Jadid Khabar

بھگوا دہشت گردی کا نیا چہرہ

Thumb

مہاراشٹر اے ٹی ایس نے بھگوادہشت گردوں کا ایک اور خطرناک گروہ بے نقاب کیا ہے۔ مہاراشٹر کی بدنام زمانہ انتہا پسند تنظیم سناتن سنستھا سے وابستہ یہ گروہ کئی شہروں میں خوفناک بم دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔ اگر بروقت اس خطرناک گروہ کو بے نقاب نہیں کیاجاتا تو یقینا ملک میں بڑی تباہی مچ سکتی تھی۔ سیکورٹی ایجنسیاں حسب عادت اس تباہی کا ذمہ دار مسلم نوجوانوں کو ہی قرار دیتیں اور ان کی اندھادھند گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ بھگوا دہشت گردوں کے اس نئے اور خطرناک گروہ کو ایک ایسے وقت میں بے نقاب کیاگیا ہے جب حکمراں طبقہ ملک کے ماتھے سے بھگوادہشت گردی کے بدنما داغ کو مٹانے کی ہرممکن کوشش کررہا ہے۔ ان تمام لوگوں کو باعزت بری کرالیاگیا ہے، جنہیں ماضی میں ان کے خطرناک عزائم اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیاگیا تھا۔ یہ تمام لوگ چونکہ سنگھ پریوار کی ذیلی تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان کی رہائی اور انہیں دہشت گردی کے مقدمات سے بری کرانے کے لئے سرکاری مشینری کو بے دریغ استعمال میں لایاگیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج سادھوی پرگیہ ٹھاکر سے لے کر سوامی اسیمانند تک سب کے سب جیلوں سے باہر ہیں اور موج مستی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ ورنہ یہ بات کسے معلوم نہیں کہ ان تمام لوگوں کو ٹھوس ثبوتوں اور حلفیہ بیانات کی بنیاد پر پابند سلاسل کیاگیا تھا۔ جولوگ ابھی سلاخوں کے پیچھے ہیں ان کو رہا کرانے کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ سرکاری ذرائع پہلے ہی اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ ہم نے بھگوادہشت گردی کا ’کلنک‘ ہمیشہ کے لئے مٹادیا ہے۔ لیکن اب اسے کیاکہاجائے کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے اپنی تازہ کارروائی میں جن خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے، ان سب کے تار بھی ان ہی انتہا پسند تنظیموں سے جڑے ہوئے ہیں جو سنگھ پریوار کی سرپرستی میں پھل پھول رہی ہیں۔ 

