Jadid Khabar

رام مندر کیلئے قانون سازی کا مطالبہ

Thumb

اب یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی کے پاس 2019 کے عام انتخابات میں عوام کو گمراہ کرنے کے لئے رام مندر کے علاوہ کوئی موضوع نہیں ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے اپنی دسہرہ تقریر میں رام مندر بنانے کے لئے قانون سازی کا جو مطالبہ کیا ہے، وہ دراصل عدالت میں اپنی شکست تسلیم کرنے کا اعلان بھی ہے۔ چونکہ اس سے قبل موہن بھاگوت نے یہ کہا تھا کہ وہ ایودھیا تنازع میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی قبول کریں گے۔ بھاگوت نے رام مندر کے لئے قانون سازی کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب سپریم کورٹ میں ایودھیا تنازع پر حتمی سماعت شروع ہونے والی ہے۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ رائے دہندگان کو گمراہ کرنے کے لئے انتخابات سے قبل رام مندر کا راگ چھیڑا گیا ہے ۔ جب بھی الیکشن قریب آتے ہیں تو سنگھ پریوار کے وہی لوگ رام مندر کا راگ الاپنے لگتے ہیں جو پانچ سال تک اس موضوع پر آئیں بائیں شائیں کرتے رہتے ہیں۔ خود آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت بھی اسی صف میں شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ چار سال کے دوران کبھی اپنی وجے دشمی کی تقریر میں رام مندر کا ذکر نہیں کیا اور اب اچانک انہوں نے رام مندر کے ساتھ ساتھ ان تمام موضوعات کو ہوادے دی ہے جو تمام کے تمام سیاسی موضوعات ہیں۔ یوں تو آر ایس ایس خود کو ایک سماجی اور فلاحی تنظیم قرار دیتی ہے اور وہ سیاست سے اپنا دورکا واسطہ بھی تسلیم نہیں کرتی لیکن عملی طورپر آر ایس ایس وہ تمام کام انجام دیتی ہے جس کا سیاسی فائدہ بی جے پی کو حاصل ہو اور وہ انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار ہوسکے۔ 

