Jadid Khabar

ایک روحانی پیشوا کی خودکشی

Thumb

ایک ہندو روحانی پیشوا کی خودکشی کے واقعہ نے ان کے لاکھوں پیروکاروں کو مایوسی اور شرمندگی کی گہری دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ وہ دیواروں سے سرٹکرا کر پوچھ رہے ہیں کہ اپنی مایوسی اور ناامیدی دور کرنے کے لئے انہوں نے جس روحانی پیشوا کی پناہ حاصل کی تھی، وہ خود شدید مایوسی اور ناامیدی میں کیوں مبتلا تھا؟ روحانی پیشوا بھیّو جی کا اصل نام ادے سنگھ تھا۔ ا ن کی پیدائش مہاراشٹر کے ودربھ ضلع میں 1968میں ایک زمین دار گھرانے میںہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک ماڈل کے طورپر کیا تھالیکن وہ جلد ہی روحانیت کی طرف راغب ہوگئے اور انہوں نے لوگوں کا روحانی علاج کرنے کے لئے ایک ٹرسٹ قائم کرلیا۔ ان کے چاروں طرف دولت کی ریل پیل تھی۔ وہ سفید مرسڈیز کار میں سفر کرتے تھے اور انہیں رولیکس گھڑیاں بہت پسند تھیں۔ مہاراشٹراور مدھیہ پردیش میں ان کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد تھی۔ سیاست سے بھی ان کا گہرا تعلق تھا اور سبھی پارٹیوں میں ان کے خیرخواہ موجود تھے۔ وہ اس وقت سرخیوں میں آئے جب2011میں اناہزارے کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لئے انہیں دہلی بلایاگیا۔ اس سے قبل وہ نریندرمودی کا سدبھاؤنا اپواس ختم کرانے کے لئے احمد آباد بھی گئے تھے۔ مجموعی طورپر وہ دنیاوی اور مذہبی دونوں اعتبار سے انتہائی کامیاب اور بامراد زندگی گزاررہے تھے۔ گزشتہ دنوں مدھیہ پردیش حکومت نے انہیں کابینہ درجے کے وزیر کی مراعات بھی مرحمت فرمائی تھیں۔اتنے زبردست تام جھام کے باوجود گزشتہ 12جون کی صبح شدید ذہنی دباؤ کی حالت میں انہوں نے اپنی عالیشان کوٹھی کا کمرہ بند کرکے خود کو گولی مارلی۔ انہوں نے اپنی نوٹ بک کے ایک صفحہ پر دوجملوں میں جو خودکشی نامہ تحریر کیا ہے ، اس میں لکھا ہے کہ ’’میں زبردست ذہنی تناؤ سے عاجز آکر اپنی زندگی کا خاتمہ کررہا ہوں۔ ‘‘
بھیّو جی مہاراج کے اس قدم نے ان کے تمام پیروکاروں کو سخت الجھن میں مبتلا کردیا ہے۔ وہ خود سے پوچھ رہے ہیں کہ جس شخص سے روحانی سکون حاصل کرنے کے لئے انہوں نے رجوع کیا تھا ،وہ خود اتنی مایوسی اور نامرادی کا شکار کیوں تھاـ؟ مہاراج کی پیروی کرنے والوں کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ آخر کیا کریں۔ اپنے روحانی پیشوا کی دردناک موت پر لوگوں نے ٹوئیٹر پر عجیب وغریب تبصرے کئے ہیں۔ ایک شخص نے لکھا ہے کہ ’’دوسروں کو تلقین کرنا آسان ہوتا ہے لیکن جو خودکشی کرتا ہے وہی جانتا ہے کہ اس کے لئے زندہ رہنا کتنا مشکل ہوچکا ہے۔‘‘ ایک اور شخص کا کہنا ہے کہ ’’ انہیں اس بات کا سبق ملا ہے کہ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔‘‘ ایک اور عقیدت مند نے لکھا ہے کہ ’’بھیّو جی روحانیت کے اعلیٰ ترین مقام تک پہنچنے کے باوجود خود کوہی نہیں بچاپائے۔‘‘ 
