Jadid Khabar

پرنب مکھرجی کا آر ایس ایس پریم

Thumb

سابق صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی کو آر ایس ایس کی ایک تقریب میں شرکت کے لئے جو دعوت نامہ بھیجاگیا تھا، وہ انہوںنے بسرو چشم قبول کرلیا ہے۔ وہ آئندہ 7جون کو ناگپور میں آر ایس ایس کے مستقبل کے سویم سیوکوں کو قوم پرستی کے موضوع پر خطاب کریں گے۔ حالانکہ ابھی یہ نہیں معلوم ہوسکا ہے کہ وہ آر ایس ایس کے مستقبل کے لیڈروں کو کیا درس دیں گے اور انہوں نے کن بنیادوں پر ایک فرقہ پرست تنظیم کا دعوت نامہ قبول کیا ہے لیکن اس پروگرام میں ان کی شرکت کے حوالے سے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں تبصروں کا بازار گرم ہوگیا ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ پرنب مکھرجی بنیادی طورپر آر ایس ایس کے شدید مخالف سمجھے جاتے ہیں اور وہ فرقہ واریت پھیلانے اور تشدد برپا کرنے کے حوالے سے آر ایس ایس کے کردار پر تنقید بھی کرچکے ہیں۔ اتنا ہی نہیں 2010میں کانگریس کے براڑی اجلاس میں وہ قرارداد پرنب مکھرجی نے ہی پیش کی تھی جس میں آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے دہشت گردوں سے رابطوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیاگیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب مالیگاؤں ، مکہ مسجد اور اجمیر بم دھماکوں میں سنگھ پریوار کے کئی لوگ ملوث پائے گئے تھے۔ 

