Jadid Khabar

گجرات میں علاقائی منافرت کا طوفان

Thumb

سماج میں جب نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں تو اس کے اثرات کسی ایک فرقے یا علاقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ نفرت پورے معاشرے کو جلا کر خاک کردیتی ہے۔ ہندتوا کی لیباریٹری گجرات میں آج کل شمالی ہندوستان کے مزدوروں کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک ہورہا ہے، وہ دراصل اسی منافرت اور تعصب کا نتیجہ ہے جو برسوں سے مذہب کے نام پر گجرات میں گھولی جارہی ہے۔ پہلے اس کا نشانہ مسلمان تھے لیکن اب اس نے ایک ایسا بھیانک روپ اختیار کرلیا ہے کہ اس سے سماج کا کوئی طبقہ محفوظ نہیں ہے۔ گجرات کی سرزمین پر مسلمانوں کا جینا تو برسوں سے حرام ہے لیکن اب وہاں یوپی اور بہار کے ان غریب باشندوں پر قہر ڈھایا جارہا ہے، جو دووقت کی روٹی کمانے کے لئے وہاں گئے ہیں۔حالانکہ شمالی ہند کے باشندوں کے ساتھ گجرات میں حالیہ شرمناک واقعات کا سبب ایک کمسن بچی کی آبروریزی کو بتایا جارہا ہے جس میں بہار کا ایک باشندہ ملوث ہے۔ فرد واحد کی اس غلطی کی سزا شمالی ہند کے تمام مزدوروں کو دینے کے لئے خوفناک بھیڑ سڑکوں پر امنڈ آئی اور لوگوں کو ہجومی تشدد کا شکار ہونا پڑا۔ یوں بھی اس قسم کا تشدد اب ہمارے ملک میں لوگوں کی فطرت ثانیہ بنتا جارہا ہے اور پورے ملک میں لنچنگ کرنے والے ایسے خوفناک گروہ وجود میں آچکے ہیں جو قانون کی دھجیاں اڑاکر کسی کو بھی اپنی وحشت اور درندگی کا نشانہ بناسکتے ہیں۔ 

