Jadid Khabar

بابری مسجد مقدمے کا آخری مرحلہ

Thumb

جسٹس رنجن گوگوئی نے سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ رخصت پذیر چیف جسٹس دیپک مشرا نے جاتے جاتے کئی ایسے فیصلے صادر کئے جن پر ملک میں بحث ومباحثے کا بازار گرم ہے۔ ہم جنسی کی آزادی کا معاملہ ہو یا پھر شادی شدہ عورتوں کو غیر مردوں سے تعلق قائم کرنے کی قانونی چھوٹ۔ عورتوں کے مندروں میں داخلے کا فیصلہ ہو یا پھر مسجد کو اسلام کا لازمی جزو نہ ماننے کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا معاملہ۔ یہ تمام ایسے موضوعات ہیں جن پر ملک میں اس وقت گرما گرم بحث ہورہی ہے اور لوگ ان فیصلوں کے سماج پر پڑنے والے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار بھی کررہے ہیں۔ نئے چیف جسٹس کے عہدہ سنبھالنے کے بعد اب سب کی نظریں ایودھیا کے تنازع پر مرکوز ہیں، جس کی سماعت کا آغاز آئندہ 29اکتوبر سے ہونے والا ہے۔ اس انتہائی اہم مقدمے کی سماعت کے لئے نئے چیف جسٹس ایک خصوصی بینچ تشکیل دیں گے جو آزاد ہندوستان کی تاریخ کے سب سے پیچیدہ اور سنگین مقدمے کی فیصلہ کن سماعت کرے گی۔ سپریم کورٹ کو اس معاملے میں بابری مسجد کے حق ملکیت پر اپنا فیصلہ صادر کرنا ہے۔ اس معاملے میں عدالت پہلے ہی یہ واضح کرچکی ہے کہ وہ اس مقدمے کو کسی کی آستھا یا عقیدے کی بجائے ملکیت کے ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر فیصل کرے گی۔ اب تک کی عدالتی کارروائی کی روشنی میں یہ بات کہی جاچکی ہے کہ بابری مسجد کی حق ملکیت کے تمام ثبوت مسلم فریق کے حق میں ہیں جبکہ مخالف فریق کا دعویٰ ہے کہ رام مندر چونکہ ان کی عقیدت اور آستھا کا معاملہ ہے جوکہ ثبوتوں کی بنیاد پر فیصل نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ فریق مخالف نے اس تنازع کو عدالت سے باہر گفتگو کی میز پر حل کرنے کی کئی ناکام کوششیں بھی کی ہیں۔ اب تک یہ معاملہ فریق مخالف کی ہٹ دھرمی اور دھاندلی کی وجہ سے گفتگو کی میز پر حل نہیں ہوپایا ہے چونکہ مخالف فریق دھونس ، دھمکی اور عددی برتری کی بنیاد پر مسلمانوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بابری مسجد کی اراضی سے دستبردار ہوجائیں۔ جبکہ مسلم فریق کا یہ واضح موقف ہے کہ ایودھیا کا تنازع بنیادی طورپر حق ملکیت کا تنازع ہے اور عدالت کو یہ طے کرنا ہے کہ بابری مسجد کی اراضی قانونی طورپر کس فریق کی ہے اور کون یہاں برسہا برس سے عبادت کرتا رہا ہے۔ 

بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے روبرو اس وقت 19ہزار دستاویزیں ہیں جن کا اسے مطالعہ کرنا ہے۔ ان ضخیم اردو اور فارسی دستاویزوں کو انگریزی میں ترجمہ کیاگیا ہے اور اس ترجمے کی وجہ سے ہی سپریم کورٹ میں اس کی سماعت میں تاخیر ہوئی ہے۔ ان دستاویزوں کے ساتھ ہی عدالتی بحث کی کاپی بھی پیش کی گئی ہے۔ کیونکہ دیوانی مقدمے کی سماعت کے دوران یہ دستاویز بھی بنیادی نوعیت کی حامل ہوتی ہیں۔ جب معاملے کی سماعت کا آغاز ہوگا تو فریقین اپنا اپنا موقف بیان کریں گے ۔ اس دوران مسلم فریق کا موقف اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہوگا کہ کیونکہ گزشتہ سال 5دسمبر کو جب سماعت شروع ہوئی تھی تو سنی سینٹرل وقف بورڈ کے وکیل کپل سبل نے یہ دلیل دی تھی کہ’’ یہ عام زمین کا تنازع نہیں ہے بلکہ یہ ایک بے حد اہم معاملہ ہے اور اس کا ہندوستانی سیاست پر گہرا اثر ہے۔ بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں رام مندر تعمیر کرانے کی بات کہی ہے ۔ ایسے میں معاملے کی سماعت جولائی 2019سے پہلے نہ کی جائے۔‘‘ کپل سبل کی اس دلیل کے پیچھے مقصد یہ تھا کہ بی جے پی اس معاملے پر عدالت کے فیصلے کو انتخابی موضوع بناسکتی ہے لہٰذا اس مقدمے کی سماعت کو عام انتخابات کے بعد تک کے لئے مؤخر کردیا جائے۔ بی جے پی نے چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کپل سبل کی اس دلیل کو ایک سیاسی موضوع میں تبدیل کردیا تھا اور اس معاملے میں بی جے پی کے رویے کو دیکھ کر چور کی داڑھی میں تنکے والی کہاوت صادق آئی تھی۔ بہرحال اس معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کانگریس نے سیاسی نفع ونقصان کے پیش نظر کپل سبل کو یہ رائے دی تھی کہ وہ خود کو اس مقدمے سے علیحدہ کرلیں۔ بی جے پی نے اس معاملے میں کانگریس کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیاتھا جبکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ کپل سبل عدالت میں ایک سینئر اور تجربے کار وکیل کے طورپر اپنے مؤکل کی پیروی کررہے تھے نہ کہ کانگریس پارٹی کی۔ 
ہم آپ کو یاددلادیں کہ ایودھیا کے اس تنازع میں چار بنیادی فریق ہیں۔ ان میں سنی سینٹرل وقف بورڈ کے علاوہ رام للا وراجمان ، نرموہی اکھاڑہ اور ہندومہاسبھا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دیگر انفرادی عرضیاں بھی عدالت کے روبرو ہیں۔ جن میں بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کی عرضی بھی شامل ہے جنہوں نے پوجا کے حق کا مطالبہ کیاہوا ہے۔ لیکن اس معاملے میں سب سے پہلے چار اصل فریقین کی طرف سے دلائل پیش کئے جائیں گے۔ نئے چیف جسٹس کی طرف سے تشکیل دی گئی بینچ یہ طے کرے گی کہ معاملے کی یومیہ سماعت ہو یا نہیں۔ واضح رہے کہ جب یہ معاملہ ہائی کورٹ میں آیا تھا تو وہاں 90دنوں تک فائنل بحث چلی تھی۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ عدالت کو فائنل دلیلوں کی سماعت میں دومہینے لگ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ 30ستمبر 2010کو الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے عجیب وغریب فیصلے میں کہاتھا کہ مسجد کے تین گنبدوں کے درمیان کا حصہ ہندوؤں کا ہوگا جہاں فی الحال رام للا کی مورتی رکھی ہوئی ہے۔ نرموہی اکھاڑہ کو دوسرا حصہ دیا گیا جس میں سیتا رسوئی اور رام چبوترہ شامل ہے۔ باقی ایک تہائی حصہ سنی سینٹرل وقف بورڈ کو دیاگیاتھا۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو ایک پنچایتی فیصلے سے تعبیر کیاگیا تھا اور اس پر کافی تنقیدیں بھی ہوئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کو تمام فریقوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ 9مئی 2011 کو سپریم کورٹ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگادی تھی اور جوں کی توں صورت حال برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔ اب سپریم کورٹ کی تین ججوں کی بینچ 29اکتوبر سے اس پر آگے سماعت کرے گی۔ حکمراں بی جے پی نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے بڑی امیدیں وابستہ کررکھی ہیں کیونکہ وہ اگلا لوک سبھا چناؤ رام مندر کے موضوع پر لڑنا چاہتی ہے۔ اپنے تمام انتخابی وعدوں میں ناکام بی جے پی عوامی ناراضگی اور غم وغصہ کو دور کرنے کے لئے اس جذباتی موضوع کو ایک بار پھر بحث کے محور میں لانا چاہتی ہے۔ اسی لئے سنگھ پریوار کے لوگ باربار رام مندر کی تعمیر کے موضوع کو اچھالتے ہیں اور عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ عدالت پہلے ہی یہ واضح کرچکی ہے کہ وہ اس مسئلے کو محض حق ملکیت کے تنازع کے طورپر فیصل کرے گی اور کسی کی آستھا یا عقیدے کو درمیان میں نہیں لائے گی۔ 
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ زمین کے تنازع کا فیصلہ اس کی ملکیت کی دستاویزوں کی روشنی میں ہونا چاہئے ۔ 1528میں تعمیر ہوئی بابری مسجد کی اراضی صدیوں سے مسلمانوں کے کنٹرول میں رہی ہے اور وہاں 22دسمبر 1949کی رات تک نماز بھی ادا کی جاتی رہی ہے۔ 1885میں عدالت نے مسجد سے ملحق اراضی پر ہندوؤں کو ایک چبوترہ تک بنانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس واقعہ سے متعلق تمام دستاویزات دستیاب ہیں۔ عدالت کو چاہئے کہ وہ بابری مسجد کی اراضی کا فیصلہ اس کے اصل حق داروں کے حق میں کرنے کے ساتھ ساتھ بابری مسجد کے ان مجرموں کو بھی سزائیں دلوانے کا انتظام کرے جنہوں نے اس کی ظالمانہ شہادت میں بنیادی کردار ادا کیا تھا ۔ پہلا مسئلہ 1949میں بابری مسجد کے اندر مورتیاں رکھ کر اس کے تقدس کو پامال کرنے کا ہے ،جو صریحاً جرم تھا۔ ایودھیا کے اس کے وقت کے ضلع مجسٹریٹ مسٹر کے کے نیّر نے مورتیاں وہاں سے فوری طورپر ہٹوانے سے انکار کردیا تھا اور وہ ریٹائر منٹ کے بعد بھارتیہ جن سنگھ میں شامل ہوگئے تھے۔ دوسرا اور سب سے سنگین جرم 6دسمبر 1992کو بابری مسجد کی شہادت کا جرم تھا۔ بی جے پی کے تمام سرکردہ لیڈروں کی موجودگی میں اس روز بابری مسجد دن کے اجالے میں شہید کردی گئی تھی اور یہ سب کچھ اس وقت کے یوپی کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ کی طرف سے سپریم کورٹ میں دیئے گئے اس حلف نامے کے باوجود ہوا تھا جس میں انہوں نے بابری مسجد کی حفاظت کی آئینی ذمہ داری نبھانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس سانحہ کی تحقیقات کرنے والے لبراہن کمیشن نے بابری مسجد کے انہدام کو ایک سازش سے تعبیر کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اتنے سنگین جرم کے قصورواروں کو سزا نہیں ملنی چاہئے۔ عدالت کو چاہئے کہ وہ بابری مسجد کی اراضی کا مقدمہ فیصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مجرموں کو بھی قرار واقعی سزا دینے کا انتظام کرے تاکہ بابری مسجد کے ساتھ حقیقی انصاف ہوسکے۔ 

Ads