Jadid Khabar

کیرانہ میں تبسم

Thumb

کیرانہ‘ مغربی یوپی کے ان علمی ، ادبی اور تہذیبی قصبوں کی صف میں ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے علمائے دیوبند کے سوتے پھوٹے ہیں۔ کیرانہ کو عربی زبان کی مایہ ناز لغت ’المنجد‘ کے خالق مولانا وحیدالزماں کیرانوی کے حوالے سے بھی شہرت ملی ہے۔ لیکن پچھلے دنوں یہ قصبہ ایک ایسی نام نہاد ہجرت کے حوالے سے سرخیوں میں رہا جس کا سراغ آج تک کسی کو نہیں مل پایا ہے۔ گزشتہ برس یہاں کے بی جے پی ممبرپارلیمنٹ حکم سنگھ نے یہ بیان دے کر سنسنی پھیلا کردی تھی کہ کیرانہ کے ہندو یہاں کے مسلمانوں کی دہشت سے ہجرت پر مجبور ہیں اور یہ قصبہ ہندوؤں سے خالی ہورہا ہے۔ جب میڈیا کی ٹیمیں کیرانہ پہنچیں تو انہیں معلوم ہوا کہ گزشتہ چند برسوں میں ہندوؤں نے یہاں سے ہجرت تو ضرور کی ہے لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو بہتر زندگی ، کاروبار اور ملازمتوں کے سلسلے میں کہیں اور جابسے ہیں۔ اخباری نمائندوں کو بہت تلاش کرنے کے بعد بھی یہاں مسلمانوں کی کوئی دہشت نظرنہیں آئی۔ ظاہر ہے یہ شوشہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر ووٹوں کی صف بندی کے لئے چھوڑا گیا تھا۔ افواہ پھیلانے والے ممبرپارلیمنٹ حکم سنگھ گزشتہ دنوں مختصر علالت کے بعد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی سیٹ خالی ہوئی تو بی جے پی نے ان کی بیٹی مرگیانگاسنگھ کو ان کی جگہ ضمنی چناؤ میں امیدوار بنایاتاکہ انہیں اپنے والد کی موت کی ہمدردی کا ووٹ حاصل ہوسکے۔ گزشتہ 28مئی کو جب یہاں ووٹ ڈالے جارہے تھے تو رائے دہندگان کی قطاروں میں الیکٹرانک میڈیا کو کچھ ایسے برقع نظرآئے جنہیں طالبانی برقعے قرار دے کر ایک اور سنسنی پھیلانے کی کوشش کی گئی اور یہ تاثر دیاگیا کہ کیرانہ میں طالبان کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ 
بی جے پی امیدوار مرگیانگا سنگھ کے خلاف اپوزیشن نے مشترکہ امیدوار کے طورپر محترمہ تبسم حسن کو میدان میں اتارا تھا جو راشٹریہ لوک دل کے ٹکٹ پر میدان میں تھیں۔ تبسم حسن کو سماجوادی پارٹی ، بی ایس پی اور کانگریس سبھی کی حمایت حاصل تھی۔ بی جے پی نے کیرانہ کی سیٹ برقرار رکھنے کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی ، یہاں تک کہ پولنگ سے ایک روز قبل خود وزیراعظم نریندرمودی باغپت میں میرٹھ ہائی وے کی افتتاحی تقریب کے دوران ایک چناوی تقریر کرآئے تھے۔ لیکن 31مئی کو جب کیرانہ کا نتیجہ برآمد ہوا تو بی جے پی امیدوار کو تقریباً50ہزار ووٹوں سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ یوں تو لوک سبھا اور اسمبلی کی 14نشستوں پر ملک کے مختلف حصوں میں ضمنی انتخابات ہوئے تھے لیکن ان میں کیرانہ کے چناؤ پر ہی سب کی توجہ مرکوز تھی۔ بی جے پی نے کیرانہ کو اپنے لئے وقار کا مسئلہ بنالیا تھا۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر وہ کیرانہ ہار گئے تو سیاست سے سنیاس لے لیں گے۔ 14حلقوں کے ضمنی چناؤ میں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو محض تین نشستیں ملی ہیں اور باقی 11نشستیں اپوزیشن کے کھاتے میں چلی گئی ہیں۔ کیرانہ کے علاوہ مغربی یوپی کی نور پور اسمبلی سیٹ بھی سماجوادی پارٹی کے امیدوار نعیم الحسن نے بی جے پی سے چھین لی ہے۔ اس طرح ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی پے درپے شکستوں کا جو سلسلہ چل رہا ہے، وہ کیرانہ اور نور پور میں بھی برقرار رہا۔ بی جے پی والے اسے وقتی شکست قرار دے کر نظرانداز کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اترپردیش کے وہ عوام جو اپنے حقیقی مسائل سے دلچسپی رکھتے ہیں اور جنہیں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہے، وہ اب بی جے پی کے انتخابی کھیل کو پوری طرح سمجھ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب سے تین ماہ قبل جب یوپی میں خود یوگی آدتیہ ناتھ کے روایتی حلقہ انتخاب گورکھپور اور ان کے نائب وزیراعلیٰ کیشوپرساد موریہ کی سیٹ پھول پور میں ضمنی چناؤ ہوئے تو یہاں بی جے پی کو شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا۔ گورکھپور اور پھول پور کی ان نشستوں پر سماجوادی پارٹی نے بہوجن سماج پارٹی کی مدد سے کامیابی کا پرچم لہرایاتھا۔ اپوزیشن کے اسی اتحادکے نتیجے میں کیرانہ اور نورپور میں بی جے پی کو شکست کا منہ دیکھنا پڑاہے۔ گورکھپور سے کیرانہ تک اپوزیشن اتحاد کا جو حوصلہ مندانہ نتیجہ برآمد ہوا ہے اس سے سیکولر حلقوں میں امید کی نئی کرن پیدا ہوگئی ہے۔ بی جے پی کی جارحانہ اور جمہوریت مخالف سیاست اور تمام اپوزیشن جماعتوں کو ختم کرنے کی پالیسی نے اپوزیشن کے خیموں میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کی جمہوریت مخالف سیاست کا جواب دینے کے لئے ایک پرچم تلے جمع ہورہی ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نظارہ گزشتہ ہفتے بنگلور میں دیکھنے کو ملا ، جہاںایک درجن سے زیادہ اپوزیشن پارٹیوں نے متحد ہوکر مستقبل کی سیاست کا نقشہ کھینچا۔ کرناٹک کے نومنتخب وزیراعلیٰ کماراسوامی کی حلف برداری تقریب کا اسٹیج اپوزیشن اتحاد کا پیغامبر ثابت ہوا۔ یہ دراصل بی جے پی سرکار کی مسلسل ناکامیوں اور اپنے سیاسی مخالفین کو ہڑپنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ 
کیرانہ سے منتخب ہونے والی راشٹریہ لوک دل کی امیدوار تبسم حسن کی کامیابی اس لئے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ وہ سولہویں لوک سبھا میں اترپردیش سے کامیاب ہونے والی پہلی مسلم امیدوار ہیں۔ 2014کے الیکشن میں مسلمانوں کو حاشیے پر پہنچانے کی حکمت عملی کے تحت بی جے پی صدر امت شاہ نے مسلم ووٹوں کو ناکارہ بنانے کا اعلان کیا تھا اور اس میں انہیں اس حد تک کامیابی ملی کہ آزادی کے بعد پہلی بار یوپی سے کوئی مسلمان ممبرپارلیمنٹ منتخب نہیں ہوسکا۔ جبکہ یوپی کی بیس کروڑ آبادی میں مسلمان تقریباًچارکروڑ ہیں۔ تبسم حسن کیرانہ کے ایک روایتی سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے خسر چودھری اختر حسن پہلے اس حلقے کی نمائندگی کرتے تھے۔ بعد ازاںان کے شوہر منور حسن نے کئی بار لوک سبھا میں کیرانہ کی نمائندگی کی لیکن ایک سڑک حادثے میں ان کی موت کے بعد ان کی بیوہ تبسم حسن میدان میں اتریں اور انہوں نے 2009 میں کامیابی درج کرائی۔اب 2018 کے ضمنی چناؤ میں وہ دوسری بار کامیاب ہوئی ہیں۔ اپنی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوںنے کہاہے کہ متحدہ اپوزیشن 2019میں بی جے پی کو دھول چٹادے گا۔ 

 

Ads