Jadid Khabar

مسجدوں میں تالا بندی کیوں؟

Thumb

راجدھانی دہلی سے متصل ریاست ہریانہ اس وقت ہندتو کی لیباریٹری کے طورپر فروغ پانے والی ریاستوں میں سرفہرست ہے۔ یہاں بی جے پی سرکار کی سرپرستی میں وہ تمام کام انجام دیئے جارہے ہیں جس سے مسلمان خود کو دوئم درجے کا شہری تصور کریں۔ یوں تو پچھلے کئی ماہ سے ہریانہ کے شہر گڑگاؤں میں مسلمانوںکو جمعہ کی نماز ادا کرنے سے روکا جارہا ہے لیکن اب انتظامیہ نے ایک قدم آگے بڑھ کر ایک مسجد میںہی تالا ڈال دیا ہے۔ یہ وہ مسجد ہے جسے مسلمانوں نے باقاعدہ زمین خرید کر تعمیر کر ایا تھا اور جہاں پچھلے چارسال سے نماز پنج گانہ ادا کی جارہی تھی۔ شرپسندوں نے مسجد میں نماز رکوانے کے لئے اذان کے سوال پر ہنگامہ کھڑا کردیا اور کہاکہ مسجد کے میناروں سے بلند ہونے والی اذانیں ان کے آرام میں خلل ڈالتی ہیں، لہٰذا لاؤڈاسپیکر اتاردیاجائے۔ مسجد کمیٹی نے برادران وطن کی تکلیف کا خیال کرتے ہوئے مائیک چھت سے اتار کر نیچے رکھ بھی دیا تھا اور آہستگی سے اذان دی جارہی تھی۔ لیکن شرپسندوں کو اذان سے نہیں بلکہ مسجد سے بیر تھا لہٰذا انہیں ا س وقت تک چین نہیں آیا جب تک کہ انہوں نے انتظامیہ کو دباؤ میں لے کر یکطرفہ کارروائی کراکے مسجد کو سیل نہیں کرادیا۔ اس سلسلے میں نہ تو مسجد کمیٹی کو کوئی نوٹس دیا گیا اور نہ ہی انہیں ایسا کرنے کے بارے میں مطلع کیاگیا۔گڑگاؤں کی جس شیتلا کالونی میں یہ مسجد بنائی گئی ہے، وہاں مسلمانوں کے تقریباً 300مکانات ہیں۔اس کالونی میں مندر، گردوارے اور چرچ جیسی عبادت گاہیں موجود ہیں لیکن تالا بندی کی کارروائی صرف مدینہ مسجد پر کی گئی ہے۔87گز کی یہ مسجد باقاعدہ زمین خرید کر اور سرکاری ضابطوں کو پورا کرکے بنائی گئی ہے۔ انتظامیہ نے مسجد میں تالا ڈالنے کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ’’ یہ مسجد چونکہ ہندوستانی فضائیہ کے بارود خانے کے تین سومیٹر کے دائرے میں آتی ہے لہٰذا یہاں سیکورٹی کے نقطہ نظر سے نماز کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘ جبکہ اس مسجد کے آس پاس تعمیر کی گئی درجنوں عمارتوں کو یوں ہی چھوڑ دیاگیا ہے اور ان پر کسی قسم کا اعتراض درج نہیں کرایاگیا ہے۔ 

