Jadid Khabar

ہجومی تشدد کے خلاف سپریم کورٹ کا انتباہ

Thumb

گائے کی حفاظت کے نام پر ہورہے بے گناہوں کے قتل عام کے خلاف سپریم کورٹ نے حکومت کو سخت انتباہ دیا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اس وحشت وبربریت کو روکنے کے لئے پارلیمنٹ سے ایک علیحدہ قانون بنانے کو بھی کہا ہے۔ سرکاری مشینری کو اس سلسلے میں جو ہدایات جاری کی گئی ہیں، وہ اتنی سخت ہیں کہ اگر ان پر ایمانداری کے ساتھ عمل کیاگیا تو نہ صرف ہجومی تشدد پر روک لگے گی بلکہ ان وحشی درندوں کو بھی عبرتناک سزائیں ملیں گی، جنہوں نے ملک میں جنگل کا راج قائم کررکھا ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حکومت اس معاملے میں سخت قانونی کارروائی کرنے کی بجائے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔ وحشت ودرندگی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی تو کجا ان کی کھلے عام حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ۔ہجومی تشدد کے مجرمین کو مرکزی حکومت کے وزیر پھول مالائیں پہنارہے ہیں۔ یہ صورت حال اتنی تکلیف دہ اور شرمناک ہے کہ لوگوں نے اس حکومت سے خیر کی ہر امید چھوڑرکھی ہے۔ حکومت کی اسی لاپروائی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں ہجومی تشدد کے واقعات روزبروز بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کرناٹک کے شہر بیدر میں جس طرح ایک ہونہار مسلم انجینئر کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناکر ہلاک کیاگیا اور اس کے دیگر تین ساتھیوں کو شدید زخمی کیاگیا، وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ان چاروں نوجوانوں کا قصور یہ تھا کہ وہ اس علاقے میں تفریح کرنے گئے تھے اور وہاں بچوں کو چاکلیٹ تقسیم کررہے تھے۔ ان نوجوانوں کو بچہ چور قرار دے کر ہجوم ان پر ٹوٹ پڑا۔ 
گئو رکشا کے نام پر جاری درندگی اور بربریت کو روکنے کے لئے دائر کی گئی عرضیوں پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہجومی تشدد کے معاملے میں فوری طورپر ایف آئی آر درج کرنے اور چھ ماہ کے اندر ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ بھیڑ کے ذریعے قتل وحشیانہ تشدد ہے اور قانون کسی بھی صورت میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ تشدد انسانیت کے خلاف انتہائی خطرناک ہے اور اس سے سماج میں لاقانونیت پیدا ہوگی۔ چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ نے کہا ہے کہ نفرت پیدا کرنے والے جرائم عدم تحمل کی پیداوار ہیں، جنہیں کسی بھی طورپر برداشت نہیں کیاجاسکتا۔ عدالت نے کہا ہے کہ جرم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور مجرم اور متاثرین کا کوئی مذہب ، فرقہ یا گروپ نہیں ہوا کرتا۔ انہیں مذہب ، فرقے یا ذات کی بنیاد پر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ عدالت نے یہ بھی کہاہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سبھی کے بنیادی حقوق اور آزادی کا تحفظ کرے اور سیکولر روایات نیز کثرت میں وحدت کے تصور اور سماجی ضرورتوں کو تحفظ فراہم کرے۔ تمام خیالات اور عقیدوں کو جگہ دی جائے کسی کی آواز کو جمہوریت میں دبایاجانا صحیح جمہوریت نہیں ہے۔ ‘‘
جس روز سپریم کورٹ نے حکومت کو یہ رہنما ہدایات جاری کی ہیں، اسی روز بی جے پی کی اقتدار والی ریاست جھارکھنڈ میں مشہور سماجی کارکن سوامی اگنی ویش کو سنگھ پریوار کے غنڈوں نے ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ اس سے چند روز قبل ہی اسی جھارکھنڈ میں شہری ہوابازی کے مرکزی وزیر جنیت سنہا نے ہجومی تشدد کے اُن مجرموں کا اپنے گھر بلاکر پھولوں سے استقبال کیا تھا، جو غلام انصاری کے وحشیانہ قتل میں ملوث ہیں اور جنہیں ذیلی عدالت سے عمر قید کی سزا ہوچکی ہے۔ لیکن حیرت انگیز طورپر یہ تمام آٹھ مجرمین عدالت سے ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ایک مرکزی وزیر کی اس غیر ذمہ دارانہ حرکت کی جب چوطرفہ مذمت ہوئی تو انہوں نے اپنے عمل پر افسوس کا اظہار کیا۔ حالانکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ بی جے پی لیڈران اور کارکنوں کی تمام ہمدردیاں ہجومی تشدد کے ملزمان کے ساتھ ہیں اور وہ مختلف طریقوں سے ان کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ انہیں اپنے اس غیر انسانی عمل پر کبھی کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔ حکومت کے ان کارندوں کے طرز عمل سے حوصلہ پاکر قانونی مشینری اور پولیس بھی ہجومی تشدد کے ملزمان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کررہی ہے۔ حال ہی میں اترپردیش کے ہاپوڑ ضلع میں جب گئو کشی کے جھوٹے الزام کے تحت 45سالہ محمد قاسم کو وحشیانہ طورپر ہلاک کیاگیا توپولیس اس معاملے پر پردہ ڈالنے کے لئے اسے سڑک حادثے کا نام دینے کی کوشش کرتی رہی۔ اب محمد قاسم کے پسماندگان پر مقدمہ واپس لینے کا دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ بی جے پی سرکار کے وزیروں اور ممبران پارلیمنٹ نے ہجومی تشدد کے معاملے میں جو شرمناک رویہ اختیار کررکھا ہے، اس کا اندازہ سپریم کورٹ کی رہنما ہدایات جاری ہونے کے اگلے روز اس وقت ہوا جب ہجومی تشدد کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایاگیا۔ بی جے پی ممبران نے ہجومی تشدد کو روکنے کے لئے قانون بنانے کی کھل کر مخالفت کی اور اس کے لئے معاشی نابرابری کو ذمہ دار قرار دیا۔ بی جے پی ممبر پارلیمنٹ میناکشی لیکھی نے کہاکہ ملک میں ہجومی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ معاشی نابرابری ہے۔ تاہم اس موقع پر حقیقت بیانی کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے ممبر سواگت رائے نے واضح طورپر کہاکہ ’’مودی حکومت میں ماب لنچنگ کی وارداتوں کا شکار 80فیصد مسلمان ہیں۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیاکہ کیا آپ کانگریس مکت بھارت کی طرح مسلم مکت بھارت بناناچاہتے ہیں۔ ‘‘
ہجومی تشدد کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف جہاں سماج کے مہذب لوگوں کو اس پر سخت تشویش لاحق ہے تو وہیں حکومت اسے روکنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتی۔ چونکہ ان وارداتوں سے بی جے پی کا ووٹ بینک طمانیت محسوس کرتا ہے۔ ملک کے موجودہ ماحول میں جس طرح فرقہ وارانہ موضوعات کو اچھالا جارہا ہے اور ہرروز ہندو اور مسلمان کے دائروں میں بحث ہورہی ہے، اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ حکومت سماج میں فرقہ وارانہ تفریق کو مزید گہرا کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ عام انتخابات میں اس کا سیاسی فائدہ اٹھاسکے۔ ہرچند کہ عدالت نے واضح طورپر کہا ہے کہ بھیڑ کی گھناؤنی حرکتیں قانون کی حکمرانی کے تصور کو خارج کرتی ہیں۔ سماج میں امن قائم رکھنا مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو ان چیزوں سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔ عدالت نے اپنی ہدایات میں کہا ہے کہ ’’بھیڑ کے تشدد کے شکار ہوئے لوگوں یا ان کے اہل خانہ کو 30دن کے اندر معاوضہ دیاجانا چاہئے۔ سپریم کورٹ نے ہجومی تشدد پر قابو پانے کے لئے ایک طے شدہ نظام بنانے کی بات بھی کہی ہے۔اس کے مطابق ریاستی حکومتیں ہر ضلع میں ایس پی سطح کے افسر کو نوڈل افسر مقرر کریں جو اس قسم کی وارداتوں سے نپٹنے کے لئے سوشل ٹاسک فورس بنائے گا۔ نوڈل افسر کو خفیہ محکمے کے ساتھ تال میل بناکر کام کرنا ہوگا۔ ڈی جی پی اور ہوم سکریٹری نوڈل افسر کے ساتھ مسلسل میٹنگ کریں گے۔ ایسے معاملوں میں دفعہ 153(الف) کے تحت فوری کارروائی ہو اور فاسٹ ٹریک عدالت میں کیس چلاکر 6ماہ کے اندر قصورواروں کو زیادہ سے زیادہ سزا ملے۔ اس کے لئے متاثرہ فریق کے وکیل کا خرچ بھی سرکار برداشت کرے۔ صوبائی حکومتیں ہجومی تشدد سے متاثرہ افراد کے لئے معاوضہ اسکیم بنائیں۔ اسی کے ساتھ سرکار ہجومی تشدد کے خلاف عوامی بیداری پید اکرے۔ ‘‘ مذکورہ تمام ہدایات سپریم کورٹ کے تازہ حکم میں شامل ہیں۔
ظاہر ہے یہ تمام ہدایات اتنی اہم اور کارگر ہیں کہ اگر حکومت ان پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہو تو ہجومی تشدد پر پوری طرح قابو پایاجاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں مجوزہ قانون بھی کارگر ہوسکتا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک اور قانون بنادینے سے اس مسئلے کا حل برآمد ہونا مشکل ہے۔ کیونکہ ہجومی تشدد کو روکنے کے لئے جس مضبوط قوت ارادی کی ضرورت ہے، وہ اس حکومت کے پاس قطعی نہیں ہے۔ اگر صوبائی حکومتیں چاہتیں تو موجودہ قوانین کے دائرے میں ہی تشدد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرسکتی تھیں۔ ظاہر ہے ہجومی تشدد کو جائز ٹھہرانے والے بیانات اور صوبائی حکومتوں کی سرد مہری کے نتیجے میں ہی ہجومی تشدد نے وبائی شکل اختیار کی ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے جس طرح ہجومی تشدد میں شامل مجرموں کی حوصلہ افزائی کی ہے اور ان کے خلاف معمولی دفعات کے تحت مقدمات قائم کئے گئے ہیں، وہ دراصل حکومت کی ایک سوچی سمجھی اسکیم کا حصہ ہے۔ ظاہر ہے جب حکومتیں ظالموں اور قاتلوں کی پشت پناہی کریں گی اور مظلوموں کو دیوار سے لگایاجائے گا تو پھر ملک میں قانون کا راج کیسے قائم ہوگا؟ یہی بنیادی سوال ہے۔

Ads