Jadid Khabar

چالیس لاکھ مسلمانوں پر شہریت کی تلوار

Thumb

سام کے چالیس لاکھ شہریوں کو راتوں رات غیرملکی قراردیئے جانے کے بعد ملک میں سیاسی بھونچال آگیا ہے۔ ایک طرف جہاں حکمراں بی جے پی کے لوگ اس فیصلے پر جشن منارہے ہیں تو وہیں دوسری طرف آسام کے لاکھوں مسلمانوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑرہی ہیں۔ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے تعلق سے سخت پریشانی اور الجھن میں مبتلا ہیں۔ سوجھ بوجھ رکھنے والے عناصر اس مسئلے کو انسانی نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں تو وہیں فرقہ پرست عناصر کو اس میں قومی مفاد نظر آرہا ہے۔ ان کے نزدیک ان چالیس لاکھ باشندوں کو سرحد پار دھکیلنا ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جتنے بھی مسلمان ہندوستان کی آبادی سے کم ہوجائیں اتنا ہی ان کو سکون نصیب ہوگا۔ بی جے پی کے ایک ممبراسمبلی تو ان افراد کو گولی مارنے کی وکالت کررہے ہیں اور ایک لمحے کے لئے بھی’ ملک دشمنوں‘ کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔  مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے وارننگ دی ہے کہ اس مسئلے سے ملک میں خون خرابہ ہوگا اور خانہ جنگی جیسی صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ بی جے پی صدر امت شاہ نے بغلیں بجاتے ہوئے اسے بی جے پی سرکار کا ایک ایسا جرأت مندانہ قدم قرار دیا ہے، جسے اٹھاتے ہوئے پچھلی سرکاریں ڈرتی تھیں کیونکہ انہیں ووٹ بینک کی سیاست عزیز تھی۔ غرض یہ کہ آسام میں چالیس لاکھ مسلمانوں کو مشتبہ شہری قرار دینے کا معاملہ بی جے پی کی نجات کا ذریعہ بن گیا ہے کیونکہ بی جے پی سرکار گزشتہ چار سال کے دوران جس طرح ہر محاذ پر ناکام ہوئی ہے، اس کے نتیجے میں عوام کے اندر اس کی امیج بری طرح خراب ہے۔ وہ 2019کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ایسے ہی کسی جذباتی موضوع کی تلاش میں تھی۔ نیشنل رجسٹرآف سٹیزن (این آر سی) کے حتمی مسودہ کے منظرعام پر آنے کے بعد بی جے پی کے بے جان جسم میں نئی جان پڑگئی ہے اور وہ اس کی بنیاد پر ملک میں ایک بار پھر فرقہ وارانہ بنیادوں پر ووٹوں کی صف بندی میں مصروف ہوگئی ہے۔ 

