Jadid Khabar

بی جے پی کے خلاف سب سے بڑا محاذ

Thumb

اگر آپ کی یادداشت ساتھ دے رہی ہو تو یاد کیجئے کہ ایمرجنسی کے خلاف 1977میں اپوزیشن لیڈروں کاایسا ہی سیلاب امڈآیا تھا جیسا کہ حال ہی میں کماراسوامی کی بطوروزیراعلیٰ حلف برداری کے موقع پر بنگلور میں امڈ آیا ہے۔ ایمرجنسی میں ہونے والے مظالم اورقیدوبند کی صعوبتوں نے اپوزیشن لیڈروں کو اتحاد کی ایک ایسی لڑی میں پرو دیا تھا کہ انہوں نے اندراگاندھی کا تختہ پلٹ دیا۔ آج اگرچہ ملک میں نہ تو ایمرجنسی نافذ ہے اور نہ ہی اپوزیشن لیڈروں کو پابند سلاسل کیاگیا ہے لیکن ماحول میں جبر کی ایسی آمیزش ہے کہ سانس لینا مشکل ہورہا ہے۔ بی جے پی نے اپنے سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے لئے جس طرح پوری سرکاری مشینری کو جھونک دیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ سیاسی مخالفین کا کیریئر چوپٹ کرنے کے لئے کہیں سی بی آئی ، کہیں انکم ٹیکس اور کہیں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو بے دریغ استعمال کیاجارہاہے۔ اس پوری مہم کا مقصد اپوزیشن کی صفوں میں خوف وہراس پیدا کرکے انہیں خود سپردگی پر مجبور کرنا ہے۔ جبر کے اس ماحول سے تنگ آکر تمام غیر بی جے پی جماعتیں اپنا سیاسی وجود بچانے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوگئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان لیڈروں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں، جو کبھی ایک دوسرے کی صورت دیکھنے کے روادار نہیں تھے۔ کیا یہ سیاسی معجزہ نہیں ہے کہ بنگلور کے اسٹیج پر ممتا بنرجی اور سیتارام یچوری ایک ہی صف میں موجود تھے۔ اسی صف میں مایاوتی اور اکھلیش یادو بھی کھڑے ہوئے تھے جن کی سیاسی دشمنی کسی سے پوشیدہ نہیں رہی۔ لیکن اترپردیش کے دوضمنی انتخابات نے ان دونوں لیڈروں کو شیروشکر کردیاہے۔ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی 2019کے عام انتخابات میں ایک ساتھ میدان میں اترنے کا ارادہ رکھتی ہیں جس کے خوف سے بی جے پی کے خیموں میں ہلچل ہے۔ کیونکہ اترپردیش ہی وہ صوبہ ہے جہاں سے 2014میں بی جے پی نے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کی تھیں۔ کرناٹک میں کانگریس کی پہل قدمی نے اپوزیشن اتحاد کے خواب پریشاں کو پروان چڑھادیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کرناٹک اپوزیشن اتحاد کی تجربہ گاہ کے طورپر سامنے آیا ہے ۔ کانگریس اور جنتادل سیکولر کی مخلوط حکومت کا قیام اس تجربے کا خوشگوار آغاز ہے۔ اپوزیشن لیڈروں نے یہاں جمع ہوکر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ بی جے پی کے خلاف لڑنے کے لئے متحد ہیں۔ کانگریس نے آخر کار اس حقیقت کو تسلیم کرلیا ہے کہ علاقائی جماعتوں کو اہمیت دے کر ہی بی جے پی سے لڑا جاسکتا ہے۔ 

