Jadid Khabar

مسجد اسلام کا لازمی حصہ ہے

Thumb

سپریم کورٹ نے ایودھیا تنازع پر سماعت کے دوران اپنے اس فیصلے کو وسیع بینچ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے، جس میں کہاگیا تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنا اسلام کا لازمی جزو نہیں ہے۔ حالانکہ اس رولنگ کا بابری مسجد کے بنیادی مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے،لیکن پھر بھی شرپسند عناصر نے اسے بابری مسجد کے حقوق غصب کرنے کا ایک موقع سمجھ لیا۔ وہ بغلیں بجاکر یہ کہہ رہے ہیں کہ عدالت نے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر تعمیر کئے جانے کی راہ ہموار کردی ہے۔ سپریم کورٹ کی رولنگ کا آر ایس ایس اور وشوہندوپریشد جیسی فسطائی تنظیموں نے زوردار خیرمقدم کیا ہے۔ یہ اچھل کود عدالت کی اس وضاحت کے باوجود کی جارہی ہے کہ اس رولنگ کا بابری مسجد کی حق ملکیت کے مقدمے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جس کی سماعت سپریم کورٹ میں آئندہ 29اکتوبر سے شروع ہوگی۔ اس دوران بابری مسجد کی اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے عجیب وغریب فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیلوں پر بھی سماعت ہوگی۔ 