این آرسی ڈرافٹ کے لئے آسام میں تین کروڑ 29لاکھ لوگوں نے درخواستیں دی تھیں لیکن ان میں سے دوکروڑ 89لاکھ لوگوں کی درخواستیں ہی جائز قرار دی گئی ہیں اور باقی چالیس لاکھ باشندوں کے بارے میں وزارت داخلہ نے عجیب وغریب بات یہ کہی ہے کہ’’ یہ لوگ نہ تو ہندوستانی ہیں اور نہ ہی غیر ملکی۔‘‘ حالانکہ سپریم کورٹ نے یہ وضاحت جاری کی ہے کہ آسام میں این آرسی کا حتمی مسودہ جاری ہونے تک کسی پر کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ این آرسی کے حتمی مسودہ میں شامل نہ کئے گئے چالیس لاکھ سے زیادہ لوگوں کے خلاف کوئی بھی ا تھارٹی کسی بھی قسم کی زور زبردستی نہ کرے۔ عدالت نے یہ بھی کہاہے کہ ڈرافٹ سے باہر رہ گئے لوگوں کے دعوؤں اور اعتراضات کا حل نکالنے کے لئے غیر جانب دارانہ اور آئیڈیل نظام تیار کیاجائے۔ واضح رہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کی نگرانی میں ہی آسام کے اصل باشندوں کی شناخت کا کام انجام پارہا ہے۔ دعوے اور اعتراضات کا نپٹارہ کرنے کے لئے عدالت نے 16اگست تک حکومت سے جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔
 سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود آسام میں حکمراں بی جے پی کے لوگوں نے مشتبہ شہری قرار دیئے گئے مسلمانوں کے خلاف خوفناک پروپیگنڈہ شروع کردیا ہے اور انہیں سرحد پار پھینکنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ بنگلہ دیش نے اس معاملے میں اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہاہے کہ’’ یہ چالیس لاکھ لوگ ہمارے شہری نہیں ہیں اور یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔‘‘ حالانکہ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے اپنے پہلے ردعمل میں ہی یہ کہاکہ ان چالیس لاکھ لوگوں کو آسام سے نکالا گیا تو انہیں مغربی بنگال میں پناہ دی جائے گی۔ واضح رہے کہ غیر ملکی قراردیئے گئے لوگوں میں اکثریت بنگلہ زبان بولنے والے مسلمانوں کی ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ جولوگ برسہا برس سے آسام میں مقیم ہیں اور وہاں ان کی جائیدادیں اور کاروبار ہیں وہ آخر اپنا سب کچھ چھوڑ کر کسی دوسرے صوبے یا ملک میں کیوں آباد ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کو موجودہ عہد کے سب سے بڑے انسانی بحران سے تعبیر کیاجارہا ہے اور یہ بھی کہاگیا ہے کہ پوری دنیا میں آج تک کہیں بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی شہریت رد نہیں کی گئی ہے۔ فی الحال دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ روہنگیا مسلمانوں کا ہے لیکن ان کی تعداد بھی 10لاکھ سے زیادہ نہیں ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس بحران سے انسانی بنیادوں پر نپٹنے کی بجائے مرکزی حکومت ان باشندوں کی ناکہ بندی کا منصوبہ بنارہی ہے۔ این آر سی سے باہر کئے گئے ان چالیس لاکھ لوگوں کے بائیومیٹرک ڈیٹا اکٹھا کرنے پر غور کیاجارہا ہے تاکہ انہیں فرضی شناخت پر دوسرے صوبوں میں داخل ہونے سے روکا جائے۔ 
ہم آپ کو یاددلادیں کہ کشمیر کے بعد آسام ملک کی دوسری ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ آسام میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 30فیصد ہے۔ یہی دراصل وہ خلیج ہے جو فرقہ پرست طاقتوں کے خیموں میں کھلبلی مچاتی رہی ہے۔ یوں تو پورے ملک میں مسلم آبادی کے بڑھنے کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیاجاتا ہے لیکن آسام کو اس معاملے میں خاص طورپر نشانہ بنایا جاتا ہے اور آسامی مسلمانوں کو بنگلہ دیشی درانداز قرار دے کر انہیں ملک بدر کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ حکمراں بی جے پی کے لئے یہ مسئلہ اس کی سیاسی بقاء کا سوال ہے۔ بی جے پی نے اس موضوع پر 2014کے عام انتخابات میں داؤ آزما یا تھا ۔ وزیراعظم نریندرمودی نے انتخابی مہم کے دوران بنگلہ دیشیوں کو واپس بھیجنے کی باتیں کہیں۔ 2016میں آسام کے اندر بی جے پی کی پہلی سرکار قائم ہونے کے بعد ’دراندازوں‘ کے خلاف کارروائی تیز ہوگئی۔ اسمبلی چناؤ میں بھی بی جے پی نے ’دراندازوں‘ کو واپس بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ سرکار بنتے ہی وزیراعلیٰ سروانند نے بنگلہ دیشی دراندازوں کی پہچان کے لئے این آر سی سے علیحدہ ڈیٹکٹ ، ڈلیٹ اور ڈیپورٹ پروگرام شروع کیا جس کا مقصد غیر ملکی باشندوں کو تلاش کرکے ان کی شہریت ختم کرنا اور انہیں ملک بدر کرنا تھا۔ اس سلسلے کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں بنگلہ دیش سے آسام میں داخل ہونے والے مسلمانوں کو گھس پیٹھیا (درانداز)اور ہندوؤں کو پناہ گزین قرار دیتی ہیں۔ 
2015میں سپریم کورٹ نے ایک آئی اے ایس آفیسر پرتیک ہجولا کو این آرسی اپ ڈیٹ کرنے کا کام سپرد کیاتھا۔ رواں سال کے جنوری مہینے میں این آرسی کا پہلا ڈرافٹ جاری کیاگیا۔ یہ غیر قانونی شہریوں کی شناخت کی دنیا میں سب سے بڑی مہم تھی جس میں 1200کروڑ روپے خرچ ہوئے اور ایک لاکھ سے زیادہ سرکاری ملازمین نے اس کام کو انجام تک پہنچایا۔ یہ دستاویزات 500ٹرکوں کے وزن کے برابر تھیں۔ ظاہر ہے اتنی کثیر تعداد میں دستاویزات کی جانچ پرکھ کوئی آسان کام نہیں تھا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ اس کام میں زبردست دھاندلیاں کی گئی ہیں۔ آسام یونائیٹیڈ فرنٹ کے صدر اور ممبرپارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے کہا ہے کہ’’ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے نام شامل نہ کیاجانا ایک سیاسی سازش کا نتیجہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہاکہ ’’سپریم کورٹ کی ہدایات اور گائیڈ لائنس کو نظرانداز کرتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقوں سے مسلمانوں کے نام بڑی تعداد میں حذف کردیئے گئے ہیں تاکہ مسلم ووٹروں کی تعداد کو کم کیا جاسکے۔‘‘قابل ذکر بات یہ ہے کہ نام میں چھوٹی سی غلطی کی بنا پر بھی لوگوں کی درخواست خارج کردیاگیا ہے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ باپ کا نام لسٹ میں آیا ہے اور بیٹے کا نام غائب ہے۔ اسی طرح شوہر کا نام فہرست میں درج ہے اور بیوی کو خارج کردیاگیا ہے۔ این آرسی کی حماقتوں کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ اس میں ملک کے پانچویں صدرجمہوریہ فخرالدین علی احمد کے رشتہ داروں کے نام بھی غائب کردیئے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک سابق فوجی افسر محمد اجمل حق کی شہریت کو بھی مشکوک قرار دیتے ہوئے انہیں دستاویزات کے ساتھ مقامی ٹریبونل میں حاضر ہونے کا حکم دیاگیا ہے۔ جبکہ وہ تیس سال تک ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دینے کے بعد سبکدوش ہوئے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک طرف تو حکومت پارلیمنٹ میں ’سٹیزن شپ بل‘ لاکر پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش سے نقل مکانی کرنے والے تقریباً 30لاکھ ہندوؤں کو شہریت دینے کی تیاری کررہی ہے اور دوسری طرف آسام کے اصل باشندوں کو بنگلہ دیشی درانداز قرار دے کر ان کی شہریت ختم کی جارہی ہے۔ جارحانہ فرقہ پرستی اور مسلم دشمنی کی اس سے بڑی مثال اور کیاہوسکتی ہے۔  

Ads