Jadid Khabar

ہندوستانی آئین خطرے میں

Thumb

ملک میں پھیلی ہوئی بدامنی اور سیکولر جمہوری قدروں کو لاحق خطرات کے حوالے سے عیسائی مذہبی پیشواؤں نے جن اندیشوں کا اظہار کیا ہے، انہیں کسی بھی طور نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ دہلی کے عیسائی پیشوا کی طرف سے پادریوں کو لکھے گئے خط کی بازگشت ابھی کم بھی نہیں ہوئی تھی کہ اب گوا کے عیسائی مذہبی پیشوا نے ملک کے آئین کو درپیش خطرات کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا آئین خطرے میں ہے اور ملک پر ایک ہی تہذیب کو حاوی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ بیان حقیقت کے اتنا قریب ہے کہ اس پر کوئی سوال کھڑا ہی نہیں کیاجاسکتا لیکن ملک میں اس وقت سچ بولنے پر جو پابندیاں لگائی جارہی ہیں ،اس کی روشنی میں اس بیان کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے ایڑی سے چوٹی تک کا زور لگایاجاسکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے دہلی کے آرک بشپ انل کاؤٹو نے راجدھانی کے سبھی پادریو ں کو خط لکھ کر ہندوستان کی سیاسی صورت حال کو بدامنی سے تعبیر کرتے ہوئے 2019 کے عام انتخابات کے پیش نظر دعائیں کرنے اور ہر جمعہ کو روزہ رکھنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے لکھا تھا کہ بدامنی کا موجودہ سیاسی ماحول دستور میں پوشیدہ ہمارے جمہوری اصولوں اور ملک کے سیکولر تانے بانے کے لئے خطرہ بن گیا ہے۔ اس کے بعد اب دمن اور گوا کے آرک بشپ فلپ میری نے کہاہے کہ’’ ہندوستان میں انسانی حقوق پر حملے ہورہے ہیں اور ملک کا دستور خطرے میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ملک کے بیشتر افراد عدم تحفظ اور خوف کے ماحول میں زندگی گزاررہے ہیں۔ ‘‘