ریاست ہریانہ میں بی جے پی کی سرکار بننے کے بعدسے ہی مسلسل ایسی اشتعال انگیز کارروائیاں انجام دی جارہی ہیں جو مسلمانوں کو خوف وہراس میں مبتلا کرنے کے لئے کافی سے زیادہ ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ چھ مہینے قبل ہریانہ کے شہر گڑگاؤں میں کھلے مقامات پر نماز جمعہ کی ادائیگی روک دی گئی تھی۔ سائبر سٹی کے طورپر شہرت پانے والے اس جدید شہر میں ہزاروں مسلمان ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازمت کرتے ہیں اور ہزاروں مسلمان مزدور یہاں تعمیراتی کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ہرجمعہ کو آس پاس کے خالی پلاٹوں پر انتظامیہ کی اجازت سے جمعہ کی نماز ادا کررہے تھے لیکن ایک دن اچانک انتہا پسند ہندو تنظیموں کے اراکین نے یہاں جمعہ کی نماز کے دوران دھاوا بول کر انہیں نماز پڑھنے سے روک دیا۔ وہاںموجود پولیس نے اس موقع پر کوئی مداخلت نہیںکی اور شرپسندوں کے دباؤ میں آکرمسلمانوں سے کھلے میدانوں میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے منع کر دیا۔ بعد کو جب اس معاملے میں ہریانہ سرکار کی بدنامی ہوئی تو اس نے مقامی مسلمانوں اور شرپسندوں کو ساتھ بٹھاکر ایک نمائشی معاہدہ کیا اور نماز جمعہ کی ادائیگی چند خالی پلاٹوں تک محدود کردی۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہاگیا کہ مسلمان خالی پلاٹوں کی بجائے نجی عمارتوں اور مسجدوں میں نمازاداکریں۔ ایک بڑاالمیہ یہ ہے کہ ہریانہ میں سینکڑوں تاریخی مسجدیں ویران پڑی ہوئی ہیں جہاں انتظامیہ مسلمانوں کو نماز کی اجازت نہیں دیتی۔ یہ مسجدیں آزادی سے قبل وہاں آباد مسلمانوں نے بڑے شوق سے تعمیر کی تھیں لیکن ملک کی تقسیم کے نتیجے میں یہ علاقے مسلم آبادیوں سے خالی ہوگئے۔ اب مسلمانوں نے نئی جگہوں پر پلاٹ خرید کر وہاں مسجدیں تعمیر کرنا شروع کی ہیں تو ان میں سیکورٹی مقاصد کے تحت نماز پر پابندی عائد کی جارہی ہے۔ گڑگاؤں کی شیتلا کالونی میں واقع مدینہ مسجد کا معاملہ بھی اسی تعصب ، تنگ نظری اور مسلم دشمنی کی پیداوار ہے۔
ہم آپ کو یاددلادیں کہ یہ وہی ہریانہ ریاست ہے جہاں دوسال قبل صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ کیاتھا کہ عدالتی کارروائی میں استعمال ہونے والے اردو اور فارسی کے الفاظ کو خارج کرکے ان کی جگہ ہندی الفاظ استعمال کئے جائیں۔ فارسی اور اردو کے الفاظ کو عدالتی کارروائی سے خارج کرنے کا جواز یہ پیش کیاگیا تھا کہ ان الفاظ کے استعمال سے بدعنوانی کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ ایک بدعنوان حکومت اور اس کا بدعنوان انتظامیہ اپنی بدکاریوں کا الزام ایسی زبانوں پر عائد کررہا تھا جنہوں نے دنیا کو تہذیب اور شائستگی کا سبق پڑھایاہے۔ اردو اور فارسی کے جن الفاظ کے استعمال سے انسان مہذب اور باشعور تصور کیاجاتا ہے، وہ ہریانہ سرکار کی بھینگی نظر میں بدعنوانی کو فروغ دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر المیہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ جب سے ملک میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی ہے ،تب سے ہر اس چیز کو مٹانے اور ختم کرنے کی کوششیں عروج پر ہیں جن کا تعلق مسلمانوں کی تاریخ ، تہذیب اور تمدن سے ہے۔مسلم مجاہدین آزادی کے ناموں سے موسوم پارکوں  اور مسلم بادشاہوں کے ناموں پر بننے والی سڑکوں اور دیگر مقامات کے نام تیزی کے ساتھ تبدیل کئے جارہے ہیں۔ حال ہی میں لکھنؤ میں مایہ ناز مجاہد آزادی بیگم حضرت محل کے نام سے موسوم حضرت محل چوک کا نام بدل کر اٹل چوک کردیاگیا ہے۔ مسلمانوں کے ناموں اور کاموں کو مٹانے میں مصروف متعصب اور تنگ نظر عناصر اس حقیقت کو نہیں جانتے کہ اگر اس ملک سے مسلم تاریخ ، تہذیب اور تمدن کو مٹادیاگیا تو یہاں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ 
گڑگاؤں کی شیتلا کالونی میں واقع مدینہ مسجد میں سرکاری تالابندی سے مقامی مسلمان شدید غم وغصہ میں ہیں اور انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر مدینہ مسجد کو نماز کے لئے نہیں کھولا گیا تو وہ خودسوزی کرلیں گے۔ گڑگاؤں میونسپل کارپوریشن نے جس عدالتی فیصلے کا سہارا لے کر مسجد میں تالابندی کی ہے وہ فیصلہ 2015میں آیا تھا۔ جس میں یہ کہاگیا تھا کہ ہندوستانی فضائیہ کے بارود خانے کے 300میٹر کے علاقے میں کوئی عمارت تعمیر نہیں کی جائے گی۔ لیکن جس مدینہ مسجد کو سیل کیاگیا ہے، وہ اس عدالتی فیصلے سے قبل تعمیر ہوئی تھی۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک مسجد کے میناروں سے بلند ہونے والی اذان اور یہاں ادا کی جانے والی نماز سے آخر فضائیہ کے بارود خانے کو کیا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے یہ محض ایک متعصبانہ کارروائی ہے اور اس کا مقصد فرقہ پرست اور فسطائی تنظیموں کی خوشنودی حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ گڑگاؤں کی مدینہ مسجد میں تالا بندی سے قبل اسی قسم کی کارروائی پچھلے دنوں مشرقی دہلی کے برہم پوری علاقے میں انجام دی گئی تھی۔ اس علاقے کی ایک گلی میں مسلمانوں نے نماز کی ادائیگی کے لئے ایک مکان کو مسجد کے طورپر استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ لیکن برادران وطن نے اس پر اتنا بڑا اعتراض درج کرایا کہ پولیس نے کچھ سوچے سمجھے بغیر مسجد میں تالا ڈال دیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ برہم پوری کی اس گلی میں مسلمانوں کے 47مکانات ہیں جبکہ غیر مسلموں کے محض 14مکانات ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روک دیا گیا۔ ملک میں اس قسم کی عدم برداشت والی وارداتیں روزبروز بڑھتی جارہی ہیں اور حکومت انہیں روکنے کی بجائے شرپسندوں کے آگے گھٹنے ٹیک رہی ہے۔ مسلمانوں کو عبادت وریاضت سے روکنا اس ملک کے سیکولر جمہوری دستور میں حاصل مذہبی آزادی کے صریحاً خلاف ہے۔ ایک ایسی حکومت جو ’سب کا ساتھ اور سب کا وکاس‘ کا نعرہ ایجاد کرکے اقتدار میں آئی تھی اور جس نے آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا تھا وہ کھلے عام مسلمانوں کے دستوری ، جمہوری اور انسانی حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ یہ صورت حال ملک کے لئے انتہائی سنگین اور پریشان کن ہے۔ درحقیقت مسلمانوں کو عبادت وریاضت سے دور کرکے انہیں ہندتو میں ضم کرنے کی کوششیں برسہا برس سے جاری ہیں اور اب مکمل اقتدار حاصل کرنے کے بعد آر ایس ایس کی ان کوششوں میں حیرت انگیز اضافہ محسوس کیاجارہا ہے۔ 

Ads