مہاراشٹر اے ٹی ایس نے گزشتہ 10اگست کو جن تین لوگوں کودہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا ہے، ان کے نام ویبھو راوت، شردکلاسکر اور سدھانوا دھوندلکرہیں۔ ان لوگوں کو پونہ اور نالاسوپارہ سے حراست میں لیاگیا ہے۔ یہ تینوں انتہا پسند تنظیم سناتن سنستھا کے حامی بتائے جاتے ہیں۔ تقریباً 12گھنٹے تک چلی کارروائی میں ممبئی اور تھانے اے ٹی ایس کی نصف درجن ٹیمیں شامل تھیں اور اس آپریشن کے لئے بم کو ناکارہ بنانے والے اسکواڈ (بی ڈی ڈی ایس) کی بھی مدد لی گئی۔ اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے پونہ ، ستارہ ، شولاپور، نالاسوپارہ اور ممبئی میں بم دھماکوں کی سازش رچی تھی۔ ان لوگوں کے قبضے سے بڑی تعداد میں دھماکہ خیز مادہ برآمد کیاگیا ہے۔ نالا سوپارہ میں راوت کے گھر سے آٹھ دیسی بم ملے ہیںجبکہ اس کی دکان سے 12بم برآمد کئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ کافی تعداد میں گن پاؤڈر کے ساتھ کچھ ڈیٹونیٹر بھی ضبط کئے گئے ہیں۔ اس دھماکہ خیز مادے سے 50سے زیادہ خطرناک بم بنائے جاسکتے تھے۔ اگلے روز کی گئی کارروائی میں دیسی بندوقیں، میگزین اور کارتوس جیسی چیزیں برآمد کی گئی ہیں۔ اے ٹی ایس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں 7اگست کو اطلاع ملی تھی کہ کچھ مشتبہ لوگ صوبے کے پانچ شہروں میں بم دھماکہ کرنے والے ہیں۔ اطلاع دینے والے نے مشتبہ لوگوں کے موبائل نمبر بھی تحقیقاتی ایجنسی کو فراہم کرائے تھے۔ ان پر نظررکھنے کے بعد جمعرات کی رات ویبھو راوت اور شرد کلاسکر کے نالا سوپارہ میں واقع ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے۔ سدھانوا کی گرفتاری پونے سے ہوئی۔ اے ٹی ایس کے مطابق ملزمان کے موبائل ڈاٹا سے پتہ چلا ہے کہ وہ پچھلے کئی دنوں سے ایک دوسرے کے رابطے میں تھے۔ 
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مہاراشٹر میں سرگرم اس انتہا پسند تنظیم کی سرگرمیوں کا سراغ کرناٹک کی اس اسپیشل تحقیقاتی ٹیم نے دیا جو خاتون صحافی گوری لنکیش کے قتل کے معاملے کی جانچ کررہی ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ نریندر دابھولکر، گووند پنسارے اور ایم ایم گلبرگی جیسے اصلاح پسند اور سیکولر عناصر کے قتل کے تار بھی اسی سناتن سنستھا سے جڑے ہوئے ہیں۔ گئو رکشا کے لئے پروگرام چلانے والے ویبھو راوت اور ان کے ساتھ گرفتار کئے گئے دوسرے لوگوں کے تعلقات شیو پرتشٹھان ہندوستان کے شنبھاجی سے بھی بتائے جاتے ہیں جو سال رواں کے شروع میں بھیما کورے گاؤں میں ہوئے تشدد کے معاملے میں سیکورٹی ایجنسیوں کے راڈار پر ہیں۔ ویبھو راوت اور ان کے کچھ ساتھیوں کے ای میل اور باہمی گفتگو سے جو اطلاعات ملی ہیں، وہ ہتھیاروں کی فراہمی کی کڑی اترپردیش اور مدھیہ پردیش تک لے جاتی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ لوگ مہاراشٹر میں ہتھیاروں کی فیکٹری لگانے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ 
آپ کو یاد ہوگا کہ اس سے قبل مہاراشٹر اے ٹی ایس کے جانباز سربراہ شہید ہیمنت کرکرے نے 2008 کے مالیگاؤں بم دھماکوں کے بعد بھگوا دہشت گردوں کا ایک انتہائی خطرناک گروہ بے نقاب کیاتھا،جس کی سرغنہ سادھوی پرگیہ ٹھاکر تھی۔ بعد میں اس سلسلے میں سوامی اسیمانند ، کرنل پروہت اور مہنت دیانند پانڈے سمیت کئی لوگوں کو انتہائی خطرناک دہشت گرد قرار دے کر گرفتار کیاگیا تھا۔ ان لوگوں کے تار مالیگاؤں کے علاوہ حیدرآباد کی مکہ مسجد ، اجمیر کی درگاہ معین چشتی اور سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے خوفناک دھماکوں سے جڑے ہوئے تھے۔ یہ تمام لوگ ابھینوبھارت نامی انتہا پسند تنظیم کے کارکن تھے۔ بعد کو وزارت داخلہ میں بھگوادہشت گردی پر نظررکھنے کے لئے ایک خصوصی سیل بھی قائم کیاگیا تھا۔ لیکن 2014میں مرکز میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد عدالتی کارروائی کو بالکل دوسرا رخ دے دیا گیا۔ جوسرکاری وکیل ان مقدمات کی پیروی کررہے تھے، ان پر بھگوا دہشت گردوں کے ساتھ نرمی برتنے کا دباؤ ڈالا گیا اور مقدمات کو معکوس سمت میں موڑ دیاگیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ سرکاری وکیل روہنی سالیان نے بیان دیا تھا کہ ان پر این آئی اے کے افسران ملزمان کے ساتھ نرمی برتنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔ بعد کو روہنی سالیان نے اس کیس سے علیحدگی اختیار کرلی اور پھر ہم نے دیکھا کہ یکے بعددیگرے بھگوا دہشت گردی کے تمام ملزمان بری ہوتے چلے گئے۔ اتنی بڑی تعداد میں گواہوں کے مکرنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ لیکن اب مہاراشٹر اے ٹی ایس کی ایک اور ایماندارانہ کارروائی کے بعد بھگوادہشت گردی دوبارہ بحث کے محور میں آگئی ہے۔ 
1990 میں قائم کی گئی سناتن سنستھا سنجے راوت کی گرفتاری کے بعد ایک بار پھر تنازعات کے گھیرے میں ہے۔سناتن سنستھا پر الزام ہے کہ اس نے 22نوجوانوں کو ہتھیار چلانے کی تربیت دی ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر کھلے عام دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث اس سنستھا پر اب تک پابندی کیوں نہیں لگائی گئی۔ جبکہ مہاراشٹر حکومت اس سلسلے کی ایک تجویز مرکزی حکومت کو پہلے ہی روانہ کرچکی ہے۔ خیال کیاجاتا ہے کہ اس سنستھا کی کئی ذیلی تنظٰمیں ہیں جن کے ذریعے یہ کام کرتی ہے۔ خاتون صحافی گوری لنکیش کے علاوہ اصلاح پسند نریندردابھولکر اور گووند پنسارے کے قتل میں بھی اس کے ممبران کی شمولیت کے تعلق سے انگلی اٹھتی رہی ہے۔ بنگلور اے ٹی ایس کی طرف سے پکڑے گئے اس کے کچھ ممبران نے سنستھا کے بارے میں اہم باتوں کا خلاصہ کیا ہے۔ اس سنستھا سے وابستہ لوگوں کی گرفتاری 2007میں ہوئے واشی، پنویل، تھانے اور 2009کے گوا بم دھماکوں کے سلسلے میں بھی کی گئی تھی۔ مہاراشٹر سرکار نے اپریل 2017میں مہاراشٹر ودھان پریشد کو یہ اطلاع دی تھی کہ صوبائی حکومت نے سناتن سنستھا پر پابندی لگانے کے لئے مرکزی حکومت کو تجویز بھیجی تھی۔ لیکن مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں یہ کہا کہ مذکورہ تنظیم پر پابندی لگانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ سناتن سنستھا کا دعویٰ ہے کہ وہ روحانیت، تعلیم اور مذہب کے میدان میں کام کرتی ہے۔ لیکن اب تک اس کے جو کارنامے منظرعام پر آئے ہیں، وہ انتہائی قابل اعتراض اور تباہ کن ہیں۔ لیکن اس کے باوجود حکومت نے اس پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں غور نہیں کیا ہے۔ سناتن سنستھا کا نام باربار تخریبی کارروائیوں کے حوالے سے سامنے آرہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تنظیم کی سرگرمیوں کا مکمل جائزہ لے کر اس پر پابندی عائد کی جائے اور اس میں سرگرم عناصر کو جیلوں میں ڈالاجائے۔ 

Ads