Jadid Khabar

عمران خان کا ’نیا پاکستان‘کیسا ہوگا؟

Thumb

کرکٹ کی دنیا میں عالمی شہرت اور مقبولیت حاصل کرنے والے پاکستانی کھلاڑی عمران خان اب پاکستانی حکومت کے کپتان بن گئے ہیں۔ وہ ایک ایسے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے جارہے ہیں جو داخلی اور خارجی سطح پر بے شمار مسائل سے گھرا ہوا ہے۔ بدعنوانی، اقرباء پروری اور لوٹ کھسوٹ کو ختم کرنے کے لئے پاکستانی عوام نے ان پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، وہ اس پر کتنے کھرے اتریں گے، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ ہرچند کہ اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے پولنگ میں زبردست دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے لیکن الیکشن کمیشن نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قراردے کرعمران خان کی تاج پوشی کا راستہ ہموار کردیا ہے۔ حالانکہ ان کے سیاسی مخالفین نے انہیں چاروں خانے چت کرنے کے لئے ہر داؤ آزمایا اور آخر میں ان کی سابقہ بیوی ریحام خان کی وہ آپ بیتی بھی منظرعام پر آئی جس میں عمران خان کو نشے باز اور بدکردار ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ لیکن مخالفین کے تمام حربے ناکام ہوگئے اور عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو عوام نے سب سے بڑی پارٹی کے طورپر ابھرنے کا موقع دیا۔ البتہ ان انتخابات میں ان کی دو بنیادی حریف پارٹیوں پیپلز پارٹی کو سندھ میں اور نون لیگ کو پنجاب میں برتری حاصل ہوئی ہے۔ 