28ستمبر کو گجرات کے سابرکانٹھا ضلع میں 14مہینے کی ایک کمسن بچی کے ساتھ جنسی تشدد کے بعد حالات خراب ہونے شروع ہوئے۔ اس کے بعد گجرات کے پانچ اضلاع گاندھی نگر، احمد آباد، پاٹن ، سابرکانٹھا اور مہسانا میں زبردست مظاہرے شروع ہوگئے اور یوپی ،بہار اور مدھیہ پردیش کے باشندوں کو نشانہ بنایا جانے لگا۔ کئی مقامات پر ان لوگوں پر جان لیوا حملے ہوئے۔ ان کے پیسے چھین لئے گئے اور انہیں گجرات سے بھگانے کے لئے ظالمانہ کارروائیاں انجام دی گئیں۔ جس کے نتیجے میں ریلوے اسٹیشنوں اور بس اڈوں پر یوپی اور بہار کے لوگوں کاہجوم اکٹھا ہوگیا۔ کہاجارہا ہے کہ اب تک 2لاکھ سے زیادہ مزدور گجرات چھوڑچکے ہیں۔ بڑودہ کے ایس پی کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک پیغام نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔ اس پیغام میں یہ کہاگیا تھا کہ ’’بیرونی مزدوروں کی وجہ سے مقامی مزدوروں کو کام نہیں مل رہا ہے اس لئے انہیں صوبے سے باہر جانا چاہئے۔‘‘ اس پیغام کے عام ہوتے ہی شمالی ہند کے مزدوروں پر حملوں میں اضافہ ہوگیا اور انہیں جابجا تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔ انتظامیہ نے ان حملوں کے سلسلے میں 50سے زائد ایف آئی آر درج کرنے اور حملوں میں شامل پانچ سو لوگوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر انتظامیہ نے  شمالی ہند کے مزدوروں پر حملے شروع ہونے کے بعد سخت کارروائی کی ہوتی تو نوبت یہاں تک نہیں پہنچتی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شمالی ہند کے مزدوروں پر زیادتی کرنے والوں کے ساتھ پولیس اور انتظامیہ نے نرمی برتی۔ شاید سرکاری مشینری بھی یہ چاہتی تھی کہ یوپی اور بہار کے مزدور گجرات کو خالی کردیں۔ یہی وجہ ہے کہ مفاد عامہ کی ایک عرضی پر گجرات ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو ان حملوں کے سلسلے میں ایک حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عرضی گزار وکیل کھیم چند کوشی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت دیگر صوبوں کے لوگوں کے دستوری حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اس معاملے میں صوبائی پولیس پر بھی بے عملی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ گجرات میں یوپی، بہار اور اڑیسہ جیسی ریاستوں کے ایک کروڑ سے زائد لوگ موجود ہیں۔ یہ لوگ گجرات کی تجارتی زندگی کا لازمی حصہ تصور کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مہسانا ، سابرکانٹھا اور اراول کے تقریباً 100تاجروں نے وزیراعلیٰ سے ان مزدوروں کے جان ومال کے تحفظ کی فریاد کی ہے۔ گجرات چیمبرس آف کامرس نے بھی حکومت کو ایک میمورنڈم سونپا ہے۔ 
بہ ظاہر یہ تشدد ایک کمسن بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد شروع ہوا تھا لیکن اس نے جس طرح ایک بھیانک روپ اختیار کیا اور یہ شمالی ہند کے مزدوروں کو گجرات سے باہر نکالنے کا ہتھیار بن گیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی زیادتی کا واقعہ تو محض ایک بہانہ تھا اور یہاں بہار اور یوپی کے مزدوروں کے خلاف نفرت اور تعصب کا لاوا پہلے سے ہی تیار ہورہا تھا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسی گجرات میں کیوں ہورہا ہے جسے ترقی کے ایک بے نظیر ماڈل اور ہندتوا کی لیباریٹری کے طورپر تیار کیاگیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جن ریاستوں کے مزدوروں کے ساتھ یہاں ظالمانہ سلوک کیاگیا ہے، وہاں بھی بی جے پی کی سرکاریں ہیں اور مرکز میں بھی ایک ایسی حکومت برسراقتدار ہے جو ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کا بلند بانگ نعرہ لگاتی ہے۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ کانگریس لیڈر الپیش ٹھاکر کی بیان بازی نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا ہے اور ان کے کارکنوں نے تشدد میں حصہ لیاہے لیکن الپیش ٹھاکر کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں انہیں اور ان کی ٹھاکر سینا کو بلاوجہ بدنام کیاجارہا ہے۔ انہوں نے ان حملوں میں بی جے پی کارکنوں کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ گجرات میں بی جے پی کی سرکار ہے اور اگر وہاں حالات کو بگاڑنے کا کام اپوزیشن لیڈروں نے انجام دیا ہے تو پھر ان کے خلاف اب تک قانونی کارروائی کیوں نہیں کی گئی ہے۔ گجرات کے وزیراعلیٰ نے شمالی ہند کے مزدوروں کے تحفظ کی یقین دہانی تو کرائی لیکن انہوں نے اس سلسلے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ 
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ ملک میں علاقائیت کی بنیاد پر لوگوں کے جذبات بھڑکائے گئے ہیں۔ گجرات سے قبل مہاراشٹر میں یہ کام شیوسینا انجام دیتی تھی اور وہاں ممبئی سے شمالی ہند کے مزدوروں کو بھگانے کے لئے تشدد کا سہارا لیا جاتا تھا۔ ممبئی میں یہ مہم اب ٹھنڈی پڑچکی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کام مہاراشٹر کی پڑوسی ریاست گجرات میں بی جے پی کارکنوں نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ ہر ترقی یافتہ صوبے کی ترقی میں دوسرے صوبوں کے باشندوں کا خون پسینہ شامل ہوتا ہے۔ یہی دراصل ہمارے ملک کا حسن بھی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں مذہب کے نام پر نفرت کا کاروبار کرنے والوں نے تمام ہندوستانیوں کے ذہنوں میں تعصب اور تنگ نظری کی جو پرورش کی ہے، وہ مختلف شکلوں میں اجاگر ہوتی ہے۔ یہ سوچ اب ہمارے ملک کے اتحاد اور یکجہتی کے لئے چیلنج بنتی جارہی ہے۔ گجرات میں شمالی ہند کے مزدوروں کو ڈرانے ، دھمکانے اور بھگانے کی جو مہم چلی ہے، وہ دراصل ہجومی تشدد کا انصاف ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں ملک کے اندر ہجومی تشدد نے ایک قسم کا جواز حاصل کرلیا ہے اور اس کے خوفناک نتائج ہم آئے دن دیکھ رہے ہیں۔ گجرات کی تازہ صورت حال جہاں سب سے زیادہ بہار کے لوگوں کی بے چارگی ظاہر کرتی ہے، وہیں گجرات کے عوام کے دلوں میں پنپ رہی نفرت کا بھی اظہار ہے۔ حالیہ تشدد میں سب سے زیادہ بہار کے مزدوروں کو ہی نشانہ بنایاگیا ہے۔ نتیش کمار اب گجرات بنام بہار کے ماڈل کی بحث کو ترک کرچکے ہیں۔ اس کے باوجود ملک کے ایک صوبے کو آگے بڑھانے اور دوسروں کو پیچھے رکھنے کا خمیازہ اس ملک کے دستور اور جمہوریت کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ گجرات کے لوگ خود کہہ رہے ہیں کہ وہاں کے کارخانوں میں مقامی لوگوں کو روزگار ملنا چاہئے نہ کہ بیرونی ریاست کے لوگوں کو۔ ان کا کہنا ہے کہ غصہ تو یہاں پہلے سے ہی موجود تھا لیکن سابر کانٹھا کے واقعہ کے نتیجے میں وہ ابل پڑا ہے۔ اس ملک کی نامکمل اور ناہموار صنعتی ترقی کا المیہ یہ ہے کہ بہار اور اترپردیش جیسے بڑے اور پسماندہ صوبے پورے ملک کو مزدور فراہم کرنے کی نرسری بن کر رہ گئے ہیں۔ ظاہر ہے گجرات میں پنپ رہی نفرت او رتعصب قابل مذمت تو ہے ہی لیکن یوپی اور بہار کی غریبی اور بدحالی بھی ناقابل برداشت ہے۔ ظاہر ہے ترقی کے عدم توازن کو دور کئے بغیر اس طرح کے حالات پید اہوتے رہیں گے اور پسماندہ صوبوں کے مزدور یوں ہی اس کا ایندھن بنتے رہیں گے۔ 

Ads