Jadid Khabar

صدرجمہوریہ بھی محفوظ نہیں

Thumb

ہندوستان میں چھواچھوت کی جڑیں کتنی گہری ہیں اور یہ لوگوں کے ذہنوں میں کس حد تک پیوست ہے، اس کا اندازہ حال ہی میں صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کے ساتھ ایک مندر میں ہوئی بدسلوکی سے ہوتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے صدر کے ساتھ ایک مندر میں محض اس لئے دھکا مکی کی گئی کیونکہ ان کا تعلق ایک پسماندہ طبقے سے ہے۔ ملک کے بعض مندروں میں آج بھی دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقوں کا داخلہ ممنوع ہے کیونکہ انہیں اچھوت سمجھاجاتا ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی اور ان کی پارٹی بی جے پی نے ملک کے اولین شہری کے طورپر رام ناتھ کووند کا انتخاب اس لئے کیا تھا کہ وہ دلت طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو ہمارے ملک میں سب سے زیادہ پسماندہ اور محروم طبقات میں سے ایک ہے۔ اس تقرری کا مقصد عوام کے ذہنوں پر یہ تاثر قائم کرنا تھا کہ بی جے پی ایک دلت لیڈر کو ملک کے سب سے باوقار عہدے پر بٹھاکر اس تفریق اور تعصب کو ختم کرنا چاہتی ہے، جو ہزاروں سال سے جاری ہے۔ اس تقرری کے پیچھے دلتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کا خاتمہ کرنے سے زیادہ ان کے ووٹوں کو اپنی جھولی میں ڈالنے کا مقصد کارفرما تھا۔ لیکن حالات اور واقعات نے یہ ثابت کردکھایا ہے کہ آپ کسی دلت کو ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر بھی بٹھادیں لیکن معاشرے میں دلتوں کے ساتھ ہزاروں سال سے جو ناروا سلوک جاری ہے وہ ختم نہیں ہوگااور کوئی دلت سب سے اونچے عہدے پر پہنچنے کے بعد بھی اس بدسلوکی سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ 

صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند اور ان کی اہلیہ سویتا کووند گزشتہ دنوں اڑیسہ کے مشہور جگناتھ مندر میں درشن کرنے گئے تھے اور جب وہ مندر کے گربھ گرہ کی طرف بڑھ رہے تھے تو مندر ہی کے کچھ معاونین حفاظتی گھیرے کو توڑ کر ان کے نزدیک پہنچ گئے اور اس وی آئی پی جوڑے کے ساتھ دھکا مکی کی گئی۔ حالانکہ مندر کے اعلیٰ منتظم پردیپ مہاپاترا نے اس واقعہ کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کیا ہے۔تاہم مندر اور ضلع انتظامیہ نے اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیا ہے اور بدسلوکی کرنے والے مندر کے معاونین کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس افسوسناک واقعہ پر خود راشٹرپتی بھون (ایوان صدر) نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند پہلی بار اس مندر میں درشن کرنے گئے تھے اور ان کے سفر کے دوران زبردست حفاظتی بندوبست کئے گئے تھے۔ لیکن مندر کے معاونین حفاظتی گھیرے کو توڑنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے صدرجمہوریہ سے بدسلوکی کرکے یہ ثابت کردیا کہ کوئی دلت خواہ کتنے ہی اونچے عہدے پر کیوں نہ پہنچ جائے لیکن وہ اعلیٰ ذات کے کسی مندر میں پوجا نہیں کرسکتا۔ چونکہ ان کے عقیدے کے مطابق مندر کے گربھ گرہ تک کسی دلت کے پہنچنے سے مندر کے ناپاک ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوا ہے کہ اگر کسی دلت یا نچلے طبقے کے فرد نے کسی اونچی ذات کے مندر میں داخل ہونے کی ہمت کی ہے تو مندر کو پاک کرنے کے لئے باقاعدہ غسل دیاگیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کے ساتھ اس قسم کی نازیبا حرکت کی گئی ہے۔ اس سے قبل راجستھان میں صدرجمہوریہ اور ان کی اہلیہ کو ایک مندر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی تو انہوں نے مندر کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر پوجا کی اور جب اس کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو یہ وضاحت پیش کی گئی کہ صدرجمہوریہ کی اہلیہ سویتا کووند کے پاؤں میں تکلیف تھی جس کی وجہ سے وہ اندر داخل نہیں ہوسکیں۔ اس سے قبل جنوبی ہند کے ایک مشہور مندر میں صدرجمہوریہ کو درشن کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ 
ہندو عقیدے کے مطابق دلت اور دیگر پسماندہ طبقات کے لوگ ملیچھ (ناپاک) تصور کئے جاتے ہیں اور اسی لئے مندروں میں ان کا داخلہ ممنوع ہے۔ اعلیٰ ذات کے لوگوں کے کنٹرول والے مندروں میں داخلے کے وقت اپنا رجسٹریشن کراتے وقت اپنی ذات بھی بتانی پڑتی ہے اور مندروں میں اسی وقت داخلے کی اجازت ملتی ہے، جب آپ کا تعلق اعلیٰ ذات سے ہو۔ حالانکہ ہمارے آئین میں ملک کے سبھی طبقات کو یکساں حقوق حاصل ہیں اور دستوری اعتبار سے کسی کے ساتھ کوئی تفریق نہیں برتی گئی ہے۔ ہندوستان کا ہر شہری بلا تفریق مذہب وملت ، ذات پات اور رنگ ونسل یکساں سلوک کا مستحق ہے اور اگر کسی کے ساتھ ان بنیادوں پر تفریق برتی جاتی ہے تو اس کے لئے باقاعدہ قانون موجود ہے۔ ان میں دلتوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے خلاف سب سے سخت قوانین ہیں۔ لیکن دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے لئے قانونی تحفظات موجود ہونے کے باوجود قدم قدم پر انہیں تفریق اور چھوا چھوت کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب کبھی سیاسی فائدہ حاصل کرنے یا اس ملک میں اقلیتوں پر اپنی برتری ثابت کرنے کی بات آتی ہے تو یہی اعلیٰ ذات کے لوگ خود کو آبادی کا 85فیصد حصہ قرار دیتے ہیں اور ایسا کرتے وقت وہ دلتوں کو بھی اپنا ہم مذہب یعنی ہندو قرار دیتے ہیں۔ لیکن جب کبھی ان دلتوں کو بطور ہندو ان کے حقوق دینے کی بات آتی ہے تو ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیاجاتا ہے اور انہیں بدترین تفریق کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔ قدیم ہندو مائتھالوجی کے مطابق اس دنیا میں تمام عیش وآرام اور حکومت وسلطنت اعلیٰ ذات کے برہمنوں کے لئے مخصوص کی گئی ہے اور باقی طبقات کو ان کا دست نگر بتایاگیا ہے۔ اعلیٰ ذات کے ان لوگوں کی تعداد ملک میں 5فیصد بھی نہیں ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہی 5فیصد لوگ ملک کے تمام وسائل پر قابض ہیں اور ملک کے تمام کلیدی عہدے ان ہی کے پاس ہیں۔ جب اعلیٰ ذات کے لوگ خود اپنے ہم مذہب نچلی ذات کے لوگوں کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک کرسکتے ہیں تو پھر اس ملک کی اقلیتیں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ان کی بدسلوکی کا محض اندازہ ہی لگایاجاسکتا ہے۔ 

Ads