Jadid Khabar

شجاعت بخاری کا قاتل کون؟

Thumb

گزشتہ19جون کو وادیٔ کشمیر سے شائع ہونے والے اخبارات میں ادارتی کالم کی جگہ خالی دیکھ کر قارئین کو یہ گمان ہوا کہ شاید یہ طباعت کا نقص ہے لیکن جب ایک ساتھ سبھی اخبارات کا ادارتی کالم خالی نظر آیا تو لوگوں کو پتہ چلا کہ ایسا دراصل سرکردہ صحافی شجاعت بخاری کے وحشیانہ قتل کے خلاف احتجاج درج کرانے کے لئے کیاگیا ہے۔ سری نگر میں بیشتر اخبارات کے دفاتر پریس کالونی میں واقع ہیں، جومشہور لال چوک کے بہت قریب ہے۔ مجھے یاد ہے کہ مئی 2015میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے جب میں سری نگر گیا تھا تو شجاعت مجھے بڑے شوق سے اپنے دفتر لے گئے تھے جو پریس کالونی کی ایک گلی میں پہلی منزل پر واقع تھا۔ میں شجاعت بخاری کو انگریزی روز نامہ ’رائزنگ کشمیر‘ کے ایڈیٹر کے طورپر جانتا تھا لیکن اس ملاقات میں انہوں نے مجھے اپنی ادارت میں شائع ہونے والے اردو روزنامہ ’بلند کشمیر‘اور کشمیری زبان میں شائع ہونے والے روزنامہ ’سنگرمال‘ سے بھی متعارف کرایا۔ گزشتہ سال انہوں نے ’کشمیر پرچم ‘ کے نام سے ایک نہایت دیدہ زیب اور معیاری ہفتہ وار بھی اردو میں شروع کیا تھاجس کی کاپی وہ مجھے ہر ہفتے اسپیڈ پوسٹ سے روانہ کرتے تھے۔ شجاعت بخاری کا دفتر خاصا مرصع اور دیدہ زیب تھا۔ انہوں نے اپنے اخبارات میں کام کرنے والے نوجوان صحافیوں سے میرا تعارف کرایا۔ یہ ان کی میٹنگ کا وقت تھا جس میں انہوں نے مجھے بھی شریک کیا اور نہایت عمدہ سبز چائے پلائی۔ اگلے روز جب میں نے سری نگر کے اخبارات پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ جس وقت میں پریس کالونی میں موجود تھا، اس کے چند منٹ بعد ہی وہاں ’انڈین ایکسپریس‘ کے ایک سابق نامہ نگار کو اسی طرح قتل کردیاگیا تھا جس طرح شجاعت بخاری کو قتل کیاگیا ہے۔ شجاعت بخاری کو عین افطار سے چند منٹ پہلے اس وقت 15گولیاں ماری گئیں، جب وہ کسی افطار پارٹی میں جانے کے لئے اپنی کار میں بیٹھ رہے تھے۔ شجاعت کے ساتھ ان کے دومحافظوں کو بھی گولیوں سے بھون دیاگیا۔ شجاعت بخاری کو کس نے قتل کیا اور اس کے پیچھے کیا مقصد کارفرما تھا یہ ایک ایسا راز ہے جس پر شاید پردہ ہی پڑا رہے گا۔ کیونکہ وادی میں اس وقت جس گن کلچر کی حکمرانی ہے، اس میں اصل مجرم تک پہنچنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ شجاعت بخاری کا سب سے بڑا قصور یہ تھا کہ وہ ان کشمیری عوام کے بڑے خیرخواہ تھے جو چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ شجاعت کشمیری عوام کی آرزوؤں اور تمناؤں کا بڑا احترام کرتے تھے۔ وہ امن کے علمبردار ہی نہیں بلکہ پیامبر بھی تھے۔ وہ بندوق کو ہمیشہ کے لئے خاموش دیکھنا چاہتے تھے۔ شجاعت کوئی تیس برس سے صحافت کے پیشہ سے وابستہ تھے اور ان کی بنیادی تربیت ’کشمیر ٹائمز‘ کے بیدار مغز ایڈیٹر وید بھسین کے ہاتھوں میں ہوئی تھی۔ بعد کو انہوں نے کئی برس انگریزی روزنامہ ’ہندو‘ کے لئے رپورٹنگ کی اور 2008 میں اپنا اخبار ’رائزنگ کشمیر‘ شروع کردیا۔ کشمیر میں صحافتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا تلوار کی دھار پر چلنے جیسا کام ہے۔ لیکن وہ یہ کام پوری بے باکی اور جرأت کے ساتھ انجام دے رہے تھے۔ 

