجد کے مقام پر بنائے گئے رام مندر کے انتہائی مضبوط ’عارضی ڈھانچے‘ میں بلاروک ٹوک پوجا پاٹ ہورہی ہے اور بابری مسجد کے تمام حقوق فراموش کردیئے گئے ہیں۔ سنگھ پریوار کے لوگ وہاں عالیشان رام مندر اس لئے تعمیر کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مسلمانوں پر ہندوؤں کی برتری ثابت کرسکیں اور انہیں احساس کمتری میں مبتلا کرسکیں۔ گزشتہ دنوں کانگریسی لیڈر ششی تھرور نے جب یہ بیان دیا تھا کہ’’ کوئی بھی سچا ہندو ایسے مندر میں پوجا نہیں کرے گا جو دوسرے مذہب کی عبادت گاہ کو توڑ کر بنایاگیا ہو‘‘ تو سنگھ پریوار نے ان کا منہ نوچ لیا تھا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس معاملے میں عام ہندوؤں کو اتنا گمراہ کردیاگیا ہے کہ وہ سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز ہی نہیں کرپارہے ہیں۔ 

Ads