یوں تو کرناٹک اسمبلی انتخابات کو پہلے ہی سے 2019کا سیمی فائنل قرار دیا جارہا تھا۔ بی جے پی نے جنوبی ہند کی اس اہم ریاست کو اپنی جھولی میں ڈالنے کے لئے تمام گھوڑے کھول دیئے تھے۔ مرکزی کابینہ کے درجنوں وزیر، کئی صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ، ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی ایک لمبی فوج کے علاوہ آر ایس ایس کا پورا کیڈر چناؤ جیتنے کے لئے کرناٹک میں سرگرم تھا،لیکن کرناٹک کے عوام نے بی جے پی کو واضح اکثریت نہیں دی اور وہ آسمان سے گرکے کھجور میں اٹک گئی۔ اس کے باوجود ہاری ہوئی بازی کو جیت میں بدلنے کے لئے بی جے پی نے گورنر کے ذریعے جو کھیل کھیلا اور جس طرح دستور کے خلاف یدی یورپا کو حلف دلایاگیا اس نے پورے ملک میں بی جے پی کی مٹی پلید کردی۔ کیونکہ کانگریس نے پہلے ہی جنتادل سیکولر کی حمایت کا اعلان کرکے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کردیا تھا۔ ان دونوں جماعتوں کے پاس اتنی نشستیں موجود تھیں کہ وہ آسانی کے ساتھ اپنی اکثریت ثابت کرسکتے تھے۔لیکن گورنر نے بی جے پی کے پاس اکثریت نہ ہونے کے باوجود یدی یورپا کو حلف دلادیا اور انہیں اکثریت ثابت کرنے کے لئے 15دن کی مہلت بھی دے دی۔ وہ تو بھلا ہو سپریم کورٹ کاکہ اس نے جمہوریت کی لاج بچالی اور یدی یورپا کی سرکار ڈھائی دن کی مختصر ترین مدت میں زمیں بوس ہوگئی۔ یدی یورپا نے استعفیٰ دینے سے قبل جو جذباتی تقریر کی اس میں ایک راز کی بات کہہ دی کہ ان کا انتخاب خود وزیراعظم نریندرمودی نے کیا تھا اور یہ پہلا موقع تھا کہ کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کا انتخاب وزیراعظم نے کیا ہو۔ اس سے صاف ظاہر تھا کہ سارا کھیل دہلی سے کھیلا جارہا تھا اور دستوری وجمہوری قدروں کو پامال کرنے کی ہدایات بھی یہیں سے بنگلور پہنچ رہی تھیں۔ یہ دراصل وزیراعظم نریندرمودی کی اس شدید خواہش کا نتیجہ تھا جس کے ذریعے وہ پورے ملک کو اپنی مٹھی میں رکھنا چاہتے ہیں اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے وزیراعظم نریندرمودی کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتوں کوایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا ہے۔ بی جے پی نے پورے ملک کو ڈکار لئے بغیر ہضم کی جو پالیسی اختیار کی ہے، اس کی وجہ سے علاقائی جماعتوں میں زبردست بے چینی پائی جاتی ہے۔ بی جے پی دراصل سبھی جماعتوں کو اپنا پچھ لگو بنانا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو علاقائی جماعتیں این ڈی اے میں شامل ہیں وہ بھی شدید گھٹن محسوس کررہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تیلگودیشم پارٹی نے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن اتحاد کے اسٹیج کی زینت بننا پسند کیاہے۔ شیوسینا جیسی بی جے پی کی سب سے پرانی اتحادی جماعت پہلے ہی یہ اعلان کرچکی ہے کہ وہ 2019کا الیکشن اپنے بل پر لڑے گی۔ کرناٹک کی سیاسی اتھل پتھل کے درمیان شیوسینا نے بی جے پی کے آئین اور جمہوریت مخالف اقدامات پر سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔ 
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اپوزیشن اتحاد کے پروان چڑھنے میں کئی مشکلات بھی درپیش ہیں۔ ابھی اس میں تلنگانہ اور اڈیسہ کے وزرائے اعلیٰ شامل نہیں ہیں۔ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس اور سی پی ایم کا اتحاد کیسے ہوگا لیکن یہ کیا کم ہے کہ ممتابنرجی اور سیتارام یچوری بنگلور کے اسٹیج پر ایک ساتھ نظرآرہے ہیں۔ بیشتر اپوزیشن پارٹیوں نے کہاہے کہ وہ بنگلور میں کمارا سوامی کی حمایت کرنے کے لئے آئے ہیں کیونکہ وہ ایک علاقائی پارٹی کی قیادت کررہے ہیں۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی کا کہنا ہے کہ حلف برداری تقریب میں شرکت کا مطلب علاقائی پارٹیوں کے اتحاد کو مضبوطی فراہم کرنا ہے۔ سبھی علاقائی پارٹیاں ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں۔ اگر علاقائی پارٹیاں ساتھ آتی ہیں تو ان کے پاس زیادہ طاقت ہوگی۔ انہوں نے اپنی بات سمجھانے کے لئے اس محاورے کا سہارا لیا کہ ’’جو ہم سے ٹکرائے گاوہ چورچور ہوجائے گا۔ ‘‘
بنگلور کے اسٹیج پر کانگریس کی نمائندگی کے لئے خود سونیاگاندھی اور پارٹی صدر راہل گاندھی موجود تھے اور یہ دونوں خاصے سرگرم بھی نظر آئے۔ سونیاگاندھی مایاوتی سے بغل گیر ہورہی تھیں اور ممتابنرجی کا خیرمقدم کررہی تھیں۔ دراصل کانگریس نے اس مرتبہ کرناٹک میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کئے بغیر جس طرح جنتادل سیکولر کو حمایت دینے کا اعلان کیا ہے وہ ایک بہترین اور کامیاب حکمت عملی ہے۔ اپنی اس حکمت عملی کے نتیجے میں وہ بی جے پی کا کھیل بگارنے میں کامیاب رہی ہے۔ اگر منی پور اور گوا کی طرح یہاں بھی کانگریس ڈھل مل رویہ اختیار کرتی تو وہاں ممبران اسمبلی کا بازار سج جاتا یا پھر بی جے پی کماراسوامی پر ڈورے ڈال کر انہیں اپنے خیمے میں شامل کرلیتی۔ کیونکہ اس سے پہلے وہ ایک بار بی جے پی کی مدد سے وزیراعلیٰ بن چکے ہیں۔ لیکن کانگریس نے اس مرتبہ کوئی غلطی نہیں دہرائی اور بی جے پی کی بساط الٹ کر رکھ دی۔ بی جے پی نے یکے بعددیگرے جس طرح صوبائی اقتدار سے کانگریس کو بے دخل کیا ہے، اس نے علاقائی جماعتوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بی جے پی جس طرح پورے ملک پر اپنا سکہ چلانے کی کوشش کررہی ہے اور اس کام کے لئے جس قسم کے غیر جمہوری اور غیر دستوری ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں اس نے سبھی کو تشویش میں مبتلاکردیا ہے۔ بی جے پی کے توسیع پسندانہ عزائم سے خائف علاقائی جماعتوں سے اتحاد کرکے کانگریس کو  2019کے چناؤ میں اترنا چاہئے۔ فی الحال بنگلور میں کماراسوامی کی حلف برداری کی تقریب میں تمام غیر بی جے پی جماعتوں کی متاثر کن اور سرگرم موجودگی نے حکمراں بی جے پی کے خیموں میں ہلچل پیدا کردی ہے اور وہ اس کا توڑ تلاش کرنے کی جان توڑ کوششوں میں مصروف ہے۔ لیکن یہ اتحاد اتنا مضبوط نظرآتا ہے کہ اسے آسانی سے توڑا نہیں جاسکتا۔ 

Ads