Jadid Khabar

انسانی حقوق کے کارکنوں پر شب خون

Thumb

انسانی حقوق کے پانچ سرکردہ کارکنوں کی چھاپہ مار کارروائی میں گرفتاری نے پورے ملک میں تشویش کی لہر پیدا کردی ہے۔ جن لوگوں کو نکسلی تشدد اور انتہا پسندی کو فروغ دینے کے الزام میں گرفتار کیاگیا ہے، انہوں نے اپنی زندگی سماج کے مظلوم انسانوں کے حقوق کے لئے وقف کررکھی ہے۔ یہ پانچوں کارکن بائیں بازو کے نظریات سے تعلق رکھتے ہیں اور حکومت کی بیشتر باتوں سے متفق نہیں ہیں۔ موجودہ نظام میں اختلاف رائے کو ایک جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ جو کوئی حکومت کی کارکردگی پر سوال قائم کرتا ہے، اسے ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بظاہر ملک میں جمہوریت کی حکمرانی ہے ۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم بہت تیزی کے ساتھ ایک ایسے فاشسٹ نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس میں آزادانہ طورپر لکھنے اور بولنے کی آزادی سلب کی جارہی ہے۔ موجودہ حکومت کے ایجنڈے میں جن لوگوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کا ہدف شامل ہے، ان میں ملک کی اقلیتیں اور بائیں بازو کی طاقتیں سرفہرست ہیں۔ باربار ایمرجنسی کے مظالم کی یاددہانی کرانے والی مودی سرکار ایسی کارروائیاں انجام دے رہی ہے، جو ایمرجنسی میں بھی انجام نہیں دی گئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے موجودہ حالات کو دانشوروں نے ایمرجنسی سے بھی زیادہ خطرناک اور مہلک قرار دیا ہے۔ خود ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اختلاف کی آوازوں کو خاموش کرنے کے خلاف انتباہ دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اختلاف جمہوریت کا’ سیفٹی والوو‘ہے ۔ اگر سیفٹی والوو کی سہولت نہیں دیں گے تو پریشر کوکر پھٹ جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے پانچوں کارکنوں کو پولیس حراست کے بجائے ان کے گھروں میں ہی نظربند رکھنے کا حکم دیا۔عدالت کے اس حکم کے بعد مہاراشٹر پولیس الٹے پاؤں ان لوگوں کو ان کے ٹھکانوں کی طرف لے کر واپس پہنچی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس مقدمے کے سلسلے میں انہیں گرفتار کیاگیا تھا، اس میں کہیں ان کا نام شامل نہیں تھا۔ ان لوگوں کی گرفتاری کے اگلے روز پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ مہاراشٹر کے بھیما کوریگاؤں تشدد کیس میں پولیس کو ان کی تلاش تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایلگار پریشد اور نکسلیوں سے رابطوں کی تحقیقات کے بعد کی گئی ہے۔ ایلگار پریشد کے پروگرام میں گزشتہ سال 31دسمبر کو تشدد برپا ہوا تھا۔ پولیس نے اس کے پیچھے نکسلیوں کا ہاتھ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس سلسلے میں جو گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں، اس کے بارے میں پونہ پولیس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ملزم سے دستیاب ہونے والے ایک خط میں لکھا تھا کہ’’ نریندرمودی ہندو وادی لیڈر ہیں اور ملک کے 15صوبوں میں ان کی حکومت ہے۔ وہ اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو باقی پارٹیوں کے لئے مشکل بڑھ جائے گی۔ ایسے میں مودی کے لئے سخت قدم اٹھانے ہوں گے۔ اس لئے کچھ کامریڈوں نے کہا ہے کہ راجیوگاندھی کے قتل جیسی کارروائی انجام دینی ہوگی۔‘‘ آپ کو یادہوگا کہ اس خط کے منظرعام پر آنے کے بعد وزیراعظم کی سیکورٹی غیر معمولی طورپر سخت کردی گئی ہے۔ تاہم اس خط کی معتبریت پر اب بھی سوالیہ نشان قائم ہے۔