اس ملک کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ فرقہ پرست اور فسطائی طاقتیں اپنی من مانی تاویلوں سے عدالت اور قانونی نظام کو دباؤ میں لینے کی کوشش کرتی ہیں۔ حالانکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت یہ واضح کرچکی ہے کہ وہ ایودھیا تنازع کا فیصلہ کسی کی آستھا یا عقیدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق ملکیت کے ثبوتوں کی بنیاد پر کرے گی۔اس کے باوجود یہ کہاجاتا ہے کہ ایودھیا کا تنازع ہماری آستھا اور عقیدت کا سوال ہے اور اس قسم کے سوالات کو طے کرنا عدالت کے دائرۂ کار سے باہر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی جب عدالت کسی فرقے کی عبادت کے حق کو محدود کرکے اس کی عقیدت پر سوالیہ نشان کھڑی کرتی ہے تو وہی طاقتیں اس کا خیرمقدم کرنے لگتی ہیں۔ بابری مسجد درحقیقت اس ملک میں دستوراور قانون کے لئے ایک کسوٹی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس مسئلے کے ساتھ شروع دن سے جو کھلواڑ کیاگیا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ بابری مسجد کے دستوری اور قانونی حقوق کو جس انداز میں سلب کیاجاتارہا ہے اس کی آزاد ہندوستان کی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ 1949میں بابری مسجد کے اندر زور زبردستی مورتیاں رکھنے کا معاملہ ہو یا پھر 1986میں بابری مسجد کے دروازے عام پوجا پاٹ کی اجازت کے لئے کھولنے کا معاملہ۔ 1989 میں بابری مسجد کے روبرو رام مندر کا شیلا نیاس رکھنے کا واقعہ ہو یا پھر 1992 میں بابری مسجد کی ظالمانہ شہادت تک سبھی واقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ پانچ سو سالہ تاریخی عبادت گاہ کے ساتھ قانون اور عدلیہ آنکھ مچولی کھیلتے رہے ہیں اور سیاست دانوں نے اس کی آگ میں اپنی روٹیاں سینکی ہیں۔ 
واضح رہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد 7جنوری 1993 کو مرکزی حکومت نے ایک آرڈیننس جاری کرکے ایودھیا میں 67ایکڑ اراضی کو ایکوائر کرلیا تھا۔ اسی میں متنازع اراضی کا وہ حصہ بھی شامل تھا جہاں 6دسمبر 1992 تک بابری مسجد ایستادہ تھی۔ 1993 میں ہی بابری مسجد کی اراضی کو ایکوائر کرنے کے خلاف سپریم کورٹ میں اسماعیل فاروقی نے یہ کہتے ہوئے ایک عرضی دائر کی تھی کہ حکومت کسی مذہبی مقام کو اپنی تحویل میں کیسے لے سکتی ہے۔ 24اکتوبر 1994 کو سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ نے اسماعیل فاروقی کی عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے یہ عجیب وغریب تبصرہ کیا کہ مسجد میں نماز پڑھنا اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ بعد کو اس فیصلے پر نظرثانی کے لئے ایک عرضی دائر کی گئی اور ایودھیا معاملے کے ایک پیروکار محبوب صدیقی نے اسماعیل فاروقی معاملے میں 1994 کے فیصلے کے خاص نتائج پر اعتراض درج کرایا۔ 5دسمبر 2017 کو ایودھیا تنازع کی سماعت کے دوران مسلم فریق کے وکیل راجیودھون نے کہاکہ نماز پڑھنے کا حق بحال کیاجانا چاہئے کیونکہ نماز ادا کرنا مذہبی پریکٹس ہے اور اس سے کسی کو محروم نہیں کیاجاسکتا۔ 20جولائی 2018کو چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی بینچ نے اس معاملے میں فریقین کی بحث سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے 27ستمبر کو سنایاگیا ہے ۔ اس معاملے کو عدالت نے 7رکنی بینچ کے حوالے کرنے کی اپیل مسترد کردی ہے۔ 
قابل غور بات یہ ہے کہ مسجد کی مذہبی حیثیت سے متعلق یہ فیصلہ 3ججوں کی بینچ کے روبرو تھا جس میں جسٹس عبدالنظیر نے اس کے خلاف رائے دی ہے۔ جبکہ دوججوں نے اس معاملے میں کہا ہے کہ ایودھیا تنازع زمین کا تنازع ہے اور ایسے میں 1994 کے حکم میں کئے گئے نماز پر تبصرے سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اشوک بھوشن نے اکثریتی فیصلے میں کہاکہ اس دیوانی مقدمے کا فیصلہ مذہبی اہمیت کے پیش نظر نہیں ہوگا۔ انہوں نے مسلم فریق کی یہ دلیل تسلیم نہیں کی کہ 1994کا یہ تبصرہ مسجد میں نماز پڑھنے کے حق کو ختم کرنے جیسا لگتا ہے۔ ان دونوں ججوں سے اختلاف کرتے ہوئے بینچ کے تیسرے رکن جسٹس عبدالنظیر نے واضح طورپر کہاکہ’’ ہمیں مذہبی عقیدت کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا مسجد اسلام کا حصہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہاکہ’’ اس پر تفصیل سے غور کرنے کی ضرورت ہے اور اس معاملے کو بڑی بینچ کو بھیجا جانا چاہئے۔‘‘ جسٹس عبدالنظیر نے اس معاملے میں داؤدی بوہرا فرقے کی لڑکیوں کے ختنے کے معاملے کا بھی حوالہ دیا جسے مذہبی عقیدت کی بنیاد پر وسیع بینچ کے حوالے کیاگیا ہے۔ 
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے مسلم فریق کے اصرار کرنے پر 1994کے اپنے ہی تبصرے کو وسیع بینچ کے سپرد کرنے پر حامی کیوں نہیں بھری۔  جبکہ مسجد میں نماز کی ادائیگی کا تعلق مسلمانوں کے بنیادی عقیدے اور عبادت وریاضت سے ہے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ مسجد کی حیثیت اسلام میں ایک ایسے مرکز کی ہے جہاں مسلمان دن میں پانچ مرتبہ حاضر ہوکر اپنے پروردگار کے حضور میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ جس مذہب میں مسجد کو عبادت کے لئے مخصوص کیاگیا ہو اس کے بارے میں یہ کہنا کہ مسجد میں نماز پڑھنا اسلام کا حصہ نہیں ہے ایک عجیب وغریب اور ناسمجھ میں آنے والی منطق ہے ۔ یہ معاملہ ایک ایسے موقع پر روشنی میں آیا ہے جب عوامی مقامات پر مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روکا جارہا ہے اور نئی آبادیوں میں مسجدیں تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ آپ کو یادہوگا کہ گزشتہ کئی ماہ سے بی جے پی کے اقتداروالی ریاست ہریانہ میں عوامی مقامات پر مسلمانوںکو نماز کی ادائیگی سے روکا جارہا ہے۔ اس معاملے میں جب ہریانہ کے وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر سے رجوع کیاگیا تو انہوں نے کہاکہ عوامی مقامات نماز کے لئے نہیں ہیں لہٰذا مسلمان مسجدوں میں نماز ادا کریں۔ لیکن اسی ہریانہ کے گڑگاؤں شہر میں شیتلا کالونی کی مدینہ مسجد میں محض اس لئے انتظامیہ نے تالا ڈال دیا کہ مقامی ہندوؤں نے یہاں اذان کی آواز پر اعتراض درج کرایا تھا۔ دستور کی دفعہ 25میں دیگر اقلیتوں کے ساتھ مسلمانوں کو بھی اپنی عبادت گاہیں تعمیر کرنے اور ان میں نماز پڑھنے کی آزادی عطا کی گئی ہے۔ جسے مسلمان بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ مسجد مذہبی اور ثقافتی دونوں اعتبار سے اسلام کا لازمی جزو ہے۔ قرآن وحدیث میں متعدد مقامات پر اسلام میں مسجد کی اہمیت کو اجاگر کیاگیا ہے اورمسلمانوں کو پنج وقتہ نمازوں کے لئے مسجد میں اکٹھا ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔یہ عمل پوری دنیا میں اسلام کے آغاز سے مسلسل چلا آرہا ہے۔غرض یہ کہ مسجدوں سے مسلمانوں کا دینی اور جذباتی تعلق اس نوعیت کا ہے کہ اسے لفظوں میں بیان نہیں کیاجاسکتا۔ لیکن موجودہ جابرانہ نظام میں مسلمانوں کا قافیہ اس حد تک تنگ کیاجارہا ہے کہ انہیں اپنے مذہبی اور دستوری حقوق کی ادائیگی سے بھی دور کردیاجائے۔ سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ میں جسٹس عبدالنظیر کے یہ اختلافی جملے یاد رکھنے کے قابل ہیں کہ’’ مذہب کے لحاظ سے کیا ضروری ہے اس پر اسماعیل فاروقی معاملے میں کسی وسیع مطالعے کے بغیر نتائج اخذ کئے گئے ہیں۔ اس معاملے میں جو تبصرہ شبہ کے گھیرے میں تھا اسے ہی بنیاد بناکر الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایودھیا تنازع میں اپنا فیصلہ صادر کیا تھا۔‘‘ جسٹس عبدالنظیر نے مزید کہاہے کہ’’ اس کا مطلب اسماعیل فاروقی معاملے کو 1954 کے شرور مٹھ معاملے کے پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ اس معاملے میں پانچ ججوں والی بینچ نے کہا تھا کہ کسی مذہب کی صحیح پریکٹس کیا ہے ، یہ کوئی بیرونی ایجنسی نہیں طے کرے گی بلکہ اسے مذہبی لوگ طے کریں گے۔‘‘ 

Ads