موہن بھاگوت نے ناگپور میں واقع آر ایس ایس ہیڈکوارٹر پر جب اپنی وجے دشمی کی سالانہ تقریر کی تو وہاں مرکزی وزیر نتن گڈکری کے علاوہ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندرفرنویس بھی موجود تھے۔ بھاگوت نے اس موقع پر سرکار سے اپیل کی کہ وہ قانون بناکر ایودھیا میں را م مندر تعمیر کرنے کا راستہ صاف کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ’’ رام مندر کی تعمیر اپنے فخر کے نقطۂ نظر سے ضروری ہے اور مندر بننے سے ملک میں خیرسگالی اور یکجہتی کا ماحول پید اہوگا۔ ‘‘ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خود کو عقل وشعور کا مہارتھی سمجھنے والے موہن بھاگوت حد درجہ سادہ لوحی سے کام لے رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے مسئلے پر پارلیمنٹ سے قانون بنانے کی وکالت کررہے ہیں جو بنیادی طورپر حق ملکیت کے مسئلے کے طورپر ملک کی سب سے بڑی عدالت کے روبرو ہے۔ عدالت کو ثبوتوں کی بنیاد پر یہ طے کرنا ہے کہ جہاں 6دسمبر 1992 تک بابری مسجد ایستادہ تھی، اس اراضی کا مالک کون ہے۔ عدالت یہ بات بھی پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ وہ ایودھیا  تنازع کو کسی کے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق ملکیت کے ثبوتوں کی بنیاد پر طے کرے گی۔ ایسے میں پارلیمنٹ سے یکطرفہ طورپر کسی ایک فریق کے حق میں قانون سازی کا مطالبہ کرنا کہاں تک درست ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ اس معاملے میں بھی یہ واضح کرچکا ہے کہ حکومت کسی ایک مذہب کے تعلق سے قانون نہیں بناسکتی چونکہ یہ دستور کی دفعہ 14کی خلاف ورزی ہے۔ موہن بھاگوت رام مندر کی تعمیر کو اپنے فخر کے لئے لازمی قرار دے رہے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس سے ملک میں خیرسگالی اور یکجہتی کا ماحول پیدا ہوگا۔ آر ایس ایس کا معاملہ یہ ہے کہ اسے ہر ایسے کام پر فخر محسوس ہوتا ہے، جو وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور ان کے قانونی اور دستوری حقوق کو ہڑپنے کے لئے انجام دیتی ہے۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ زورزبردستی مسجد کی جگہ پر مندر تعمیر کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے قانون بننے کے بعد ملک میں خیرسگالی اور یکجہتی کیسے پیدا ہوگی؟ جبکہ ماضی میں ایودھیا تنازع کی وجہ سے ملک میں اتنا خون خرابہ اور تباہی وبربادی ہوچکی ہے کہ اس کی مثال آزاد ہندوستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس تنازع پر سنگھ پریوار کے جارحانہ رخ نے ملک میں خیرسگالی کے ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اگر اس معاملے میں حکومت نے آر ایس ایس کے دباؤ میں آکر قانون سازی کی طرف پیش قدمی کی تو اس سے ملک کی یکجہتی اور خیرسگالی خطرے میں پڑجائے گی۔ 
وجے دشمی پر اپنی سالانہ تقریر میں ایودھیا تنازع کے تعلق سے موہن بھاگوت نے جتنی بھی باتیں کہی ہیں، وہ حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ ان کی تقریر پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ یا تو احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں یا پھر انہوں نے اپنی حالت شترمرغ جیسی بنارکھی ہے۔ موہن بھاگوت کا یہ کہنا کہ رام جنم بھومی کی زمین کا الاٹ مینٹ ہونا باقی ہے اور ثبوتوں سے اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ اس جگہ پر ایک مندر تھا، قطعی ناقابل قبول ہے اور حقائق کے خلا ف ہے۔ بھاگوت نے یہ بھی کہا ہے کہ سیاسی دخل اندازی نہ ہوتی تو مندر بہت پہلے بن گیا ہوتا۔ انہوں نے اس میں رخنہ اندازی کرنے کے لئے فرقہ وارانہ سیاست کرنے والی انتہا پسند طاقتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے یہ بھی وارننگ دی کہ ’’بلاوجہ سماج کے صبر کا امتحان لینا کسی کے حق میں نہیں ہے۔ ‘‘ موہن بھاگوت کے اس بیان کو پڑھ کر کوئی بھی شخص اپنی ہنسی نہیں روک پائے گا کیونکہ  اس پر ’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘ والی کہاوت صادق آتی ہے۔ موہن بھاگوت جو الزامات اپنے مخالفین پر عائد کررہے ہیں ان کے لئے سب سے زیادہ قصوروار وہ خود ہیں۔ کیونکہ اس معاملے کو بگاڑ نے میں سب سے بڑا کردار سنگھ پریوار کے لوگوں کا ہے۔ موہن بھاگوت نہ جانے کس بنیاد پر یہ کہہ رہے ہیں کہ رام جنم بھومی کی زمین کا الاٹمنٹ ہونا باقی ہے اور وہاں ایک مندر ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ دراصل عدالت میں اس وقت جو معاملہ زیر غور ہے، اس میں اصل مسئلہ حق ملکیت کا ہے جس کا کوئی ثبوت موہن بھاگوت اینڈ کمپنی کے پاس نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ عدالتی کارروائی کو پس پشت ڈال کر حکومت سے اس معاملے میں قانون سازی کا مطالبہ نہیں کرتے۔ وہ حکومت پر قانون بنانے کا دباؤ اسی لئے ڈال رہے ہیں کہ ملکیت کا مقدمہ بابری مسجد کے پیروکاروں کے حق میں فیصل ہونے والا ہے۔ 
یہ بات بھی سبھی کو معلوم ہے کہ ایودھیا تنازع سنگھ پریوار نے خالص سیاسی مقاصد کے لئے کھڑا کیا تھا۔ کیونکہ 80کی دہائی سے قبل سنگھ پریوار نے اس معاملے پر نہ تو کوئی مطالبہ کیا اور نہ ہی کوئی تحریک چلائی۔ یہ معاملہ شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ سے مسلم مطلقہ قانون بننے کے بعد ہی کھڑا کیاگیا۔ یہ ایک طرح سے مسلمانوں سے سیاسی انتقام لینے کی سازش تھی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ موہن بھاگوت اس معاملے کو قومی مفاد سے جوڑ کر فرقہ وارانہ سیاست کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں جبکہ یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ اس معاملے پر فرقہ وارانہ سیاست کے سب سے بڑے مجرم خود سنگھ پریوار کے لوگ ہیں جنہوں نے قدم قدم پر قومی مفادات کا خون کیا ہے اور ملک کی یکجہتی اور اتحاد کو نقصان پہنچایا ہے۔ سیاسی حلقوں میں موہن بھاگوت کے بیان کا مطلب یہ نکالا جارہا ہے کہ وہ بدعنوانی ، مہنگائی اور لوٹ کھسوٹ کے الزامات میں گھری ہوئی مودی سرکار کو بچانے کے لئے ایودھیا تنازع کو بحث کے محور میں لانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ گزشتہ ساڑھے چارسال کے عرصے میں مودی سرکار نے عوام کو راحت پہنچانے کے لئے کوئی ایک کام بھی نہیں کیا ہے۔ ایسے میں رام مندر کے جذباتی موضوع کو اچھال کر ایک بار پھر عوام کو بے وقوف بنایاجاسکتا ہے اور ان کا ذہن اصل مسائل سے ہٹایاجاسکتا ہے۔ خود موہن بھاگوت نے گزشتہ پانچ سال کے دوران اپنی وجے دشمی کی تقریر میں کبھی رام مندر کا ذکر نہیں کیا۔ آر ایس ایس کی ویب سائٹ پر بھاگوت کی 2014 سے 2017تک کی تقریریں موجود ہیں۔ ان تقریر وں میں موہن بھاگوت نے ایک بار بھی رام مندر کا ذکر نہیں کیا اور اب ایک مہینے میں تیسری بار انہوں نے مندر کا راگ الاپا ہے۔ چارصوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سر پر ہیں اور عام انتخابات کی آمد آمد ہے۔ ایسے میں موہن بھاگوت کا را م مندر کا راگ پوری طرح سیاسی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے بھولے بھالے عوام سنگھ پریوار کی چالوں کو جتنا جلد ہوسکے سمجھ لیں اور موہن بھاگوت کے اشاروں پر کام کرنے والی مودی سرکار سے پچھلے ساڑھے چارسال کی ناکامیوں کا حساب طلب کریں۔ 

Ads