Jadid Khabar

نام نہاد ’اسلامی دہشت گردی‘کا کورس

Thumb

نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی جسے عرف عام میں جے این یو کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک ایسی دانش گاہ کے طورپر دنیا میں مشہور ہے، جہاں سے معتدل اور لبرل خیالات کی ترویج واشاعت ہوتی ہے۔ یہاں سے فارغ ہونے والے طلباء زندگی کے مختلف میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں اور ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہرقسم کے تعصب اور تنگ نظری سے کوسوں دور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس یونیورسٹی میں متعصب اور تنگ نظر عناصر کو ابھی تک پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں ملی ہے۔ اپنی اسی ناکامی کو چھپانے کے لئے وہ اس یونیورسٹی کے بنیادی کردار کو مجروح کرنے کی لگاتار کوششیں کررہے ہیں۔ فرقہ پرست اور متعصب عناصر کا سب سے بڑا نشانہ یہاں کا سیکولر جمہوری تعلیمی ماحول ہے، جسے وہ پراگندہ کرنا چاہتے ہیں۔ یوں تو جب سے مرکز میں بی جے پی کی سرکار آئی ہے تب سے مسلسل تعلیمی مراکز کو بھگوارنگ میں رنگنے کی کوششیں جاری ہیں اور نصاب کو بھی اسی رنگ میں رنگا جارہا ہے۔ جے این یو کی اکیڈمک کونسل کی ایک حالیہ میٹنگ میں ایک ایسا فیصلہ لیا گیا ہے جس سے ملک میں بے چینی پھیل گئی ہے۔یہ فیصلہ ہے یونیورسٹی میں نام نہاد ’اسلامی دہشت گردی ‘ کا ایک کورس شروع کرنے کا۔ اکیڈمک کونسل کے بعض سرکردہ ممبران کی مخالفت کے باوجود اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش شروع ہوچکی ہے۔ جب سے اس سلسلے کی خبریں اخبارات کی زینت بنی ہیں تب سے اس پر چوطرفہ تنقید ہورہی ہے اور اسے انتہائی غلط اور متعصبانہ اقدام سے تعبیر کیاجارہا ہے۔ 