پرنب مکھرجی کے آر ایس ایس کی تقریب میں شرکت پر سوال اس لئے بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ وہ بنیادی طورپر کانگریسی ہیں اور انہوں نے نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ اس سیاسی جماعت کی خدمت میں گزارا ہے۔ موجودہ وقت میں ان کے بیٹے ابھجیت مکھرجی مغربی بنگال سے کانگریس کے ممبرپارلیمنٹ اور ان کی بیٹی شرمشٹھا مکھرجی دہلی کانگریس کی اہم لیڈروں میں شامل ہیں۔ پرنب مکھرجی کو کانگریس پارٹی کے اہم پالیسی سازوں میں شمار کیاجاتا ہے اور انہوں نے پارٹی میں کلیدی عہدوں پر ذمے داریاں نبھائی ہیں۔ پارٹی بھی ان کی خدمات کا اعتراف کرتی رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں پارٹی میں اہم عہدوں کے علاوہ کلیدی وزارتوں کی ذمہ داریاں ہی نہیں سونپی گئیں بلکہ انہیں صدرجمہوریہ جیسے باوقار عہدے پر بھی براجمان کیاگیا۔کانگریس کے لوگ آر ایس ایس کے پروگرام میں ان کی شرکت پر حالانکہ محتاط ردعمل ظاہر کررہے ہیں لیکن بعض لیڈروں کو اس پر شدید اعتراض ہے۔ مثال کے طورپر کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ سندیپ دکشت کا کہنا ہے کہ ’’پرنب مکھرجی فرقہ پرستی اور تشدد کے حوالے سے آر ایس ایس کے کردار پر سوال اٹھاچکے ہیں ۔ ایک ایسے شخص جو آر ایس ایس کو سانپ سے بھی زیادہ زہریلا مانتے ہیں، انہیں پروگرام میں بلایا جارہا ہے تو کیا پرنب مکھرجی نے اپنے نظریات تبدیل کرلئے ہیں یا پھر آرایس ایس میں ہی کوئی عزت نفس باقی نہیں رہ گئی ہے۔ ‘‘
سندیپ دکشت نے آر ایس ایس کے حوالے سے پرنب مکھرجی کے جن نظریات کا تذکرہ کیا ہے، وہ دراصل ماضی میں کانگریس کے نظریات رہے ہیں اور پارٹی نے ہمیشہ آر ایس ایس کو ایک بدترین فرقہ پرست اور تشدد کو ہوا دینے والی تنظیم قرار دے کر اس سے دوری قائم رکھی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ آر ایس ایس ایک شدت پسند ہندو جماعت ہے جو اپنے قیام سے لے کر آج تک ملک کو ہندوراشٹر بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ آر ایس ایس کے نظریہ سازوں کے مطابق اس ملک کی اقلیتیں اور بالخصوص مسلمان اسی صورت میں قابل قبول ہیں، جب وہ خود کو ہندو کلچر میں ضم کردیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو انہیں دوئم درجے کے شہری کے طورپر قبول کیاجائے گا۔ آر ایس ایس نے اپنی طویل تاریخ میں اقلیتوں کے خلاف افواہیں پھیلا کر انہیں دیوار سے لگانے کی جان توڑ کوششیں کی ہیں اور آج ملک میں مسلمانوں کے خلاف جو منافرت پائی جاتی ہے ،اسے برادران وطن کے ذہنوں میں بٹھانے میں آرایس ایس کا بنیادی کردار ہے۔ آر ایس ایس اس ملک کے تمام باشندوں کو ہندو تصور کرتی ہے اور اس کے نزدیک ہندتو اس ملک کی بنیادی روح ہے۔ اس کے برخلاف مسلمان اور دیگر اقلیتیں اس ملک کے سیکولر جمہوری آئین پر اصرارکرتی ہیں اور وہ اس ملک میں دستوری تحفظات کے تحت زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔ لیکن ان کی راہ میں آر ایس ایس قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے اور انہیں پریشان کرنے کے لئے نت نئے بہانے تلاش کرتا ہے۔ 
آر ایس ایس کی اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف کھلی ہوئی پالیسی کے باوجود نام نہاد سیکولر جماعتوں میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو آر ایس ایس کو ایک قوم پرست جماعت ہونے کے ناطے اہمیت دیتے ہیں اور کلچرل قوم پرستی کے لئے اس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یعنی سیکولر جماعتوں میں ایسے دوغلے کردار والے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو زبان سے تو سیکولرزم کی گردان کرتے ہیں لیکن ان کے دل ودماغ ہندتوا کے چراغوں سے روشن ہیں۔ ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ سابق صدرجمہوریہ پرنب مجھرجی کانگریس جیسی سیکولر جماعت میں اتنا طویل عرصہ گزارنے کے باوجود آر ایس ایس جیسی فرقہ پرست جماعت کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ ان کے حالیہ فیصلے نے ان تمام لوگوں کو پریشان کردیا ہے جو ان کی سیکولر سوچ پر یقین رکھتے تھے۔ ناگپور میں آر ایس ایس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پرنب مکھرجی صدرجمہوریہ کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت سے چار ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ صدرجمہوریہ کے طورپر پرنب مکھرجی نے موہن بھاگوت کو راشٹرپتی بھون مدعو کرکے ان کی ضیافت بھی کی تھی۔ بھاگوت نے انہیں صدرجمہوریہ کے طورپر آر ایس ایس ہیڈکوارٹر ناگپور آنے کی دعوت بھی دی تھی لیکن انہوں نے اس وقت معذرت کرلی تھی۔ لیکن اب پرنب مکھرجی نے جس طرح آر ایس ایس کی دعوت کو قبول کیا ہے اس سے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں۔ پرنب مکھرجی کے اس حیرت انگیز فیصلے نے ان تمام لوگوں کو غم زدہ کردیا ہے جو کانگریس کو ایک سیکولر جماعت تصور کرتے ہیں۔ پرنب مکھرجی کا ناگپور جانے کا فیصلہ اس لئے بھی حیرت انگیز ہے کہ کانگریس صدر راہل گاندھی نے حالیہ دنوں میں بی جے پی سرکار کے کام کاج میں آر ایس ایس کی بے جا مداخلت پر سخت تنقید ہی نہیں کی بلکہ ملک کو آر ایس ایس کی فرقہ واریت سے بچانے کا اعلان بھی کیا۔ یوں اگر صدرجمہوریہ کے طورپر بی جے پی کے اقتدار میں پرنب مکھرجی کی کارکردگی کا جائزہ لیاجائے تو انہوں نے حکمراں طبقے کو کسی بھی موقع پر پریشانی سے دوچار نہیں ہونے دیا۔ وزیراعظم نریندرمودی اپنے والد کی طرح ان کا احترام کرتے رہے اور ان کے علم وفضل کے گیت گاتے رہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ اتراکھنڈ میں ہریش راوت سرکار گرانے کے معاملے میں پرنب مکھرجی نے جو کردار ادا کیا تھا اسے خود کانگریس پارٹی نے جمہوریت کے قتل سے تعبیر کیا تھا۔ 
قابل ذکر بات یہ ہے کہ کانگریس کے بعض لیڈروں کی طرف سے آر ایس ایس کی خدمات کا اعتراف کئے جانے کی ماضی میں کچھ مثالیں موجود ہیں جنہیں آر ایس ایس کے لوگ اس موقع پر بیان کرنے سے گریز نہیں کررہے ہیں۔ آر ایس ایس کی نیشنل میڈیا ٹیم کے رکن رتن شاردا کا کہنا ہے کہ1962کی ہند۔چین جنگ کے دوران آر ایس ایس کے سویم سیوکوںنے سرحد پر جو خدمات انجام دی تھیں، اس سے پنڈت نہرو بہت متاثرتھے اور انہوں نے اس کا اعتراف کرنے کے لئے 26جنوری 1963 کو آر ایس ایس کے تین ہزار سویم سیوکوں کو یوم جمہوریہ کی پریڈ میں شامل ہونے کے لئے مدعو کیا تھا۔ یہ دراصل آر ایس ایس کی قوم پرستی کا اعتراف تھا۔ یہاں تک کہ آنجہانی وزیراعظم اندراگاندھی نے آر ایس ایس کی دعوت پر 1977میں وویکا نند راک میموریل کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی تھی ۔ اس تقریب میں شرکت کے لئے اندراگاندھی کو اس میموریل کے معمار اور آر ایس ایس لیڈر ایکناتھ اناڈے نے مدعو کیا تھا۔ ‘‘ آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ پرنب مکھرجی آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر پر حاضری دینے والے پہلے لیڈر نہیں ہیں، ماضی میں کئی اہم لیڈران ناگپور میں حاضری دے چکے ہیں۔ جن میں بابائے قوم مہاتماگاندھی بھی شامل ہیں۔ لیکن آر ایس ایس والے یہ نہیں بتاتے کہ مہاتماگاندھی نے آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر میں حاضری دینے کے بعد اظہار افسوس کرتے ہوئے یہ بھی کہاتھا کہ انہیں وہاں نہیں جانا چاہئے تھا۔ 
 آر ایس ایس کے لوگ یہ تو کہتے ہیں کہ 1963 میں وزیراعظم پنڈت نہرو نے یوم جمہوریہ کی پریڈ میں آر ایس ایس کے لوگوں کو مدعو کیا تھا لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ یہ وہی پنڈت نہرو ہیں جنہوں نے 1948 میں مہاتماگاندھی کے قتل کے بعد آرایس ایس پر پابندی لگائی تھی اور یہ پابندی اس یقین دہانی کے بعد ختم کی گئی تھی کہ آر ایس ایس کبھی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے گا۔ بلاشبہ آر ایس ایس نے براہ راست توسیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیا لیکن اس نے پردے کے پیچھے سے پہلے جن سنگھ اور پھر بی جے پی کی صورت میں اپنا ایک مضبوط سیاسی بازو تشکیل دیا۔ بی جے پی آج ملک کے اقتدار پر قابض ہے اور یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ آج آر ایس ایس ہی پردے کے پیچھے سے حکومت کے سارے کام انجام دے رہا ہے۔ ملک کے تمام کلیدی شعبوں، وزارتوں اور اہم اداروں میں آر ایس ایس کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ ملک کو آر ایس ایس کے ایجنڈے پر چلارہے ہیں۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد آر ایس ایس کی ممبرسازی میں بھی خاصا اضافہ ہوا ہے اور سیاست میں سرگرم بے پیندی کے لوٹوں کے نظریات بھی آر ایس ایس کے تعلق سے بدلتے رہے ہیں۔ لیکن ملک کے ایک سینئر ترین سیکولر سیاست داں پرنب مکھرجی کا یوں آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر میں حاضر ہونے کا معاملہ نہ جانے کیوں بہت سے لوگوں کی طرح ہمارے بھی حلق سے نہیں اتر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے پوری زندگی سیکولر سیاست کی پرورش اور فرقہ پرستی کی مخالفت میں گزاری ہے وہ بدلے ہوئے حالات میں اپنے نظریات کا خون کیوں کررہے ہیں اورآخری وقت میں اپنے دامن کو داغ دار کرنے پر کیوں آمادہ ہیں؟

Ads