Jadid Khabar

طلاق ثلاثہ پر آرڈیننس کا ہتھکنڈ۱

Thumb

آخر کار وہی ہوا جس کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ مودی سرکار نے اپنی ضد کو پورا کرتے ہوئے طلاق ثلاثہ کو قابل سزا جرم قرار دینے سے متعلق قانون کو آرڈیننس کے ذریعے نافذ کردیا ہے۔ حکومت  نے اسے لوک سبھا میں اپنی اکثریت کے بل پر پہلے ہی پاس کرالیا تھا لیکن راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی مخالفت کی وجہ سے یہ بل وہاں پیش نہیں ہوسکا۔ لہٰذا مودی کابینہ نے اسے آرڈیننس کی شکل میں نافذ کردیا اور اسی وقت صدرجمہوریہ نے بھی اس پر اپنی مہرلگادی۔ مودی سرکار کا دعویٰ ہے کہ اس آرڈیننس کے پاس ہونے سے ہندوستان میں مسلم خواتین کو بڑی راحت ملے گی اور جو خواتین طلاق ثلاثہ کی شکار ہوتی ہیں انہیں انصاف ملے گا۔ لیکن اگر آپ اس قانون کا سرسری مطالعہ بھی کریں تو واضح ہوتا ہے کہ یہ قانون دراصل مسلم خواتین کے لئے نئی مصیبتوں کو دعوت دینے والا ہے اور یہ ان کی زندگی کو جہنم میں بدلنے والا قانون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ اور شریعت کے دیگر ماہرین نے اسے غیر جمہوری ، غیر دستوری اور پارلیمنٹ کی توہین کرنے والا قانون قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ 

