Jadid Khabar

کیرل کی تباہی پر گھناؤنی سیاست

Thumb

صدی کا سب سے خوفناک سیلاب جنوبی ہند کی ریاست کیرل کو بہاکر لے گیا ہے۔ وہاں تباہی اور بربادی کے دلدوز مناظر دیکھنے کو ملے ہیں۔ پوری ریاست کا بنیادی ڈھانچہ تہس نہس ہوگیا ہے۔ اس سیلاب نے اب تک چارسو سے زیادہ لوگوں کو زندہ نگل لیا ہے اور دس لاکھ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔ اربوں روپے کی جائیداد اور مال واسباب سیلاب کی نذر ہوچکا ہے۔ ایسی تباہی کی مثال گزشتہ 100سال کی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ پورے ملک میں انسانیت دوست عوام نے کیرل کے مصیبت زدگان کے لئے ہر ممکن امداد مہیا کرائی ہے۔ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کیرل کے عوام کا ہاتھ بٹایا ہے۔ فوجی جوانوں نے زندگی اور موت کے درمیان جھول رہے ہزاروں لوگوں کومحفوظ مقامات پر پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس انسانی فریضے کو ادا کرتے وقت کسی نے یہ نہیں سوچا کہ مصیبت زدہ لوگوں کا مذہب کیا ہے اور وہ کس ذات یا فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔لیکن مصیبت کی اس دردناک گھڑی میں ہمارے ملک کے اندر کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو کیرل کی تباہی اور بربادی پر گھناؤنی سیاست کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ملک کے موجودہ سیاسی نظام نے ایک ایسے طبقے کو سراٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے جو ہر شے کو تعصب اور تنگ نظری کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ کیرل میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے درمیان جہاں ایک طرف ہندوؤں کو مسجدوں میں اور مسلمانوںکو مندروں میں پناہ مل رہی تھی اور وہاں کے لوگ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کی بے مثال نظیریں پیش کررہے تھے تو وہیں دوسری طرف فرقہ پرست اور فسطائی عناصر یہ اعلان کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کررہے تھے کہ کیرل میں سیلاب کی تباہ کاری دراصل گئو کشی کا عذاب ہے۔ لہٰذا مصیبت زدگان کو کوئی مدد نہ پہنچائی جائے۔ آل انڈیا ہندو مہاسبھا کے صدر سوامی چکرپانی مہاراج نے ٹی وی ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ’’ کیرل کے باشندوں کو گائے کاٹنے کی سزا مل رہی ہے جو لوگ گائے کاٹتے ہیں انہیں قدرت کے عذاب سے روبرو ہونا پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بیان شاید اس لئے دیا کہ کیرل میں سیلاب سے متاثرہونے والوں کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں پر مشتمل ہے اور کئی مسلم اکثریتی اضلاع پوری طرح تباہ ہوچکے ہیں۔ لیکن سوامی چکرپانی اس سوال کا کوئی جواب نہیں دے پائے کہ چند سال پیشتر شمالی ہندوستان کی ہندو اکثریتی ریاست اتراکھنڈ میں خوفناک سیلاب کن گناہوں کا نتیجہ تھا جس میں ہزاروں برادران وطن نے اپنی قیمتی جانیں گنوائیں تھیں ۔ فرقہ پرستی اور تعصب کا اظہار محض سوامی چکرپانی جیسے فسطائی ذہنوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ سرکاری سطح پر بھی اس کی بوباس محسوس کی گئی ہے۔ ملک کے لئے اس سے زیادہ شرمناک صورت حال کوئی دوسری نہیں ہوسکتی۔ 

