Jadid Khabar

سی بی آئی کا بھانڈا پھوٹ گیا

Thumb

نئی دہلی کے لودھی روڈ پر واقع سی جی او کمپلیکس میں ملک کی کئی خفیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ہیڈکوارٹر واقع ہیں۔ ان ہی میں ایک عالیشان عمارت سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن کی ہے، جسے عرف عام میں سی بی آئی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سی بی آئی کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ ایک ایسی باوقار تحقیقاتی ایجنسی ہے  جس سے اکثر لوگ ڈرتے ہیں کیونکہ یہ ایجنسی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کا ہنر جانتی ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ایجنسی کا وقار اور دبدبہ ختم ہونا شروع ہوا تو زوال اس حد تک آیا کہ ایک شام خود سی بی آئی کے افسران نے اپنے ہی ساتھیوں کی رشوت خوری اور بدعنوانی کو بے نقاب کرنے کے لئے اپنے ہی دفتر میں چھاپہ مار کارروائی انجام دی۔ اس کارروائی کے دوران نہ صرف رشوت خوری سے متعلق اہم دستاویزات ضبط کی گئیں بلکہ ڈی ایس پی رینک کے ایک عہدے دار کو اسی انداز میں گرفتار بھی کیاگیا جس انداز میں سی بی آئی اب تک مختلف قسم کی بدعنوانیوں کے ملزمان کو گرفتار کرتی رہی ہے۔ سی بی آئی میں پنپ رہی بدعنوانیوں کا بھانڈا اس کے دواعلیٰ افسران کے درمیان جاری برتری کی جنگ کے دوران بیچ چوراہے پر پھوٹا ہے۔ لیکن یہ معاملہ محض ان افسران کی رسہ کشی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے تار مودی سرکار سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ مودی سرکار کی گزشتہ ساڑھے چار سال کی سب سے بڑی حصولیابی یہ ہے کہ اس نے ملک کے حساس محکموں میں اپنے لوگوں کو کلیدی پوزیشن پر بٹھایا ہے۔ سی بی آئی کے جن اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانا کے خلاف چھ کیسوں میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے، وہ گجرات کیڈر سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں وزیراعظم نریندرمودی کا خاص معتمد بتایا جاتا ہے۔ راکیش استھانا نے ہی گودھرا سانحہ کی تحقیقات کی تھی اور انہیں سی بی آئی کا اگلا ڈائریکٹر بنانے کی تیاری چل رہی تھی۔ غرض یہ کہ پچھلے ہفتے سی بی آئی کے دفتر میں جو کچھ ہوا ہے، اس نے ملک کی سب سے بڑی تحقیقاتی ایجنسی کی ساکھ ملیامیٹ کردی ہے۔ سی بی آئی کی خانہ جنگی کا اثر محض اس کے افسران تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ اس کی زد ملک کی دوسری ایجنسیوں پر بھی پڑی ہے۔ سی بی آئی کے معزول ڈائریکٹر آلوک ورما کی سرکاری رہائش گاہ پر جاسوسی کرتے ہوئے آئی بی کے چار افسران کو دہلی پولیس کے جوانوں نے رنگے ہاتھوں پکڑلیا اور ان سے 6گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کی گئی۔ اس واقعہ نے دہلی پولیس اور آئی بی کے درمیان مخاصمت پیدا کردی ہے اور دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے ہیں۔ 

