Jadid Khabar

لنچستان میں بدلتا ہوا ہندوستان

Thumb

سماج کے کمزور طبقوں پر ہورہے وحشیانہ مظالم سے اگر چشم پوشی کی جاتی ہے تو وہ مظالم ایک دن ناسور کی شکل اختیار کرکے پورے سماج کو نگلنے لگتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ لنچنگ (ہجومی تشدد ) کے معاملے میں ہورہا ہے۔ گزشتہ چار سال کے عرصے میں گئو رکشکوں نے مسلمانوں پر جو وحشیانہ مظالم ڈھائے ہیں اور انہیں جس طرح گئو کشی کے جھوٹے الزام میں پیٹ پیٹ کر قتل کیاگیا ہے، وہ اب ہمارے معاشرے میں ایک ایسی روایت کے طورپر فروغ پا رہا ہے، جسے انجام دینا لوگ اب اپنی فطرت ثانیہ سمجھنے لگے ہیں۔ حال ہی میں مہاراشٹر کے دھولیہ ضلع میں جس طرح پانچ بے گناہ افراد کو بچہ چور قرار دے کر بے رحمی اور درندگی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے، اس پر سبھی لوگ تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اس سے قبل آسام میں دو سیاحوں کو بچہ چور قرار دے کر انتہائی بے دردی سے قتل کردیاگیا تھا۔ ملک میں اس قسم کی بڑھتی ہوئی وحشیانہ وارداتوں پر ملک کی سب سے بڑی عدالت بھی حرکت میں آئی ہے اور اس نے اس قسم کی وارداتوں کے لئے صوبائی حکومتوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ’’ ایسے واقعات کے لئے کوئی دلیل قبول نہیں کی جاسکتی۔ بھیڑ کے ذریعے کسی کی جان لینا ایک وحشیانہ جرم ہے اور اسے ہرحال میں روکا جانا چاہئے۔ ‘‘حیرت انگیز بات یہ ہے کہ گزشتہ سال 6ستمبر کو عدالت نے گئو رکشکوں کی غنڈہ گردی اور دہشت کو روکنے کے لئے صوبائی حکومتوں کو ایک ہفتے کے اندر ہر ضلع میں ایک سینئر پولیس آفیسر کو نوڈل آفیسر کے طورپر تعینات کرنے کو کہاتھا۔ مگر کئی صوبائی حکومتوں نے یہ کام اب تک انجام نہیں دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گئو کشی کی آڑ میں بے گناہوں پر مظالم کا سلسلہ دراز ہوتا چلاجارہا ہے۔ 

سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ اس معاملے میں نظم ونسق سنبھالنے والی مشینری اور پولیس کا رویہ اتنا خراب اور متعصبانہ ہے کہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ حال ہی میں مغربی یوپی کے ہاپوڑ ضلع میں جب مویشیوں کے ایک تاجر محمد قاسم کو گئو کشی کے جھوٹے الزام میں انتہائی بربریت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتاراگیا تو پولیس نے حسب دستور اس پورے معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور کہاگیا کہ یہ کارروائی گئو رکشکوں کی نہیں تھی بلکہ یہ بنیادی طورپر روڈ ریج کا معاملہ تھا۔ جبکہ اس شرمناک واردات کی جو ویڈیوز منظرعام پر آئی تھیں ان میں صاف طورپر قاسم اور سمیع کو گئو رکشکوں نے ٹارچر کیاتھا اور ان کے ساتھ انتہائی نازیبا سلوک کیاگیا تھا۔ متاثرین نے اس معاملے میں پولیس کو جو شکایت دی ہے اسے پولیس نے توڑمروڑ کر دوسرا رخ دے دیا اور متاثرین کے بیانات کو اہمیت نہیں دی گئی۔ اتنا ہی نہیں پولیس نے 45سالہ قاسم کی لاش کو اپنے سامنے زمین پر گھسٹوایا اور یہ عذر پیش کیاگیا کہ چونکہ ایمبولینس دستیاب نہیں تھی اس لئے قاسم کی لاش کو ہاتھوں میں اٹھاکر گھسیٹا گیا۔ پولیس کا یہ شرمناک رویہ محض ہاپوڑ میں ہی سامنے نہیں آیا بلکہ اس سے قبل راجستھان کے الور اور ہریانہ کے بلبھ گڑھ میں گائے کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والوں کے خلاف پولیس نے ایسی نرم دفعات لگائیں کہ تمام ملزمان ضمانت پر رہا ہوگئے اور اب مرنے والوں کے لواحقین پر سمجھوتہ کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ 
ہجومی تشدد میں جھارکھنڈ، یوپی ، راجستھان ، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں میں اب تک درجنوں مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کیاجاچکا ہے لیکن حکومت نے اس معاملے میں قانونی مشینری کوذمہ دار ٹھہرانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ہے اور بیشتر معاملات کی لیپا پوتی کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گائے کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والوں کے حوصلے آسمان کو چھورہے ہیں اور ان کی شرمناک حرکتوں سے شہ پاکر دیگر ریاستوں میں بھی لوگ محض افواہوںکی بنیاد پر بے قصور لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان آہستہ آہستہ ایک بڑے لنچستان میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ جہاں نہ تو قانون کی حکمرانی ہے اور نہ ہی لوگوں کو قانون کا کوئی خوف ہے۔ سپریم کورٹ میں گئو رکشا کے نام پر تشدد اور قتل وغارت گری پھیلانے کے خلاف دائر کی گئی عرضیوں پر سماعت مکمل کرتے ہوئے عدالت نے درست ہی کہاہے کہ بھیڑ کا حوصلہ بڑھ چکا ہے۔ گائے سے آگے اب بچہ چوری کے الزام میں لوگ مارے جارہے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ کوئی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا اور ایسے واقعات کو روکنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے گئو رکشا کے نام پر جاری تشدد کو روکنے سے متعلق عرضیوں پر فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر تفصیلی حکم جاری کیاجائے گا۔ 
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا خاص طورپر واٹس اپ کے ذریعے پھیلی افواہوں کے سبب پورے ملک میں دوماہ کے دوران ہجومی تشدد کے واقعات میں 29سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔ جھارکھنڈ ، آسام، کرناٹک، تریپورہ اور مغربی بنگال میں بھی اس قسم کے واقعات پیش آئے ہیں۔ جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں نراج کی کیفیت پیدا ہورہی ہے۔ ظاہر ہے جب کمزور طبقوں کے خلاف لاقانونیت کو برداشت کیاجائے گا یا اسے مذہبی منافرت اور تعصب کی بنا پر فروغ دیاجائے گا تو یہ سب کچھ آہستہ آہستہ معاشرے میں لوگوں کے مزاج کا ایک حصہ بن جائے گا اور پھر سماج دشمن عناصر حکومت اور سرکاری مشینری کی نااہلی کا فائدہ اٹھاکر پورے معاشرے کو داؤ پر لگادیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر مہذب سماج میں کسی بھی قسم کی لاقانونیت کو برداشت نہیں کیاجاتا۔ جو کوئی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتاہے اسے ایسی عبرتناک سزائیں دی جاتی ہیں کہ کوئی دوسرا اس کی پیروی نہ کرسکے۔ 
ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں بدترین جرائم کو بھی فرقہ وارانہ عینک سے دیکھاجاتا ہے اور لوگ مجرموں کی شناخت ان کے مذہب کی بنیاد پر قائم کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے فرقے کے بدترین مجرموں کو قانون کے ہاتھوں سے بچانے کے لئے دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس کا مشاہدہ کٹھوعہ میں آٹھ سالہ کمسن بچی کی اجتماعی آبروریزی اور قتل کے دردناک واقعہ سے بخوبی ہوتا ہے۔ حال ہی میں مدھیہ پردیش کے ضلع مندسور میں ایک کمسن بچی کی آبروریزی اور اس کے ساتھ وحشیانہ سلوک کے ملزم عارف کو عبرتناک سزا دینے کے لئے خود مسلمانوں نے جلوس نکالے اور ملزم کے لئے پھانسی کا مطالبہ کیا۔ یہاں تک کہ مقامی مسلمانوں نے اسے پھانسی کی سزا کے بعد اپنے قبرستان میں جگہ دینے سے بھی انکار کردیا۔ اس کے برعکس چند ماہ قبل جموں کے کٹھوعہ علاقے میں آٹھ سال کی آصفہ کو ایک مندر میں لے جاکر اس کے ساتھ درندگی اور بربریت کی تمام حدیں پار کردی گئیں اور اسے موت کے گھاٹ اتار کر جنگل میں پھینک دیا گیا۔ جب زبردست دباؤ کے بعد پولیس نے اس معاملے میں ایکشن لیا تو دھرم کے ٹھیکیدار ملزمان کے دفاع میں سامنے آگئے اور انہوں نے بے شرمی اور بے غیرتی کی تمام حدیں پار کرلیں۔ آصفہ کے ملزمان کو بچانے کے لئے مرد ہی نہیں عورتوں نے بھی مورچے نکالے اور آصفہ کی مظلومیت کو تسلیم کرنے سے محض اس لئے انکار کردیا کہ وہ ان کے مذہب سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔ شرمناک بات یہ ہے کہ جب کٹھوعہ کے ملزمان کے خلاف پولیس فرد جرم داخل کرنے عدالت پہنچی تو تمام وکیل دیوار بن کر کھڑے ہوگئے اور انہوں نے پولیس کو ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ حکمراں جماعت کے دووزیروں نے بھی پوری بے شرمی کے ساتھ اس جلوس میں شرکت کی جو آبروریزی اور قتل کے ملزموں کو بچانے کے لئے نکالاگیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد کو ان وزیروں کو کابینہ سے الگ کردیاگیا۔ ذرا سوچئے کہ ہم کس قسم کا سماج تشکیل دے رہے ہیں اور ہماری غیرت وحمیت کو کیاہوگیا ہے۔ کیا واقعی ہم انسان کہلائے جانے کے قابل ہیں۔

Ads