ملک میں تباہی وبربادی کہیں بھی ہو انسانیت کراہ اٹھتی ہے اور لوگ جوق درجوق مصیبت زدگان کی مددکے لئے آگے آتے ہیں۔ یہی سب کچھ کیرل کے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے بھی بڑے پیمانے پر ہوا۔ پورا ملک ان کی مدد کے لئے آگے آیا اور ہر ایک نے بساط بھر مصیبت زدگان کی مدد کی۔ لیکن بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے خزانے کا منہ اچانک اس تباہی پر بہت چھوٹا ہوگیا۔ بہت کوشش کے باوجود مرکزی حکومت کے خزانے سے محض 600کروڑ روپے کی امداد ہی کیرل کے باشندوں کو دستیاب ہوسکی۔ جبکہ وہاں تباہی کا تخمینہ 26ہزار کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایک طرف مرکزی حکومت نے سیاسی وجوہات کی بنا پر کیرل کو معمولی امداد پر ٹرخا دیا اور دوسری طرف جب بیرونی دنیا نے کیرل کے مصیبت زدگان کی مدد کرنی چاہی تو اسے لینے سے انکار کردیا۔ کیرل کے لئے سب سے بڑی مدد کا اعلان متحدہ عرب امارات نے کیا تھا اور 700 کروڑ کی رقم کیرل کے سیلاب زدگان کو دینے کی بات کہی تھی۔ صوبائی حکومت نے امداد کی یہ رقم لینے پر رضا مندی بھی ظاہر کردی تھی۔ لیکن مرکزی حکومت اس میں آڑے آگئی اور یہ امداد لینے سے منع کردیاگیا۔ کہاگیا کہ ہم گھریلو ذرائع سے ہی راحت رسانی کریں گے۔ امارات کی امداد قبول نہ کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کیرل کے وزیراعلیٰ پی وجین اور اپوزیشن کانگریس نے سخت الفاظ میں تنقید کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کیرل کے باشندوں کا وطن ثانی ہے۔ اس لئے اس کی مدد قبول کی جاسکتی ہے اور ضرورت پڑے تو اس کے لئے مرکزی حکومت کے ضابطے تبدیل کئے جاسکتے ہیں۔ خود متحدہ عرب امارات کی حکومت کا بھی یہی کہنا تھا کہ کیرل کے باشندوں نے ان کے ملک کی تعمیر وتشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے لہٰذا وہ مصیبت کی اس گھڑی میں انہیں تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ بعد کو جب اس امداد پر تنازع کھڑا ہوا تو متحدہ عرب امارات نے اپنی پیشکش واپس لے لی۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر مرکزی حکومت غیر ملکی امداد وصول کرنے پر پابندی لگارہی ہے تو اسے کیرل کی تباہی میں ہاتھ بٹانے کے لئے خود آگے آنا چاہئے۔ لیکن وہ ایسا کرنے سے بھی گریزاں ہے۔ جہاں تک غیر ملکی امداد قبول نہ کرنے کا سوال ہے تو ہمیں یاد آتا ہے کہ 2001 میں جب گجرات میں خوفناک زلزلہ آیا تھا اور جس میں ہزارہا لوگ ہلاک ہوگئے تھے تو اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے مصیبت زدگان کی مدد کے لئے غیر ممالک سے مدد طلب کی تھی۔ 
یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ کیرل ملک کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ریاست ہے اور وہاں کے عوام میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں کیرل کی نرسیں اپنی خدمت اور انسانیت نوازی کے لئے جانی جاتی ہیں۔ اسی طرح دنیا میںجہاں جہاں کیرل کے لوگ آباد ہیں وہ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ لیکن ایسے وقت میں جب کیرل پر صدی کی سب سے بڑی آفت نازل ہوئی ہے تو مرکزی حکومت محض اس لئے سیاست کھیل رہی ہے کہ وہاں بی جے پی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور وہاں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہے۔ مرکزی حکومت کے اس رویے سے پریشان ہوکر کیرل کے وزیرخزانہ ڈاکٹر تھامس آئزک کہتے ہیں کہ یا تو مرکزی حکومت غیر ملکی راحت رسانی کی اجازت فراہم کرے یا اس کمی کا معاوضہ ادا کرے۔ کیرل کے وزیراعلیٰ کا اندازہ ہے کہ ان کا صوبہ پوری طرح تباہ ہوگیا ہے اور اس کی تعمیر نو کے لئے خطیر امداد کی ضرورت ہے۔ 
کیرل سرکار نے اس تباہی وبربادی کے لئے پڑوسی ریاست تمل ناڈو کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ کیرل حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ ملا پیریار باندھ سے اچانک پانی چھوڑدیا گیا جس کی وجہ سے کیرل میں صدی کا سب سے بڑا سیلاب آگیا۔ لیکن بعض دیگر حقائق اس سیلاب کی کچھ دوسری وجوہات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیرل کے محل وقوع اور اس کے حساس زون کو نظر میں رکھ کر ہی گاڈگل کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کیرالا کو ماحولیاتی صورت حال سے بچانے کی سفارش کی تھی۔ اس کمیٹی نے مغربی گھاٹوں کے ایک لاکھ چالیس ہزار کلومیٹر کے فاصلے کو تین زون میں تقسیم کرنے پر زور دیا تھا تاکہ ماحولیات کا تحفظ کرنے میں آسانی ہوسکے۔ اس کمیٹی نے ریاست کے حساس مقامات پر کان کنی اور کھدائی کرنے پر پابندیاں عائد کرنے کی بھی سفارش کی تھی۔علاوہ ازیں اراضی کو غیر جنگلاتی مقاصد کے استعمال کو روکنے اور بلندوبالا عمارتوں کی تعمیر پر پابندی کی سفارش بھی کی تھی۔ لیکن 2011 میں پیش کی گئی گاڈگل کمیٹی کی رپورٹ پر توجہ نہیں دی گئی۔ بلکہ اس رپورٹ کو مسترد کرکے اس کی سفارشات کو قبول کرنے سے انکار کردیاگیا۔ گاڈگل کمیٹی نے کیرل کی سیلاب زدہ صورت حال کے لئے غیر ذمہ دارانہ ماحولیاتی پالیسی کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے کہاہے کہ یہ تباہی خود انسانوں کی لائی ہوئی ہے۔ کیرل کے سیلاب کی سنگین ترین صورت حال ملک کی ان تمام ریاستوں کے لئے ایک سبق ہے جو جغرافیائی طورپر سیلاب کے خطرات کے لئے حساس سمجھی جاتی ہیں۔ 

Ads