Jadid Khabar

محبوبہ کی پیٹھ میں خنجر

Thumb

اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ محبوبہ مفتی کے سرپہ ڈال کر بی جے پی نے جموں وکشمیر کی مخلوط حکومت کو زمیں بوس کردیا ہے۔ ملک کی سب سے حساس ریاست میں ایک بار پھر جمہوریت ختم ہوگئی ہے اور وہاں صدرراج نافذ کردیاگیا ہے۔ تین سال سے چل رہے بی جے پی اور پی ڈی پی کے غیر فطری اتحاد کی ڈور ٹوٹ گئی ہے ۔ جموں وکشمیر میں ایک بار پھر سیاسی غیر یقینی کا دور شروع ہوگیا ہے۔یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب وادی کے حالات سب سے زیادہ خراب ہیں اور وہاں پوری طرح گن کلچر کی حکمرانی قائم ہوگئی ہے۔ ملک کی سب سے حساس ریاست کا یوں غیر یقینی حالات سے دوچار ہوجانا ملک کے لئے کسی بھی طورپر درست نہیں ہے۔ حالانکہ اب سے تین سال قبل جب یہ مخلوط حکومت وجود میں آئی تھی تو سبھی لوگ حیرت اور تعجب میں مبتلا ہوگئے تھے۔ کیونکہ ان دونوں پارٹیوں کے درمیان کوئی مماثلت نہیں تھی اور دونوں ہی نظریاتی طورپر ایک دوسرے کی شدید مخالف تھیں۔لیکن بی جے پی نے پورے ملک پر اپناراج قائم کرنے کا جو خواب دیکھا ہے، اس میں جموں وکشمیر جیسی ریاست پر اپنا پرچم لہرانا اس کا سب سے بڑا سپنا تھا۔ اس بحث سے قطع نظر کہ مخلوط حکومت کے زوال کے لئے کون کتنا ذمہ دار ہے، یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ ریاست میں گورنر راج کی مدت کتنی طویل ہوگی اور مستقبل میں حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔

 دسمبر 2015میں اسمبلی انتخابات کے بعد جب معلق اسمبلی وجود میں آئی تھی تو وہاں سرکار بنانے کے امکانات معدوم ہوگئے تھے۔دوماہ تک تعطل برقراررہا اور وہاں کوئی سرکار وجود میں نہیں آسکی۔ یکم مارچ 2015کو پی ڈی پی کے صدر مفتی محمد سعید نے جب بی جے پی کی حمایت سے وزیراعلیٰ کا حلف اٹھایا تو سبھی حیرت میں پڑگئے۔ کیونکہ پی ڈی پی اور بی جے پی دوقطعی متضاد اور مختلف نظریات رکھنے والی پارٹیاں تھیں اور دونوں میں کوئی یکسانیت موجود نہیں تھی۔ 2015کے اسمبلی انتخابات میں سیاسی طورپر ریاست جموں وکشمیر فرقہ وارانہ طورپر دوحصوں میں تقسیم ہوگئی تھی یعنی جموں اور لداخ میں بی جے پی کا پرچم لہرایا تھا اور وہاں سے باقی پارٹیوں کا صفایا ہوگیا تھا۔ بی جے پی کو حاصل ہونے والی تمام 25نشستیں جموں اور لداخ ملی تھیں۔ اسی لئے بی جے پی مخلوط حکومت میں شامل ہوکر جموں اور لداخ کے مفادات کی بات کرتی رہی جبکہ پی ڈی پی وادی کے عوام کی توقعات پر کھرا اترنے کی کوشش کرتی رہی۔ اس مخلوط حکومت کو خوش اسلوبی سے چلانے میں مفتی محمد سعید کی دوراندیشی کو بڑا دخل تھا۔ لیکن 7جنوری 2016کوان کے انتقال کے بعد مخلوط حکومت پر سیاہ بادل چھاگئے۔ ریاست میں ایک بارپھر تعطل پیدا ہوا اور وہاں تین ماہ تک صدرراج نافذ رہا۔ آخر کار اپریل 2016میں مفتی محمد سعید کی بیٹی اور ان کی سیاسی وارث محبوبہ مفتی نے وزیراعلیٰ کا حلف لیا اور وہ بی جے پی کی حمایت سے سرکار چلانے لگیں۔ بی جے پی نے محبوبہ مفتی کی ناتجربہ کاری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ضرور کی لیکن محبوبہ نے اپنی شرطوں پر حکومت چلائی۔ پی ڈی پی جہاں مفاہمت اور مذاکرات کے ذریعے وادی میں جاری ٹکراؤ اور تشدد کو ختم کرنا چاہتی تھی تو وہیں بی جے پی طاقت کے بل پر ریاست کے حالات کو کنٹرول کرنے کی طرف دار تھی۔ وزیراعظم نریندرمودی کا خیال تھا کہ صوبے میں ترقی اور خوشحالی سے امن قائم ہوسکتا ہے لیکن یہاں بنیادی سوال کشمیری عوام کی تمناؤں کا تھا۔ کشمیر کا مسئلہ اگر ترقی کے راستے سے حل ہونا ہوتا تو فاروق عبداللہ نے اپنے آخری دوراقتدار میں ترقی کی جو ندیاں بہائیں تھیں، اس میں یہ مسئلہ حل ہوچکا ہوتا۔ لیکن کشمیر کا مسئلہ بنیادی طورپروہاں کے عوام کی آرزوؤں کا مسئلہ ہے۔ 
بی جے پی نے جن توقعات کے ساتھ پی ڈی پی کی مخلوط حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا، وہ دراصل اس کے توسیع پسندانہ سیاسی عزائم سے عبارت تھیں۔ بی جے پی کو پہلی مرتبہ جموں وکشمیر جیسی حساس ریاست میں اقتدار میں شامل ہونے کا موقع ملا تھا۔ حالانکہ یہ قطعی طورپر ایک موقع پرستانہ اتحاد تھا اور اس کی کوئی منطقی بنیاد موجود نہیں تھی۔ لیکن تمام تر اندرونی تضادات کے باوجود مخلوط حکومت نے تین سال سے زیادہ حکومت چلائی اور یہ اتحاد ایک ایسے وقت میں ٹوٹا ہے جب ریاست کے حالات بدسے بدتر ہوچکے ہیں۔ ظاہر ہے حالات کی اس ابتری سے دونوں ہی پارٹیاں اپنا دامن نہیں بچاسکتیں۔ راہل گاندھی نے درست ہی کہا ہے کہ’’ مخلوط حکومت نے کشمیر کو آگ میں جھونک دیا ہے۔‘‘ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بی جے پی نے وادی میں بدامنی اور قتل وغارت گری کے لئے محبوبہ مفتی کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ناکامی کی جتنی ذمہ دار محبوبہ مفتی ہیں اتنی ہی خود بی جے پی بھی ہے۔ بی جے پی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں جواب دہی کی روادار نہیں ہے۔ اسی لئے اس نے حالات کے بگڑنے کا ٹھیکرا محبوبہ مفتی کے سرپر پھوڑا ہے۔ یہی دراصل بی جے پی کے موقع پرستانہ اور غیر ذمہ دارانہ کردار کا ثبوت ہے۔ خود بی جے پی ذرائع سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ حمایت واپس لینے کا فیصلہ دراصل 2019 کے عام انتخابات کو نظرمیں رکھ کر کیاگیا ہے۔ کیونکہ کشمیر کے حالات پر کمزور پڑتی ہوئی گرفت سے اس کی پوزیشن دن بہ دن خراب ہوتی چلی جارہی تھی اور وہ کشمیر میں حاصل ہونے والی ناکامیوں کے ساتھ عام انتخابات کے میدان میں نہیں اترنا چاہتی تھی۔ بہرحال بی جے پی کے اس موقع پرستانہ اور غیر ذمہ دارانہ فیصلے سے وادی کے حالات مزید ابتر ہوسکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ انہوں نے کشمیر کو ترجیح دی جبکہ جموں اور لداخ کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کیا۔ بی جے پی جنرل سیکریٹری رام مادھو کا کہنا ہے کہ پچھلے ’’کچھ دنوں سے کشمیر میں حالات کافی بگڑگئے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں حمایت واپس لینے کا فیصلہ کرنا پڑا۔‘‘ انہوں نے کہاکہ’’ موجودہ حالات میں وادیٔ کشمیر میں دہشت گردی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔‘‘ جبکہ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ’’جموں وکشمیر میں زور زبردستی کی پالیسی کامیابی نہیں ہوسکتی۔‘‘ انہوں نے کہاکہ’’ ہم نے گیارہ ہزار نوجوانوں کے خلاف مقدمے واپس لئے اور یکطرفہ جنگ بندی کرائی۔ دفعہ 370 اور صوبے کی خصوصی حیثیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہونے دی۔ ہم نے اپنا ایجنڈا پورا کردیا ہے۔‘‘ انہوں نے سب سے اہم بات یہ کہی کہ’’ جموں وکشمیرسے ہم دشمنوں کی طرح سلوک نہیں کرسکتے۔‘‘ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ بی جے پی اور پی ڈی پی اتحاد پہلے ہی بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہوا تھا۔ بس اسے ایک چنگاری کی ضرورت تھی اور اسے آگ لگانے کا کام اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کی رپورٹ نے کردکھایا ہے۔ جس سے عالمی سطح پر ہندوستانی کی کافی بدنامی ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں وادی میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے ہندوستان پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ یوں اگر دیکھاجائے تو اس حکومت کا بیشتر وقت حالات کی گتھی سلجھانے کی بجائے اپنے اندرونی تضادات حل کرنے پر صرف ہوا۔ کبھی گئو کشی ، کبھی دفعہ 370تو کبھی دفعہ 35Aکے بہانے اتحاد میں کشیدگی پیدا ہوتی رہی۔ آگ میں گھی ڈالنے کا کام برہان وانی کی ہلاکت نے کیا اور اس کے بعد کشمیری نوجوان قابو سے باہر ہوگئے۔ بعدازاں کٹھوعہ اجتماعی آبروریزی کے واقعہ نے دونوں پارٹیوں کے درمیان کشیدگی کو انتہاؤں تک پہنچادیا۔ آبروریزی کے ملزمان کی حمایت کرنے والے بی جے پی کے دووزیروں کو مستعفی ہونا پڑا۔ پی ڈی پی کشمیر کے مسئلے کوحل کرنے کے لئے تمام فریقین کے ساتھ کھلے مذاکرات کی حامی تھی جبکہ بی جے پی صرف بندوق کی زبان میں بات کرنے کی طرف دار تھی۔ آج واقعی پوری وادی میں حالات دگرگوں ہیں۔ صدرراج نافذ ہونے کے بعد اب وہاں پوری طرح مرکز کا کنٹرول قائم ہوگیا ہے اور جمہوری نظام دم توڑ گیا ہے۔ ایسے میں یہ کہنا انتہائی مشکل ہے کہ آنے والے دنوں میں وادی کے حالات بہتر ہوں گے بلکہ یوں کہاجائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ وادی کشمیر ایک بار پھر اندھی سرنگ میں داخل ہوچکی ہے۔ 

Ads