Jadid Khabar

کانگریس کو پھر یاد آئے مسلمان

Thumb

انتخابات اور مسلمانوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جب بھی الیکشن قریب آتا ہے تو سیاست کی منڈی میں اُن مسلمانوں کی اہمیت اچانک بڑھ جاتی ہے جو عام حالات میں سیاسی پارٹیوں کے لئے اچھوت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ نام نہاد سیکولر پارٹیاں ہی نہیں فرقہ پرست اور فسطائی جماعتیں بھی مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے ان پر ڈورے ڈالنے لگتی ہیں۔ کیونکہ سب کو اقتدار حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔ جیسے جیسے عام انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے، ویسے ویسے مسلمانوں کی اہمیت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ مسلم ووٹوں کے ہول سیل اور پرچون تاجر بھی اپنے تام جھام کے ساتھ میدان میں اترچکے ہیں اور وہ خود کو مسلمانوں کا واحد ٹھیکیدار قرار دے کر سیاسی پارٹیوں سے سودے بازی میں مصروف ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک ابتدائی کڑی کے طورپر گزشتہ ہفتے مسلمانوں کے ایک وفد نے کانگریس صدر راہل گاندھی سے ملاقات کی ہے۔ میڈیانے اس وفد میں شامل لوگوں کو ’مسلم دانشوروں‘ سے تعبیر کیا ہے۔ حالانکہ اس وفد میں شامل بیشتر لوگوں کا تعلق دانشوروں کی قبیل سے نہیں تھا اور نہ ہی ان میں ایسے لوگ شامل تھے جو مسلم مسائل سے کماحقہ واقفیت رکھتے ہوں۔ لیکن اس کے باوجود راہل گاندھی نے ان لوگوں سے یہ جاننے کی ناکام کوشش کی کہ کانگریس کن موضوعات کو لے کر مسلمانوں کے درمیان جائے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو یاددلادیں کہ راہل گاندھی کی ٹیم میں کوئی ایسا مسلمان شامل نہیں ہے جو مسلم مسائل سے واقفیت رکھتا ہو یا جس کا کوئی سیاسی شعور ہو۔ مسلمانوں کے نام پر ان کے پاس جو ایک دو مسلم چہرے ہیں، وہ اپنی ناتجربہ کاری کے لئے جانے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے تعلق سے خود راہل گاندھی کی سوچ میں بلوغیت اور سنجیدگی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ گزشتہ ماہ ان کی طرف سے دی گئی افطار پارٹی کے شرکاء کو دیکھ کر بھی ہوا تھا۔ اس افطار پارٹی میں سنجیدہ اور باوقار مسلمانوں کے مقابلہ میں سطحی ، شہرت پسند اور کاسہ لیس قسم کے مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب تک سونیاگاندھی کانگریس کی صدر تھیں تو ان کے اردگرد ایسے مسلم لیڈران نظر آتے تھے جن کا مسلمانوں سے رابطہ بھی تھا اور جو مختلف مواقع پر مسلم مسائل کے تعلق سے سونیاگاندھی کی رہنمائی بھی کرتے تھے۔ اس کے علاوہ جب کبھی سونیاگاندھی کو مسلم مسائل پر بات کرنی ہوتی تھی تو وہ مسلمانوں کی نمائندہ جماعتوں کے لیڈران اور مسلم مسائل پر اچھی گرفت رکھنے والے دانشوروں کو مدعو کرتی تھیں۔ 