مہاراشٹر پولیس نے نکسلی رابطوں کے سلسلے میں جن پانچ کارکنوں کو گرفتار کیا ہے، وہ سب کی سب معروف ہستیاں ہیں۔ ان میں وکیل ، پروفیسر اور صحافی بھی شامل ہیں۔فرید آباد سے گرفتار کی گئی وکیل سدھاراؤ چھتیس گڑھ میں مظلوموںکی داد رسی کے لئے پہچانی جاتی ہیں۔ حیدرآباد سے گرفتار دوسرے ملزم پی وروراراؤ ایک شاعر ہیں اور بائیں بازو کے مفکر کے طورپر جانے جاتے ہیں۔ تھانے سے گرفتار تیسرا نام ارون فریرا کا ہے جو پیشے سے وکیل ہیں اور انسانی حقوق کے لئے کام کرتے ہیں۔ ممبئی سے گرفتار چوتھا نام ویرنان گونسلویز کا ہے جو ممبئی یونیورسٹی کے گولڈ میڈلسٹ ہیں۔ وہ جیل سدھار اور قیدیوں کے حقوق کے لئے کام کررہے ہیں۔ دہلی سے گرفتار پانچواں اور سب سے معروف نام مشہور صحافی اور کالم نگار گوتم نولکھا کا ہے، وہ پی یو ڈی آر سے وابستہ ہیں اور ایک معروف انگریزی میگزین کے ادارتی مشیر بھی ہیں۔ غرض یہ کہ یہ پانچوں شخصیات ایسی ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں انسانی حقوق کے لئے لڑنے کا طویل تجربہ رکھتی ہیں۔ یہ لوگ اکثر حکومت کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف عملی جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دفاع کے لئے جن لوگوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے، وہ بھی ملک کی معروف ہستیاں ہیں اور جو وکیل ان کے دفاع کے لئے عدالت میں کھڑے ہوئے ہیں، وہ بھی اپنے پیشے کے اعتبار سے ملک گیر شہرت رکھتے ہیں۔ عدالت میں دائر کی گئی عرضی میں کہاگیا ہے کہ ’’یہ معاملہ وسیع تر مفاد کا ہے اور جولوگ حاشیے پر رہنے والے عوام کے لئے کام کرتے ہیں۔ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور کسی ثبوت کے بغیر پولیس نے ان شہریوں کی آزادی پر حملہ کیا ہے۔ عرضی گزار جمہوری قدروں کے لئے فکر مند ہیں کیونکہ جمہوری تانے بانے کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا موضوع ہے اور حالات بہت ڈراؤنے ہیں۔ جو آپ سے متفق نہیں ہیں اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیسے کیاجاسکتا ہے۔ اس طرح گرفتاریاں ہوئیں تو جمہوریت ختم ہوجائے گی۔ ‘‘
حقیقت یہی ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مخالفت میں اٹھنے والی تمام آوازوں کو سختی سے کچل دینا چاہتی ہے۔ میڈیا کے ایک بڑے طبقے کو اپنا مرید بنانے کے لئے اب انسانی حقوق کے بے باک کارکنوں پر ہاتھ ڈالا جارہا ہے۔ گزشتہ ساڑھے چار سال کے عرصے میں حکومت نے جس طرح اپنے سیاسی اور نظریاتی مخالفین کے خلاف جابرانہ کارروائیاں انجام دی ہیں اور جس طرح مختلف سرکاری ایجنسیوں کو اس کام کے لئے استعمال کیاگیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ڈرانے اور خوف زدہ کرنے کے باوجود یہ لوگ آج بھی جمہوریت اور سیکولرزم کے دفاع کے لئے مورچے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ 
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان پانچوں انسانی حقوق کارکنوں کی گرفتاری کا جواز پیش کرنے کے لئے پولیس نے عدالت میں جو دستاویز پیش کی ہیں ان میں سے ایک دستاویز کا خلاصہ ’انڈین ایکسپریس‘ (31اگست) نے شائع کیا ہے۔ اس دستاویز میں کہاگیا ہے کہ یہ پانچوں لوگ ’’برہمنیکل اور فاشسٹ ہندو فورسز‘‘ کی مخالفت کے لئے ایک ماؤسٹ حکمت عملی کے نفاذ کی منصوبہ بندی کررہے تھے اور اس کام کے لئے انہوں نے دلتوں اور مسلمانوں میں ’’انتہائی جنگجو‘‘ قسم کے عناصر کو اکٹھا کررکھا تھا۔ اس دستاویز کو ’’تجویز برائے کل ہند فاشزم مخالف فرنٹ ‘‘ کا عنوان دیاگیا تھا۔ اخبار کے مطابق اس کام کے لئے جنوبی تمل ناڈو اور گجرات میں دلتوں کو اور کیرل ، کرناٹک اور مہاراشٹر میں مسلم اقلیت کے سیکڑوں جنگجوؤں کو تربیت دی گئی تھی۔ یہ سب دلتوں اور مسلمانوں پر ہندو تنظیموں کے ردعمل میں کیاگیا تھا۔‘‘ پولیس کے اس دعوے میں کتنی سچائی ہے ہمیں نہیں معلوم۔ لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جوہندو طاقتیں رات دن دلتوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے ٹریننگ حاصل کررہی ہیں اور جابجا مسلمانوں اور دلتوں کو اپنا شکار بنا رہی ہیں، ان کے خلاف پولیس حرکت میں کیوں نہیں آتی۔ کیا پولیس کا کام صرف فسطائی طاقتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ پولیس کا کام درحقیقت غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اور انتشار پھیلانے والی طاقتوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑ اکرنا ہے۔ لیکن وہ ہندتوا طاقتوں کے خلاف منصوبہ بندی کرنے والوں پر تو بلا خوف وخطر ہاتھ ڈال دیتی ہے لیکن اقلیتوں اور دلتوں کو منظم طور پر نشانہ بنانے کی خطرناک سازشوں میں مصروف ہندتو طاقتوں کی طرف سے آنکھ موند لیتی ہیں۔ ان گرفتاریوں کے خلاف ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس صدر راہل گاندھی نے درست ہی کہا ہے کہ بی جے پی ناگپور میں واقع نظریے کا ہی احترام کرتی ہے۔ انہوں نے غیر جمہوری کارروائی کے خلاف اپوزیشن کو متحد ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ نئے ہندوستان میں صرف ایک این جی او کی جگہ ہے جس کا نام ہے آر ایس ایس۔ 

Ads