Jadid Khabar

راز کی باتیں لکھیں اور خط کُھلا رہنے دیا

Thumb

سچ پوچھئے تو یہ خبر پڑھ کر ہم بھی حیرت زدہ رہ گئے تھے۔ خبر ہی اتنی سنسنی خیز اور چونکانے والی تھی۔ آخر ہمارے وزیراعظم نریندرمودی کو قتل کرنے کی خطرناک سازش کا جو انکشاف ہوا تھا۔ وہ بھی آنجہانی وزیراعظم راجیوگاندھی کے طرز پر، جنہیں21مئی 1991کو کوئمبٹور میں ایک انتہائی خطرناک خودکش حملے میں اس سفاکی سے ہلاک کیاگیا تھاکہ ان کے جسم کے چیتھڑے اڑ گئے تھے۔ یوں بھی ہم اندر سے ایک کمزور دل انسان واقع ہوئے ہیں۔ جب بھی کوئی ایسی خبر آتی ہے تو ہم اندر سے ایسے ہی سہم جاتے ہیں، جیسے وزیراعظم نریندرمودی کو ماؤوادیوں کے ہاتھوں قتل کرنے کی سازش سے سہم گئے ہیں۔ اسی سہمی ہوئی حالت میں ہم کئی روز تک بی جے پی کارکنوں اور مودی بھکتوں کی حرکت وعمل کو واچ کرتے رہے کہ کہیں تو ماؤوادیوں کے خلاف ہلا بول مہم شروع ہو اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایاجائے۔ لیکن کئی دن کے انتظار کے بعد ہمیںمایوسی ہوئی اور ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ کسی بھکت نے ماؤوادیوں سے لوہا لینے کی کوشش کی ہو یا پھر ہمارے پیارے وزیراعظم نریندرمودی کی ننھی سی جان کو لاحق سنگین خطرے پر تشویش کا اظہار کیا ہو۔ سوائے وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ کے، جنہوں نے یہ بیان دے کر ہماری تشویش کو کسی حد تک دور کردیا کہ’’ وزیراعظم مودی کی سیکورٹی بہت چست درست ہے اور اس میں کوئی نقب نہیں لگاسکتا۔‘‘ ظاہر ہے وزیرداخلہ کا یہ بیان یوں ہی روا روی میں نہیں دیا گیا تھا بلکہ اس کے پیچھے ٹھوس وجوہات موجود تھیں کیونکہ وزیراعظم نریندرمودی دنیا کے ان معدودے چند سربراہان مملکت میں شامل ہیں، جنہیں بے مثال سیکورٹی حاصل ہے۔ شیوسینا کے بقول ان کی سیکورٹی اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد جیسی مضبوط ومستحکم ہے اور اس میں کسی کی بھی دخل اندازی ممکن نہیں ہے۔واقعی وزیراعظم نریندرمودی کی سیکورٹی ایسی ہے کہ اس میں کسی پرندے کو بھی پَر مارنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسے میں ماؤوادیوں کو کیا سوجھی کہ انہوں نے وزیراعظم کو قتل کرنے کی خوفناک سازش کا انکشاف ایک ایسے خط کے ذریعے کیا جسے لفافہ میں بھی بند نہیں کیاگیا تھا او روہ آسانی کے ساتھ پولیس کے ہاتھ لگ گیا۔ کیا واقعی ماؤوادی اتنے بڑے بے وقوف ہیں کہ وہ اتنی خطرناک سازش کے ثبوت پولیس کو دستیاب کرادیتے ہیں۔ ہم تو اب تک یہی دیکھتے آرہے ہیں کہ اس قسم کی خوفناک سازشوں کو انجام دینے والے اتنے شاطر اور چالاک ہوتے ہیں کہ وہ اپنی سازش سے کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہونے دیتے۔ یہ لوگ اپنا کام انجام دینے کے بعد اس طرح روپوش ہوجاتے ہیں کہ گویا ان کو زمین نے نگل لیاہویا آسمان کھاگیا ہو۔ مگر یہ کیسی سازش تھی کہ جسے انجام دینے سے پہلے باضابطہ حلقہ تحریر میں لایاگیا اور اسے پولیس کے ہاتھوں تک پہنچنے کے لئے کھلے خط کی شکل میں چھوڑ دیاگیا۔ اس خط کو دیکھ کر ہمیں ایک پرانے شاعر کا شعر بے ساختہ یاد آیا  ؎