کہاجاتا ہے کہ کسی انسان کو پرکھنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ اس کا ہم سفر ہوا جائے۔ شجاعت بخاری کے ساتھ 2010میں مجھے انگلینڈ کے سفر کا موقع ملا۔ ہم لوگوں نے صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ 10روز تک لندن سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں کا سفر کیا۔ اس رفاقت نے مجھے شجاعت کا گرویدہ بنادیا چونکہ شجاعت ایک بہترین انسان اور بہترین دوست ثابت ہوئے۔ اس سفر کے دوران اکثر شجاعت سے کشمیر کے حالات پر بات ہوتی تھی اور کبھی کبھی یہ گفتگو گرماگرم بحث میں تبدیل ہوجاتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ’ ہندوستان ٹائمز‘ ممبئی کی خاتون صحافی سجاتا آنندن کے ساتھ ایک دن شجاعت کی بحث نے گرم رخ اختیار کرلیاتو مجھے مداخلت کرکے گفتگو کو نارمل کرناپڑا۔ برطانیہ سے واپسی کے بعد شجاعت سے دوستی بہت گہری ہوگئی۔ وہ اکثر دہلی آتے تو ہم لوگ کہیں نہ کہیں ساتھ کھانا کھاتے۔ ابھی پچھلے مہینے ہی کی تو بات ہے کہ ایک پارٹی میں ہم لوگوں نے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا تھا۔ شجاعت کی گفتگو میں وہی دلچسپی اور کھلنڈرا پن موجود تھا۔ انہوں نے ذرا بھی اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ یہ ان سے آخری ملاقات ہے۔ 
بھارتیہ جنتاپارٹی نے محبوبہ مفتی سرکار سے حمایت واپس لینے کے جو اسباب بیان کئے ہیں ان میں شجاعت بخاری کے قتل کو بھی ایک سبب قرار دیا گیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مرکزی اور صوبائی حکومت کو شجاعت کی سیکورٹی سے متعلق کتنی فکر لاحق تھی۔ اگر واقعی فکر ہوتی تو شجاعت یوں اپنے محافظوں کے ساتھ قتل نہیں ہوتے۔ شجاعت کو قتل کرنے والے عناصر اگر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایک بلند اور جری آواز کو خاموش کردیا ہے تو وہ غلطی پر ہیں۔ شجاعت نے اپنی محنت، لگن ، دلچسپی اور دوڑ دھوپ سے صحافت کی دنیا میں عالمی سطح پر نام پیدا کیا تھا۔ وہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے سب سے سرکردہ صحافی تھے۔ انہیں عالمی کانفرنسوں میں تواتر کے ساتھ بلایاجاتا تھا۔ وہ فی زمانہ سب سے زیادہ بیرونی ممالک کا سفر کرنے والے صحافیوں میں شامل تھے۔ شجاعت کا اصل سرمایہ کشمیری عوام تھے، جن سے وہ ٹوٹ کر پیار کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے آبائی ضلع بارہمولہ کے کریری گاؤں میں ان کی تدفین کے دوران عوامی سیلاب امڈ آیا تھا۔ بھاری بارش کے باوجود ان کے جنازے میں تیس ہزار سے زیادہ افراد موجود تھے۔ جو اس بات ثبوت ہے کہ شجاعت عوام کی صحافت کرتے تھے اور انہیں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔ حالانکہ کچھ عرصے سے ان کی کردار کشی کے لئے سوشل میڈیا پر ایک انتہائی گھناؤنی مہم چل رہی تھی۔ اس مہم کے پیچھے شاید وہی عناصر سرگرم تھے جنہوں نے شجاعت کو قتل کروایا ہے ۔ وہ شاید اس مہم کے ذریعے شجاعت کے قتل کا جواز پیدا کرنا چاہتے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شجاعت کی موت کے بعد ان کا اخبار ’رائزنگ کشمیر‘ اسی شان سے منظرعام پر آیا جیسا کہ ان کی زندگی میں شائع ہوتا تھا۔ لیکن اس کا پہلا صفحہ سیاہ تھا۔ جس پر یہ جرأت مندانہ عبارت تحریر تھی ’’آپ ہم سے جدا ہوگئے لیکن آپ کی پیشہ وارانہ صلاحیتیں اور مثالی جرأت ہمارے لئے ہمیشہ مشعل راہ ثابت ہوں گی۔ ہم آپ کی زندگی چھیننے والے بزدلوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ خواہ کچھ بھی ہوجائے ہم آپ کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔اللہ آپ کو جنت نصیب کرے۔‘‘ 

Ads