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ ہندوستان میں ہندوؤں کا کوئی مذہبی پیشوا اور روحانی گرو اتنے عبرتناک انجام سے دوچار ہواہے۔ اس سے قبل ہمارے ملک میں کئی روحانی پیشوا اپنے عبرتناک انجام سے دوچار ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ دراز ہوتا چلاجارہا ہے۔ بھیّو جی مہاراج کی خودکشی سے ایک روز قبل ہی شنی دھام کے مذہبی رہنما پر ان کی ایک 25سالہ عقیدت مند خاتون نے بدترین جنسی استحصال کا الزام عائد کیاتھا۔ الزام ہے کہ داتی مہاراج اور ان کے چیلوں نے تین برس تک اس دوشیزہ کا یہ کہہ کر مسلسل جنسی استحصال کیا کہ اسے روحانی سکون حاصل ہوگا۔ دہلی کے شبی دھام مندر کے بانی داتی مہاراج عرف مدن لال کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج ہوچکی ہے اور پولیس ان کی تلاش میں چھاپہ ماری کررہی ہے۔ اس سے قبل آسارام باپو، بابا رام رحیم اور وریندر دیو جیسے ڈھونگی روحانی پیشواؤں پر اپنے آشرموں میں روحانیت کے نام پر بدترین جنسی استحصال کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ یہ سبھی لوگ سلاخوں کے پیچھے اپنی بدکاریوں کی سزا بھگت رہے ہیں اور ان کے لاکھوں عقیدت مند دردربھٹک رہے ہیں۔ انہیں آج تک یقین نہیں آرہا ہے کہ جن مذہبی پیشواؤں سے انہوں نے روحانی تربیت حاصل کی تھی، وہ دراصل شیطان کے پیروکار تھے اور ان کی ذاتی زندگی گھناؤنے کردار کی حامل تھی۔ 
ہندوستان میں آج بھی ایسے مذہبی پیشواؤں کی کوئی کمی نہیں ہے، جو اَن پڑھ اور سیدھے سادے لوگوں کو ان کے مادی اور روحانی مسائل حل کرنے کے لئے اپنے آشرموں میں بلاتے ہیں۔ ان کی جیبیں خالی کرتے ہیں اور خواتین کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ انہیں ذہنی سکون پہنچانے کے نام پر کیاجاتا ہے۔ اکثر معاملات میں یہ ڈھونگی بابا بے نقاب نہیں ہوپاتے کیونکہ بیشتر لوگ اپنے استحصال کی کہانیاں بیان کرتے ہوئے ڈرتے ہیں چونکہ انہیں اپنے انجام کی فکر لاحق رہتی ہے۔ ان ڈھونگی باباؤں نے باقاعدہ جرائم پیشہ افراد کے گروہ قائم کررکھے ہیں، جو ان پر انگلی اٹھانے والوں کو ٹھکانے لگانے کا کام کرتے ہیں۔ ان حالات میں جو کوئی ان ڈھونگی باباؤں کو بے نقاب کرتا ہے وہ واقعی بڑے حوصلے کا کام کرتا ہے۔ چین اور سکون کی تلاش میں دردر بھٹکنے والے لوگ عیار اور مکار باباؤں کے چنگل میں آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔ ڈھونگی بابا ان کی مجبوری اور لاچاری کا فائدہ اٹھاکر انہیں مشق ستم بناتے ہیں۔ حکومت اور سرکاری مشینری کا بنیادی کام عوام کو ایسے جرائم پیشہ اور دھوکے باز مذہبی پیشواؤں سے آزاد کرانا ہے اور ان ڈھونگی باباؤں کو قانون کی گرفت میں لے کر ان کے انجام تک پہنچانا ہے۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حکومت اور سرکاری مشینری خود ان باباؤں کا پانی بھرتی ہوئی نظر آتی ہے کیونکہ ان ڈھونگی باباؤں کے لاکھوں پیروکاروں کو سیاسی پارٹیاں ووٹ بینک کے روپ میں دیکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن کے موقع پر سیاسی پارٹیاں ووٹ حاصل کرنے کے لئے ان باباؤں کے در پر ماتھا ٹیکتی ہیں۔ آسارام باپو اور بابا رام رحیم سے لے کر بھیّو مہاراج اور داتی مہاراج تک سبھی کے آگے سرجھکانے والوں میں تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈران شامل ہیں۔ ایسے ڈھونگی باباؤں کے اپنے انجام سے دوچار ہونے کے بعد عام لوگوں کو اپنے مالک حقیقی سے لو لگانی چاہئے تھی لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ لوگ آج بھی اندھی سرنگ میں نامعلوم منزل کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ کیونکہ انہیں اصل منزل کا پتہ بتانے والے خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ 

 

Ads