راہل گاندھی سے ملاقات کرنے والے ’مسلم دانشوروں‘ کا انتخاب کس نے کیا تھااور ان کی دانشوری کا پیمانہ کیاتھا، یہ ہمیں نہیں معلوم۔ البتہ راہل گاندھی نے ان لوگوں سے یہ دریافت کیا کہ مسلمانوں کے وہ کون سے مسائل ہیں جنہیں لے کر کانگریس ان کے در میان جائے۔ حالانکہ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے مسائل برسوں سے ایک جیسے ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی ہے کیونکہ اب تک ان مسائل کوحل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے۔البتہ جب سے مودی سرکا ر برسراقتدار آئی ہے اور صوبائی سطح پر بی جے پی کی سرکاریں قائم ہوئی ہیں، تب سے مسلمانوں میں ایک خاص قسم کا خوف سرائیت کرگیا ہے۔ 2014کے عام انتخابات میں مسلمانوں کو سیاسی طورپر اچھوت بنانے کی جو حکمت عملی بی جے پی نے تیار کی تھی وہ کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور اسی کا نتیجہ ہے کہ اب خود کو سیکولر کہلانے والی پارٹیاں بھی مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے سے گریز کرتی ہیں۔ ملک میں ہجومی تشدد (ماب لنچنگ) کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے مسلمانوں میں عدم تحفظ اور خوف کا ایک ایسا احساس پیدا کردیا ہے جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ حالانکہ آزادی کے بعد سے مسلمان فرقہ وارانہ تشدد اور اس کے بعد دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کی چکی میں مسلسل پستے رہے ہیں۔ لیکن تمام تر مظالم برداشت کرنے کے باوجود ان میں ایسا خوف کبھی پیدا نہیں ہوا جو حالیہ عرصے میں محسوس کیاجاتا ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس خوف اور دہشت کو دور کرنے کے لئے کانگریس سمیت کسی سیکولر پارٹی نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور بیشتر سیاست دانوں نے اس معاملے میں مسلمانوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے مسائل پر ان کا ذہن ٹٹولنے والے راہل گاندھی نے بھی گزشتہ چار سال کے عرصے میں مسلمانوں سے دوری قائم رکھی ہے اور اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ ان پر مسلم پرستی کا الزام نہ لگ پائے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلم دانشوروں سے ان کی حالیہ ملاقات کو بھی حکمراں طبقے نے مسلمانوں کی منہ بھرائی سے تعبیر کیا ہے۔ 
حالیہ میٹنگ کے دوران جب راہل گاندھی کو یہ باور کرایاگیا کہ انہوں نے گجرات اور کرناٹک کی انتخابی مہم کے دوران اتنی بڑی تعداد میں مندروں کے درشن کیوں کئے اور خود کو جینو دھاری ہندو اور شیو بھکت ثابت کرنے کی کوشش کیوں کی تو وہ اس کا کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دے سکے۔ انہوں نے بس اتنا ہی کہاکہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے مسجدوں اور چرچوں میں بھی حاضری دی تھی لیکن میڈیا نے ان کے مندروں میں جانے کے مناظر ہی عوام کو دکھائے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گجرات اور کرناٹک میں انتخابی مہم کے دوران کانگریس نے یہ حکمت عملی تیار کی تھی کہ راہل گاندھی خود کو مسلمانوں سے دور رکھیں تاکہ ان پر مسلم پرستی کا الزام عائد نہ ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی نے گجرات میں دودرجن سے زائد مندروں کے درشن تو کئے لیکن وہ کسی ایک مسلم علاقے میں بھی انتخابی مہم چلانے نہیں گئے۔ یہی کام کرناٹک کی انتخابی مہم کے دوران بھی کیاگیا۔ مسلمانوں سے دوری قائم رکھنے کی یہ حکمت عملی کیوں تیار کی گئی تھی اس کا جواب سونیاگاندھی کے اس بیان میں تلاش کیاجاسکتا ہے جس میں انہوںنے کہا تھا کہ ’’بی جے پی نے یہ مشہور کررکھا ہے کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے۔ اس پروپیگنڈے کا نقصان ہمیں انتخابی میدان میں اٹھانا پڑاہے۔‘‘ سونیاگاندھی نے یہ بیان ممبئی میں ایک پروگرام کے دوران دیا تھا۔ 
مسلم وفد سے راہل گاندھی کی یہ ملاقات دراصل بی جے پی کی اس رابطہ مہم کا جواب ہے جو اس نے مختلف طبقوں کے ساتھ ملاقاتوں کی صورت میں شروع کررکھی ہے۔ راہل گاندھی کے مشیروں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ بھی بی جے پی کی طرز پر رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے عوامی رابطہ مہم چلائیں۔ اگر غور سے دیکھاجائے تو مسلم نمائندوں سے راہل گاندھی کی یہ میٹنگ ٹائیں ٹائیں فش ثابت ہوئی ہے۔ کیونکہ اس میٹنگ کے لئے جن لوگوں کا انتخاب کیاگیا تھا، وہ اس مرض کی دوا قطعی نہیں تھے۔ ان میں صرف ایک نام پروفیسر ابوصالح شریف کا ضرور ایسا تھا جو مسلم مسائل سے سروکار رکھتے ہیں اور سچر کمیٹی کے ممبر سکریٹری رہ چکے ہیں۔ اگر راہل گاندھی کو مسلم مسائل کے بارے میں جاننے کی خواہش تھی تو انہیں یوپی اے کے دور میںتیار کی گئی سچرکمیٹی کی رپورٹ کابغور مطالعہ کرنا چاہئے تھا جس نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرکے رکھ دیا ہے۔ سچرکمیٹی کی رپورٹ کانگریس پارٹی کے لئے ایک آئینے کی طرح ہے۔ اس رپورٹ میں مسلمانوں کی سیاسی ، سماجی ، معاشی اور تعلیمی پسماندگی کی دردناک تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان اس ملک کی سب سے زیادہ پسماندہ قوم ہیں اور ان کی پسماندگی کی سطح دلتوں سے بھی نیچے ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کو دلتوں سے بھی بدتر حالت میں پہنچانے کے لئے خود کانگریس پارٹی جتنی بڑی ذمہ دار ہے اتنا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ آزادی کے بعد بیشتر عرصے کانگریس ہی اقتدار میں رہی ہے اور اس نے مسلمانوں کو ترقی کی دوڑ میں شامل کرنے یا سیاسی طورپر بااختیار بنانے کے لئے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا۔ چند مفاد پرست اور کاسہ لیس قسم کے نام نہاد مسلم لیڈروں کو کرایہ پر لے کر ہر الیکشن کے موقع پر عجیب وغریب کھیل کھیلا گیا۔ کانگریس بظاہر مسلمانوں کی منہ بھرائی کا ڈھونگ رچاتی رہی اور فرقہ پرست طاقتیں اس کی آڑ لے کر مسلمانوں کو بدنام کرتی رہیں۔ کانگریس ایک بار پھر مسلم ووٹ حاصل کرنے کے لئے ان پر ڈورے ڈال رہی ہے۔ کانگریس کا خیال ہے کہ فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں سے خوف زدہ مسلمان ایک بار پھر کانگریس کا دامن تھامیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلمان 2019 کے انتہائی اہم اور فیصلہ کن انتخابات کے حوالے سے کیا حکمت عملی تیار کرتے ہیں۔ 

Ads