پاکستان کے انتخابی نتائج پر یوں تو ہندوستان میں ہر زاویے سے تبصرے کئے جارہے ہیں اور اس میں سب سے اہم عمران خان کے برسراقتدار آنے کے بعد ہند وپاک تعلقات کی استواری کا موضوع ہے۔ لیکن انتخابی نتائج کے جس پہلو کا سب سے زیادہ خیرمقدم کیاجارہا ہے، وہ دراصل 26/11 کے ممبئی حملوں کے کلیدی ملزم اور ممنوعہ تنظیم جماعۃ الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کی پارٹی کے تمام امیدواروں کی ضمانت ضبط ہونا ہے۔ پاکستان کے شدید مخالفین بھی پاکستانی عوام کی سیاسی سوجھ بوجھ اور دوراندیشی کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں کہ انہوں نے اپنے ملک میں انتہا پسند طاقتوں کو دھول چٹادی ہے۔ لیکن اسی کی کوکھ سے یہ سوال بھی جنم لے جارہا ہے کہ کیا ہندوستانی عوام بھی 2019کے عام انتخابات میں انتہا پسند اور شدت پسند طاقتوں کو ایسا ہی سبق سکھائیں گے جیسا کہ پاکستانی عوام نے حافظ سعید اینڈ کمپنی کو سکھایا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دوسال کے عرصے میں ہندوستان کے اندر جس طرح انتہا پسند اور جنونی عناصر سراٹھا رہے ہیں اور جس انداز میں پورے ملک کے اندر بے گناہ مسلمانوں کو گائے کے تحفظ کے نام پر وحشیانہ طورپر قتل کیاجارہا ہے، وہ دراصل ہندوستان کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے اور اس سے تمام محب وطن اور انسانیت دوست ہندوستانیوں میں تشویش کی لہر پیدا ہوگئی ہے ۔ یہ خطرہ سراٹھارہا ہے کہ کہیں ہندوستان پر مذہبی جنونیوں کا غلبہ نہ ہوجائے اور ملک کی سیکولر جمہوریت خطرے میں نہ پڑجائے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کے حالیہ چناؤ میں نہ صرف حافظ سعید کی پارٹی کے تمام امیدوار ہارگئے ہیں بلکہ ان کے بیٹے اور داماد کو بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ حافظ سعید نے انتخاب جیتنے کے لئے تمام حربے اختیار کئے تھے۔ انہوں نے انتخابی میدان میں اترنے کے لئے ملی مسلم لیگ کے نام سے جو جماعت تشکیل دی تھی، اسے الیکشن کمیشن نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے ’اللہ اکبر تحریک‘ کے پرچم تلے اپنے سینکڑوں امیدوار میدان میں اتاردیئے اور خود زوردار انتخابی مہم چلائی۔ لیکن ان کے تمام امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں۔ 
پاکستانی کرکٹ ٹیم میں سب سے تیز گیند بازکھلاڑی کے طورپر شہرت حاصل کرنے والے عمران خان نے 1996 میں کرکٹ کو الوداع کہہ کر سیاست کے میدان میں قدم رکھا تھا۔ اس دوران انہیں کئی تلخ تجربات سے گزرنا پڑا۔ درمیان میں کئی ایسے مرحلے بھی آئے جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ وہ سیاست کی پرخار وادی میں بری طرح ناکام ہوجائیں گے۔ لیکن جس چیز نے انہیں وزیراعظم کی کرسی تک پہنچایا، وہ درحقیقت ان کی ثابت قدمی تھی۔ تمام تر سیاسی نشیب وفراز اور کردارکشی کی خطرناک مہم کے باوجود وہ اپنے پیروں پر کھڑے رہے۔ انہوں نے موجودہ انتخاب جس ’نئے پاکستان‘ کے نعرے پر جیتا ہے، وہ دراصل بدعنوانی سے آزاد ایک خوش حال پاکستان کا تصور ہے۔ اس تصور کو اگر ایک خیال پریشاں کا عنوان دیا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ درحقیقت عمران خان کے اس تصور میں رنگ بھرنے کا کام ان پناما دستاویزات نے کیا ہے جس کی زد میں وزیراعظم نواز شریف نے اپنا سب کچھ گنوادیا ہے۔ پناما دستاویزات کے افشا کے بعد نواز شریف کو بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزام میں نہ صرف وزیراعظم کی کرسی گنوانی پڑی بلکہ وہ سلاخوں کے پیچھے پہنچادیئے گئے۔ جس وقت عمران خان وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہورہے ہیں تو سابق وزیراعظم نواز شریف جیل میں دس سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ نواز شریف کے ساتھ ان کی جواں سال بیٹی مریم نواز بھی منی لانڈرنگ کے کیس میں سلاخوں کے پیچھے ہیں جبکہ ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز لندن کے ایک اسپتال میں کینسر سے جنگ لڑرہی ہیں۔ سیاست کے یہ کیسے نشیب وفراز ہیں کہ کل تک پاکستانی سیاست کا سب سے مضبوط کردار سمجھے جانے والے دولت مند ترین سیاست داں نواز شریف اس وقت اپنی اور اپنے خاندان کے بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ نواز شریف کو اس انجام تک پہنچانے میں پاکستانی فوج کا بڑا ہاتھ ہے۔ کیونکہ وہ وزیراعظم کے طورپر فوج کے قابو سے باہر ہوگئے تھے۔ پاکستانی سیاست میں فوج کو جوعمل دخل حاصل ہے، اس میں کوئی بھی حکمراں فوج سے انحراف کرکے زیادہ دنوں تک نہ تو اقتدار میں رہ سکتا ہے اور نہ ہی سیاست میں۔ نواز شریف کا انجام دیکھ کر اکثر لوگوں کی آنکھوں میں آنسو امڈ آتے ہیں۔ 
