Jadid Khabar

رام مندر کے لئے دھمکیوں کا سہارا

Thumb

سپریم کورٹ میں ایودھیا تنازع کی سماعت ملتوی ہونے کے بعد سنگھ پریوار کے خیموں میں زبردست مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ پریوار کے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ اپنی اس مایوسی کو کس طرح لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید مایوسی اور الجھن کی حالت سے نکلنے کے لئے انہوں نے اول فول بکنا شروع کردیا ہے۔ کبھی وہ عدالت کو نشانے پر لیتے ہیں تو کبھی حکومت کو مصنوعی آنکھیں دکھاتے ہیں۔ کبھی مسلمانوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے لئے ہندوؤں کے صبر کے لبریز ہوتے ہوئے پیمانے کا حوالہ دے کر اس کے چھلک جانے کے خطرات سے آگاہ کیاجاتا ہے۔ حالانکہ رام مندر بنانے کی راہ میں مسلمان نہ تو پہلے کبھی رکاوٹ تھے اور نہ ہی انہوں نے اب سنگھ پریوار کی راہوں میں روڑے اٹکائے ہیں بلکہ یہ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے جس نے وہاں حتمی فیصلہ ہونے تک جوں کی توں صورت حال برقرار رکھنے کا حکم دے رکھا ہے۔ آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے دھمکی دی ہے کہ اگر رام مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار نہیں کیاگیا تو ملک میں ایسی ہی تحریک دوبارہ شروع کردی جائے گی جیسی کہ 90کی دہائی میں تالا کھلوانے کے لئے شروع کی گئی تھی۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے ملک میں ایک بار پھر ایودھیا کے سوال پر خون خرابے کی دھمکی دی ہے۔ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ’’ ملک کا اکثریتی طبقہ ایودھیا تنازع میں سپریم کورٹ کے جلد فیصلے کی راہ دیکھ رہا ہے کیونکہ تاخیر ناانصافی کے برابر ہوتی ہے۔‘‘ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ یوگی کے نزدیک کسی معاملے میں یکطرفہ انصاف ہی سب سے بڑی حصولیابی ہے۔ ایک آئینی عہدے پر بیٹھے ہوئے شخص کو بیان دیتے وقت اپنی پوزیشن کا خیال ضرور رکھنا چاہئے کیونکہ عدالت عظمیٰ کو دباؤ میں لے کر کسی یکطرفہ فیصلے پر مجبور کرنا توہین عدالت کی کارروائی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ سے قبل بی جے پی صدر امت شاہ سبری مالا مندر تنازع کے پس منظر میں عدالتوں کو یہ کہہ کر وارننگ دے چکے ہیں کہ انہیں وہی فیصلے صادر کرنے چاہئیں جو قابل عمل ہوں۔ یعنی عدالتوں کو حقائق اور ثبوتوں کو پس پشت ڈال کر لوگوں کی مرضی اور خوشنودی کو دھیان میں رکھ کر انصاف کرنا چاہئے۔ سنگھ پریوارکے نزدیک غالباً انصاف کا یہی پیمانہ ہے۔ 