جانے کیوں رسوائیوں کا سلسلہ رہنے دیا
راز کی باتیں لکھیں اور خط کُھلا رہنے دیا
آگے بڑھنے سے پہلے ہم ایک سرسری نظر اس خط پر ڈالتے ہیں جس نے وقتی طورپر ہی سہی پورے ملک میں سنسنی پھیلادی۔ مہاراشٹر کے شہر پونے سے جاری خبر میں بتایاگیا ہے کہ ماؤوادیوں کے ساتھ مبینہ رابطوں کے لئے گرفتار کئے گئے ایک شخص سے برآمد خط میں لکھا ہے کہ ماؤوادی راجیوگاندھی کے قتل جیسی واردات انجام دینے پر غور کررہے ہیں۔ اس خط میں تجویز کیاگیا ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی کو ان کے’ روڈشو‘ کے دوران نشانہ بنایاجائے۔پولیس کے مطابق یہ خط ’R‘ نام کے شخص نے کسی کامریڈ پرکاش کو بھیجا ہے۔ اس میں M4 رائفل خریدنے کے لئے 8کروڑ روپے اور اس کے ساتھ ہی اس واردات کو انجام دینے کے لئے چار لاکھ راؤنڈ گولہ بارود کی ضرورت کی بات لکھی گئی ہے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ خط رونا ولسن کے گھر سے برآمد کیاگیا ہے جنہیں حال ہی میں پانچ دیگر لوگوں کے ساتھ بھیما کورے گاؤں میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں گرفتار کیاگیا تھا۔ اس خط میں لکھا ہے کہ ہندو فاشزم کو ہرانا ہمارا اصل ایجنڈا رہا ہے اور یہ پارٹی کے لئے سب سے اہم فکر مندی ہے۔ اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’’ مودی کی قیادت میں ہندو فاشزم کا نظام آدیواسیوں کو روندتے ہوئے تیزی سے ان کی زندگی میں داخل ہوتا جارہا ہے۔‘‘
مہاراشٹر کی پولیس یقینا مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے اتنی خطرناک سازش رچنے والے چار ماؤوادیوں کو زندہ پکڑنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور وزیراعظم نریندرمودی کو ایک انتہائی خطرناک سازش کا شکار ہونے سے بچالیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وزیراعظم کے سیاسی مخالفین اس خط کی معتبریت پر سوال کھڑے کررہے ہیں اور اسے ہمدردی حاصل کرنے کا ایک حربہ قرار دے رہے ہیں۔ این سی پی کے صدر شردپوار نے اس خط کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم کے قتل کی سازش کی خبر کو ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ شردپوار نے تمام عمرسی آئی ڈی کی ملازمت کرنے والے  ایک سبکدوش پولیس افسر کے حوالے سے کہا ہے کہ’’ ایسے خط میں کوئی دم نہیں ہوتا۔ اگر دھمکی بھرے خطوط آتے ہیں تو انہیں اخبارات کے حوالے نہیں کیاجاتا بلکہ سی آئی ڈی کو بتایاجاتا ہے اور احتیاط برتی جاتی ہے۔‘‘ دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی کو قتل کرنے کی سازش رچنے والے کسی گروہ کو زندہ پکڑلیاگیا ہے۔ ورنہ اس سے قبل جب وہ گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو آئے دن فرضی انکاؤنٹر میں مسلم نوجوانوں کو ہلاک کرکے یہ دعویٰ کیاجاتا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ نریندرمودی کو قتل کرنے کی سازش رچ کر احمدآباد آئے تھے۔آپ کو یاد ہوگا کہ اس سلسلے کا سب سے سنسنی خیز انکاؤنٹر وہ تھا جس میں ممبئی کی طالبہ عشرت جہاں سمیت چار مسلم نوجوانوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا تھا۔ اس انکاؤنٹر پر آج تک شکوک وشبہات کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور تحقیقات میں اس انکاؤنٹر کو فرضی قرار دیاجاچکا ہے۔لیکن اب تک اس معاملے میں کسی کو سزا نہیں ملی ہے۔ 2002 کی گجرات نسل کشی کے بعد درجنوں مسلم نوجوانوں کو اس الزام میں فرضی انکاؤنٹر کے ذریعے ہلاک کیاگیا۔ ان سب کے ماسٹر مائنڈ گجرات سرکار کے ایک چہیتے پولیس افسر ڈی جی ونجارا تھے جنہیں کئی برس سلاخوں کے پیچھے گزارنے پڑے۔ مہاراشٹر پولیس نے وزیراعظم نریندرمودی کے قتل کی سازش رچنے والے ماؤوادیوں کو زندہ گرفتار کرنے میں کامیابی ضرور حاصل کی لیکن  گجرات پولیس ایسی سازش رچنے والے کسی بھی شخص کو زندہ گرفتار نہیں کرسکی۔ اگر واقعی ایسی کوئی سازش تھی تو یہ ایک انتہائی خطرناک بات تھی جس کا انکشاف سازش رچنے والوں کو زندہ گرفتار کرکے ہی کیاجاسکتا تھا۔ گجرات کی اندرونی سیاست پر نظررکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جب بھی وزیراعلیٰ مودی کی مقبولیت میں کمی واقع ہوتی تھی تبھی فرضی انکاؤنٹر کرکے مہلوکین پر ان کے قتل کی سازش کا الزام لگادیا جاتا تھا۔ ہم تو یہ نہیں کہیں گے کہ وزیراعظم کے طورپر نریندرمودی  کی مقبولیت اس حد تک کم ہوگئی ہے کہ وہ یہاں گجرات کی کہانی دہرانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان کے کارندے گزشتہ چار سال کی حصولیابیوں کا حساب لے کر مختلف دروازوں پر دستک دے رہے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی جان تو ڑ کوشش کی جارہی ہے کہ ان چار برسوں میں زندگی کے ہر میدان میں انقلاب برپا ہوا ہے۔ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی کو ماؤوادیوں کا نشانہ بنانے کی سازش پر نہ جانے کیوں خود ان کے ہی حلیف مطمئن نہیں ہیں۔ مثال کے طورپر ماؤوادیوں کے مکتوب کو ان کی حلیف جماعت شیوسینا نے جگ ہنسائی کا مضحکہ خیز مواد قرار دیتے ہوئے اسے کسی خوفناک فلم کی کہانی سے تعبیر کیا ہے۔ شیوسینا کو اس میں سرے سے کوئی سازش نظر نہیں آتی۔ اپنے مراٹھی ترجمان ’سامنا‘ کے اداریہ میں شیوسینا نے لکھا ہے کہ’’ مودی کی سیکورٹی موساد جیسی مضبوط ومستحکم ہے اور اس میں کسی کی بھی دخل اندازی عملی طورپر ممکن نہیں ہے۔ اس صورت میں انہیں قتل کرنے کی سازش پراسرار معلوم ہوتی ہے اور یہ کسی ڈراؤنی فلم کی کہانی معلوم ہوتی ہے۔‘‘

Ads