یوں تو سی بی آئی کے سیاسی استعمال کی باتیں ایک عرصے سے کہی جاتی رہی ہیں اور اس پر 2013 میں سپریم کورٹ نے یہ تلخ تبصرہ بھی کیا تھا کہ’’ سی بی آئی پنجرے میں بند ایک ایسا طوطا ہے جو صرف اپنے مالک کی زبان بولتا ہے۔‘‘ لیکن 2014میں مرکز میں بی جے پی کی سرکار قائم ہونے کے بعد سی بی آئی کو جس انداز میں سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیاگیا ہے، اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ یہ بات مختلف حلقوں کی طرف سے کہی جاتی رہی ہے کہ موجودہ حکومت میں سی بی آئی کا استعمال اپنے سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے لئے بے دریغ انداز میں کیا گیا ہے۔ سی بی آئی ہی نہیں ای ڈی (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ) کے بارے میں بھی ایسی ہی باتیں مسلسل کہی جارہی ہیں۔ سیاسی دخل اندازی کا ہی نتیجہ ہے کہ سی بی آئی کی پیشہ وارانہ صلاحیتیں زنگ آلود ہوگئی ہیں۔ اس کا احساس گزشتہ دنوں اس وقت شدت کے ساتھ ہوا جب سی بی آئی نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے گمشدہ طالب علم نجیب کی تلاش کے معاملے میں اپنے ہاتھ کھڑے کردیئے۔ ہائی کورٹ نے نجیب کو تلاش کرنے کی ذمہ داری سی بی آئی کو سونپی تھی لیکن دوسال کی تفتیش کے باوجود سی بی آئی نجیب کو تلاش نہیں کرسکی اور اس نے عدالت سے اس معاملے کو بند کرنے کے بارے میں اجازت طلب کی جو اسے بے چون و چرا دے دی گئی۔ حالانکہ نجیب کی گمشدگی کا معاملہ ایسا تھا کہ اسے آسانی سے حل کیا جاسکتا تھا کیونکہ جن طلباء نے جے این یو میں نجیب سے ہاتھا پائی کی تھی وہ وہیں موجود تھے۔ زبردست دباؤکے بعد سی بی آئی نے ان سے پوچھ تاچھ بھی کی لیکن انہیں محض اس لئے ملزم نہیں بنایاگیا کیونکہ انہیں حکمراں جماعت کا آشیرواد حاصل تھا اور وہ سب حکمراں جماعت کی طلباء ونگ سے تعلق رکھتے تھے۔ 
 برتری کی جنگ کے دوران سی بی آئی کے افسران نے خود اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ ایجنسی میں ناجائز وصولی کا دھندا چل رہا ہے اور لوگوں کو دھمکیاں دے کر موٹی رقومات وصول کی جارہی ہیں۔ حالیہ ٹکراؤ کے بعد حکومت نے سی بی آئی ڈائریکٹر اور اسپیشل ڈائریکٹر کو چھٹی پر بھیج دیا اور ساری رات چلی کارروائی کے دوران سی بی آئی ہیڈکوارٹر کی گیارہویں اور بارہویں منزل کو بھی سیل کردیاگیا۔ کئی جونیئر افسران کو رخصت دے دی گئی۔ جوائنٹ ڈائریکٹر ایم ناگیشور راؤ کو سی بی آئی کا عبوری ڈائریکٹر بنایاگیا ہے جن کے بارے میں یہ کہاجاتا ہے کہ وہ سنگھ پریوار سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ سی بی آئی میں حالیہ پھیر بدل کے حوالے سے کہاگیا ہے کہ موجودہ ڈائریکٹر آلوک ورما چونکہ رافیل معاملے میں تحقیقات کی تیاری کررہے تھے، اس لئے انہیں عہدے سے ہٹایاگیا ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم رافیل معاملے میں بری طرح خوف زدہ ہیں اور انہوں نے اپنے جرم کی پردہ پوشی کے لئے سی بی آئی کے ڈائریکٹر کی چھٹی کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ وزیراعظم نے سی بی آئی سربراہ کو اس لئے ہٹایا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہوگیا تھا کہ ایجنسی رافیل معاملے میں جانچ شروع کرنے جارہی ہے۔ 
سی بی آئی میں شروع ہوئی خانہ جنگی کا معاملہ اب اس بات میں آکر الجھ گیا ہے کہ حکومت نے اپنی پوزیشن سنبھالنے کے لئے سی بی آئی ڈائریکٹر کو جبراً ہٹانے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ درست تھا یا نہیں۔ کیونکہ خود سی بی آئی ڈائریکٹر نے حکومت کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں یہ کہتے ہوئے چیلنج کیاہے کہ حکومت سی بی آئی کی خود مختاری میں دخل اندازی کررہی ہے اور اسے آزادانہ طورپر کام نہیں کرنے دیا جارہا ہے۔ سی بی آئی ڈائریکٹر کے اس موقف کو اپوزیشن کی مہم نے زبردست تقویت پہنچائی اور اب یہ تحریک پورے ملک میں پھیل گئی ہے کہ سی بی آئی کو سرکاری تسلط سے آزاد کرایاجائے۔ کانگریس پارٹی نے سی بی آئی ہیڈکوارٹر سے لے کر صوبائی سطح پر سی بی آئی کے دفاتر کے سامنے زوردار مظاہرے کئے ہیں اور اس معاملے میں حکومت کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت اپنے طورپر سی بی آئی ڈائریکٹر کو ہٹانے کا فیصلہ نہیں لے سکتی کیونکہ ڈائریکٹر کی تقرری وزیراعظم ، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس کی قیادت والی سلیکشن کمیٹی کی منظوری سے ہوتی ہے اور انہیں ہٹانے کا فیصلہ بھی یہی لوگ کر سکتے ہیں۔ آلوک ورما کی عرضی پر سپریم کورٹ نے سی بی آئی ، سی وی سی اور مرکز سے جواب طلب کرلیا ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے سی بی آئی کے عبوری ڈائریکٹر ایم ناگیشور راؤ کو پالیسی سازی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ لینے سے روک دیا ہے۔ ان کی تقرری کے بعد لئے گئے فیصلوں پر عمل آوری بھی روک دی گئی ہے اور سارے فیصلے ایک مہر بند لفافے میں عدالت کو سونپنے کا حکم دیاگیا ہے۔ سپریم کورٹ نے سابق جج اے کے پٹنائک کی نگرانی میں سی بی آئی افسران کے درمیان چل رہے الزامات اور جوابی الزامات کی سی وی سی جانچ کے احکامات دیئے ہیں اور دوہفتے کے اندر رپورٹ عدالت کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت دیوالی کے بعد یعنی 12نومبر طے کی گئی ہے۔ سی بی آئی کا بھانڈا ایک ایسے وقت میں پھوٹا ہے جب پانچ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سرپر ہیں۔ مودی سرکار بدعنوانی سے لڑنے کے بلندبانگ دعوے تو کرتی رہی ہے لیکن خود اس کی ناک کے نیچے سی بی آئی میں رشوت خوری کا جو بازار گرم تھا، وہ اس سے قطعی لاعلم تھی۔ اس پورے معاملے نے مرکزی حکومت کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں حکومت کو بہرحال اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ 

Ads