عیسائی مذہبی پیشواؤں کے یہ بیانات ملک میں جبر کے اس ماحول کی عکاسی کررہے ہیں جو موجودہ حکومت کے گزشتہ چارسال کی خاص پہچان ہے۔ جبر اور خوف کا یہ ماحول صرف عیسائی اقلیت تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں پر بھی عرصہ حیات تنگ کردیاگیا ہے۔ لیکن حکومت اس کڑوی سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ عیسائی مذہبی پیشواؤں کے حالیہ بیانات کا زور کم کرنے کے لئے بی جے پی اور آر ایس ایس کے کئی لیڈران میدان میں اترچکے ہیں۔ یہ لوگ ملک کے سیاسی اور سماجی تانے بانے کو پوری طرح صحت مند قرار دینے کی جان توڑ کوششیں کررہے ہیں لیکن پوری دنیا ان حالات کا مشاہدہ کررہی ہے ، جن کے تحت اس ملک کے کمزور طبقے اور بالخصوص اقلیتیں زندگی گزاررہی ہیں۔ 
ہندوستانی آئین کی اس خوبی سے سبھی لوگ واقف ہیں کہ یہ ملک کے ہر شہری کو بلاتفریق مذہب وملت اس بات کی آزادی دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل پیراہوں اور اس کی تبلیغ اور نشرواشاعت بھی کریں۔ دستور کے مطابق ملک کے تمام فرقوں کو عبادت وریاضت کی مکمل آزادی بھی حاصل ہے۔ لیکن گزشتہ چار سال کے عرصے میں جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے ، سنگھ پریوار کے کارکنوں نے مذہبی اقلیتوں کا جینا حرام کردیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ اقلیتوں کی عبادت میں رخنہ اندازی کی جارہی ہے بلکہ ان کے کھانے پینے، رہن سہن کے طریقوں پر بھی اعتراض کئے جارہے ہیں اور انہیں بدترین ظلم وتشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ محض گئو کشی روکنے کے نام پر اب تک درجنوں مسلمانوں کو درندگی اور بربریت کے ساتھ پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیاگیا ہے۔ ملک میں کئی مقامات پر مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملے ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اقلیتوں کے بنیادی آئینی حقوق پر کھلے عام حملوں کے باوجود قانونی مشینری ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی ہے اور اس نے اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے مجرمانہ چشم پوشی کی روش اختیار کی ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اقلیتوں پر ہونے والے ان مظالم کے خلاف جب کوئی زبان کھولتا ہے تو صاحبان اقتدار اس کا منہ نوچنے کی کوشش کرتے ہیں اور طرح طرح کے حربے اختیار کرکے اسے دیوار سے لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دہلی کے عیسائی مذہبی پیشوا نے پادریوں کو خط لکھ کر دعائیں کرنے اور روزہ رکھنے کی تلقین کی تو ان پر اتنے ڈونگرے برسائے گئے کہ توبہ ہی بھلی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب اس ملک کی اقلیتیں اپنے وطن میں امن چین قائم کرنے اور حالات کی گتھی سلجھانے کے لئے دعا کا بھی سہارا نہیں لے سکتیں۔ ایک طرف تو ملک کا موجودہ نظام ان پر عرصہ حیات تنگ کررہا ہے اور انہیں سر اٹھاکر جینے کی اجازت نہیں دے رہا ہے اور دوسری طرف وہ حالات کی بہتری کے لئے اپنے مالک سے رجوع ہوتے ہیں تو انہیں اس کی بھی اجازت نہیں ہے۔ یہی دراصل جبروتشدد کا وہ ماحول ہے جس کا عکس عیسائی مذہبی پیشواؤں کے بیانات میں نظرآتا ہے۔ ظاہر ہے کمزور طبقوں اور خدا پر یقین رکھنے والوں کے سامنے دعا ہی آخری سہارا ہے۔ بقول شاعر 
کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا 
کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا 
موجودہ حکومت نے اپنی مدت کے چارسال پورے کرلئے ہیں اور آئندہ سال ملک میں عام انتخابات کا بگل بجنے والا ہے۔ ان چار برسوں میں جن لوگوں نے ظلم وستم کی سیاہ رات کاٹی ہے وہ اقتدار کی تبدیلی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ملک کے تمام صحیح سوچ رکھنے والے عناصر کی بھی یہی کوشش ہے کہ کسی بھی طرح حالات تبدیل ہوں اور ملک میں ایک ایسی حکومت برسراقتدار آئے جو سماج کے کمزور طبقوں کی بہی خواہ ہو اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔ لوگوں کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ ملک میں سیکولر جمہوری آئین کا بول بالاہو اور بھائی چارے کا ماحول پروان چڑھے تاکہ سماج کے سبھی طبقے چین وسکون سے زندگی گزارسکیں۔ اگر کچھ لوگ ایسی تمنا لے کر میدان میں اترے ہیں تو ان کی راہیں روکنے کی کوششیں کیوں کی جارہی ہیں۔ وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کہتے ہیں کہ’’ بھارت کسی کے بھی خلاف مذہب یا فرقے کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتا اور ملک میں ایسا کرنے کی کبھی بھی اجازت نہیں رہی ہے۔‘‘ لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ گزشتہ چارسال کے عرصے میں جن مذہبی جنونیوں نے اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف شرمناک کارروائیاں انجام دی ہیں اور گئو کشی اور لو جہاد کے نام پر جنہیں سفاکی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے ، آخر ان کے مجرم آج تک آزاد کیوں ہیں؟ آخر قانونی مشینری پر ایسا کیا دباؤ ہے کہ اس نے ان انسانیت دشمنوں کے خلاف اتنے کمزور مقدمات قائم کئے کہ وہ سب یکے بعد دیگرے ضمانت پر رہا ہوگئے۔ دادری میں محمد اخلاق کے قاتلوں سے لے کر راجستھان میں پہلو خاں اور ہریانہ میں جنید کے قاتلوں تک قانون کا شکنجہ اتنا کمزور کیوں ثابت ہوا کہ سب کے سب ضمانتوں پر رہا ہوگئے۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا موجودہ حکومت اور ہمارے وزیر داخلہ کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے۔ ان ہی حالات کے پیش نظر گزشتہ ہفتے دہلی کے آرک بشپ نے یہ لکھا کہ ہمارا آئین خطرے میں ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ عدم تحفظ کے احساس میں جی رہے ہیں۔ عام انتخابات چونکہ کے قریب ہیں اور ہمیں آئین کو بچانے کے لئے اس کے اقدار کی حفاظت کے لئے محنت کرنا ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ’’ ان دنوں ملک میں ایک رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یعنی ہمارے کھانے پینے اور رہن سہن یہاں تک کہ عبادت پر بھی نظررکھی جارہی ہے۔ انسانی حقوق اور جمہوریت خطرے میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ اقلیتوں کو اپنے تحفظ کا خطرہ ستارہا ہے اور ترقی کے نام پر لوگوں کو ان کی جگہوں اور گھروں سے ہٹایا جارہا ہے۔‘‘
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا عیسائی اس ملک کے برابر کے شہری نہیں ہیں اور کیا انہیں دستور کے تحت اظہار خیال کی آزادی کا حق حاصل نہیںہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان مذہبی پیشواؤں کے بیانات پر طرح طرح کے اعتراضات درج کرائے جارہے ہیں اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ظاہر ہے آج اگر ملک میں حالات دگرگوں ہیں اور آئینی حقوق سے انکار کیاجارہا ہے تو لوگوں کو اس طرف متوجہ کرنا ملک کے ہر شہری کا بنیادی حق ہی نہیں بلکہ بنیادی فرض بھی ہے۔ ممتاز ماہر قانون پروفیسر طاہر محمود کے بقول آئین کے تحت شہریوں کے بنیادی فرائض سے متعلق باب کے مطابق ’’آئین کی پیروی کرنا اور اس کے اصولوں اور اداروں کا احترام کرنا تمام شہریوں کا اولین اور بنیادی فریضہ ہے جس میں حاکم ومحکوم سبھی شامل ہیں۔ اس اعتبار سے اگر ملک کا کوئی بھی ذمہ دار شہری خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہبی گروہ سے ہو ، صدق دلی سے یہ محسوس کرتا ہے کہ کچھ دوسرے شہری اس فریضے کی خلاف ورزی کرکے ملک کے حالات خراب کررہے ہیں تو اسے یہ بات کہنے اور اس پر دوسروں کی توجہ مبذول کرنے کا پورا حق حاصل ہے جس پر کسی قسم کا دستوری یا قانونی اعتراض نہیں کیاجاسکتا۔ 

Ads