عمران خان نے وزیراعظم کی کرسی پر جلوہ افروز ہونے سے پہلے دنیا کے سامنے اپنا جو ایجنڈا پیش کیا ہے، وہ خاصا دلچسپ ہے۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد اپنی تقریر میں انہوں نے داخلی اور خارجی تمام امور کا احاطہ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ عمران خان نے ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کے ساتھ ساتھ پاکستان کو معاشی طورپر مضبوط بنانے، نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور غریبوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیاہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تذکرہ کرتے ہوئے سب سے پہلے چین کا نام لیا ہے جو اس وقت پاکستان کا سب سے قریبی دوست ہے۔ اس سے قبل یہ حیثیت امریکہ کو حاصل رہی ہے اور کسی دور میں یہ کہاجاتا تھا کہ پاکستان کو تین الف مل کر چلاتے ہیں۔ یعنی اللہ ، امریکہ اور آرمی۔ لیکن اب امریکہ کی جگہ چین نے لے لی ہے چونکہ امریکہ سے پاکستان کے تعلقات ابتر ہوچکے ہیں۔ حالانکہ عمران خان نے امریکہ کے ساتھ بھی بہتر تعلقات استوار کرنے کی امید نہیں چھوڑی ہے اور اس کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔ہمسایہ ملکوں سے تعلقات خوشگوار کرنے کے ذیل میں انہوں نے افغانستان اور ہندوستان کا نام لیا ہے۔ ہندوستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ’’ گزشتہ کچھ دنوں میں ہندوستانی میڈیا نے مجھ پر ایسے ڈونگرے برسائے ہیں جیسے کہ میں بالی ووڈ کا کوئی ولن ہوں۔‘‘ انہوں نے کہاکہ ’’میں وہ پاکستانی ہوں جس نے کرکٹ کے لئے سب سے زیادہ ہندوستانی کا سفر کیا ہے اور وہاں کے لوگوں سے میری شناسائی سب سے زیادہ ہے۔‘‘ ہندوپاک تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور تجارت کو بھی فروغ ملنا چاہئے۔ کشمیر کے حوالے سے عمران خان نے کہا ہے کہ اس معاملے میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے کی بجائے دونوں ممالک کو یہ مسئلہ گفتگو کی میز پر حل کرنا چاہئے۔ انہوں نے دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان بہتر اور خوشگوار تعلقات کو خطے کے لئے انتہائی اہم قرار دیا۔ 
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عمران خان نے ایک مقبول عام کرکٹر کے طورپر ہندوستان کا بارہا سفر کیا ہے اور یہ بات بھی درست ہے کہ یہاں کے لوگوں سے ان کی واقفیت سب سے زیادہ ہے۔ لیکن انہیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ کرکٹ اور سیاسی ڈپلومیسی دوعلیحدہ میدان ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ جو شخص کرکٹ کے میدان میں کامیابی کی بلندیوں تک پہنچا ہو، وہ سیاست اور سفارت کے میدان میں بھی سرخرو ہوجائے۔ انہوں نے ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لئے جن عزائم کا اظہار کیا ہے، وہ لائق تحسین ضرور ہیں لیکن ان کی خواہشوں کو آگے بڑھانے کا کام پاکستانی فوج کو انجام دینا ہے۔ کشمیر کے تناظر میں ہندوستان کے ساتھ رشتے استوار کرنے اور انہیں خراب کرنے کا دارومدار پاکستانی فوج کے اوپر ہے۔ اس معاملے میں اگر عمران خان نے اپنی چلانے کی کوشش کی تو انہیں نواز شریف کے انجام تک پہنچانے میں فوج کو زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ پاکستان میں سیاسی قیادت کے اختیارات بہت محدود ہیں اور تمام کلیدی فیصلے فوج ہی کرتی ہے۔ عمران خان ایک ایسے وقت میں پاکستان کے وزیراعظم بن رہے ہیں جب دونوں ملکوں کے تعلقات سب سے زیادہ کشیدہ ہیں اور دونوں میں بول چال تک بند ہے۔ ہندوپاک کے درمیان کشمیر ہی تمام تنازعات کی جڑ ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کی بے شمار کوششیں ناکامی سے دوچار ہوچکی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اس کسوٹی پر کتنا کھرے اترتے ہیں؟

Ads