گزشتہ 29اکتوبر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے محض دومنٹ ایودھیا معاملے کی سماعت کی اور اس معاملے کو آئندہ سال جنوری تک کے لئے ملتوی کردیا۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایودھیا تنازع سے زیادہ اہم امور سماعت کے لئے موجود ہیں اور انہیں اس مسئلے کو حل کرنے میں کوئی عجلت نہیں ہے۔ عدالت کے اس موقف پر ایودھیا تنازع کے تینوں فریقوں نے محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے لیکن اس اعلان سے سنگھ پریوار کے ان لوگوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے جو 29اکتوبر کو ڈھول تاشے لے کر سپریم کورٹ پہنچے تھے۔ انہیں اس بات کی پوری امید تھی کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت رام مندر کے حق میں فیصلہ سنائے گی۔ پچھلے کئی ہفتوں سے عدالت کو دباؤ میں لینے کے لئے زبردست ماحول سازی کی جارہی تھی۔ کئی ٹی وی چینل اس معاملے میں سنگھ پریوار کا ہاتھ بٹا رہے تھے اور عوام کو یہ باور کرایاجارہا تھا کہ ایودھیا تنازع ہی اس وقت ملک کا سب سے سنگین مسئلہ ہے اور اس مقدمے کے رام مندر کے حق میں فیصل ہوتے ہی سارے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔ لیکن عدالت نے سنگھ پریوار کی امیدوں پر یہ کہہ کر پانی پھیر دیا کہ عدالت کے سامنے اس سے زیادہ اہم موضوعات زیر غور ہیں۔ 
آر ایس ایس کے نائب سربراہ منموہن ویدیہ نے ممبئی میں ایک پروگرام کے دوران مطالبہ کیا ہے کہ حکومت رام مندر بنانے کے عمل کا آغاز کرے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو اراضی اپنی تحویل میں لے کر قانون سازی کے سہارے رام مندر کی تعمیر شروع کردینا چاہئے۔ آر ایس ایس لیڈر نے رام مندر کے مسئلے کو قومی شناخت اور فخر کا مسئلہ بتایا۔ حالانکہ یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ ایودھیا کا تنازع بنیادی طورپر حق ملکیت کا تنازع ہے۔ جب تک عدالت ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر اس مقدمے کو طے نہیں کردیتی اس وقت تک نہ تو پارلیمنٹ سے کوئی قانون بن سکتا ہے اور نہ ہی حکومت کوئی آرڈیننس لاسکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود سنگھ پریوار کے لوگ اپنے گلے میں ڈھول ڈال کر یہ کہہ رہا ہے کہ حکومت جلدازجلد رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف کرے۔ اس معاملے میں کئی سادھوؤں نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں خودسوزی کی دھمکی بھی دے ڈالی ہے۔ بعض نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ عدالت اور قانون کی پرواہ کئے بغیر آئندہ 6دسمبر سے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا آغاز کردیں گے۔ اس درمیان بی جے پی کے ایک نومنتخب راجیہ سبھا ممبر راکیش سنہا نے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں رام مندر کی تعمیر کے لئے قانون ساز ی کے مقصد سے ایک پرائیویٹ ممبر بل پیش کریں گے۔ یہ بات کتنی مضحکہ خیز ہے کہ حکمراں جماعت کا ایک رکن پارلیمنٹ ہی پرائیویٹ ممبر بل لانے کی بات کررہا ہے۔ ظاہر ہے یہ معاملہ اتنا پیچیدہ اور سنگین ہے کہ اس میں قانون سازی کی طرف قدم بڑھانے کے لئے حکومت کو سو مرتبہ سوچنا ہوگا۔ 
سنگھ پریوار اور حکمراں جماعت میں اس وقت رام مندر کے حوالے سے جو گھمسان مچا ہوا ہے، اس کے پیچھے ایک ہی مقصد کارفرما ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ سنگھ پریوار کی تنظیمیں رام مندر کی تعمیر کے معاملے پر اتنی ہنگامہ آرائی کریں کہ عدالت ان کے سامنے ہتھیار ڈال دے اور اس طرح بی جے پی کے لئے ایک اور چناؤ جیتنے کی راہ ہموار ہوجائے۔ مودی سرکار کی جھولی میں حکمرانی کے نام پر ناکامیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ ایک بار پھر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ایودھیا تنازع کو شہ دے رہی ہے۔ لیکن عدالت کے رخ سے واضح ہوگیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے سیاسی دباؤ کے آگے جھکنے کو تیار نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ سنگھ پریوار کے لوگ عدالتی حل کا انتظار کرنے کے حق میں نظر نہیں آتے۔ جب سے موہن بھاگوت نے رام مندر کے لئے قانون سازی کی بات کہی ہے، تب سے سنگھ پریوار کی مختلف تنظیمیں حکومت کو یہ باور کرارہی ہیں کہ اس مسئلے کے عدالتی حل کے چکر میں نہ پڑا جائے اور حکومت آرڈیننس لاکر مندر کا کام شروع کرادے۔ یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آرڈیننس کے ذریعے برسہا برس پرانے اس تنازع کا حل تلاش کرلیاجائے گا۔ کچھ تنظیمیں اپنے فوری فائدے کے لئے اس کا بھرپور پروپیگنڈہ بھی کررہی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایودھیا تنازع دوفریقوں کے درمیان حق ملکیت کا تنازع ہے اور مرکزی حکومت اس میں دخل اندازی نہیں کرسکتی۔ یوں بھی نجی جائیداد سے متعلق تنازع پر آرڈیننس نہیں لایاجاسکتا۔ ظاہر ہے کہ کسی کی ذاتی جائیداد مرکزی یا صوبائی حکومت کی ملکیت نہیں ہوسکتی۔ ایسا اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب حکومت زمین کو اپنی تحویل میں لینا چاہتی ہو۔ لیکن ایودھیا معاملے میں زمین ایکوائر کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ یوں بھی عدالت میں زیر سماعت مقدمات پر آرڈیننس لانے کا کوئی دستوری جواز موجود نہیں ہے۔ لوگ اس معاملے میں شاہ بانو کیس کی مثال تو دیتے ہیں لیکن وہ اس حقیقت کو نظرانداز کردیتے ہیں کہ شاہ بانو معاملے میں عدالتی فیصلے کے بعد پارلیمنٹ سے قانون بنا تھا۔ یوں بھی شاہ بانو کا معاملہ حق ملکیت کا تنازع نہیں تھا بلکہ وہ ایک ازدواجی مسئلہ تھا۔ حکومت عام طورپر انتظامی ضرورتوں کے تحت ان ہی معاملوں میں آرڈیننس لاتی ہے جو متنازع نہیں ہوتے اور سب کے حق میں ہوتے ہیں۔ جمہوریت میں یوں بھی آرڈیننسوں کے ذریعے حکومت چلانا اچھا نہیں سمجھاجاتا۔ 2016میں سپریم کورٹ نے خود کہاتھا کہ آرڈیننس لانا آئین کے ساتھ دھوکے بازی ہے۔ 

Ads