نام نہاد ’اسلامی دہشت گردی‘ کی اصطلاح دراصل ان بیمار ذہنوں کی پیداوار ہے جو اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوف زدہ ہیں اور اسے دہشت گردی سے جوڑ کر عام لوگوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اصطلاح دنیا میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے اسلام دشمن طاقتوں نے ایجاد کی ہے۔ ہندوستان میں بھی ایسے عناصر کی کوئی کمی نہیں ہے جو اس ملک میں آباد مسلمانوں کو تمام خرابیوں کی جڑ قرار دیتے ہیں اور اپنی بدکاریوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔ یہ بات ایک سے زائد بار دہرائی جاچکی ہے کہ اسلام کا کسی بھی قسم کی بدامنی، تشدد، یا دہشت گردی سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور یہ مکمل طورپر امن اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔ لیکن اسلام دشمن طاقتیں مسلسل اس پروپیگنڈہ میں مصروف ہیں کہ اسلام اپنے پیروکاروں کو تشدد کی تعلیم دیتا ہے۔ حالانکہ جو لوگ اسلام کے نام پر تشدد اور دہشت گردی میں ملوث ہیں، ان سے مسلمان اور پورا عالم اسلام کھلے عام بیزاری کا اعلان کرچکا ہے۔ دہشت گردی بنیادی طورپر ایک ناسور ہے جو پوری دنیا میں عفریت بن کر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں مایوس اور نامراد لوگ شامل ہیں جو ہر مذہب اور مکتب فکر میں پائے جاتے ہیں۔ خود ہمارے ملک میں دہشت گردی کی کئی شکلیں ہیں اور ان ہی میں بھگوادہشت گردی بھی ہے۔ جس میں سنگھ پریوار سے وابستہ کئی لوگوں پر مقدمات چل رہے ہیں۔ حالانکہ موجودہ سرکار نے بھگوا دہشت گردی کا داغ مٹانے کے لئے تمام حربے اختیار کررکھے ہیں۔ اس معاملے میں قانونی مشینری کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ بھگوادہشت گردی کے ملزمان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت دہشت گردی کے ایسے مقدمات جن میں سنگھ پریوار کے لوگ ملوث ہیں گواہوں کے منحرف ہونے، فرد جرم تبدیل کئے جانے اور ملزمان کو باعزت بری کرائے جانے کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ جس پر قانون کے ماہرین کو سخت حیرت ہے۔ بھگوا دہشت گردی کے علاوہ ہندوستان میں ماؤ وادیوں کی انتہائی خوفناک دہشت گردی بھی سرگرم ہے جس کا نشانہ خاص طورپر نیم فوجی دستوں کے جوان ہیں۔ اس کے علاوہ شمال مشرقی ریاستوں میں سرگرم انتہا پسند عناصر کو بھی نظرانداز کردیاجاتا ہے کیونکہ یہ سب اکثریتی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ 
جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں نام نہاد اسلامی دہشت گردی کا کورس شروع کرنے کا منصوبہ انہی لوگوں کے ذہن کی پیداوار ہے جو ان دنوں بھگوا دہشت گردی کے داغ کو مٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ وہ عناصر اپنا سارا ملبہ مسلمانوں کے اوپر ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ لوگوں کی توجہ ان کی بدکاریوں پر نہ پڑے۔ جے این یو میں مذکورہ کورس شروع کئے جانے کے خلاف نہ صرف مسلم حلقوں میں بے چینی کی لہر ہے بلکہ سیکولر عناصر بھی اس فیصلے کی کھل کر مذمت کررہے ہیں۔ خود جے این یو طلباء یونین کا کہنا ہے کہ اس کورس کو شروع کرائے جانے کا مقصد آر ایس ایس اور بی جے پی کی انتخابی تشہیر معلوم ہوتی ہے۔ سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری کا کہنا ہے کہ بی جے پی سرکار اعلیٰ تعلیم کو مسلسل فرقہ وارانہ رنگ دینے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں پر مسلسل حملے کررہی ہے۔ ہندوستانی تاریخ کو ہندو مذہبی کتابوں کے طورپر پڑھانے کا کام کرکے اس کا بھگواکرن کررہی ہے اور اب وہ مرکزی یونیورسٹیوں کے نصاب کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دینے میں لگی ہوئی ہے اور اسی لئے ’اسلامی دہشت گردی‘ کا کورس شروع کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ اس سے ملک کے اتحاد اور سالمیت کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ’’ آخر جے این یو میں ’اسلامی دہشت گردیُ‘ کی پڑھائی شروع کرنے کی ضرورت کیوں آن پڑی۔ اگر دہشت گردی کے بارے میں کوئی نصاب شروع کرنا تھا تو مذہبی انتہا پسندی کے متعلق کورس شروع کیاجانا چاہئے نہ کہ کسی ایک مذہب کو نشانہ بناناچاہئے۔ ‘‘
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عالمی شہرت رکھنے والی ایک دانش گاہ کو منصوبہ بند سازش کے تحت فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے اور اس کے کردار کو مجروح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر جے این یو کے وائس چانسلر کو دہشت گردی کا کورس شروع کرانے کا اتنا ہی شوق ہے تو انہیں سادھوی پرگیہ ، سوامی اسیمانند ، کرنل پروہت اور سوامی دیانندپانڈے جیسے درجنوں مکروہ کرداروں پر ریسرچ کرانی چاہئے اور اس میں ابھینو بھارت نامی دہشت گرد تنظیم کو بھی شامل کرنا چاہئے۔ کیونکہ ان کے گھناؤنے کردار سے پورا ملک واقف ہے اور ان کی نقاب کشائی خود مہاراشٹر اے ٹی ایس کے سربراہ شہید ہیمنت کرکرے نے کی تھی جن کی ممبئی حملوں کے دوران پراسرار موت ہوگئی تھی۔ 

Ads