مودی سرکار کا خیال ہے کہ اس نے آرڈیننس جاری کرکے مسلم خواتین کا دل جیت لیا ہے اور آئندہ انتخابات میں تمام مسلم خواتین بی جے پی کی جھولی ووٹوں سے بھردیں گی۔ یعنی یہ اقدام کرکے مودی سرکار نے آدھی مسلم آبادی کو اپنا ووٹربنالیا ہے۔ اسی کے پیش نظر اس قانون کو نافذ کرنے کے سلسلے میں حکومت نے غیر معمولی عجلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے سامنے فی الوقت یہی سب سے بڑا مسئلہ تھا جس کے حل ہوتے ہی ملک میں ہر طرف خوشحالی چھا جائے گی۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پانچ اسمبلیوں کے انتخابات سے قبل حکومت نے یہ ایک بہت بڑا داؤ کھیلا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس اقدام سے بی جے پی کو کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ اس اقدام سے اپنے ان فرقہ پرست ووٹروں کو خوش کرنے میں کامیاب ضرور ہوجائے گی جو مسلم دشمنی کے ہرکام سے توانائی حاصل کرتے ہیں۔ بی جے پی نے اپنی فرقہ وارانہ سیاست سے ملک میں ایک ایسا طبقہ پیدا کردیا ہے جو مسلمانوں کو جسمانی ، ذہنی اور جذباتی سطح پر تکلیف میں مبتلا دیکھ کر بڑی راحت محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار کے تمام عوام دشمن اقدامات کے باوجود یہ طبقہ اس بات سے خوش ہے کہ اس حکومت نے مسلمانوں کو ’سیدھا ‘ کردیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت میں جس وسیع پیمانے پر مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ہوئی ہے، اس کی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ 
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اس وقت ملک شدید قسم کے بحران کا شکار ہے۔ جس وقت طلاق ثلاثہ کو قابل سزا جرم قرار دینے سے متعلق آرڈیننس جاری کیاگیا ہے، اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پورے ملک میں ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ مہنگائی ، بے روزگاری اور کسادبازادی نے لوگوں کا جینا محال کردیا ہے۔ بینکوں کو ہزاروں کروڑ کا چونا لگاکر فرار ہونے والے وجے مالیا کو ملک سے بھگانے اور اس کے خلاف گرفتاری وارنٹ کو ہلکا کرنے کے الزامات خود وزیراعظم اور وزیرخزانہ پر لگ رہے ہیں۔ حکومت رافیل ڈیل معاملے میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ غرض یہ کہ یہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہے اور ایسے میں چارصوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سرپر ہیں۔ لہٰذا لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لئے طلاق ثلاثہ کو قابل سزا جرم قرار دینے سے متعلق آرڈیننس نافذ کردیاگیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حکومت نے طلاق ثلاثہ سے متعلق قانون بناتے وقت مسلمانوں سے کوئی صلاح ومشورہ نہیں کیا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ تو کجا اس معاملے میں کسی ایسے وکیل کو بھی اعتماد میں نہیں لیاگیا جو شریعت کی معمولی جانکاری بھی رکھتا ہو۔ اس قانون کو بنانے کے لئے مرکزی وزیروں اور افسران کی جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس میں بھی کوئی شرعی قوانین کا جانکار دوردور تک موجود نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون میں ایسی ظالمانہ دفعات درآئی ہیں جو سراسر مسلم خواتین کے بنیادی حقوق کو غصب کرنے کا کام کرتی ہیں۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت طلاق شدہ مسلم خواتین کے گزارے کے لئے کوئی سرکاری فنڈ قائم کرے لیکن اسے بھی منظور نہیں کیاگیا۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ تین طلاق دینے والا شوہر جب فوری طورپر تین سال کے لئے جیل چلاجائے گا تومتاثرہ عورت اور اس کے بچوں کی گزربسر کیسے ہوگی۔ اول تو طلاق ہی واقع نہیں ہوگی چونکہ سپریم کورٹ پہلے ہی تین طلاق کو غیر آئینی اور غیرقانونی قرار دے چکا ہے۔ لہٰذا طلاق نہ ہونے کی صورت میں بھی شوہر کو تین سال کی سزا بھگتنی ہوگی۔ ایسی صورت میں بیوی دوسری شادی بھی نہیں کرسکتی اور اس کے سامنے اپنے شوہر کے جیل سے واپس آنے کا انتظار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہوگا۔ لہٰذا ایسے میں تین سال تک وہ عورت اور اس کے بچے اپنا گزارہ کیسے کریں گے اور ان کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ اگر عدالت نے گزربسر کی ذمہ داری طلاق دینے والے شوہر پر عائد کی تو وہ جیل میں رہ کر یہ کام کیسے انجام دے گا؟ 
حکومت نے طلاق ثلاثہ بل پر آرڈیننس جاری کرتے وقت اگرچہ اس میں وہ تین ترمیمات شامل کرلی ہیں جن کا اعلان راجیہ سبھا میں بل پیش کرنے سے قبل کیاگیا تھا۔ لیکن قانونی طورپر وہ بھی اتنی ناقص اور فضول ہیں کہ ان سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ وزیراعظم نریندرمودی کی صدارت میں ہوئی کابینہ میٹنگ میں جو آرڈیننس منظورکیاگیا ہے، اس کی روسے بیوی کو زبانی ، تحریری یا برقی ذرائع سے طلاق دینا غیر قانونی ہوگا۔ اس کے لئے تین سال کی سزا اور جرمانے کا التزام ہے ۔ نابالغ بچے کی پرورش کی ذمہ داری متاثرہ کو ملے گی اور شوہر متاثرہ اور نابالغ بچے کے نان نفقہ کے لئے مجسٹریٹ کے ذریعے رقم طے کرے گا۔ نئی ترمیم کے مطابق طلاق کے معاملے میں پولیس صرف خود متاثرہ یا اس کے خونی رشتہ داروں کی شکایت پر ہی کارروائی کرے گی۔ پہلے اس میں یہ التزام تھا کہ کوئی پڑوسی بھی طلاق دینے والے شوہر کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کراسکتا ہے۔ اس معاملے میں سمجھوتے کا بھی التزام کیاگیا ہے۔ جس کا حق صرف مجسٹریٹ کو ہوگا کہ وہ مناسب شرائط پر شوہر اور بیوی کے درمیان سمجھوتہ کرا سکتا ہے۔ مجسٹریٹ کو یہ حق بھی دیاگیا ہے کہ وہ متاثرہ کا موقف سننے کے بعد ملزم شوہر کو ضمانت دے سکتا ہے۔ حالانکہ اس قانون کے تحت ہوئی گرفتاری کی ضمانت تھانے سے ملنا ممکن نہیںہوگا۔ 
حکومت کا دعویٰ ہے کہ مسلم خواتین کو انصاف دلانے اور ان کی صنفی مساوات برقرار رکھنے کے لئے اس طرح کا قانون بے حد ضروری ہوگیا تھا۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد کا کہنا ہے کہ تین طلاق 22مسلم ملکوں میں غیر قانونی ہے۔ ایسے میں ہندوستان جیسے سیکولرملک میں اسے کیسے برداشت کیاجاسکتا ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ حکومت تین طلاق کے معاملے کو سیاسی فٹبال کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ شادی اسلامی قوانین کے تحت ایک سماجی معاہدہ ہے۔ اسے فوجداری قانون کے تحت لانا کہاں تک درست ہے۔ تین طلاق دینے والا شخص کسی قانونی یا عدالتی چارہ جوئی کے بغیر تین سال کے لئے جیل چلاجائے گا۔ ایسا تو قتل کے معاملے میں بھی نہیں ہوتا ہے کہ قتل کرنے والا فوراً عمر قید کے لئے جیل بھیج دیاجائے۔ اس کے مقدمے کی باقاعدہ پیروی ہوتی ہے اور اسے اپنے دفاع کا پورا حق دیا جاتا ہے لیکن طلاق ثلاثہ کو قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم بنادیاگیا ہے کہ طلاق دینے والا کسی عدالتی چارہ جوئی کے بغیر تین سال کے لئے جیل بھیج دیاجائے گا۔ اس مسئلے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کے ایک مسلک میں آج بھی تین طلاق واقع ہوجاتی ہے جبکہ سپریم کورٹ نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق یہ طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ ایسا کرنا قانونی اور دستوری طورپر جرم ہے۔ لہٰذا ان حالات میں شریعت، عدالت اور قانون کے درمیان جو ٹکراؤ پیدا ہوگیا ہے اس کے ازالے کی کیا صورت ہوگی۔ یہی بنیادی سوال ہے۔ 

Ads